جب چنگیز خان وادئ کرم (کڑمان۔ شلوزان) پہنچے ۔ احمد طوری

چنگیز خان صحرائے گوبھی سے طوفان کی طرح اُٹھے اور دندناتے ہوئے چین، روس، سنٹرل ایشیا، افغانستان، ایران اور ہندوستان تک علاقوں پر لشکرانداز ہوئے، منگولوں نے دریائے آمو عبور کرتے ہی تباہی مچا دی، چنگیز خان سمر قند، بخارا، خیوا اور بلخ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، بلخ (بلخ شہر) نے سر تسلیم خم کیا مگر معاف نہیں ہوئے، شہر جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے، سال 1219 سے 1221 تک ہونے والے خوفناک جنگ میں سلطنت خوارزم کے ساڑھے بارہ لاکھ افراد مارے گئے۔ قتل عام کرکے کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔

علاﺅ الدین خوارزم شاہ تخت و تاج اور عوام کو چھوڑ کر بھاگتے ہوئے کیسپئن سی کے ویران جزیرے پہنچے تھے جہاں بیمار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ اب جلال الدین مینگو باردی بادشاہ (خوارزم ۔ سلطان) بن گئے، اور منگولوں پر حملے شروع کر دیئے۔

تالقان سے چنگیز خان نے ٹیکچوک اور کمانڈروں کے ایک گروپ کو جلال الدین کو ختم کرنے کے لیے روانہ کیا۔ جلال الدین نے افغان, تاجک قبائل اور خوارزمی قبائل پر مشتمل فوج بنائی, سیف الدین احراق اور دوسرے جنگجوؤں کی آمد سے سلطان جلال الدین کو تقویت ملی اور کابل کے شمال میں”پروان“ کے علاقے میں منگولوں سے لڑائی ہوئی اور جلال الدین نے اس چنگیزی فوج کو مکمل طور پر شکست دے دی۔

یہ چنگیزی فوج کی پہلی اور آخری شکست تھی۔

لیکن بد قسمتی سے جلال الدین کے سسر اور تاجک سردار کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگئے اور تاجک فوجی رات کے اندھیرے میں اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ باپ علاؤالدین خوارزم شاہ کو بیوی اور سسرال نے ڈبویا تو بیٹے جلال الدین کو سسر نے مشکلات سے دوچار کرکے غزنی اور وادئ کرم سے ہوتے ہوئے پنجاب ہندوستان بھاگنے پر مجبور کئے۔ 

جلال الدین اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے شہر فتح کرتا رہا، ڈی آئی خان اور بھکر کور روندتے ہوئے دریائے سندھ کے قریب “ہنڈ” پہنچے، جہاں آج کالا باغ کا قصبہ اور اٹک شہر آباد ہیں۔ “ہنڈ” ماضی کا اہم ترین شہر تھا اور بدھ مت دور میں پشاور ویلی کا دارلحکومت تھا۔ یہ سلطنت افغانستان سے لے کر اٹک سوات تک پھیلی تھی۔ جلال الدین یہاں کشتیوں کا پل تیار کرا رہا تھا لیکن پل مکمل ہونے سے قبل ہی چنگیزی لشکر پہنچ گئی‘منگولوں اور جلال الدین کی فوجوں میں لڑائی ہوئی، منگول فوج نے سلطان کو تین اطراف سے گھیر لیا اور پیچھے دریائے سندھ تھی۔ چنگیز خان نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ سلطان کو زندہ پکڑنے کی کوشش کریں۔ ادھر چغتائی اور اوگیتائی بھی خوارزم سے آکر باپ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔ لہاذا سلطان جلال الدین نے پھر بھاگنے کا فیصلہ کیا اور دریائے سندھ میں کود پڑے، جب منگول فوج نے اسے دریا میں تیرتے دیکھا تو وہ اس کے پیچھے کودنے ہی والے تھے۔ لیکن چنگیز خان نے انہیں روک دیا۔ مختصر یہ کہ جلال الدین خود دریائے سندھ عبور کرکے بچ گئے اور باقی فوج تہہ تیغ ہوئی۔ یہ واقعہ رجب 618ھ یعنی اگست یا ستمبر 1221 میں پیش آیا۔

چنگیز خان ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان اور شلوزان  پہنچے

چنگیز خان ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان اورشلوزان (وادئ کرم کے قدیم ترین درہ اور گاؤں)  پہنچے۔

علاء الدین عطا ملک (2)جوینی کے مطابق چنگیز خان نے اُگتائی خان کو غزنہ بھیجا جہاں انہوں نے عوام کو گھروں سے نکال کر کھلے میدان لے گئے اور سوائے کاریگروں کے باقی سب کا قتل عام کیا اور شہر بھی تباہ کردیا اور چنگیز خان خود کرمان (ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان) اور سنقران (شلوزان وادئ کرم کا قدیم ترین درہ اور گاؤں ہے)  پہنچے۔ (3) تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ چنگیز خان اسی راستے جلال الدین کا پیچھا کرتے ہوئے گئے بھی تھے۔ وادئ کرم میں ہی چنگیز خان کو خبر ملی کہ جلال الدین نے واپس آکر اپنے لوگ دفن کئے ہیں۔

کڑمان کو شہاب الدین غوری نے جنگی اور سٹریٹیجک سرگرمیوں کا مرکز بنایا تھا، اور ہندوستان پرحملوں کے لئے شہاب الدین غوری درہ کرم ہی استعمال کرتے تھے،  اور جب شہاب الدین غوری نے ترک نژاد تاج الدین یلدز کو وادئ کرم کا گورنر تعینات کیا تو یلدز کڑمان کو ہی دارالخلافہ بنایا، (4) جس کے اثار آج بھی موجود ہیں جبکہ یلدز دور کے سکے بھی برٹش میوزیم میں پائے گئے ہیں۔ (5)

چغتائی خان کو وادئ کرم میں گورنر تعینات کرکے چنگیز خان وادئ کرم کی سخت ترین سردی کی وجہ سے Ashtaqar  (6 کے علاقے Buya Katur (7) کی طرف چل نکلے، جہاں کے حکمران سالار احمد اور قبیلے منگول لشکر کو مدد فراہم کی اور مہمان نوازی کی۔ چنگیز خان یہاں بڑی تعداد میں فوجی لشکر کے ساتھ ہندوستانی غلام اور جنگی قیدی بھی ساتھ لائے تھے، قیدی ہی منگول لشکر کو کھانا پکار کر فراہم کرتے تھے، حکم دیا گیا کہ ہر گھر میں ہر غلام کو چار سو من چاول چھان مارنا چاہیے۔ قیدیوں نے خوف سے اس کام کو ایک ہفتے کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ پورا کیا۔ مگر چنگیز خان نے پھر کسی کو بخشا نہیں، حکم دیا کہ تمام قیدیوں کو قتل کر دیا جائے۔ اور بدبخت قیدی طلوع صبح تک قتل ہوتے رہے۔

 احمدطوری #شلوزان #کڑمان #کرم#

Link: Ful Articale https://bit.ly/3IGmMbj

References:

1. The History of The World Conqueror Vol I By Ala-ad-Din ‘Ata-Malik JUVAINI Translated from the text of Mirza Muhammad QAZVINI by JOHN ANDREW BOYLE. Page 133 to 137

2: History of Civilizations of Central Asia, Volume IV Part 1& P2 The Age of Achievement A.D. 750 to the End of the Fifteenth Century C. E. Bosworth & M. S. Asimov

3. Journal of the royal asiatic society. Vol 17

4. الکامل فی التاریخ۔ ابن اثیر۔ جلد ۱۰ صفحہ ۳۰۸ سن ۶۰۲۔ مطبوعہ 3روت۔

5. طبقات ناصری -منہاج سراج۔ جلد ۱۔ اردو ترجمہ غلام رسول مہر۔

6. Astaghar کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ اس علاقے کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا مگر جیسے ہم جانتے ہیں کہ شلوزان کو کیسے سنقران کہتے ہیں اور کڑمان کو کرمان لہذا میں نے اشنغر نتیجہ نکالا ہے۔

7. Ashtatr کی طرح Buya Kutar کا بھی نہیں بتایا گیا لہذا وادئ کرم کے حدود اربعہ اور اشنغر کے نزدیکی سمیت سٹریٹیجک حوالے سے باجوڑ کا علاوہ سمجھا جا سکتا ہے۔

جب جلال الدین خوارزمی نے چنگیزخانی لشکر کو شکست دی! احمد طورى

عظیم منگول فاتح تیموجن المعروف چنگیز خان (1162ء) منگولیا میں پیدا ہوئے ۔ جب چنگیز خان نوبرس کا ہوا اس کے باپ کو ایک قبیلہ کے افراد نے قتل کردیا۔

  چنگیز کچھ عرصہ پوشیدہ رہے مگر 1177ء  میں اپنی نوجوانی میں وہ حریف قبیلے کے ایک دھاوے پر گرفتار ہوا۔ اس کی ترقی کا آغاز اس اسیری سے فرار کے بعد ہوا ۔ 1200 کی دہائی کے اوائل میں منگولیا پر کئی قبائل کی حکومت تھی۔ چنگیز خان نے سب سرداروں کو اکٹھا کیا اور مل کر دیگر علاقوں کو فتح کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے بعد متفقہ طور پر دریائے آنان کے قریب ایک مجلس میں اسے چنگیز خان کا خطاب بھی دیا۔ پھر چنگیزخان تاتاری کے لشکر ٹڈی دل کی طرح ہمسایہ ریاستوں پر حملہ آور ہوئی اور 1219 تک  چنگیز خان نے اپنی فتوحات چین اور کوریا سے لے کر فارس میں مسلم دنیا کی سرحدوں تک پھیلا دی تھی۔ یعنی 1200s کے اوائل میں منگولوں کا اچانک پوری دنیا کے لئے خطرہ بن جانا اور اتنی جلدی تمام علاقے فتح کرلینا دنیا کی تاریخ میں فوجی توسیع کی سب سے قابل ذکر مثال ہے۔

انگیریز مؤرخ C.E. Bosworth کے مطابق چنگیز غالباً ترکی زبان سے ماخوذ لفظ ہے جس کی معنی سمندر ہے۔ 1

عرب منگولو کو “مُغل “اور “ مغُول “ کہتے ہیں کیونکہ عربی زبان کے حروف تہجی میں “گ” کی جگہ ”غ ” استعمال ہوتی ہے اور یورپین مورخین اور محقیقین انہیں تاتاری بھی لکھتے اور کہتے ہیں، اور وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ لب و لہجہ کی تبدیلی کی وجہ سے ہندوستان میں مختصر ہوکر مُغل رہ گیا ۔

منگول خانہ بدوش اچھے گھوڑے تھے، انہوں نے زراعت میں بھی مہارت حاصل نہیں کی تھی ، لیکن ایک ایسی عالمی سلطنت تعمیر کی تھی ،جو وسطی یورپ سے لے کر کوریا تک ہندوستان کی حدود تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ خانہ بدوش گھوڑوں کی طرح ہی تیز طرار اور چست تھے لمبے لمبے سفر بنا کسی آرام کے ان کے لئے کوئی رکاوٹ اور مشکل بات نہیں تھی یہی ان کی فطرت تھی جس نے انہیں فتوحات کے قابل بنا دیاتھا۔

چنگیز خان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ جب دشمن کے شہر پہنچتے تو دفاعی افواج کو تین آپشن دیتے تھے۔  پہلا آپشن یہ تھا کہ وہ فوراً تسلیم ہوجائیں اور منگول فوج میں شامل ہوجائیں۔ اگر کوئی منگولوں کے خلاف مزاحمت کرتا تو ان کے لئے دوسرا آپشن یہ تھا کہ پوری فوج کو قتل کردیا جائے گا اور شہر لوٹ لیا جائے گا۔

منگولوں کے خلاف عوامی مزاحمت یعنی شہر کے مسلح دستے اور عام شہری دونوں، اگر مل کر مزاحمت کرتے تو ان کے خلاف تیسرا آپشن یہ تھا کہ چنگیز خانی شہر کے اندر جاکر قتل عام شروع کردیتے اور  پورے شہر کو اُجاڑ کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیتے۔ منگول اس طریقہ واردات کے ذریعے تباہ کن فوج کے طور پر ابھرے، کامیاب ہوئے اور دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تشکیل دے دی

عراق سے چین تک ، منگول توسیع کی راہ میں آنے والوں نے خان کے غضب کا سامنا کرنے کے بجائے عام طور پر منگول کی تابعداری کا انتخاب کیا اور سب سے پہلی مسلم ریاست جس کی سرحدوں تک منگول پہنچ گئے تھے وہ خوارزم شاہی سلطنت تھی۔ خوارزم شاہی سلطنت وسط ایشیا اور ایران کی ایک سنی مسلم بادشاہت تھی جو پہلے سلجوقی سلطنت کے ماتحت تھی اور 11 ویں صدی میں آزاد ہو گئی۔

جب چنگیز خان اور اس کے خوفناک جنگجو 1219 میں محاذ پر پہنچے تو خوارزمی افواج اس کے لئے تیار نہیں تھی۔ تاہم ، خوارزمی افواج نے منگولوں سے لڑائی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ حالانکہ چنگیز خان کو خوارزم شاہ کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کا بہت شوق تھا اور وہ مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعللقات قائم کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی قوم کے کچھ تاجر سلطنت خوارزم کی طرف بھیجے، مگر خوارزم شاہ کے ناعاقبت اندیش گورنر نے ان تاجروں کو قتل کروا دیا۔ 

اس پر چنگیز خان نے اپنے ایک خاص ایلچی کو خوارزم شاہ کے دربار میں بھیجا اور اس سے مطالبہ کیا کہ تاجروں کے قتل کے مرتکب گورنر کو اس کے حوالے کیا جائے، اورا تاوان کا مطالبہ کیا! خوارزم شاہ اور بھی متکبر ہوئے اور چنگیز خان کے ایلچی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اس سلوک پر چنگیز خان چراغ پا ہوگیا اور اس کے انتقام کی آگ بھڑک اٹھی اور اس نے اپنی وحشی فوجوں کا رخ خوازم شاہ کی طرف موڑ دیا۔

چنگیز خان صحرائے گوبھی سے طوفان کی طرح اُٹھے اور دندناتے ہوئے چین، روس، سنٹرل ایشیا، افغانستان، ایران اور ہندوستان تک علاقوں پر لشکرانداز ہوئے‘ چنگیز جب دریائے آمو کے قریب پہنچے تو علاﺅ الدین خوارزمی نے بزدلی کا مظاہرہ کیا اور خوارزم شاہ نے بمع چار لاکھ فوج بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ خوارزم شاہ گھریلو مسائل کے شکار تھے مگر بیٹا جلال الدین انتہائی زیرک اور بہادر انسان تھے‘ جلال الدین کا لقب مینگو باردی یا مینگربتی (ہمیشہ رہنے والا) تھا۔

منگولوں نے دریائے آمو عبور کرتے ہی تباہی مچا دی، چنگیز خان سمر قند، بخارا، خیوا اور بلخ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، بلخ (بلخ شہر) نے سر تسلیم خم کیا مگر معاف نہیں ہوئے، شہر جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے، سال 1219 سے 1221 تک ہونے والے موفناک جنگ میں سلطنت خوارزم کے ساڑھے بارہ لاکھ افراد مارے گئے۔ قتل عام کرکے کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔

علاﺅ الدین خوارزم شاہ عوام کو چھوڑ کر بھاگتے ہوئے کیسپئن سی کے ویران جزیرے پہنچے تھے جہاں بیمار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ اب جلال الدین مینگو باردی بادشاہ (خوارزم ۔ سلطان) بن گئے، اور منگولوں پر حملے شروع کر دیئے۔

تالقان سے چنگیز خان نے ٹیکچوک اور کمانڈروں کے ایک گروپ کو جلال الدین کو ختم کرنے کے لیے روانہ کیا۔ جلال الدین نے افغان, تاجک قبائل اور خوارزمی قبائل پر مشتمل فوج بنائی, سیف الدین احراق اور دوسرے جنگجوؤں کی آمد سے سلطان جلال الدین کو تقویت ملی اور کابل کے شمال میں”پروان“ کے علاقے میں منگولوں سے لڑائی ہوئی اور جلال الدین نے اس چنگیزی فوج کو مکمل طور پر شکست دے دی۔

یہ چنگیزی فوج کی پہلی اور آخری شکست تھی۔

چنگیزی فوج شکست

 لیکن بد قسمتی سے جلال الدین کے سسر اور تاجک سردار کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگئے اور تاجک فوجی رات کے اندھیرے میں اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ باپ علاؤالدین خوارزم شاہ کو بیوی اور سسرال نے ڈبویا تو بیٹے جلال الدین کو سسر نے مشکلات سے دوچار کرکے ہندوستان بھاگنے پر مجبور کیا۔

جب چنگیز خان کو اس شکست کی خبر پہنچی تو نہایت سرعت سے غزنہ پہنچے تو خبر ملی کہ جلال الدین وہاں سے ہندوستان (پنجاب ) کی طرف نکلے ہیں۔ چنگیز نے ماما یالواچ کو غزنہ کا گورنر مقرر کیا، اور خود جلال الدین کے تعاقب میں دوڑ پڑے۔

جلال الدین اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے شہر فتح کرتا رہا، ڈی آئی خان اور بھکر کور روندتے ہوئے دریائے سندھ کے قریب “ہنڈ” پہنچے، جہاں آج کالا باغ کا قصبہ اور اٹک شہر آباد ہیں۔ “ہنڈ” ماضی کا اہم ترین شہر تھا اور بدھ مت دور میں پشاور ویلی کا دارلحکومت تھا۔ یہ سلطنت افغانستان سے لے کر اٹک سوات تک پھیلی تھی۔ جلال الدین یہاں کشتیوں کا پل تیار کرا رہا تھا لیکن پل مکمل ہونے سے قبل ہی چنگیزی لشکر پہنچ گئی‘منگولوں اور جلال الدین کی فوجوں میں لڑائی ہوئی، منگول فوج نے سلطان کو تین اطراف سے گھیر لیا اور پیچھے دریائے سندھ تھی۔ چنگیز خان نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ سلطان کو زندہ پکڑنے کی کوشش کریں۔ ادھر چغتائی اور اوگیتائی بھی خوارزم سے آکر باپ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔ لہاذا سلطان جلال الدین نے پھر بھاگنے کا فیصلہ کیا اور دریائے سندھ میں کود پڑے، جب منگول فوج نے اسے دریا میں تیرتے دیکھا تو وہ اس کے پیچھے کودنے ہی والے تھے۔ لیکن چنگیز خان نے انہیں روک دیا۔ مختصر یہ کہ جلال الدین خود دریائے سندھ عبور کرکے بچ گئے اور باقی فوج تہہ تیغ ہوئی۔ یہ واقعہ رجب 618ھ یعنی اگست یا ستمبر 1221 میں پیش آیا۔

جب چنگیز خان نے وادئ کرم (کڑمان۔ شلوزان) پہنچے

چنگیز خان خود کرمان ( تاریخی گاؤں کڑمان) اور سنقران (شلوزان وادئ کرم کا قدیم ترین درہ اور گاؤں ہے)  پہنچے

علاء الدین عطا ملک (1)جوینی کے مطابق چنگیز خان نے اُگتائی خان کو غزنہ بھیجا جہاں انہوں نے عوام کو گھروں سے نکال کر کھلے میدان لے گئے اور سوائے کاریگروں کے باقی سب کا قتل عام کیا اور شہر بھی تباہ کردیا اور چنگیز خان خود کرمان (ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان) اور سنقران (شلوزان وادئ کرم کا قدیم ترین درہ اور گاؤں ہے)  پہنچے۔ (2) تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ چنگیز خان اسی راستے جلال الدین کا پیچھا کرتے ہوئے گئے بھی تھے۔ کڑمان کو شہاب الدین غوری نے جنگی اور سٹریٹیجک سرگرمیوں کا مرکز بنایا تھا، اور ہندوستان پرحملوں کے لئے شہاب الدین غوری درہ کرم ہی استعمال کرتے تھے،  اور جب شہاب الدین غوری نے ترک نژاد تاج الدین یلدز کو وادئ کرم کا گورنر تعینات کیا تو یلدز کڑمان کو ہی دارالخلافہ بنایا، (3) جس کے اثار آج بھی موجود ہیں جبکہ یلدز دور کے سکے بھی برٹش میوزیم میں پائے گئے ہیں۔

چغتائی خان کو وادئ کرم میں گورنر تعینات کرکے چنگیز خان وادئ کرم کی سخت ترین سردی کی وجہ سے (5 کے علاقے Buya Katur (6) کی طرف چل نکلے، Ashtaqar جہاں کے حکمران سالار احمد اور قبیلے منگول لشکر کو مدد فراہم کی اور مہمان نوازی کی۔ چنگیز خان یہاں بڑی تعداد میں فوجی لشکر کے ساتھ ہندوستانی غلام اور جنگی قیدی بھی ساتھ لائے تھے، قیدی ہی منگول لشکر کو کھانا پکار کر فراہم کرتے تھے، حکم دیا گیا کہ ہر گھر میں ہر غلام کو چار سو من چاول چھان مارنا چاہیے۔ قیدیوں نے خوف سے اس کام کو ایک ہفتے کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ پورا کیا۔ مگر چنگیز خان نے پھر کسی کو بخشا نہیں، حکم دیا کہ تمام قیدیوں کو قتل کر دیا جائے۔ اور بدبخت قیدی طلوع صبح تک قتل ہوتے رہے۔

دریائے سندھ عبور کرنے کے بعد جلال الدین کی جلاوطنی کا طویل دور شروع ہو گیا۔ جلدل الدین نے دہلی پہنچ کر سلطان التمش سے منگولوں کے خلاف  مدد مانگی‘ التمش نے اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا‘ وہ لاہور سے نکلے اوچ شریف میں ناصر الدین قباچہ کو شکست دی اور سندھ کی طرف نکلے،

جلال الدین سندھ سے ایران، آذر بائیجان اور جارجیا تک حملے کرتے رہے، فوج جمع کرتے رہے، تبلیسی شہر کی اینٹ سے اینٹ بجاتے ہوئے‘ ترکی پہنچے اور سلجوقوں کے ساتھ منگولوں کے خلاف اتحاد بنانے کی کوشش کی مگر سلجوقوں ایوبی فوج کے ساتھ جلال الدین کے خلاف اتحاد قائم کرکے جلال الدین پر حملہ آور ہوئے تو جلال الدین دیار بکر کی طرف بھاگتے ہوئے راستے میں دو كرد لیٹروں کے ہاتھوں مارے گئے۔

اسلامی تہذیب تعمیر کرنے میں 600 سال لگے تھے ، خوفناک منگولوں نے مٹانے کا آغاز کیا۔ گو کہ چنگیز خانی لشکر نے حشیشین کے گڑھ نیشپاپور صفہ ہستی سے مٹا دیا مگر مسلم دنیا کے مرکز (بغداد) میں نہ جانے کا انتخاب کیا وہ منگولیا واپس چلا گیا جہاں وہ 1225 میں فوت ہوگیا۔ نئے خان ، چنگیز کے بیٹے اوکتائی خان ، نے یورال پہاڑوں کو عبور کرنے اور یورپ کو فتح کرنے پر توجہ دینے کا انتخاب کیا۔ یوں مسلم سرزمین پر منگول کا حملہ اچانک ختم ہوگیا ، جب 1240 میں اکتائی خان کی موت ہوگئی اس کے بعد تو منگولوں نے یورپ میں بھی اپنی مہم چھوڑ دی۔

مسیحی یورپ منگول حملوں کے تباہی کے باوجود مقدس سرزمین میں صلیبی جنگ اور یروشلم کو دوبارہ فتح کرنے کے خیال کے ساتھ پرجوش تھے اور منگولوں کے ساتھ مل کر تیاری میں تھے۔ آخر کار ہلاکو خان عیسائی اور بدھ مت کے مشیروں کے مشوروں سے متاثر ہوئے ، اور 1255 میں اسلامی سیاسی طاقت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے مقصد کے ساتھ ایک فوج کو متحرک کردیا۔ یہ الگ تاریخ ہے اس پر پھر بار کریں گے، کیونکہ مسلمانوں کے زوال کا سبب فرقہ واریت تھی، اسماعیلی، ایوبی، اہل تشیع، اہل سنت، ترک، ایرانی، عرب، بنی عباس اور بنو معاویہ جیسے تقسیم کی وجہ سے ایک ایک کرکے مسلمان تقسیم ہوتے رہے، ہلاک ہوتے رہےاور بالآخر مسلمان خلیفہ سمیت بغداد بھی گنوا بیٹھے۔

جب منگول فارس میں داخل ہوگئے جہاں انہوں نے حشیشین پر زبردست حملے کیئے، ان کا مضبوط قلعہ الموت فتح کرلیا  تو بغداد میں خلافت عباسیہ یعنی سنی اور شیعه مسلمان اسماعیلی حشیشین کے خاتمے کی خوشی منا رہے تھے ، ، ہلاکو خان نے بغداد پر نگاہ ڈالی ، جو 750 کے بعد سے خلافت کا دارالحکومت تھا۔

اسلامی تاریخ میں خلافت کا خاتمہ کبھی نہیں ہوا تھا، یا دارالحکومت تحویل میں نہیں لیا گیا تھا، یہاں تک کہ صلیبی یلغار کے باوجود ، حالات نے ہمیشہ اس انداز میں کام کیا تھا کہ مسلم دنیا کی خلافت کو بچالیا گیا تھا۔

جب 1257ء میں ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا اور آخری عباسی خلیفہ معتصم کو قتل کر کے مسلمانوں کے اس عروس البلاد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 6 ہفتے تک یہاں کشت و خون اور غارت گری کا بازار گرم رہا۔ لاکھوں انسان منگولوں کی بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ مسلمانوں کی 6 صدی کی جمع شدہ دولت ایک آن میں لٹ گئی اور ان کے تمام علمی ذخیرے آگ کی نذر ہو گئے۔ بیت الحکمت مسلمانوں کے سب سے بڑی یونیورسٹی اور تجر بہ گاہ کو جلا کر خاک کردیا گیا ۔ کئی ماہ کی بربادی کے بعد آخر کار مملکت میں امن قائم کیا گیا اور ہلاکو خان نے اپنے طریقوں کے مطابق حکومت کی بنیاد ڈالی۔

احمدطوری #شلوزان #کڑمان #کرم#

References:

  1. History of Civilizations of Central Asia, Volume IV Part 1& P2 The Age of Achievement A.D. 750 to the End of the Fifteenth Century C. E. Bosworth & M. S. Asimov
  2. The History of The World Conqueror Vol I By Ala-ad-Din ‘Ata-Malik JUVAINI Translated from the text of Mirza Muhammad QAZVINI by JOHN ANDREW BOYLE, Ph.D.
  3. Journal of the royal asiatic society. Vol 17

4. الکامل فی التاریخ۔ ابن اثیر۔ جلد ۱۰ صفحہ ۳۰۸ سن ۶۰۲۔ مطبوعہ بیروت۔

5. طبقات ناصری -منہاج سراج۔ جلد ۱۔ اردو ترجمہ غلام رسول مہر۔

6. Astaghar کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ اس علاقے کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا مگر جیسے ہم جانتے ہیں کہ شلوزان کو کیسے سنقران کہتے ہیں اور کڑمان کو کرمان لہذا میں نے اشنغر نتیجہ نکالا ہے۔

7. Ashtatr کی طرح Buya Kutar کا بھی نہیں بتایا گیا لہذا وادئ کرم کے حدود اربعہ اور اشنغر کے نزدیکی سمیت سٹریٹیجک حوالے سے باجوڑ کا علاوہ سمجھا جا سکتا ہے۔

ڈھائی ہزار سال قدیم نظریات دفن کرنے کا وقت ہے۔ احمد طوری

یونان کے علاقے آبدرہ میں ڈیموکریٹس نامی ایک فلاسفر نے 2400 سال پہلے مادے کا نظریہ یعنی  پیش کی جو اس وقت تو افلاطون نے بھی مسترد کردیا کیونکہ ہزاروں سال سے یہ نظریہ چلا آرہا تھا، رومیوں کا بھی یہی نظریہ تھا  کہ دنیا کی ہر چیز مٹی، آگ، پانی اور ہوا سے بنی ہے۔ حتی انسان بھی مٹی سے بنا ہے!!!

The-History-of-the-Atom-–-Theories-and-Models

ڈیموکریٹس کا نظریہ 2200 سال تک حاوی رہا حالانکہ عباسی دور میں یونانیوں کے کتابوں میں ڈیموکریٹس کے نظریہ مادہ کا بھی ترجمہ ہوچکا تھا، مگر کسی نے توجہ نہیں دی!! یہی وہ نظریہ ہے جو مولوی صاحبان ایکسیویں صدی میں بھی پرچار کررہے ہیں، آج خطبہ حج میں خانہ کعبہ کے امام نے اسی نظریئے کے متعلق ذکر کیا ہے۔  اور تہران کہ یونیورسٹی کے عظیم الشان نماز جمعہ کے خطبے میں آیت اللہ كاظم صديقى کہتے ہیں کہ زلزلے اس لئے آتے ہیں کہ خواتین چست پتلون پہنتے ہیں۔۔۔ حالانکہ زلزلہ ایک قدرتی عمل ہے جو کے سرکنے کے عمل کے دوران واقع ہوتا ہے، اور جو زلزلے ہماری طرف ہوتے ہیں، اس طرح زلزلے جاپان میں تقریباً روزانہ ہوتے ہیں، اگر تنگ پتلون کی وجہ سے زلزلے ہوتے تو یورپ، امریکہ سمیت دوبئی کو تباہ ہونا چاہئے تھے

Earthquake occurs due to women wearing jeans’, says Iran Cleric

پھر جوہن ڈالٹن John Dolton نے 1800 کے ابتداء میں تجربات کے ذریعے ڈیموکریٹس کے نظریہ مادہ کی توسیع کی، اور قرار دیا کہ کہ مادہ ایٹموں سے بنا ہوتا ہے۔ یعنی اگر کسی مادی چیز کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے جائیں تو آخر کار ایک حد آ جائے گی اور مزید تقسیم ممکن نہیں ہو گی۔، ہوا، پانی، مٹی اور آگ سے نہیں!!!

آج سکول کے بچے بھی جانتے ہیں کہ ایٹم کیا ہے! ایٹم مادے کا چھوٹا ترین ذرہ ہوتا ہے جو اپنے کیمائی خواص برقرار رکھتا ہے۔

آج الیکٹرک مائیکروسکوپ سے یہ حقیقت واضح ثابت ہوجاتی ہے۔ 1905 میں آئن اسٹائن نے بتایا کہ مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ 1942 میں انریکو فرمی Enrico Fermi نے دنیا کا پہلا ایٹمی ری ایکٹر بنایا جسے شکاگو پائیل کا نام دیا گیا۔ جبکہ مین ہیٹن پروجیکٹ کے تحت 1945 میں ہونے والا پہلا ایٹم بم کا تجربہ ہوا جسے ٹرینیٹی ٹیسٹ کا نام دیا گیا۔ اور 1945 میں ہی 6 اور 9 اگست کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے۔۔

بس یہی وہ دور تھا جب سيموميٹر Seismometer کے ذریعے ایٹمی تجربات مانیٹر ہونے لگے اور امریکہ اور روس میں ایٹمی ہتھیار بنانے کی دوڑ شروع ہوئی۔

Seismometer

تو سيموميٹر Seismometer کی ایجاد سے زمین کی ہلنے کا تجربہ ہوا یوں زلزلہ کیسے اور کہاں آتا ہے اس کا بھی یہیں سے پتہ چلا، اور یہ بھی کہ زمین کی تہیں Tectonic Plates (پلیٹس) کسیے ہلتے ہیں، ایسے میں 30 سال پرانے الفریڈ ویگنر کے مشاہدات اور تجربات کی بھی توسیع ہوئی اور Continental Drift نظریہ سچا ثابت ہوا۔

ساڑھے چار ارب سال پہلے سورج کے پھٹنے سے دنیا وجود میں آئی کیا زمین کی ھیئت میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟

Continental Drift Theory

سائنسدان اور جغرافیادان 1912 تک سب یہی سمجھتے تھے کہ دنیا جب سے وجود میں آئی ہے تو ویسی کی ویسی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی رہی!!

جرمن جیو فزسسٹ الفریڈ ویگنر Alfred Wegener نے نقشوں کے مشاہدے کے بعد یہ کانٹیننٹل ڈرفٹ کا نظریہ نظریہ پیش کیا جو اس وقت کچھ خامیوں کے ساتھ درست ثابت ہورہا ہے۔

Continental Drift from Pangea to Today

الفریڈ کا ماننا تھا کہ دنیا کی خشکی پہلے ایک ہی حصہ تھا ایک براعظم تھا۔ الفریڈ نے افریقہ اور امریکہ براعظمو کے نقشوں کا تقابل کیا، آسٹریلیا اور تسمانیہ کا جغرافیہ دیکھا، یورپ اور امریکہ کے پہاڑی رینج دیکھے، سری لنکا دیکھا اور اس جیسے درجن بھر نقشوں کے تقابل کے بعد سمجھ گئے کہ یہ سب علاقے کسی وقت متصل تھے، جسے وہ پنجیا Pangaea کہا کرتے تھے، آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے ایک دوسرے سےدور ہوتے گئے۔ اب یہ ایک انقلابی نظریہ تھا!! جو آج بھی حقیقت ہے، مگر الفریڈ کو یہ سمجھ نہیں تھی کہ ایسا کیوں ہورہا ہے!! ظاہر ہے، اس وقت گوگل آرتھ اور Seismometer ایجاد نہیں ہوا تھا!!!

الفریڈ تو دریاؤں سمندروں، صحراؤں، پہاڑوں اور براعظمو میں ذلیل ہ خوار ہو کر اپنے مشاہدات اور تجربات اکھٹے کررہے تھے مگر آج آپ گوگل آرتھ پر جائیں تو آپ بھی یہ مشاہدہ کر پائیں گے کہ دراصل یہ علاقے کسی وقت آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔۔

کیا آپ کو پتہ ہے کہ ہمالیہ کا عظیم الشان پہاڑی سلسلہ کیسے وجود میں آیا ہے؟ انڈین پلیٹ یوروایشن پلیٹ سے کب ٹکرایا جس سے کوہ ہمالیہ وجود میں آئے؟

Formation of Himalayas

کیا آپ کو پتہ ہے کہ ایک اور ہمالیہ وجود میں آنیوالا ہے؟

افریقہ اور یورپ کے درمیان فاصلہ سمٹ رہا ہے!! بحریہ روم ختم ہونے جارہا ہے، ہر سال ایک انچ کی رفتار سے یورپ اقر افریقہ کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے، دریائے روم ختم ہوتا جارہا ہے اور آج سے کئی کروڑ سال بعد افریقہ اور یورپ ایک براعظم ہونگے، اور وہاں Tectonic Plates کے ٹکراؤ سے کوہ ہمالیہ کی طرح عظیم الشان پہاڑی سلسلہ بن جائے گا۔۔۔

آج جیومیٹکس Geomatics کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں کہ زمین کیسے سرکتی ہے، جیوگرافک انفارمیشن سسٹم GPS یعنی Global Positioning System کے ذریعے بغیر ڈررائیور کے یعنی خودکار گاڑیاں سڑکوں پر گھوم رہی ہیں۔ گوگل میپس لوکیشن کے ذریعے پیزا ڈیلویری گھر گھر پہنچنا ممکن ہوا ہے، اور دنیا جس رفتار سے بڑھ رہی ہے، ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ ہمارا اس میں کیا کنٹری بیوشن ہے؟

How Does GPS Work?

ہمارے یونیورسٹیز میں مولانا طارق جمیل صاحب اور حماد صافی وغیرہ کا تو فقید المثال استقبال ہوتا ہے، کیا ہمارے یونیورسٹیاں ایجادات بھی کررہی ہیں؟ دنیا کے صف اول ایک ہزار یونیورسٹیوں کے ساتھ ہمارا کیا مقابلہ ہے؟؟

Moulana Tariq Jameel in GC University Lahore
Hammad Safi in Garrison Cadet College Kohat

وقت نہیں آیا ہے کہ ہم ڈھائی ہزار سال قدیم نظریات کو ترک کرکے نئے زمانے کے ساتھ شانہ بشانہ چلیں؟

#احمدطوری

عمران خان کو مسلح جھتہ (ملیٹنٹ ونگ) بنانے کی تجویز! 

صحافی ڈاکٹر معید پیرزادہ کے مطابق عمران خان نے پشاور میں اپنے پسندیدہ صحافیوں، اینکرز اور یوٹیوبرز سے ملاقات  کی جس میں ایک سے زیادہ “لوگوں” نے عمران خان کو پاکستان تحرک انصاف کے جلسوں کی تحفظ کے لئے ملیٹنٹ ونگ(مسلح جھتہبنانے کی تجویز دی، جو سٹیٹ مشینری (پولیس، ایف سی “وغیرہ”) کا مقابلہ کریں۔

مگر عمران خان صحافیوں کے مشورے  سے اتفاق نہیں کیا۔ عمران خان نے مزید فرمایا کہ اگر ہم ملٹری ونگ کھڑے کرتے ہیں تووہ پارٹی پر قبضہ کریں گے (چھبیس سال سے عمران خان قابض ہیں ویسے)۔ عمران خان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہآپشن کراچی میں پہلے بھی زیر بحث رہی مگر ہم نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔۔

اب دیکھنا یئ ہے کہ عمران خان کو مسلح جھتہ (ملیٹنٹ ونگبنانے کی تجویز کس نے دی؟

عمران خان کے پیروکاروں سے اس قسم کی توقع کی جاسکتی ہے اور ہو سکتا ہے عمران خان بھی مستقبل میں اس پرسوچیں، مگر میرا خیال ہے کہ عمران خان کو مسلح ونگ کی بالکل ضرورت نہیں، طالبان پی ٹی آئی کا بنا بنایا ونگ ہوسکتاہے، ماضی میں طالبان عمران خان کی بھرپور حمایت کرچکے ہیں اور پاکستان سے مذاکرات میں سمیع الحق کے ساتھ اپنانمائیندہ بھی منتخب کرچکے ہیں۔

مگر آج 30 مئی کو پشاور میں وکلاء کنونش سے خطاب میں سارا منظرنامہ بدل گیا ہے۔ صوبہ پختونخواہ کی وزیراعلیمحمود خان نے  وزیراعظم شہباز شریف، رانا ثناءاللہ کے بارے میں گالم گلوچ کے بعد اسلام آباد پر صوبائی فورسز کے ساتھلشکر کشی کی دھمکی دے، جو آئین سے بغاوت ہے۔ لنک 

محمود خان کا عمران خان کی آئندہ کال پر کے پی کی فورس استعمال کرنے کی دھمکی

اور عمران خان نے چھبیس سال سے رٹی رٹائی تقریر کے شریف برادران کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی اور محمود خان کیبات کو آگے بڑھاتے ہوئے “مکمل تیاری” کے ساتھ مارچ کرنے کا اعلان کیا، اور اس مارچ کے لئے خان صاحب سپریم کورٹ بھیجارہے ہیں جہاں پکڑ دھکرڑ اور راستے بند کرنے کے بارے میں گارنٹی چاہتے ہیں۔

لنک 

پرامن احتجاج کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ رولنگ دے، ورنہ ہم تیاری سے جائینگے، عمران خان

آنیوالے وقتوں میں اس خبر کی گونج سنی جائے گی کیونکہ طالبان کو مین سٹریم کی تیاری کے لئے مذاکرات بھی آخریمراحل میں ہیں اور اگلے ہفتے مفتی تقی عثمانی کی قیادت  میں ایک اعلی سطحی وفد پاکستان تحریک طالبان سے مذاکراتکے لئے کابل کا دورہ کررہے ہیں جس میں اہم پیش رفت کی توقع کی جارہی ہے۔

دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو مین سٹریم کیا جا چکا ہے اور کالعدم تنظیموں کے ہزاروں کارکنانپولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ضم کئے جاچکے ہیں جو پاکستان کے کونے کونے میں مخالفین کے اغوا، جبریگمشدگی اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہے ہیں۔

اس موضوع پر اس وقت سے لکھنا بند کیا ہے جب سے ملک کے مقتدر اداروں نے دینی مدارس کے طلباء ملٹری اکیڈمی کاکولبھیجنے کا سلسلہ شروع کیا اور اب پاک فوج میں ایسے “طالبان افسران” سامنے آئیں گے جو ملٹری اکیڈمی کاکول کے تربیتیافتہ ہوں گے۔

یاد رہے!! پرویز مشرف اور جی ایچ کیو سمیت پاکستان پر بڑے حملوں میں پاک فوج کے تربیت طالبان ہی ملوث پائے گئے ہیں،لہذا اب آستین کے سانپوں میں اضافے کیا گیا ہے۔

جن خدشات کا اظہار کیا ہے  یہ مستقبل قریب میں تو مشکل ہیں مگر پچھلے کالعدم تنظیموں کو جس طرح  مین سٹریم کیاگیا اور یکساں نظام تعلیم میں سپاہ صحابہ کے وفود (خاص کر پنجاب  میں معاویہ اعظم طارق اور صوبہ پختونخواہ میںسپاہ صحابہ کے اہلکارمکمل طور پر آن بورڈ تھے۔ 

مسقبل بعید میں پاکستان کو مکمل طور پر دیوبندی اسٹیٹ بنانے کا پلان ہے جس پر کافی عرصہ سے کام جاری ہے۔ 

یاد رہے جامعہ المنتظر کے علماء سمیت کئی اور علماء بھی “پرو دیوبندی” یکساں نصاب تعلیم پر متفق ہوگئے تھے مگر بعدایم ڈبلیو ایم سمیت میں علامہ شہنشاہ نقوی نے احتجاج کیا ہے اور شہباز شریف سرکار نے آتے ہوئے اسے سسپنڈ کیا مگراپنا فیصلہ بعد میں واپس لیا۔

#احمدطوری

ڈاکٹر معید پیرزادہ کا مکمل وی لاگ نیچھے دیئے گئے لنک پر سنیں۔

طالبان، سپاہ صحابہ اور جہادی تنظیموں کا کرم ایجنسی میں خونریز فسادات کا اقرار جرم!

احمد طوری۔ پاراچنار

طالبان نے سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور پاکستان کے دیگر جہادی تنظیموں کے ساتھ مل کر وادئ کرم میں 2007 کے خونریز فسادات کا اقرار جرم کرلیا ہے اور فسادات کے علاوہ پاراچنار شہر میں ہوئے درجن بھر خودکش حملوں میں سے کئی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے “فدائین” (خودکش) حملہ آوروں کے نام اور مستقل پتے بھی شئیر کی ہیں۔

“انقلابِ محسود ساؤتھ وزیرستان۔
فرنگی راج سے امریکی سامراج تک”

طالبان رہنما مفتی نور ولی کی کتاب “انقلاب محسود” کا تفصیل سے ذکر بعد میں کرتے ہیں پہلے قبائلی سٹرکچر اور جھگڑوں پر سرسری نظر ڈالتے ہیں کہ قبائلی علاقہ جات میں ایسے فسادات ہوتے کیوں ہیں؟ اور وادئ کرم میں مذہبی رنگ کیوں اختیار کرتے ہیں؟

وادئ کرم بھی دیگر قبائلی علاقہ جات کی طرح مختلف پشتون (پختون) قبائل کا ہزاروں سال سے مسکن رہا ہے اور قبائلی جنگ و جھگڑے بھی وقتاً فوقتاً شروع جاتے ہیں۔ وزیرستان سے لے کر ڈی آئی خان اور بنوں تک آباد وزیر، محسود، بیٹنی، مروت، داؤڑ، گنڈاپور پشتون قبائل ہوں یا اورکزئ، خیبر، مہمند باجوڑ میں اورکزئی، افریدی، باجؤڑی، یوسفزئی، مہمند یا دیگر قبائل، حتی، ہنگو، کوہاٹ، پشاور، مردان، صوابی اور دیر تک آپس میں قبائلی دشمنیاں عام ہیں جس میں زیادہ تر جھگڑے اراضی کے تنازعات، پہاڑ، نالوں اور پانی کے جھگڑے زمانہ قدیم سے چلتے آ رہے ہیں۔ اور وادئ کرم بھی میں یہ رواج عام ہے۔ افغانستان اور بلوچستان کے پشتون قبائل کا بھی یہی حال ہے۔

بدقسمتی سے پختون قبائل آپس میں دشمن دشمن ہیں۔

مگر وادئ کرم دیگر قبائلی جھگڑوں کے ساتھ ساتھ شیعہ سنی فسادات کی بھی آماجگاہ ہے۔ جہاں وقتاً فوقتاً عام قبائلی جھگڑے بھی فرقہ ورانہ فسادات میں تبدیل ہوتے رہے ہیں، جس کے کئی پہلو ہیں۔ مگر سب سے اہم وجہ وادئ کرم میں آباد پشتون شیعہ قبیلہ “ طوری قبیلہ ” ہے جو شیعہ بنگش قبائل کے ساتھ مل کر وادئ کرم کی اکثریتی آبادی ہے۔ یوں وادئ کرم کے اہل سنت قبائل دور دراز دوسرے اہل سنت قبائل کے ساتھ مل کر ہمیشہ سے ان کے خلاف “جہادی جذبے” سے سرشار ہوکر لڑتے رہے ہیں اور پھر وزیرستان سے لے کر اورکزئی، خیبر، باجوڑ، مہمند حتی سوات سمیت ملک کے دور دراز علاقوں اور شہروں کے جہادی “جام شہادت نوش” کرنے یا “غازی” بننے کے لئے وادئ کرم کا رُخ کرتے ہیں۔ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے بعد طالبان نے بھی “مذہبی فریضہ” سمجھ کر اہل تشیع کا خون “ثواب” سمجھ کر بہایا ہے۔

اور اب بھی سپاہ صحابہ کے سرگرم کارکن عید نظر فاروقی سمیت کی افراد ضلع کرم سے لیکر کوہاٹ تک مذہبی دہشتگردوں کو اکھٹا کرکے فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں اور ریاست تماشہ دیکھ رہی ہے۔

جن حالات کا مقابلہ سینکڑوں سال سے وادئ کرم کے طوری قبائل کررہے ہیں اس کا تقابل آپ فلسطین (غزہ) کے مسلمانوں سے کرسکتے ہیں جہاں یہود نے مسلمانوں کا جینا حرام کردیا ہے اور اس کی جھلک آپ کو 2007 سے لے کر 2012 تک وادئ کرم کے محاصرے اور مسلط کردہ جنگ میں نظر آئے گی جہاں پانچ سال محاصرہ کرکے ضلع کرم کے اہل تشیع کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش گئی، جس کی کچھ تفصیل تو دنیا کو پتہ ہے اور طوری قبائل نے تو بھگتا ہے اسلئے ان سے زیادہ کسی کو نہیں پتہ۔۔

مگر اب پہلی بار طالبان قیادت نے وادئ کرم پر جنگ مسلط کرنے کا اقرار کیا ہے اور جنگ کی تفصیلات جاری کی ہیں جس میں 120 تک طالبان رہنماؤں و ارکان کی ہلاکت اور کروڑوں روپے مالیت کے اسلحے کی تفصیل بھی درج ہے۔

مگر حیرت ہے کہ وادی کرم سے بھاگے ہوئے دہشتگرد اب پشاور اور دیگر علاقوں میں 2007 فسادات کے جیوڈیشل انکوائری مطالبہ کرکے احتجاج کررہے ہیں، مفتی نور ولی کی کتاب منظر عام پر آنے ک بعد ان کے منہ بند ہونے چائیے کیونکہ طالبان کے سہولتکاروں کی وادئ کرم میں کوئی جگہ نہیں۔

وادئ کرم کے پشتون شیعہ “طوری قبائل” کے خلاف عرصہ دراز سے پختونخواہ اور افغانستان کے اہل سنت قبائل “جہادی”سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، جس سے ریاست مکمل طور پر چشم پوشی اختیار کیئے ہوئے ہیں جو اس دہشتگردی میں معاونت یا سہولتکار کے زمرے میں آتا ہے۔ طوری واحد پشتون قبیلہ ہے جو مکمل طور پر شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، افغانستان، پاکستان اور پڑوسی ممالک کے درمیان سینڈوئچ بن کر رہ گیا ہے، طوری قبائل تو پاکستان اور افغانستان کے تکفیری دہشتگرد گرپوں اور ریاست پر الزامات لگاتے رہے ہیں مگر اب پہلی دفعہ

تحریک طالبان پاکستان کی اعلی قیادت نے وادئ کرم میں شیعہ سنی فسادات میں بھرپور حصہ لے کر قتل و غارت گری کا اقرار کیا ہے، وادئ کرم کے شیعہ پشتون قبائل کے خلاف طالبان نے سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور دیگر نام نہاد جہادی تنظیموں سے مل کر کروڑوں کا اسلحہ استعمال کیا ہے اور سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں کے ہلاکت کی بھی تفصیل جاری کی ہے جس میں وزیرستان کے محسود قبائل کے ساتھ ساتھ وزیر قبائل، مروت، گنڈاپور، داؤڑ اور بٹنی سمیت اورکزئی قبائل کے دہشتگرد بھی شامل رہے ہیں۔

یہ تفصیلات تحریک طالبان پاکستان کے امیر ابو منصور عاصم مفتی نور ولی محسود نے اپنی کتاب “انقلابِ محسود ساؤتھ وزیرستان۔ فرنگی راج سے امریکی سامراج تک” میں شائع کی ہیں۔

688 صفحات پر مشتمل اس کتاب جس کا اھتمام طالبان کے نائب امیر خالد محسود نے کیا ہے میں طالبان نے پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں دہشتگرد کاروائیوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جس میں بےنظیر بھٹو شہید پر کارساز میں دھماکہ اور پھر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں خودکش حملے کی تفصیل بھی صفحات 395, 396 اور 397 پر شائع کی گئی ہیں۔ بےنظیر بھٹو پر کارساز میں حملہ کرنے والے خودکش حملہ آور “فدائی” نور حسین کی جس رات وزیرستان میں شادی کی تقریب جاری تھی اسی رات اس نے کراچی میں خودکش حملہ کرکے 200 افراد قتل کردیئے اور “ جنت کی حوروں” کے ساتھ شادی کو ترجیح دی، جبکہ مصنف نے صحابی حضرت حنظلہ سے تشبیہ دے کر مدح سرائی کی گئی ہے۔

مفتی نور ولی محسود نے جی ایج کیو، آئی ایس آئی دفتر، مہران بیس، پرویز مشرف، بشیر بلور، اسفندیار ولی خان، آفتاب شیرپاؤ سمیت درجنوں سیاسی رہنماؤں پر خودکش حملوں کی تفصیل بھی شئیر کی ہے اور خودکش بمباروں کی ولدیت اور علاقے سمیت تفصیلات شئیر کی گئی ہیں۔

طالبان رہنما نے اپنی کتاب میں وزیرستان میں خودکش حملہ آوروں کے تربیتی مراکز، مولویوں اور مدارس جہاں فدائی تیار ہوتے تھے اور سہولتکاروں کی تفصیلات بھی شائع کی ہیں۔

مفتی نور ولی نے “انقلاب محسود” نامی کتاب میں وزیرستان کے علاوہ اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ڈی آئی خان، بنوں، ٹانک سمیت پاراچنار (وادئ کرم) میں پاک افواج کے خلاف کی گئی کاراوائیاں درج کی ہیں اور پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف کی گئی کاروئیوں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے جس میں قادیانیوں (احمدی)، بریولوی اور اہل تشیع کے خلاف کی گئی مختلف کاروائیاں تفصیل قابل ذکر ہے۔ مصنف نے وزیرستان میں “بریلویت پھیلانے کے جرم میں ایک شخص کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا ہے جس کے ساتھ اس کی چھوٹی نواسی بھی قتل کردی گئی تھی۔

طالبان رہنما نے چونکہ یہ کتاب محسود قبیلے پر لکھی ہے لہٰذا زیادہ تر تفصیلات بھی محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے دہشتگروں کی شائع کی گئی ہیں، جس میں دہشتگردوں کے نام اور ولدیت سمیت گاؤں اور علاقے کے مستقل پتے بھی شائع کی گئی ہیں۔

کتاب کے صفحہ 606 سے 610 تک “کرم ایجنسی میں شیعوں سے جنگ اور اسکے اسباب” کے ذیل میں مفتی نور ولی نے طالبان کے وادئ کرم میں خونریز جنگ کی تفصیلات اور اسباب بیان کئے ہیں، جس کے مطابق طالبان چیف بیت اللہ محسود کے حکم پر حکیم اللہ محسود، شیر اعظم آقاء محسود، فخر عالم محسود عرف جرار، مولانا نصر اللہ عرف منصور، کمانڈر ملا سنگین نے وادئ کرم میں 2007 سے لے کر 2009 تک فسادات اور خونریز جنگوں میں حصہ لے کر اہل تشیع کے کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹائے اور سینکڑوں افراد کے قتل کا بھی اعتراف کیا ہے، جبکہ لاکھوں کے “مال غنیمت” کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

مفتی نورولی کرم ایجنسی کے شیعوں سے جنگ کو “غیرضروری” جنگ قرار دیتے ہوئے اس کے کئی اسباب بیان کرتے ہیں، جس سے بیت اللہ محسود کے کئی مقاصد حاصل ہوئے مگر بحیثیت مجموعی یہ جنگ طالبان کے بدترین جنگوں میں سے تھیں جہاں طالبان کی بدنامی ہوئی کیونکہ اس طرح جنگیں کرم ایجنسی میں اور ہر ایجنسی میں قبائل لڑتے رہتے ہیں، بہت زیادہ طالبان رہنما اور کارکن قتل ہوئے اور چھ کروڑ روپے کا اسلحہ صرف بیت اللہ نے خرید کر اس جنگ میں استعمال ہوا۔

1: مفتی نور ولی خود بیت اللہ سے گفتگو کرتے ہوئے شیعوں سے جنگ کے بابت پوچھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “بیت اللہ محسود وادئ کرم کے “اہل تشیع” کو افغان جہاد میں رکاؤٹ سمجھتے تھے، (جبکہ محسود جہادیوں کو وادی کرم سے کوئی لینا دینا نہیں تھا! وہ خوست اور مقبل سے ہوتے ہوئے بآسانی افغانستان آ جا سکتے تھے/ہیں) مگر مفتی نور ولی، صفحہ 607 پر ذکر کرتے ہوئے مولوی ثاقب یا مولوی خیرخواہ یا مولوی ابوزکران کا حوالہ دیتے ہوئے دوسرا سبب 2 لکھتے ہیں کہ کرم ایجنسی میں شیعوں اور حقانی نٹورک میں افغان جہاد کے لئے سپلائی روٹ پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے لہذا بیت اللہ محسود نے حقانی نٹورک کی جنگ اپنی سر لیتے ہوئے اس میں کور پڑے۔ اسی صفحے پر مندرجہ راویوں سے ہی نقل کرتے ہوئے مفتی تیسرا سبب 3 لکھتے ہیں کہ انہی مہینوں میں ایرانی وفد نے بیت اللہ محسود سے ملاقات کی تھی، جس کا پاکستان کو پتہ چلا تو انہوں شیعہ سنی جنگ کو ہوا دی جس میں پھر بیت اللہ محسود بھی کود پڑے۔

چوتھے 4 سبب کے طور پر مولانا معراج الدین قریشی نے بیت اللہ محسود کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ “خفیہ ادارے ایران کے مظبوط اڈے کو طالبان کے ذریعے ختم کرنا چاہتا ہے لہذا اس میں حصہ نہ لیں۔ (جیسے پاکستان کی نمبر ون جاسوسی ایجنسی آئی ایس آئی سمیت دو درجن ایجنسیوں کو کوئی پتہ نہیں، جو ضلع کرم میں فعال ہیں، یہ گمراہ کن پروپیگنڈا سے زیادہ کچھ نہیں)۔

پانچویں 5 سبب کے طور پر مفتی نور ولی ایک من گھڑت اور فیک افواہ کر جواز وادئ کرم ایجنسی میں اہل تشیع کے خلاف جنگ “جہاد” میں کود پڑتے ہیں کہ “اہل سنت کی ایک خاتون کو اہل تشیع نے اغوا کیا اور “مخبرہ سیٹ” پر اہل سنت کو اس کا “پیغور” عار دلاتے تھے لہذا اہل سنت کی ناموس کی بےعزتی بیت اللہ محسود سے برداشت نہیں ہوئی اور جنگ میں کود پڑے۔

“اس کا جواب””

“سپاہ صحابہ کے غنڈے عرصہ دراز سے اس طرح ہتھکنڈے استعمال کرکے فساد بھڑکا تے رہے ہیں ورنہ 2007 سے 2009 تک کرم ایجنسی میں ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے، اور نہ کسی پختون کا غیرت یہ گوارہ کرتا ہے کہ کسی خاتون کی اس طرح بےعزتی کریں۔

مگر افسوس یہ ہے کہ کچھ جوان لڑکیوں کی ویڈیو 2015ء کے بعد سامنے آئیں مگر وہ طوری قبائل کے دو جوان لڑکیاں اہل سنت قبائل کے پاس تھیں جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھیں، یہ غلیظ حرکتیں تو آپ لوگ کرتے رہے ہیں، مگر الزامات دوسروں پر ڈال کر قتل و غارت گری کا جواز پیدا کرتے ہیں”۔

آگے جا کر مفتی نور ولی وادئ کرم اہل تشیع کے خلاف جنگ کا اصل مقصد (چھٹا 6سبب) بتاتے ہوئے تجزیہ بھی کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا وجوہات کے علاوہ “دراصل بیت اللہ محسود نے شیعوں کے خلاف جنگ بغیر کسی سے مشورہ کئے شروع کی جس کا مقصد پاکستان کے دیگر اسلامی مذہبی تنظیمیں جو خصوصاً شیعوں کے خلاف برسرپیکار تھیں یا “جہادی مشاغل” کے ساتھ شیعوں کے خلاف بھی سرگرم عمل تھے ان کو اعتماد میں لینا تھا اور کچھ لو کچھ دو کے پالیسی کے تحت سب کو اپنے ساتھ ملایا لہذا بیت اللہ محسود اس مقصد میں کامیاب ہوئے۔ “ کہ ہم سب کا مقصد ایک ہے کچھ لو اور کچھ دو کے فارمولہ کے تحت انہی تنظیموں اور گروپوں کو اپنے قریب کر کے پاکستان میں اپنے ساتھ ملا کے جنگ کو آگے بڑھایا ، چنانچہ یہ فارمولہ بہت حد تک کامیاب بھی ہوا کرم ایجنسی کے علاوہ بھی پورے پاکستان میں شیعوں کے خلاف کاروائیوں میں حصہ لیا۔ قاری حسین احمد صاحب شہید ) تو اسی کام ہی میں مگن رہے۔ اس فارمولے پر عمل کے نتیجہ میں ان تنظیموں اور گروپوں نے بھی بیت اللہ محسود وغیرہ کا جہاد پاکستان میں بڑا ہی ساتھ دیا۔ یہ تھے و اسباب اور وجوہات جس کی وجہ سے کرم ایجنسی میں شیعہ سنی جنگ میں طالبان نے بھی حصہ لیا۔ ہر جنگ کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں یہ ممکن ہے کہ مختلف مواقع پر مذکورہ بالا اسباب پیش ہوئے ہو جس کی وجہ سے بیت اللہ محسود نے جنگ کا فیصلہ کیا ہو۔ اگر چہ کرم ایجنسی میں شیعہ سنی جنگیں انکے آباء واجداد کے زمانے سے چلی آرہی تھیں، یہ بھی انکی معمول کی جنگیں تھیں جو پشتون قوموں سے ہوتی رہتی ہیں یہ جنگ بھی تقریباسی کی کڑی تھی۔ البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس جنگ میں طالبان نے کیا کھویا کیا پایا؟ تو اس کا سادہ سے جواب یہ ہے کہ عالمی جہادی سیاست کی رو سے طالبان نے نقصان اٹھایا”

مصنف افغان طالبان کے کامیابی کا مثال دیتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ افغانستان کے اہل تشیع کے خلاف نرم رویہ اپنایا ہے اس سے افغان طالبان کو فائدہ ہوا ہے جبکہ پاکستان میں اہل تشیع سب طالبان کے دشمن بن گئے ہیں جس سے طالبان کو شدید نقصان پہنچا۔

مصنف کرم ایجنسی میں اہل تشیع کے خلاف “محسود طالبان کی پہلی جنگ” کے ذیل میں صفحہ 608 پر لکھتے ہیں کہ

“کمانڈر عاجز بی بی زائی امیر حلقہ دور دوم شوال کے بقول 25 اکتوبر 2007ء کو پہلی بار بیت الله امیر صاحب کے حکم پر کمانڈر فخر عالم محمود عرف | جرار کے زیر کمان کرم ایجنسی میں شیعوں کے خلاف جنگ شروع ہوئی اس جنگ میں طالبان نے شیعوں سے کئی قصے قبضہ کئے جن میں سیدان گاؤں قابل ذکر ہے، شیعوں پر طالبان کا پلہ بھاری رہا۔ اس میں سینکڑوں شیعہ افراد مارے گئے اور ان کے پورے پورے گاؤں “فتح” کئے اور بطور “مال غنیمت” کے لاکھوں کی مالیت طالبان کے ہاتھ لگی۔ اس جنگ میں محسو د طالبان کا بھی کچھ حد تک جانی نقصان ہوا جن میں چند اہم کمانڈر مثلا کمانڈر یوز خان حلقه، شکتوئی اور کمانڈر گل شریف، حلقه زانگاڑہ نے جام شہادت نوش کی اور عبدالمالک ولد ماخود، مرسنزئی (2) فیض اللہ خان ولد بیت اللہ حلقہ شکتوئی دودیے خیل ، (3) خاندان والد شاہ ولی خان، کیکاڑئ ، (4) قاری محمد نواز نیک زان خیل، خیسور ،(5) جاماز خان ولد راعستان برکی، حلقہ سام ، وغیرہ اس جنگ میں “رتبہ شہادت” پر سرفراز ہوئے ان کے علاوہ مقامی سنی آبادی کے جوانوں کے بارے میں تفصیل ہاتھ نہ آسکی۔ یہ تمام شہادتیں خصوصا دسمبر 2007ء کے اواخر میں ہوئے، بالخصوص کمانڈر نیوز خان محسود وغیرہ کی شہادت 27 دسمبر 2007 کو وقوع پزیر ہوئی۔

مجھے یاد ہے! طالبان اور دیگر دہشتگرد مورچوں سے اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتے فائرنگ کرتے رہے اور طوری قبائل کے مورچوں کی طرف آوازیں کستے رہے کہ “آپ کی ماں “بےنظیر بھٹو” کو قتل کردیا گیا ہے”۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے مصنف نورولی محسود لکھتے ہیں کہ “جرگوں کی وساطت سے یہ جنگ تھم گئی اور ایک صلح کے تحت مجاہدین محسود نے شیعوں کے قبضہ شدہ علاقوں کو واپس کر کے اپنے وطن لوٹے۔ جن دنوں پاکستانی فوج 2008ء کے ابتداء میں جنوبی وزیرستان علاقہ محسود میں شدید لڑائی جاری تھی”۔

وزرستان سے دہشتگرد دوبارہ واپس کرم ایجنسی آتے ہوئے مفتی نورولی لکھتے ہیں کہ

“کچھ مہینوں بعد جب پاکستانی فوج سے محسود طالبان نے معاہدہ کیا تو ان دنوں میں شیعہ کے بعض خلاف ورزیوں کی بنا پر دوبارہ جولائی۔ اگست  2008 ء میں حکیم اللہ محسود کے زیر قیادت میں جنگ شروع ہوئی ۔ کمانڈر عاجز بی بی زائی کے بقول یہ لڑائی 7 جولائی 2008ء کو شروع ہوئی۔ ان کے بقول ہم نے پہلی بار شیعوں کے مشہور گاؤں چاردیوار کے دفاعی مورچوں پر حملہ کیا جسے فتح کر کے دم لیا۔ ان ہی کے بقول اسی روز او پر دوسرے دفائی مورچوں پر اور چاردیوار گاؤں پر تعارض کیا، لیکن شدید دوائی کے باوجود چاردیوار گاؤں فتح نہ ہو سکا، اس لڑائی میں تقاری حضرت الله ولد محمد مرجان نظر خیل محمود حلقہ بدر اور ایک “بھٹنی” مجاہد حضرت علی بمع تین ساتھیوں کے شہید ہوئے۔

اسی طرح 11 جولائی 2008 کو بالترتیب ہم نے سہ پہر گاؤں چاردیوار پر تعارض کا پروگرام بنایا، دفاعی مورچے میرے ذمہ لگائے گئے جبکہ گاؤں پر تعارض کی ذمہ داری انقلاب محسود (جنکا تعلق حلقہ ڈیلے سے تھا) کو دی گئی۔ یوں ہم نے یکبارگی مورچوں اور گاؤں پر حملہ کیا جس میں ہلکے اور بھاری اسلحہ کا بے دریغ استعمال ہوا اور اللہ تعالی کی نصرت سے مورچے اور گاؤں فتح ہوئے اور چند دن پہلے حملے میں جو طالبان شہداء کی لاشیں وہاں رہ گئیں تھیں وہ بھی ہاتھ آگئے اور اسکو وہاں سے منتقل کر گئے اور ساتھ ساتھ کافی سارا “مال غنیمت” ہاتھ میں آگیا”۔

“انزری سر اور انزری گاؤں پر حملہ”

کے ذیل میں نور ولی لکھتے ہیں کہ

“15 ستمبر 2008 ء کو کمانڈر مولانا نصر اللہ عرف منصور کے زیر کمان مجاہدین محسود اور مجاہدین اورکزئی نے اینزری سر مورچوں پر اور اینزری گاؤں پر تعارض کیا جس میں “بفضل تعالی” پانچویں دفاعی مورچے فتح ہوئے۔ اس تعارض میں 8 شیعہ ہلاک ہوئے اور مال غنیمت کافی ملا، جس میں تین یا چار عد و کلاشنکوف ایک سکیلہ (گرینوف ) ایک عدد آر پی ابھی بمع گولیاں بھی شامل تھے ۔ جبکہ شیعوں کے جوابی فائرنگ سے دلاور خان ولد میر صاحب خان فقیر سپینه میلا حلقه وچه خوڑہ شہید ہوئے، اور اس کے علاوہ تین یا چار دو سرے مجاہدین شدید زخمی ہوئے جبکہ جلال خان ولد اجمل خان ظریف خیل “حلقہ مکین” بھی شہید ہوئے”۔

“ایک دن کے بعد شیعوں نے تعارض کر کے دوبارہ اپنے مورچوں پرقبضہ کیا۔ 26 ستمبر 2008ء کو دوباره انہی مورچوں اور گاؤں پر کمانڈر ملا منصور کے زیر کمان تعارض ہوا دونوں طرف سے شدید لڑائی ہوئی۔ اس لڑائی کے نتیجہ میں تمام مورچوں کو مجاہدین نے فتح کیا اور اینزری کلی (گاؤں) کو نذر آتش کیا لیکن مجاہدین کا اس لڑائی میں مارٹر گولوں اور بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے کافی نقصان ہوا۔ تقریبا 18 مجاہدین کی شہادتیں واقع ہوئی۔ جن میں سے شانواز ولد میرشان ملک دینائی حلقہ ڈیلے جو کمانڈر انقلاب سے مشہور تھے، بارودی سرنگ سے ٹکرا گئے اور شہید ہوئے۔ اور جمیل محسود ولد لاپڑ خان کیتوڑی حلقہ سپنکئ رغزائی والے شامل تھے باقی شہداء کا تعلق کرم ایجنسی، اورکزئی، بھٹنی، گنڈاپور اور داوڑ قبیلے سے تھا”۔

کتاب کے صفحہ 609 پر مصنف “اینزرائی اور بوتل سر مورچوں پر حملہ” کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ

“یکم ستمبر 2008ء کو کمانڈر ملا سنگین کے زیر کمان اینزیرائی سر مورچوں پر تعارض ہوا اور مکمل مورچے فتح ہوئے، اس لڑائی میں ملا سنگین کے بھائی وارچ خان زخمی ہوئے، جبکہ اسی روز بوتل سر کے اونچے پہاڑی فیچر پر واقع شیعہ پیکٹ پر کمانڈر شیر اعظم آقاء کے زیر کمان تعاض ہوا لیکن یہ تعارض ناکام ہوا اور اس میں طالبان کا جانی نقصان ہوا۔ شہداء میں مولانا موسی ولی محسو ولد رشید خان مال خیل کڑمہ حلقہ ڈیلے (2 ) سفير اللہ عرف پتنگ ولد قمر جان نیک زان خیل حلقه بروند(3) عابد حسین ولد اکبر جان شمیرائی حلقہ بروند (4) محمد اسماعیل ولد مائنل خان عباس خیل ٹو ٹکئے حلقه بروند شامل تھے۔ انہی دنوں کمانڈر مولانا عزیز اللہ شابی خیل عرف خڑگائی ماسید حلقہ بروند اپنے گاڑی میں غلطی سے شیعوں کے علاقے میں داخل ہوئے جس پر شیعوں نے حملہ کیا جسکے نتیجہ میں رحمن الله ولد رحمت شاه دار کئی حلقہ جاٹر ائی۔ (2) احمد ولد پسمرجان درا من خیل (3) شیر کلام ولد مقار خان نیک زان خیل عرف مجنون حلقه بروند نے جام شہادت نوش کیا۔ خود مولوی عزیز الله اور اسکے ڈرائیور محمد فاروق زخمی ہوئے لیکن ڈرائیور نے زخمی حالت میں گاڑی اور شہداء کو واپس نکالا، انہی دنوں دوبارہ شیعوں نے حملہ کر کے انزری گاؤں کو دوباره قبضہ کیا، چند دن بعد شیعوں نے پرزور حملہ کر کے تمام مقبوضات کو طالبان سے واپس قبضہ کے لیئے، اس لڑائی میں خانزادہ والد رشید خان نظر خیل علاقه بروند شہید ہوئے”۔

“شیعہ علاقوں پر دوبارہ بڑا حملہ” کے ذیل میں “انقلاب محسود کے مصنف مفتی نورولی صفحہ 609 پر لکھتے ہیں کہ

“ستمبر 2008 ء طالبان اپنے امراء اور بڑے بڑے کمانڈروں کے شانہ بشانہ شیعہ علا قوں پر دوبارہ حکیم اللہ محسود اور کماندر شیر اعظم آقاء محسود کے زیر کمان جو بنفس نفیس جنگ میں شریک تھے تعارض شروع کیا، سابقہ تمام گاؤں اور قصبوں کو دوبارہ قبضہ کر کے شیعہ تسلط ان سے ختم کر دیا۔ اس تعارض میں حکیم اللہ محسود معمولی زخمی بھی ہوئے۔ جبکہ ایک شیعہ زخمی حالت میں گرفتار ہوا اور دو کی لاشیں بھی طالبان نے اپنے قبضہ میں لی۔ یوں طالبان کے زیر تسلط شیعہ علاقوں میں سے یہ علاقے اور گاؤں قابل ذکر ہیں (1) چار دیوار ٹیٹ اور چگ (2) بوتل گاؤں “بوتل سر” (3) اینزرائی گاؤں (4) سیدان گاؤں وغیر ہ دوسرے قریبی علاقے اور قصبات شامل تھے۔ یہ ناکافی تفصیلات بہت مشکل سے ہاتھ آئے، خصوصاً لڑائی کے بارے میں تفصیلات اور ان میں جانبین کے نقصانات جولائی سے ستمبر تک بہت سارے لڑائیاں لڑی گئیں لیکن سب کی تفصیل اکٹھا کر کے جمع کرنا ناممکن ہوا البتہ باوثوق ذرائع سے یہ بات اور طالبان سے مجھے ملی کہ اس لڑائی میں 90 سے 120 تک طالبان شہید ہوئے اور کروڑوں کی مالیت کے حساب سے اس میں اسلمہ صرف ہوا۔ جبکہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مقامی آبادی کے سینگروں باشندے اور مسلح اہلکار مارے گئے”۔

مفتی نورولی محسود نےایران اور افغانستان کے ہزارہ کا ذکر کیا ہے جو طوری قبائل کی جانب سے لڑ رہے تھے، مگر یہ سفید جھوٹ اسلئے ہے کہ اس کا کوئی ثبوت نہ کتاب میں دستیاب ہے اور نہ ہی حکومت یا ایجنسیوں کی طرف سے ایسی کوئی ثبوت سامنے آئی ہے۔ مگر بطور اہل کرم اور طوری کے میں یہ بات ذمہ داری سے لکھ سکتا ہوں کہ طوری قبائل اپنے جوانوں کے علاوہ کسی کے مدد کے بل بوتے یہ جنگیں نہیں لڑتی، طوری۔ بنگش قبیلے کے ہزاروں جوان شہید ہوئے ہیں، اس کے علاوہ باہر سے نہ کوئی مدد کے لیے آئے ہیں اور نہ ہی طوری قبیلے کو کسی سہارے کی ضرورت ہے۔ یہ دھرتی ہماری ہے اور سر اُٹھا کر سینکڑوں سالوں سے یہاں جی رہے ہیں اور مرتے بھی رہے ہیں۔ طوری قبیلہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

صفحہ 610 پر نورولی بات آگے بڑھاتے ہوئے بہت سے ساتھیوں کے نام ولدیت اور علاقوں کے نام بتائے ہیں جو وادئ کرم پر حملہ آور ہوئے تھے۔

“اس لڑائی میں محسو د طالبان کے وہ شہداء جن کے صرف نام ملے لیکن لڑائی کی جگہ اور تاریخ کے بارے میں تفصیلات ہاتھ نہ آئے ان شہداء کے نام مندرجہ ذیل ہیں اور باقی ایجنسیوں کے شہداء کے تفصیل جمع کرنا ناممکن رہا۔

(1) کمانڈر انقلابی کے ساتھ 15 ستمبر 2008ء کو اینزری گاؤں پر تعارض میں بادشاہ دین عرف طوطی ولد میرزا علی خان وزیر گائے مال خیل حلقہ ڈیلے نے جام شہادت نوش کیا۔

(2) سلمان عرف مجرور ولد لال منیر مچی خیل لنڈائی رغزائی حلقہ بروند نے اگست 2008ء کے ادوار میں اس لڑائی کے نذر ہوئے اور رتبہ شہادت پر فائز ہوئے (3) محمد باشم ولد حاکمین برکی حلقہ سام جب شیعوں نے اپنے مقبوضات واپس لینے کیلئے تعارض کیا تو اس دوران شیعوں کے فائرنگ سے شہید ہوئے۔

(4) محسن ولد مامک سلم کائی عبدالائی حلقہ مکین ستمبر 2008 ء کے لڑائی میں شہید ہوئے۔

(5) الطاف ولد جان داتی، بہادر خیل عبدالائی حلقہ قلندر بھی ستمبر 2008ء میں شہید ہوئے،

(6) عثمان ولد داود خان، نظر خیل حلقہ سپنکئ راغزئی بھی اگست 2008 میں شہید ہوئے۔

(7) انعام الله ولد داؤد جان ، ہیبت خیل حلقہ کی سپنکئی رغزائی بھی اگست 2008 ء میں اپنے ساتھی کے گولی سے شہید ہوئے جو بغیر پوچھے مورچے سے باہر گیا تھا ساتھی نے اسے دشمن سمجھ کر فائرنگ کر کے شہید کیا۔

(8) فیروز خان، نظر خیل حلقہ سپنکئ رغزائی بھی اس لڑائی میں ستمبر 2008 ء میں شہید ہوئے۔

(9) خانزادہ ولد رشید خان ، نظرخیل حلقہ بدر اگست 2008 ء میں طالبان نے جب شیعوں پر تعارض کیا اسی دوران دشمن کے جوابی فائرنگ سے شہید ہوئے۔

(10) شاه قیاز ولد لاوٹ خان ، میر خونائی حلقہ کتوئی اگست 2008ء میں شہید ہوئے”۔

یہی وہ وقت تھا جب طالبان لیڈر حکیم اللہ محسود نے ضلع کرم میں طوری قوم کی ہزاروں جریب اراضی پاڑہ چمکنی قبائل میں تقسیم کی اور بستی سمیت ایک مسجد کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ یہ سب کچھ غیر قانونی دہشتگرد جماعت حکومت کے ناک کے نیچھے کررہے تھے اور اب بھی بالشخیل و ابراہیم زئی قوم کی اس اراضی پر پاڑہ چمکنی غیر قانونی قابض ہیں، جس پر خونریزی بھی ہوچکی ہے۔

محسود قبائل کے “جہادیوں” نے وادی کرم کے طوری قبائل کے خلاف اس طرح کی کاروائیاں کی ہیں جو نور ولی نے اپنے کتاب “انقلاب محسود” میں شائع کی ہیں، اسی طرح پاراچنار شہر میں ہوئے درجن بھر خودکش حملوں میں سے دو کی ذمہ داری بھی محسود قبائل نے اُٹھائی ہے۔ جبکہ کتاب کے صفحہ 298 پر طالبان کے کرم ایجنسی میں پاک فوج اور ایف سی کے خلاف کاروئیوں کا بھی ذکر ہے۔ مارچ اور اپریل 2012 کرم ایجنسی (ضلع) میں بیزو سر اور ایک قلعے پر تشکیلات (حملے) کا ذکر ہے جس میں ایک درج سیکوریٹی فورسز کے اہلکار قتل ہوئے تھے اور بھاری اسلحہ مال غنیمت کے طور پر حاصل کرنے کا بھی دعوی کیاگیا ہے اور فوٹوز بھی شئیر کی گئی ہیں۔

صفحہ نمبر 404 پر فروری 2010 میں ٹل اور ہنگو کے درمیان پاک فوج کے زیرنگرانی “شیعہ لوگوں” کی مشترکہ کانوائے پر خودکش حملے کی تفصیلات لکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “پاڑہ چنار سے شیعوں کو کانوائے کے ذریعے پشاور لے جایا جا رہا تھا جس پر فدائی اکرام اللہ باررود سے بھری گاڑی ٹکرائی، جس میں 10 پاک فوج کے اہلکاروں سمیت 25 کے لگ بھگ شیعہ مارے گئے”۔

دراصل یہ خودکش دھماکہ 5 مارچ 2010 کو کیاگیا تھا جس میں پاک فوج کے جوانوں سمیت دو درجن افراد قتل کردیئے گئے تھے۔ خودکش بمبار اکرام اللہ قاری حسین کے مرکز سے تربیت یافتہ تھے۔ اس دھماکے کی سہولتکاری اور پلاننگ ہنگو کے “تبلیغی مرکز” میں ہوئی تھی۔

کتاب کے صفحہ 412 پر اکتوبر 2015 میں فدائی شاکر ولد محبت خان کا کرم ایجنسی میں خودکش حملے کا ذکر ہے جس کا تعلق بند خیل حلقہ مکین سے بتایا گیا ہے۔

دراصل یہ دھماکہ 13 دسمبر کو پرانے عید گاہ میں لنڈا بازار میں کیاگیا تھا جس میں دو درجن غریب افراد قتل اور تین درجن سے زیادہ زخمی ہوئے تھے جو سردیوں سے بچنے کے لیے لنڈا بازار میں خریداری میں مصروف تھے۔ کالعدم لشکر جھنگوی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس سے دہشتگرد تنظیموں کی اہل تشیع کے خلاف اتحاد واضح ہے اور کتاب میں اس پر مختلف جگہ بات کی گئی ہے۔ اس دھماکے میں ایک گھرانہ پورے کا پورا برباد ہوا، بغکی نامی گاؤں کے گوہر علی اپنے دو بیٹوں قیصر علی اور نعمان علی سمیت شہید ہوئے۔

کیا ریاست پاکستان اس کتاب میں درج معلومات کی بنا پر کوئی ایکشن لے گی؟ یا طوری کوئی ایف آئی آر درج کرکے قانونی چارہ جوئی شروع کرے گی کیونکہ اب تو دشمن نے اقرار جرم کرلیا ہے؟

امریکی ڈرونز، پاک فوج اور پاکستان کے سیکیوریٹی فورسز نے ان دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی ہیں اور بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، قاری حسین سمیت سینکڑوں دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے جس کی تفصیل بھی اس کتاب میں پڑھی جاسکتی ہے۔

یہ کتاب آپ پڑھیں تو آنکھیں کھولنے کافی ہیں جس میں محسود قبائل سمیت دیگر پشتون قبائل کے دہشتگردوں نے پاکستان، پاک افواج اور پاکستان میں موجود اقلیتوں اور عوام پر خوکش حملے کئے ہیں، یوں طالبان اور سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ہاتھ پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ مگر یہ تنظیمیں نام بدل بدل کر پاکستان میں اسی طرح منظم ہیں اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ حتی نسل کشی میں مصروف ہیں، مگر اس پر کوئی تحقیق یا پروفائلنگ نہیں کی گئی ہے، دہشتگرد ملک بھر میں دندناتے پھرتے ہیں۔

عمران خان کیوں ڈرون حملوں اور دہشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے خلاف تھے، میری سمجھ سے بالاتر ہے، اگر پاک فوج سوات، خیبر اور وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن نہ کرتی تو پاکستان کا حال آج شام سے مختلف نہ ہوتا، اور مجھے یہ بھی شک ہے کہ عمران خان نے مذہبی جونیت کو جو ہوا دی ہے وہ مستقبل دہشتگردی کو مزید فروغ دے گی اور اس دفعہ دیوبندی فرقہ کی بجائے بریلوی مسلک کے شدت پسندوں کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے جو دیوبندی مسلک کے دہشتگردوں سے مل کر ملک میں حکومت بھی بنا سکتے ہیں۔ یہ بہ بھولیں کہ پاکستان کے بریلوی شدت پسندوں نے افغان طالبان کی کامیابی کو نیک شگون گردانا ہے اور پاکستان کے لئے مشعل راہ بھی۔۔۔۔ یعنی یہ کھیل اب مزید جاری رہے گا۔

کیا دہشتگرد و کالعدم جماعت سپاہ صحابہ ایک بار پھر وادئ کرم میں شیعہ سنی فرقہ ورانہ فسادات کی پلاننگ کررہے ہیں جس کے اہلکار عید نظر فاروقی کرم سے لیکر کوہاٹ تک دیگر اہل سنت قبائل کو اہل تشیع کے خلاف اکسا رہے ہیں؟

احمدطوری#

بلاگر بلال خان قتل کیس: ایجنسیوں سے پی ٹی ایم اور اب سید عابد علی شاہ تک۔ احمدطوری 

بلاگر بلال خان قتل کیس: ایجنسیوں سے پی ٹی ایم اور اب سید عابد علی شاہ تک۔ احمدطوری 

دو سال پہلے اسلام آباد کے نواہ بارہ کہو کے قریب میں نوجوان مذہبی بلاگر بلال خان قتل کردیئے گئے تھے، محمد بلال خان پر وفاقی دارالحکومت کے علاقے جینائن فور میں چاقو یا خنجر سے حملہ کیا گیا تھا جس میں بلاگر جاں بحق جبکہ اس کا دوست احتشام زخمی ہوگیا تھا۔ 

پولیس حکام کے مطابق واقعہ اسلام آباد کے علاقے جی نائن فور میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے بلال خان کو فون کر کے بلایا اور تیز دھار آلے کے کئی وارکر کے قتل کر دیا۔ واقعےمیں ایک شخص زخمی بھی ہوا جسے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

بلال خان قتل کیس میں سب سے پہلے تو پاکستان آرمی اور ایجنسیوں کے نام سامنے آئے جہاں کچھ عرصہ سے بلال خان فوج پر تنقید کُرتے رہے اور عمرانخان حکومت پر بھی کڑی تنقید کرتے رہے، انڈین میڈیا اور پاکستان میں ایک طبقے نے اس خبر کو بہت اچھالا اور فوج کے کھاتے میں ڈال دیا تو ایک ہفتے بعدڈی جی آئی ایس پی آر نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

https://www.ndtv.com › pakista…Pakistani Blogger And Activist, Known For Criticism Of Army, Killed

مقتول بلاگر محمد بلال خان اسلامک یونیورسٹی (آئی آئی یو آئی) میں شریعہ فکیلٹی کا طالبعلم تھا۔ اس وقت معاملہ پی ٹی ایم کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی گئیتھی، روزنامہ اوصاف کے نام سے فیک نیوز چلائی گئی کہ بلال خان کو پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے لڑکی کے بھائی نے قتل کیا ہے۔ متعلقہ قومی اخبار نے خبرکی تردید کرتے ہوئے اسے ادارے کے خلاف پراپیگنڈا قرار دیا ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلال خان کا بی بی شیریں نام کی لڑکیسے معاشقہ تھا لیکن لڑکی والے اپنی بیٹی کا رشتہ مقتول کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ گھر والوں کے منع کرنے کے باوجود بلال خان باز نہ آیا تو لڑکی کے بھائی عثماننے جو کہ پی ٹی ایم کا سرگرم کارکن ہے قتل کی رات بلال خان کو فون کرکے ملنے کیلئے بلایا اور چھریوں کے پے در پے وار کرکے قتل کردیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق بلال خان ایک روز قبل ہی عید کی چھٹیاں گزار کر ایبٹ آباد سے واپس اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو میں اپنے رشتہ داروں کے پاسپہنچے۔

گذشتہ رات مبینہ طور پر عثمان نامی شخص نے انہیں کال کر کے جی نائن فور میں بلایا۔ بلال خان کے زخمی ساتھی احتشام الحق کے ابتدائی بیان کے مطابقجب وہ جی نائن فور میں بتائے گئے مقام کی طرف جا رہے تھے تو گلی کے نکڑ پر جھاڑیوں میں گھات لگائے چار سے پانچ افراد نے ان پر حملہ کر دیا، جس میںبلال وہیں ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق، ان پر 17 بار وار کیے گئے۔ جبکہ بلال خان کے بھائی نے یوٹیوب ویڈیو کے ذریعے بلال خان کی اصل حقیقت بتائیاور  محمد بلال خان شہیدؒ کا قتل کیسے ہوا،  انکشافات کئے۔

بلال خان کو کس نے قتل کیا تھا؟

https://bit.ly/3kotojY

نوجوان بلاگر کا قتل: بلال پر تیز دھار آلے سے 17 بار وار کیا گیا، پولیس 

اسلام آباد میں بلاگر بلال خان کے قتل کا مقدمہ درج 

https://bit.ly/3ks3tI7

ایس ایس پی اسلام آباد ملک نعیم اقبال نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بظاہر یہ ذاتی رنجش کا معاملہ ہے۔ تاہم اس کے محرکات میں بلال خان کی سوشل میڈیا پرسرگرمیوں سمیت مختلف عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ پولیس ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے اور جلد کسی نتیجے پر پہنچنے کا امکان ہے۔‘

حکام کو شک ہے کہ حملہ آور بلال کے جاننے والوں میں سے کوئی تھا کیونکہ وہ رات گئے اس طرح کسی اپنے کے ہی کہنے پر گھر سے نکل سکتا تھا۔ ان کے بچجانے والے ساتھی نے سکیورٹی حکام کو بتایا کہ وہ حملہ آوروں کو نہیں جانتے لیکن ان میں سے ایک کو اگر دوبارہ دیکھیں تو پہچنے کا امکان ہے۔ 

ملک نعیم اقبال نے مزید کہا کہ ’عموماً اس طرح کے معاملات میں ذاتی رنجش کا عمل دخل ہوتا ہے اور اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ چونکہ بلال احمد مذہبیمعاملات پر تبصروں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی سرگرم تھے تو عین ممکن ہے کہ اس کے قتل کی وجہ مذہبی یا مسلکی رنجش ہو۔ تاہم اس مرحلے پر حتمی نتیجہاخذ کرنا قبل از وقت ہو گا۔‘

اب 

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جون 2019 میں قتل ہونے والے بلاگر بلال خان کے کیسمیں پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس نے بلال خان کے قاتل کو گرفتار کرلیا ہے۔ 

شیخ رشید نے بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا کہ بلال خان کے قتل پر بعض طبقوں نے اس واقعے کی ذمہ داری خفیہ ایجنسیوں پر عائد کی تھی لیکن قتل کی اصلوجہ اس کے مذہبی عقائد تھے۔

اصل حقیقت کیا ہے؟؟؟

اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد پولیس اور وزیرِداخلہ شیخ رشید دونوں جھوٹ بول رہے ہیں اور اور یہ جھوٹ عدلات میں ثابت ہوکر رہے گا۔ کیونکہ جسبندے کا نام وہ لے رہے ہیں وہ بندہ تین، چار ماہ پہلے اسلام آباد سے اغوا کرکے لاپتہ کردیئے گئے تھے اور بلال خان کے قتل کیس میں نام ڈال کر ظاہر کردیئےگئے ہیں۔ کراچی پولیس بھی اسی طرح واردات کرتے رہے ہیں اور لاپتہ افراد کو کسی بھی قتل کیس میں ملوث کرکے نام ڈال دیتے ہیں جو بعد میں باعزت بریہوجاتے ہیں۔ 400 ایسے کیس تو صرف نقیب اللہ محسود قتل کیس کے بعد سامنے آئے تھے جو ایک ایس پی قتل کرچکے تھے، اب وقت آگیا ہے کہ پولیس اوروزارت داخلہ اور سب محکموں کے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے روکا جائے۔

ایک اور شیعہ عزادار عابد علی شاہ  لاپتہ … – شیعہ نیوز

سید عابد علی شاہ کو دو تین مال پہلے نامعلوم افراد اسلام آباد سے اغوا کرکے لاپتہ کردیئے گئے تھے، وہ اپنی پانچ سالہ بھتیجی علاج کے لئے اسلام آباد لے گئے تھے،اسپتال پہنچتے  ہی نا معلوم افراد نے اسے آغوا کر کیا۔

مریضہ چھوٹی بچی کا کہنا تھا کہ مسلح افراد میرے انکل کو زبردستی لے کر گئے اور ہسپتال میں مجھے اکیلا چھوڑ دیا، اور پھر پولیس کے ایک انسپکٹر چھوٹے بچی کواپنے ساتھ پولیس سٹیشن لیے کر گئے، جہاں پانچ سالہ چھوٹی بچی بغیر ماں باپ  کے پولیس سٹیشن میں رات بھر روتے رہی اور اس حوف ناک حادثے کی وجہسے اس چھوٹی بچی کی دماغی حالت اب ٹھیک نہیں ہے۔

عابد علی شاہ کے لئے پاراچنار سمیت اسلام آباد اور پشاور میں مظاہرے ہوئے تھے مگر لاپتہ عابد علی شاہ کے متلعق کوئی خبر شئیر نہیں کی گئی تھی۔ اور اسواقعے کی ایف آئی آر بھی درج کی کی گئی تھی۔ 

سید عابد علی شاہ کے چچا نے بتایا کہ ایف ہفتہ پہلے سی ٹی ڈی نے انہیں کال کرکے بتایا کہ سید عابد علی شاہ ہمارے پاس ہے ایک ہفتہ پہلے ضلع کرم سے گرفتارکرکے اسلام آباد لائے ہیں۔ اور اس کا انٹی ٹیرارزم کورٹ میں کیس چل رہا ہے۔ سید عابد چچا نے پولیس کو واضح بتایا کہ سید عابد تو اسلام آباد سے دو تین ماہپہلے لاپتہ ہوئے تھے اور اس کا ایف آئی آر بھی درج ہے؟ تو پولیس کے پاس کوئی مناسب جواب نہیں تھا، اب معاملہ کورٹ میں ہے۔ اور 23 ستمبر کو بھی انٹی ٹرارزم کورٹ اسلام اباد میں پیشی ہے

FIR of Abid Ali Shah registered in Islamabad

https://dailypakistan.com.pk/31-Jul-2021/1322184

…جوائنٹ ایکشن فار شیعہ مسنگ پرسنز کا لاپتہ افراد کی رہائی …

شیخ رشید کو ضلع کرم اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں سے خاص محبت ہے جو راولپنڈی میں تکفری مسجد پر چہلم کے دن حملے میں بھی نام لیتے رہے جبکہ پاکفوج کے سابق ترجمان آصف غفور صاحب کے  مطابق راولپنڈی میں چہلم کے جلوس پر حملے کی سازش میں کالعدم دیوبندی تنظیم ملوث پائی گئی تھی۔  

یجر جنرل آصف غفور نے انکشاف کیا ہے کہ نومبہر 2013 کو راولپنڈی راجہ بازار میں مسجد و مدرسہ تعلیم القرآن پر حملے و آتشزدگی  میں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد ملوث تھے پ

اور کچھ دن پہلے اسلام آباد میں مولانا شہنشاہ نقوی پر پابندی کے خلاف احتجاج میں بھی پارچنار اور گلگت کے نوجوانوں کی طرف اشارہ کررہے تھے۔ جبکہ شیخرشید خود سپاہ صحابہ اور والجماعت جیسے کالعدم اور دہشتگرد تنظیموں کے پاکستان دفاع کونسل کے ممبر رہے ہیں اور اب بھی وہ پلیٹ فارم موجود ہے۔

واضح رہے کہ پورے ملک سے کئی درجن شیعہ افراد لاپتہ ہیں اور انہیں سادہ لباس مسلح افراد ان کے گھروں اور راستوں سے اٹھا کر لاپتہ کردیتے ہیں اور اسکے بعد ان کے اہل خانہ کو ان کی کوئی خبر نہیں ہوتی

کابل پر طالبان کا قبضہ، پاکستان پر اثرات کیا ہونگے۔ احمد طوری

دہشتگرد حملوں 9/11 کے بعد امریکہ اور اتحادیوں نے اُسامہ بن لادن اور دہشتگردوں کے پناہ گاہوں کو ختم کرنے کےلئے  بیس سال پہلے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان سے اقتدار چھینی تھی اور اب واپس طالبان کے حوالے کی ہے،یعنی گیم 2001 سے دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

FILE PHOTO: A Taliban fighter holding an M16 assault rifle stands outside the Interior Ministry in Kabul, Afghanistan, August 16, 2021.REUTERS/Stringer/File Photo

 
امریکہ دورے کے بعد اشرف غنی کو استعفی کے لئے کہا گیا مگر انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ “امریکی سفیر سے کہاکہ””لاس د خلاص وی”” مطلب استعفی نہیں دینا، جائیں، جو کرنا ہے کرلیں”۔
اشرف غنی کی ہٹ دھرمی ایک طرف، ایسے وقت میں جب طالبان ایک دن میں پانچ صوبوں پر قبضہ کررہے تھےحمدواللہ محب اور امراللہ صالح نے پاکستان کے خلاف محاذ کھول دیا۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، مگر افغانستاناور بھارت میں ایک طبقے کو خوش کرنے کے لئے افغانستان سے اس طرح کی آوازیں اُٹھتی رہی ہیں، جس کا نقصانہمیشہ افغانستان کو ہی ہوا ہے۔ اشرف غنی کی حکومت ڈبونے اور افغانستان کو طالبان کے حوالے کرنے کے اسکے علاوہ بھی کئی عوامل ہیں۔
مثلاً طالبان کے لئے فتوحات کی راہ ہموار کرنے میں حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور خلیل زاد قابل ذکر ہیں۔ جو ابراز نہیں رہا۔


افغانستان میں عوام اور اُمراء کے درمیان فرق کافی بڑھ گیا تھا! امریکہ کے ٹریلین ڈالرز زیادہ تر امریکہ واپس ہوئے اورباقی افغان وار لارڈز کے جیبوں میں چلے گئے، کابل اور چند شہروں کے علاوہ امریکی امداد افغانستان کے دور درازعلاقوں میں منتقل نہیں ہوئی، افغانوں میں احساس کمتری بڑھتی چلی گئی۔
اشرف غنی صاحب پر اقرباء پروری کے بھی الزامات لگے ہیں اور وار لارڈز اور جہادی رہنماؤں نے اشرف غنی کویرغمال بنائے رکھا، اور طالبان نے اشرف غنی کے خلاف کامیاب پروپیگنڈا مہم چلائی جیسے غازی امان اللہ خان کےخلاف چلائی گئی تھی، اور نتیجہ بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔

لہذا عوام کے ہاتھ میں موقع آیا کہ طالبان کے ساتھ مل کر سب کچھ لیول کریں، اور لوٹ مار اور اُمراء کے بھاگنےسے جو محل اور دولت طالبان اور عوام کے ہاتھ لگی ہے وہ عوام مال غنیمت سمجھے ہیں! کم از کم فی الوقت! بعد میںآنے والے حالات کس طرف جائیں گے، یہ افغانستان میں کھبی نہیں سوچا گیا! کابل کئی دفعہ اسطرح سقوط کرچکا ہے! شاہ محمود اور شاہ شجاع کے زمانے میں دو دفعہ، امیر دوست محمد خان کے زمانے میں، اور غازی امان اللہ خان کےزمانے میں! اور اب اشرف غنی کے دور میں بھی وہی ہوا! جو افغانستان کا خاصا رہا ہے۔
کھبی پرامن انتقال اقتدار نہیں ہوا، سوائے حامد کرزئی کے، 1801 سے 2021 تک پچیس دفعہ کابل میں تخت دھڑن تختہہوئے ہیں۔

پچھلے بیس سال سے افغانستان میں ایک بھائی طالبان اور دوسرا حکومت میں رہا، ایک قبیلہ حکومت کے ساتھ مل کردوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتا رہا تو دوسرا رقیب قبیلہ اپنی بقاء اور تحفظ کے لئے طالبان کے ہاں پناہ لینے پرمجبور تھا۔  اسی طرح مذہبی و مسلکی اور نسلی بنیادوں پر افغان معاشرہ کافی تقسیم ہے جو کچھ طالبان اور کچھ مرکزیحکومت کا ساتھ دیتے نظر آتے۔

اب اتنا ہوا ہے کہ دونوں بھائی اور قبیلے جنگ سے تھک گئے ہیں اور کچھ وقت کے لئے (خدا کرے ہمیشہ کےلئے) بظاہر بندوق رکھنے پر راضی نظر آتے ہیں، مگر افغانستان کے حالات کے بارے میں پیشین گوئی کرنا ناممکن ہے، کسیبھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

طالبان 2001 میں امریکی حملوں کے بعد دور دراز علاقوں میں چھپے رہے اور کئی علاقوں میں کابل کے متوازی حکومتچلاتے رہے، بیس سال میں وہ ایک نئی نسل تیار کرچکے تھے، جس میں پڑوسی ممالک کے مدارس میں پڑھے ہوئےبچوں کی کثیر تعداد موجود قابل ذکر ہے جو طالبان کی فکری اور جہادی پروجیکٹ کامیاب کرنے میں کافی معاون ثابتہوئے، مگر اصل میں امریکہ اور اشرف غنی کی غلط پلاننگ اور اقرباء پروری اور طالبان ہے ساتھ زیادتیاں بھی قابلذکر ہیں جس کا حامد کرزئی نے کئی مرتبہ امریکہ پر کھول کر تنقید کی۔
مگر امریکی انخلاء کے اعلان نے طالبان کے مردہ گھوڑے میں جاں ڈال دی اور خلائی مخلوق کی طرح افغانستان کے ہرگاؤں، ہر شہر اور ہر گلی و کوچے میں اپنے اہلکار بھیجنا شروع کردیئے جنہوں نے “اغیار” بیس سالہ ناکامیوں سے بھرپورفائدہ اُٹھا کر لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہوئے۔
طالبان کے لئے فتوحات کی راہ ہموار کرنے میں حامدکرزئی، عبداللہ عبداللہ اور خلیل زاد قابل ذکر ہیں، اور اس کا ذکرڈیڑھ ماہ پہلے ایک ارٹیکل میں ذکر کیا جا چکا ہے۔

طالبان کے افغانستان پر قبضہ میں پڑوسی ممالک کے مدد بھی شامل حال رہی اور چین ، روس اور ایران سمیتپاکستان کا نام زبان زد عام ہے۔  پاکستان میں پابندی کے شکار صحافی حامد میر نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے کالم میںاس طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھاکہ “پچھلی دو دہائیوں میں پاکستانی فوج ، حکومت اور معاشرے میں ایسے عناصرموجود ہیں جو افغان طالبان کو لاجسٹک اور مادی مدد فراہم کرتے ہیں۔ گو کہ حامد میر کے کافی پرانے لنکس اور فوج کےخلاف رائے ہے مگر جن کا ذکر کیا ہے ان کے “ترجمان” ٹی وی چینلز پر اور سوشل میڈیا پر طالبان کے افغانستان پرقبضہ کو فتح مکہ سے تعبیر کرتے نظر آتے ہیں۔ 

میرا خیال ہے پاکستان کو اکیلے مورد الزام ٹہرانا درست نہیں، امریکہ و اتحادی  جو اپنی ناکامی کا اقرار کررہے ہیسمیت افغان افواج، افغان عوام اور غنی حکومت سب برابر ذمہ دار ہیں۔

طالبان نے جیسے ہی امریکی فوجی انخلاء اور ٹرمپ کی طرف سے مذاکرات کی خبر سنی تو افغاستان کے حکمران کےطور پر ردعمل شروع کیا اور سیاسی ٹیم نے قطر کے علاوہ روس، چین، پاکستان سمیت علاقائی ملکوں کے دورے کیئےاور اپنے آپ کو مستقبل کے حکمرانوں کے طور پیش کیا جس کے افغانستان میں زمینی حقائق پر اثرات مرتب ہوناشروع ہوئے، طالبان ہاری ہوئی جنگ بیس سال بعد جیتنا شروع ہوئے، اور جہاں سے امریکی اور نیٹو فوج کا انخلاءہوتا وہاں پہنچ کر قبضہ کرتے، اس قبضے میں بھاری اسلحہ اور ٹینکوں سمیت آمد و رفت کے تمام وسائل شامل ہوتے،جس سے طالبان طاقت پکڑ کر اگلے محاذ کی تیاری کرتے۔ 

طالبان نے سیاسی حکمت عملی اختیار کی، حامد کرزئی اور عبداللہ اور ان کے حامیوں نے افغانستان کے طول عرضمیں طالبان کے لئے سیاسی راہ ہموار کرنے میں معاونت کی، مذہبی جذبات کو ابھارا گیااور جہاں جرگہ ناکام ہو توطالبان نے بندوق کے زور پر اپنا فیصلہ منوایا، جس سے انحراف ناممکن تھا، اس طرح علاقے کے لوگ اور وہاںکے مقامی انتظامیہ ساری طالبان کے ہاتھوں میں چلی جاتی اور افرادی قوت میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوجاتا۔
جوبائیڈن نے جیسے ہی فوجی انخلاء کا اعلان کیا طالبان جو پہلے دور دراز علاقوں میں مصروف تھے بڑے شہروں کیطرف رُخ کیا۔ اور بڑے شہروں اور صوبائی دارالحکومت پر اسی طریقہ واردات پر عمل کرتے ہوئے طالبان ایک بعددیگر شہر قبضہ کرتے رہے اور اپنے جنگجو نہایت سرعت کے ساتھ منتقل کرتے رہے، جبکہ مقامی لوگ، انتظامیہ اورافغان فوج کے اہلکار جوق در جوق طالبان کے صفوں میں شامل ہوتے رہے، جس سے طالبان اس قابل ہوئے کہصرف 9 دن میں پنجشیر کے علاوہ پورے افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 

طالبان نے مذہبی۔سیاسی۔ملٹری تینوں آپشن بیک وقت استعمال کئے، کسی کو تبلیغ، سیاسی اُمراء کو حامد کرزئی اورعبداللہ عبداللہ کے مصلحت کے ذریعے اور جو لڑنا چاہتے تھے انکو امریکی اسلحہ کے ذریعے زیر کیا۔

افغان طالبان نے 6 اگست 2021 کو دور دراز ایران بارڈر پر نیمروز صوبے سے فتوحات کاآغاز کیا اور صرف نو دن میںپنجشیر کے علاوہ پورے افغانستان پر قبضہ کرلیا ہے، جس میں ہرات، کندھار، لشکر گاہ اور مزارشریف جیسے بڑے اوراہم شہر شامل تھے یہ معجزہ 14 اگست یعنی یومِ آزادی پاکستان  کے دن ہوا اور پھر کابل پر ہر طرف سے حملہ آورہوئے ہیں۔ اشرف غنی حکومت کے سارے صوبائی گونر اور فوجی دستے کور کمانڈرز سمیت طالبان کے سامنے سرنڈرکرگئے اور ازبکستان اور ایران کی طرف نکل کر جان بچاتے رہے، طالبان بھارت کے یوم آزادی کے دن کابل میںداخل ہوگئے۔


سقوطِ کابل

سقوطِ  افغانستان 


کابل پر طالبان قبضہ سے ایک دن پہلے وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی نےکہا ہےکہ افغان فورسز کابل کے دفاع کےلیے پُرعزم ہیں ، غیر ملکی افواج افغان فوج کی ہر طرح سے مدد کے لیے تیار ہیں ۔ عین اسی وقت افغانستان کےدارالحکومت کابل کے صدراتی محل “ارگ” میں اشرف غنی امریکی نمائیندے زلمئ خلیلزاد سے ایمرجنسی میٹنگ کررہےتھے، تو لگ رہا تھا کہ اشرف غنی کو استعفی پر راضی کیا جارہا ہے، مگر وہ دراصل جان بچانے یا بقول اشرف غنیصاحب خونریزی سے بچنے کے لئے کابل چھوڑنے کی تیار کررہے تھے۔
سابق صدر حامدکرزئی، مصالحتی کمیشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ اور جہادی لیڈر گلبدین حکمتیار پر مشتمل تین رکنی کمیٹیعارضی حکومت اور انتقال اقتدار کی تیار کررہے تھے کہ اشرف غنی کابل سے اپنے قریبی ساتھیوں سمیت نامعلوممقام کی طرف پرواز کرگئے, جس سے طالبان کو کابل پر حملہ کے لئے مناسب جواز فراہم ہوا، حالانکہ طالبان نے کہاتھا کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا! مگر وہ تو ہرات و کندہار پر بھی حملہ نہیں کرنا چاہتے تھے؟ جواز پیدا کرنے کے لئےخلائی مخلوق نے بہترین اور منظم منصوبہ بندی کی تھی، طالبان اور جہادی پروجیکٹ کے ڈائیریکٹرز اب کابل میں اقتدارتبدیل کرنے کے اتنے ماہر ہوچکے ہیں کہ کسی کو ملوث ہونے کا شک و شبہہ بھی نہیں ہوتا! یہ تو ڈائیریکٹرز کو لگتا ہے مگرپتہ سب کو ہوتا ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی وزارت دفاع میں اہم میٹنگ کا کہہ کر ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کے ساتھ ملک چھوڑ کر چلے گئے، جس کے بعد کابل میں خوف و ہراس پھیل گیا اور طالبان قیادت نے اپنےجنگجوؤں کو دارالحکومت کابل میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جبکہ افغان اور غیر ملکی شہری جان بچانے کےواسطے کابل ائیرپورٹ کی طرف بھاگنے لگے۔

Kabul airpor


طالبان ہر طرف سے کابل کی طرف اُمڈ آئے اور یہ سلسلہ ابھی تاک جاری ہے، مگر خدا کا شکر ہے کہ سب معاملات“منصوبے” کے مطابق طے ہوئے اور بغیر خونریزی کے طالبان نے بیس سال بعد کابل پر دوبارہ قبضہ کیا، صدارتی محلجا کر اپنا سفید جھنڈا لہرایا جس پر کلمہ طیبہ اسود نمایاں لکھا ہے۔
کابل کی کشادہ سڑکیں، جدید پارک، بلند و بانگ بلڈنگ اور جیم اکثر طالبان نے پہلی دفعہ دیکھے لہذا وہ چھوٹے بچوں کیطرح پارکوں میں کھیلتے نظر آئے، اور اپنے لڑکپن کے سارے ارمان پورے کیئے۔

افغان طالبان کے سیاسی ونگ کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر اخوند نے کہا ہے طالبان کو جس طرح کامیابی ملی اس کاگمان بھی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے فتح ملی۔ دراصل طالبان نے امریکی انخلاء کے خلاء کو پُر کیا ہے۔ اور اس خلاءکو نہایت سرعت سے پیدا کیاگیا ہے، جس کو اب منصوبہ ساز بھی سمجھ نہیں پارہے۔ اصل میں برطانیہ اور شاہ شجاعکے ساتھ پہلی اینگلو افغان وار 43-1842 میں جو ہوا تھا وہی تاریخ دہرائی گئی ہے، یہ الگ بات ہے کہ امریکیوںفوجیوں کو وہ قیمت نہیں ادا کرنی پڑ رہی جو برطانوی فوج کو ادا کرنی پڑی تھی، اور اشرف غنی نے بھی اپنے آپ کوشاہ شجاع یا ڈاکٹر نجیب بننے سے بچایا! جس کا اظہار انہوں نے ابوظہبی سے اپنے خطاب میں کیا ہے۔ مگر طالبان نےسقاؤسٹ کی طرح کابل پر چھڑھائی کی ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ہمیں افغان آرمی کی اتنی جلدی ہتھیار ڈالنے کی توقع نہیں تھی۔ اورجو لڑائی افغان فوجنہیں لڑنا چاہتی وہ امریکی فوج کیوں لڑے؟

صرف ڈیڑھ مہینہ پہلے افغاستان کے حالات پر لکھا تھا جب افغان صدر اشرف غنی امریکہ کے دورے پر جانے والےتھے! کہ ““اس ساری صورتحال میں اشرف غنی امریکہ کا دورہ کررہے ہیں اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اشرف غنیکو استعفٰی دینے پر راضی کیا جاسکتا ہے تاکہ طالبان کو قومی حکومت میں شامل ہونے پر راضی کیا جاسکے۔
مگر طالبان جاتے ہوئے امریکہ سے مذاکرات اور امریکہ کے کٹھ پتلی اشرف غنی کے ساتھ بیٹھ کر قومی حکومت میں کوئیدلچسپی نہیں رکھتے اور اشرف غنی نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں ڈاکٹر نجیب اللہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹرنجیب نے استعفی دے کر غلطی کی تھی، میں وہ غلطی نہیں دہراؤنگا‘ مگر حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں کہ اگربروقت طالبان کی پیش قدمی نہ روکی گئی اور بین الاقوامی مدد نہ کی گئی تو طالبان سالوں کی بجائے مہینوں میں کابل کامحاصرہ کرسکتے ہیں، اور امریکہ بھی جان چکا ہے اسی لئے کابل ہوائی اڈہ ترکی کے حوالے کرنے کا سوچ رہا ہے تاکہبھاگنے کا ایک راستہ تو کھلا رہے””۔

اور جب اشرف غنی امریکہ سے خالی ہاتھ لوٹے تو پھر ایک ارٹیکل میں تفصیل سے حالات کی منظر کشی کی تھی۔
افغانستان کے ڈھائی سو سالہ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو موجودہ صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ افغان قبائیلیسسٹم، اتھنک سسٹم، افغان عوام میں اغیار کے خلاف نفرت اور محبت دونوں ذہن میں رکھتے ہوئے افغان طالبانکی اسلامی نیچر اور بلوؤں کا طریقہ واردات سب سامنے رکھتے ہوئے کابل پر طالبان کا قبضہ دیوار پر لکھا تھا۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی اچانک ملک سے فرار ہونے پر افغان صدر اشرف غنی پربرس پڑے۔ جنرل بسم اللہ محمدی نے افغان صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس نے ہمارے ہاتھ ہماری پیٹھ کےپیچھے باندھے اور وطن کو بیچ دیا ، غنی اور اس کے گروہ پر لعنت ہو’۔

جبکہ اشرف غنی کی حکومت کی وزیرِ تعلیم رنگینہ حمیدی کا کہنا ہے کہ مجھے صدمہ پہنچا ہے اور یقین نہیں آ رہا۔’ انھیںصدر غنی سے ایسے ملک چھوڑ جانے کی توقع نہیں تھی۔


ماضی کی کچھ یادیں

مگر افغانستان (کابل و کندھار، غزنی و جلال آباد) ماضی میں کئی دفعہ روندا گیا، شاہ محمود، شاہ زمان، شاہ شجاع اوردوست محمد خان کے بھائیو ں نے 1801, 1809 1818، 1837 میں کابل پر حملے کرکے قبضہ کیا مگر طالبان سٹائل قبضہ1929 میں حبیب اللہ خان کلکانی نے (بچہ سقہ) بالکل طالبان سٹائل کابل کا محاصرہ کیا اور غازی امان اللہ خان کوبادشاہت سے فارغ کرکے بیرونی ملک رہنے پر مجبور کیا جو باہر ہی وفات ہوئے، اور جنازہ واپس لاکر جلال آباد میںدفنایا! پھر صرف دس ماہ بعد نادر خان درانی (نادر شاہ) نے بیرون ملک سے اگر حبیب اللہ کلکانی کا قلع کرنے کے لئےکابل پر ہر طرف سے حملہ کیا اور بچہ سقہ کو اقتدار سے باہر کرکے پھانسی دی، خود بادشاہ بن گئے۔ نادر شاہ ظاہر شاہ کےوالد تھے۔

برطانوی فوج کے ساتھ امریکیوں سے زیادہ برا ہوا تھا جب غازی اکبر خان نے کابل سے لے کر تورخم تک 16 ہزارفوج میں سے صرف ایک ڈاکٹر کو شاید یہ میسیج پہنچانے کے لئے چھوڑا تھا کہ جاؤ اور انہیں خبر کردو کہ 16 ہزار برطانویاور لگ بھگ 30 ہزار ہندوستانی فوج تقریباً ساری افغانیوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ یہ 42-1843 کی بات ہے۔مگر نہ افغانوں سے سبق سیکھا نہ مغرب اور روسیوں نے!

امیر دوست محمد خان نے اس وقت برطانوی جنرل سے کہا تھا کہ افغانستان میں صرف پہاڑ و پتھر ہیں اور آدمی ہیں! آپ یہاں کرنے آتے ہیں؟

پھر بھی روس 1979 افغانستان پر حملہ آور ہوا، جہادی قوتوں جس کو امریکی و اتحادی سپورٹ حاصل تھی کے ہاتھوذلیل و رسوا ہوکر 1989 میں واپس ہوا اور اپنی دنیاوی عزت کے ساتھ سوپرُپاؤر بھی گنوا بیٹھے!! اور 90s میں گلبدینحکمتیار کی کابل پر بمباری کھبی نہیں بولنا چاہیے جس نے کابل کو کھنڈرات میں تبدیل کیا تھا۔ اس لئے روس امریکہ کیافغانستان میں شکست پر خوش ہو کر بدلے کی آگ بجھا رہے ہیں اور طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔روس کےافغانستان کے لئے خصوصی نمائیندے ضمیر کابلوف کے بیانات سب کے سامنے ہیں۔

برطانوی اور روسیوں سے کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایک بار پھر 2001 میں امریکہ اور بار نیٹو انہی مجاہدین کےخلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے افغانستان میں کود پڑے جو انہوں روس کے خلاف بنائے تھے، بیس سال بعد 2021 میں امریکہ اور نیٹو نے افغانستان انہی طالبان کے حوالے کرکے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر واپس بھاگ رہے ہیں اورہزاروں افواج کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشل ائیرپورٹ انخلاء کے لئے پریشان ہیں کہ زندہ واپس بھی ہونگے یا پہلیاینگلو۔افغان جنگ میں برطانوی افواج کی طرح صفایا کردیا جائے گا؟
مگر طالبان اب کہہ رہے ہیں کہ بدل گئے ہیں اس لئیے بیرونی افواج (اغیار) کو زندہ واپس جانے کی سہولت دستیابہے۔

افغانستان میں اکیسویں صدی میں کو ہورہا ہے وہ ففتھ جنریشن وار کی بہترین مثال ہے، شاید ففتھ جنریشن وار سےبھی کچھ اگے! کسی کو کوئی پتہ نہیں، کہ افغانستان میں کیا ہورہا ہے؟ کون کررہا ہے؟ کل کیا ہوگا؟ مستقل کیا ہے؟امریکہ کے سارے تھینک ٹینکس اور سی آئی اے و ایف بی آئی ناکام ہوئے، بھارت کو کوئی خبر نہیں کہ ان کے ساتھافغانستان میں کیا ہوا! طالبان نے ایران جا کر آگاہ کیا تھا اور اعتماد بھی حاصل کیا تھا، کہ ایران کے مفادات کاخیال رکھا جائے گا، اور طالبان نے ایران کے مفادات کو ابھی تک ہاتھ نہیں لگایا ہے، ظاہر ہے، انقلاب، انقلاب کودیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔

طالبان نے افغانستان پر قبضہ کے بعد کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہوگیا، عالمی برادری کے ساتھ مل کر چلناچاہتے ہیں، طالبان کسی اور ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور چاہتے ہیں کوئی دوسرا ملک بھیہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میںطالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ گروپ حکومت بنانے کے لیے متحرک ہو کرکام کر رہا ہے اور اس کا اعلان’مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا’۔

افغانستان میں طالبان اقتدار کے پاکستان پر اثرات

جب بھارت یوم آزادی کا جشن منا رہے تھے تو افغانستان میں ان کے اتحادی افغان طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالکر تسلیم ہورہے تھے، بھارت کی چیخیں نکل گئیں، اور پاکستان میں جنرل ر حمید گل کی برسی پر ان کے ہم خیال کابلپر طالبان کے قبضے کا جشن منارہے تھے، تو ظاہر ہے بھارت خلاف اور طالبان کی حامی جذبات پاکستان میں بہ درجہاتمم موجود ہے، لہذا اس حوالے سے پاکستان کے اس طبقے نے طالبان فتح کو خوش آمدید کہا، اور بھارت کو ہر فورمپر آڑے ہاتھوں لیا۔


افغان طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے پاکستان پر مضمر اثرات پڑنے والے ہیں، پاکستان میں شریعت کے نفاذ کامطالبہ تو کافی پرانا ہے مگر اس میں جان پڑ گئی ہے اور جمیعت و جماعت کے ساتھ ساتھ تحریک لبیک و دیگر اسلامیسیاسی پارٹی کی لیڈرشپ اور کارکنوں نے افغان طالبان کی فتح کو فتح مکہ سے تشبیہ دی ہے۔ اور پاکستان کےوزیراعظم نے کہا کہ “افغانستان میں غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں”۔

ایران انقلاب کے پاکستان پر اثرات تو بہت کم پڑ گئے تھے مگر ایران انقلاب کے بعد پاکستان میں ایران مخالفجذبات ابھر کر سامنے آئے تھے جس کے ردعمل میں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسے شدت پسند تنظیمیں معرض وجودمیں لائی گئیں جو آج تک کئی نام بدل کر وہیں موجود ہیں، اور پاکستان آج تک اثرات سے نبرد آزما ہے۔
مگر انقلاب افغانستان کے دور رس نتائج ہونگے۔ پاکستانی طالبان اور افغان طالبان ایک ہی نظریہ کے حامل ہیں اورافغان طالبان کے سپریم لیڈر ہی پاکستانی طالبان کے “سپریم لیڈر” ہیں۔

یہ تو کوئی ڈھکی چھپی بار نہیں رہی کہ امریکہ اور دوست عرب ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں جہادی پروجیکٹمیں پاکستان کا کلیدی کردار تھا، اور پاکستان نے اس کا خمیازہ بھی بھگتا ہے، مگر حالیہ طالبان فتح کے اثرات مختلفہونگے۔ اس جہادی پروجیکٹ سے سارے ممالک نے فائدہ اُٹھایا اور پاکستان نے نقصان ہی نقصان اُٹھایا ہے اورملک میں ایک ایسی فصل تیار ہوئی ہے جس کو روکنا تو مشکل بلکہ ناممکن لہذا انہیں “مین سٹریمنگ” کے نام پر اداروںمیں ضم کیا جارہا ہے، جس سے اداروں ان کی جڑیں راسخ ہوچکی ہیں، جس کا انجام نہایت عبرت ناک ہوسکتا ہے۔دہشتگرد اور کالعدم سپاہ صحابہ کے ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب کے نصاب کمیٹی کے رکن ہیں، اسی طرح خیبر پختونخواہنصاب کمیٹی میں بھی سپاہ صحابہ (جو اب دوسرے کئی ناموں سے آپریٹ کرتے ہیں) کی “مہارت” سے فائدہ اُٹھایا گیاہے لہذا ایک نظام نصاب تیار ہوا ہے جس سے پاکستان بھر کے سرکاری سکول دینی مدارس میں تبدیل ہوتے نظرآئیں گے، اور جو کھیپ تیار ہوگی وہ افغان جہادی پروجیکٹ سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ ایک مثال ہے، باقی پولیساور ہر ادارے میں “مین سٹریمنگ” کے نام پر شدت پسندوں کو “ایڈجسٹ” کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ اور وزیراعظم مان چکے ہیں کہ پاکستان میں افغان طالبان کے گھر اور اہل خانہ موجود ہیں، مگرمعاملات اس سے بڑھ کر ہیں۔ جنرل ر شاہد عزیز اس وقت کہاں ہیں یہ بات چھوڑیں، جنرل ر خالد لودھی، جنرل رشعیب، جنرل ر اعجاز اور بریگیڈئیر فاروق حمید سمیت اس قبیلے کے دفاعی تجزیہ نگار اور اوریا مقبول جان،انصارعباسی، عمران ریاض جیسے سیاسی “داعشور” طالبان کے ترجمان زیادہ نظر آتے ہیں، جس سے پاکستان میں “جہادیمائنڈ سیٹ” کو تقویت مل رہی ہے۔

پاکستان میں افغان طالبان کی فتح پر جشن منانے والوں کے علم میں ہے کہ پاکستانی طالبان کے سارے اڈے افغانطالبان کے زیراثر افغانستان میں موجود تھے اور وہ وہیں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں، جس میںآرمی پبلک سکول کے ڈیڑھ سو معصوم طلباء پر حملہ سمیت ہزاروں دہشتگرد کاروائیاں شامل ہیں، جس میں پاک فوجکے اہلکاروں سمیت ایک لاکھ افراد قتل ہوئے ہیں۔ افغان طالبان نے کھبی پاکستانی طالبان سے لاتعلقی ظاہر نہیں کیہے اور کابل فتح کے بعد محمد مالک کے شو میں ذبیح اللہ مجاہد نے برملا کہا کہ ہم پاکستانی طالبان کو پاکستان کے حوالےنہیں کریں گے، مگر یہ ضرور کہا کہ انہیں افغان سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔


طالبان نے افغانستان فتح کرتے ہوئے سارے جیل توڑ ڈالے ہیں جس سے پاکستان طالبان جو افغان حکومت نےگرفتار کرکے جیلوں میں ڈالے تھے سب رہا کرکے گلوں میں ہار پہنا کر خوش آمدید کہا گیا ہے جس میں مولوی فقیر محمدقابل ذکر ہے جس کے القاعدہ رہنما ایمن الظواہری سے قریبی تعلقات رہے ہیں اور وہ پاکستان کو مطلوب دہشتگردوںمیں سرفہرست ہے۔ اس طرح سینکڑوں پاکستانی طالبان دہشتگرد افغان جیلوں سے رہا ہوچکے ہیں جو پاکستان کےقبائیلی اضلاع کے لئے سنگین خطرہ ہے اور پچھلے دو ہفتوں میں پاکستان میں بلوچستان “داسو” سے لے کر کراچیاورضلع کرم و اورکزئی تک ایک درجن دہشتگرد کاروائیاں ہوئی ہیں، جبکہ گلگت میں طالبان کھلے عام کچہری کرتے نظرآئے ہیں، یہ سب پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔

پاکستان کے اسلامی سیاسی پارٹیوں میں افغان طالبان کے کابل میں اقتدار ملنے سے ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہواہے اور اس سے بڑھ کر پاکستان میں 80s سے مدارس کا ایک جال بچایا گیا ہے جس میں لاکھوں طالبان افغان طالبانکے اس فتح سے حوصلہ پائیں گے کہ “افغان انقلاب” پاکستان میں بھی امپورٹ کریں۔

مستقبل 

افغاستان میں طالبان اقتدار کے خدوخال ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے، مگر امارت اسلامی افغانستان اپنے سفید جھنڈےپر کلمہ اسلام کے ساتھ امیرالمؤمنین اور شوری سیٹ۔اپ کے ساتھ ظہور پزیر ہونے پر اسرار کررہے ہیں جبکہ عوامنے جھنڈا تبدیل کرنے کے خلاف احتجاج کیا ہے جس پر جلال آباد میں طالبان نے فائرنگ کرکے منتشر کردی ہے۔جبکہ احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور امراللہ صالح نے مزاحمت کا اعلان کیا ہے جس سے کچھ قوتیں فائدہ اُٹھا سکتے ہیں، مگرطالبان رہنما عبداللہ عبداللہ سے مل کر پنجشیر کو زیر کرنے میں مصروف ہیں۔


طالبان اسرار کررہے ہیں کہ حکومت بنانا انکا حق ہے کیونکہ انہوں قبضہ کیا ہے اور دیگر اقوام کو مناسب نمائیندگی بھیوہ خود دیں گے، جو قبول نہیں کیا جارہا اور زیادہ تر شمالی اتحاد کے لیڈرشپ پاکستان میں بیٹھی ہے، جس میں احمد شاہمحسود کے دو بھائی، ہزارہ رہنما محقق اور کرم خلیلی اور صلاح الدین ربانی اور یونس قانونی شامل ہیں۔
طالبان پاکستان میں موجود شمالی اتحاد کے رہنماؤں کے بارے میں ابھی تک کھول کر کچھ کہا تو نہیں مگر اس پربداعتمادی بڑھ سکتی ہے۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں بیس سال بعد ٹریلین ڈالر خرچ کرکے امریکہ و اتحادی تباہ کن شکست سےدوچار ہوئے ہیں اور اہداف حاصل کرنے میں ناکام  ہوئے ہیں۔ کیونکہ طالبان 2001 سے زیادہ طاقتور ہیں اور القاعدہ،داعش کی صورت میں اور زیادہ خطرناک ہے، طالبان داعش کے بطور سیاسی قوت خلاف ہیں ورنہ حالیہ افغانستان پرقبضہ میں پاکستانی دہشتگرد گروہ طالبان (خاص کر کنڑ میں) اور داعش طالبان کے شانہ بشانہ لڑے ہیں۔ ان میں نظریاتیکوئی اختلاف نہیں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کا فیصلہ درست تھا اورجو لڑائی افغان فوجنہیں لڑنا چاہتی وہ امریکی فوج کیوں لڑے؟  جبکہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ طالبان کی ساتویں صدی کی حکومت اورتیس سالہ خانہ جنگی سے ایک مستحکم حکومت تک کا سفر مکمل کرنے کے لیے بیس سال کافی نہیں تھے۔ امریکا نے 20 برسوں کے دوران ایک جدید افغان فوج کھڑی کرنے کے لیے 83 ارب ڈالر خرچ کیے جو پاکستانی روپے میں ایکنیل 35 کھرب 95 ارب 83کروڑ اور 16 لاکھ روپے بنتے ہیں۔

بنی ہاشم غروہ بدر. سے کربلاء میں عاشوریٰ حسینی تک- احمد طوری

قُرَیش ، حجاز کے عرب قبائل میں سے اہم ترین اور مشہور ترین قبیلہ تھا اور. پیغمبر اکرمؐ کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔اور عبدالمناف قریش کے ایک سردار تھے۔

بنی ہاشم اور اور. بنی امیہ کی عناد عبد مناف کے بیٹوں ہاشم اور عبد شمس کے پیدا ہوتے ہی شروع ہوئی جب پیدائش کے بعد دونوں کے دھڑ (دھڑ یا اُنگلی) تلوار کی وار سے جدا کئے گئے۔ ہاشم والد کے فوت ہونے کے بعد حرم مکہ کے متولی ہوئے تو عبدشمس کو مکہ سے ہی نکال دیا تاکہ بھائی طاقتور ہوکر کہیں وراثت پر قبضہ کی کوشش نہ کرے! اب اس وراثت میں مذہبی اثر و رسوخ، طاقت، پیسہ اور حرم. مکہ میں زائرین کی خدمت (جو آج بھی پچاس ارب ڈالر بزنس سے زیادہ ہے) شامل ہیں تو یہ مل کر ایک پوری ریاستی قوت بن جاتی ہے اگر تگڑا قبیلہ پشت پر ہو!

عبدشمس کے بعد انکے بیٹے امیہ نے بنی امیہ خاندان کی باقاعدہ بنیاد رکھی اور بنی ہاشم سے ٹکر لینے کے لئے کمر کس لی۔ یہاں مزید بحث نہیں کرتے! (۱)

جب بنی ہاشم کے چشم و چراغ حضرت. محمد صلی للّٰہ علیہ و الہ وسلم مبعوث ہوئے تو غزوہ بدر و اُحد اور خندق میں بنی امیہ کے سردار ہی سب سے آگے تھے اور بیشتر بنی ہاشم جوانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ فتح مکہ پر بنی امیہ کے سردار ابوسفیان ایسے حالت میں مسلمان ہوئے جب بھاگنے کی کوئی راہ نہیں بچی۔

آل امیہ جب مسلمان ہوئے تو مشکل سے ضم ہوئے! ابوسفیان نے سفارش پر بیٹے معاویہ کو آخری سال منشی لگوایا اور اپنی بیٹی کو رسول اللہ کی عقد میں دے کر مسلمانوں میں کچھ عزت بحال کرنے کی کوشش کی۔

وفات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ہی صحابہ کرام کے بیچ اختلافات اُٹھ چکے تھے۔ ابوسفیان نے حضرت ابوبکر رضی اللہ کے خلافت کی اسلئے مخالفت کی کہ وہ قریش کے ایک غیر معروف شاخ سے تعلق رکھتے تھے اور جا کر بنی ہاشم کے حضرت کو حمایت کا یقین دلایا جو خود سقیفہ بنی ساعدہ میں ہوئے فیصلے کی وجہ سے ناراض بیٹھے تھے۔ حضرت علی علیہ سلام نے ابوسفیان کی آفر رد کرتے کرتے ہوئے فرمایا کہ “بنی امیہ کب سے اسلام کے خیرخواہ ہوئے؟

جب پیغمبر اکرم دفن بھی نہیں ہوئے تھے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار و مہاجرین (مدینہ و مکہ والے) آپس میں جانشینی (خلافت) پر گفت و شنید کے لئے بیٹھ گئے جبکہ حضرت علی ع رسول اللہ ص کے کفن و دفن میں مصروف تھے۔ (۲)

خلافت پر مزید بحث مقصود نہیں،

تیسرے خلیفہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اُمت نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ سلام کو خلیفہ چہارم منتخب کیا (۳) تو شام کے گورنر امیر معاویہ بن ابوسفیان کو برطرف کردیا۔ امیر شام جسے خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ۱۸ھ میں گورنر دمشق مقرر کیا تھا، علم بغاوت بلند کرتے ہوئے خلیفہِ وقت کا حکم ماننے سے صاف انکار کیا۔ امیر شام نے خلیفہ سوئم کے قصاص کا بہانہ بنا کر لوگوں کو اشتعال دلایا ۔ (۴) اور بات جنگ و جدل سے ہوتی ہوئی چوتھے خلیفہ کی المناک شہادت پر ختم ہوئی۔

اب امت مسلمہ نے حضرت علی ابن ابی طالب کے بڑے صاحبزادے امام حسن ابن علی کو خلیفہ چنا تو امیر شام اب بہت مضبوط ہوکر دمشق میں اُموی بادشاہت قائم کرچکے تھے ایک بار پھر تلوار اُٹھا کر جنگ و جدل شروع ہوئی تو ایک باقاعدہ معاہدے (۵) کے تحت مسند خلافت پر قابض ہوئے جس کی ایک شق یہ تھی کہ امیر شام کسی کو ولی عہد یا اپنے بعد خلیفہ مقرر نہیں کرے گا اور دوسری شق خلیفة المسلمین. چہارم حضرت علی کی شان میں گستاخی اور گالم گلوچ نہ کرنے کی تھی جو وہ اپنے زیر اثر علاقوں میں جمعے کے خطبوں میں واجباً کرتے رہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی سب و شتم جاری رہا۔ (۶)

اموی خلیفہ امیر معاویہ بن ابوسفیان نے وفات سے پہلے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنا کر امام حسن سے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اسی فیصلے نے اسلام کی بنیادی ہلا کر رکھ دیں، سیرت شیخین رض کے برخلاف خلافت کو ملوکیت اور بادشاہت میں تبدیل کرتے ہوئے بنی امیہ قابض ہوئے۔ اب بنو امیہ اور بنو ہاشم کی عداوت اور شامی و علوی سیاست پر بحث مقصود نہیں جس پر کھبی بات ہوگی۔

امام حسن ابن علی. ۵۰ھ میں زہر دے کر شہید کردیئے گئے تو امیر شام معاویہ ابن ابوسفیان نے یزید بن معاویہ کو ولی عہد بنایا اور یزید بن معاویہ ۶۰ھ میں باپ کے وفات کے بعد اُموی شاہی تخت پر برجمان ہوئے۔ (۷)

نواسہ رسول امام حسین ابن علی ع سمیت عبداللہ ابن عمر رض، عبدالرحمن بن ابوبکر رض اور عبداللہ ابن زبیر رض سمیت بزرگ صحابہ سے بیعت طلب کرتے ہوئے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ بن ابوسفیان (یزید کے چچازاد) کو خط لکھا، لیکن کوئی بھی بزرگ صحابی یزید بن معاویہ بن ابون سفیان کے ہاتھ پر بیعت کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ یزید نے خط کے ساتھ ایک ورقہ پر نوٹ بھی ارسال کیا جس میں بیعت نہ کرنے کی صورت میں صحابہ خاص کر امام حسین ع کو قتل کرنے کا حکم دیاگیا تھا۔ (۸)

بدترین دشمن تاریخوں میں بھی یہ نہیں ملے گا کہ امام حسین ع نے مدینہ منورہ میں یا مکہ پہنچ کر حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں کوئی بات کی ہو بس “مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا” کہہ کر وارث رسول اللہ، وارث دین، نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول امام حسین ع نانا کے شہر مدینہ منورہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے کہ یہی اموی خلیفہ کے ہاتھوں قتل سے بچنے کا واحد حل نظر آیا۔

امام عالی مقام اپنے اہل خانہ کے اکیس ۲۱ اور تقریباً دس ۱۰ اصحاب کے ساتھ رات کی تاریکی میں مدینہ سے نکلے اور مکہ پہنچ گئے۔ (۹)

امام حسین ع کے مکہ پہنچتے ہی شعب علی (محلے) میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اب امام امن کے شہر میں وارد ہوچکے ہیں۔ جب مکہ میں ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو تو عبداللہ ابن زبیر. خائف ہوئے جو خود مکہ پر قبضے کا سوچ رہے تھے کہ امام مکہ میں بیعت لینے کا سلسلہ شروع نہ کریں لہذا امام کو صبح و شام عراق جانے کے مشورے دیتے رہے (۹) اور ساتھ ہی اہل کوفہ کے خطوط موصول ہونا شروع ہوئے جن کو امام کے بیعت سے انکار کی خبر پہنچ چکی تھی اور اہل عراق بنی امیہ کے حکمرانی سے تنگ آچُکے تھے۔

اہل کوفہ کی طرف سے امام حسین ع کو کئی سو خطوط لکھے گئے کہ امام آپ آجائیں ہماری امامت کریں۔ یہ خطوط کوفہ کے سرکردہ بزرگان سلیمان بن صرد، مسیب، رفاعہ بن شداد، حبیب ابن مظاہر، شبث بن ربعی، حجار بن ابجر، یزید بن حارث سمیت سینکڑوں افراد اور کئی قبیلوں کے سربراہوں. کی طرف سے لکھے گئے اور اکثر خطوط قیس بن مسہر صیداوی، عبدالرحمن بن شداد، عمارہ بن عبداللہ سلونی، عبداللہ بن سبع ہمدانی، ہانی بن ہانی سبیعی، سعید بن عبداللہ حنفی لے کر. مکہ میں امام کے پاس پہنچے، تمام عراقی ایلچی امام عالی مقام سے ملے اور خطوط پیش کئے۔ (۱۰)

امام نے خطوط پڑھے اور ایک جوابی خط ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبداللہ حنفی کے ساتھ واپس اہل عراق کی طرف روانہ کیا۔ خط میں امام نے کوفہ آنے کی حامی بھرتے ہوئے لکھا کہ اگر آپ لوگوں کی اتنی شدید خواہش ہے تو میں اپنے عم زاد بھائی مسلم بن عقیل کو اپنا معتمد خاص اور سفیر بناکر بھیج رہا ہوں، اگر انہوں نے مجھے حالات سے آگاہی کے بعد جواب دیا کہ حالات وہی ہیں جو آپ کے خطوط میں بیان کیاگیا ہے اور جو آپ کے ایلچی بتا رہے ہیں تو میں جلد ہی مکہ سے روانہ ہو کر آپ کے پاس عراق پہنچ جاؤنگا۔

اس کے فوراً بعد امام عالی مقام نے قیس بن مسہر صیداوی، عبدالرحمن بن شداد، عمارہ بن عبداللہ سلونی کے ہمراہ مسلم بن عقیل کو اپنا سفیر بناکر اہل کوفہ و عراق کی طرف بھیج دیا۔

جناب مسلم وسط رمضان میں مکہ سے. نکلے اور مدینہ سے ہوتے ہوئے آخر کار پانچ شوال ۶۰ھ کو جناب مسلم کوفہ پہنچ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اٹھارہ ہزار افراد مسلم بن عقیل کے گرد جمع ہوئے اور جناب مسلم نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد امام علیہ السلام کو خط لکھا اور انہیں کوفہ آنے کی دعوت دے دی۔ اور امام عالی مقام نے حج کو عمرے میں بدلتے ہوئے ۸ ذی الحج ۶۰ھ. کو چند ساتھیوں اور اپنے خاندان کے ساتھ مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔

اس وقت نعمان بن بشیر کوفہ کے گورنر تھے۔

حالات کی خبر شام میں اموی بادشاہ یزید بن معاویہ بن ابو سفیان تک پہنچی تو انہوں نے بصرہ کے گورنر نعمان بن بشیر کو معزول کرتے ہوئے عبیداللہ ابن زیاد کو کوفہ کے گورنر کا اضافی چارج دیتے ہوئے حکم دیا کہ مسلم بن عقیل اور ان کے پیروکاروں کو کچل دو۔

عبیداللہ بن زیاد نے حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے کر لوگوں کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا۔ ہانی بن عروہ کو جو کوفہ کے بزرگان میں سے تھے اور جناب مسلم ان کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے کو گرفتار کر دیا تو کوفہ کے حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔

جناب مسلم نے جب ہانی کی گرفتاری کی خبر سنی تو اہل کوفہ سے مطالبہ کیا کہ ہانی کی مدد کو نکلیں۔ لوگ جمع ہو گئے، مسجد کوفہ، اطراف کا بازار اور دار الخلافہ لوگوں سے بھر گیا، جب کہ عبید اللہ کے پاس اس وقت پچاس افراد بھی نہیں تھے۔

عبید اللہ نے انتہائی چالاکی اور سیاست سے کام لیتے ہوئے چند لوگوں کو کوفہ کے مختلف قبیلوں کے درمیان بھیجا تاکہ انہیں پہلے ڈرائیں نہیں تو پیسے یا مقام کی لالچ دیں۔ اور بعض قبیلوں کے سردار جو دار الخلافہ کے اندر موجود تھے انہیں دھمکی دے کر دار الامارہ کی چھت پر بھیجا تاکہ ان لوگوں کو جنہوں نے قصر کا محاصرہ کر رکھا ہے کو کسی نہ کسی حربے سے دار الامارہ سے دور کریں۔

اہل کوفہ نے جب اپنے سرداروں کی باتوں کو سنا تو نرم پڑ گئے، شور شرابا دھیرے دھیرے کم ہونے لگا ہر کوئی دوسرے سے کہہ رہا تھا:’’ چلو واپس چلیں، دوسرے لوگ ہیں وہ کافی ہیں‘‘!!۔

آہستہ آہستہ جناب مسلم کے اطراف سے لوگ دور ہوتے گئے یہاں تک کہ صرف ۳۰ افراد مسجد میں ان کے پاس باقی رہ گئے۔ جناب مسلم نے جب اس عہد شکنی کا مشاہدہ کیا تو اسی قلیل تعداد کے ساتھ ’’باب الکندہ‘‘ کی طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچنے کے بعد دیکھا کہ صرف ۱۰ افراد ان کے ساتھ ہیں اور جب وہاں سے اور آگے بڑھے تو ان کے ہمراہ کوئی نہ رہ گیا تھا۔

جناب مسلم غربت کے عالم میں، ناآشنا شہر میں تن تنہا، چاروں طرف دیکھ رہے ہیں لیکن کوئی انہیں نظر نہیں آرہا ہے جو انہیں راستہ بتائے یا اپنے گھر میں انہیں پناہ دے۔ سفیر حسین(ع) پریشاں حال میں کوفہ کی گلیوں میں چل رہے ہیں جبکہ انہیں نہیں معلوم کہ کہاں جانا ہے۔

یہاں تک کہ ایک ایسے گھر کے سامنے پہنچے جس کے دروازے پر ایک بوڑھی عورت کھڑی ہوئی تھی۔ اس عورت کا نام طوعہ تھا وہ اپنے بیٹے کی انتظار میں کھڑی تھی جو لوگوں کے ہمراہ گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ جناب مسلم نے اس بڑھیا کو سلام کیا اور اس سے پانی کا مطالبہ کیا۔ طوعہ نے آپ کو پانی دیا اور کاسہ رکھنے گھر کے اندر چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد پھر اپنے بیٹے کو دیکھنے کے غرض سے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہ شخص مسکینوں کی طرح اس کے دروازے پر بیٹھا ہوا ہے۔ کہا: ’’اے بندہ خدا جب پانی پی لیا تو اب اپنے گھر چلے جاو‘‘۔ جناب مسلم خاموش ہو گئے بڑھیا نے دو تین بار یہی جملہ دھرایا تو جناب مسلم کھڑے ہو گئے اور کہا: ’’میرا اس شہر میں نہ کوئی گھر ہے یا گھرانہ، میں مسلم بن عقیل ہوں، اس قوم نے مجھے دھوکہ دیا اور مجھے اپنے گھروں سے باہر کر دیا ہے‘‘۔ ضعیفہ نے جناب مسلم کو اپنے گھر میں پناہ دی، ان کے لیے الگ کمرے میں فرش لگایا، کھانے کا انتظام کیا۔ لیکن جناب مسلم کھانا تناول کئے بغیر سو گئے اور عالم خواب میں اپنے چچا امیر المومنین علی علیہ السلام کو دیکھا کہ ان سے فرما رہے ہیں:’’ جلدی کرو کہ کل تمہیں ہمارے پاس آنا ہے‘‘۔

دوسری جانب، ابن زیاد نے جب دیکھا کہ اس کا حربہ لوگوں پر کارآمد ثابت ہوا ہے اور لوگوں نے جناب مسلم کا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو اپنے قصر سے باہر نکلا اور مسجد میں آکر جناب مسلم کو تلاش کرنے پر ایک ہزار دینار انعام مقرر کیا۔

طوعہ کا بیٹا جب مسجد سے گھر واپس پہنچا تو گھر میں جناب مسلم کے موجود ہونے سے باخبر ہو گیا۔ اس نے علی الصبح انعام کی لالچ میں یہ خبر ابن زیاد تک پہنچا دی۔ عبید اللہ نے درجنوں سپاہیوں پر مشتمل لشکر جناب مسلم کی گرفتاری کے لیے طوعہ کے گھر بھیج دیا۔

جناب مسلم اپنے خدا سے راز و نیاز میں مصروف تھے کہ لشکر نے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنتے ہی مسلم نے اپنی دعا و مناجات کو تمام کیا اور جلدی سے زرہ پہن کر جنگ کے لیے آمادہ ہو گئے۔ لشکر کے گھر سے قریب ہوتے ہی آپ مقابلہ کے لیے گھر سے باہر آ گئے کہ کبھی ایسا نہ ہو دشمن بڑھیا کا گھر جلا دیں۔

جناب مسلم جو دلیر اور جنگی فنون میں ماہر تھے نے کئی سپاہیوں کو واصل جہنم کر دیا۔ ابن زیاد کا لشکر جب کسی طرح آپ کر قابو نہ پا سکا تو اس نے مل کر جناب مسلم پر حملہ کیا، مکانوں کی چھتوں سے پتھر اور آگ برسائی، آخر کار پیاس کی شدت اور زخموں کی فراوانی اور اس نیزے کی وجہ سے جو پیٹھ پیچھے سے آپ کی پشت پر مارا گیا زمین پر گر گئے اور یزیدیوں نے بڑھ کر آپ کو گرفتار کر لیا۔

جناب مسلم جب گرفتار ہو گئے تو کلمہ استرجاع ’’ انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ زبان پر جاری کرنے کے بعد گریہ کرنے لگے۔ لشکر میں سے ایک شخص نے ان کے رونے پر تعجب کرتے ہوئے اس کا سبب پوچھا، جناب مسلم نے کہا: خدا کی قسم میں اپنے قتل کئے جانے پر گریہ نہیں کر رہا ہوں مجھے موت سے خوف نہیں ہے، میں اہل بیت پیغمبر، حسین اور ان کے بچوں کے لیے گریہ کر رہا ہوں جو یہاں آ رہے ہیں‘‘۔

جناب مسلم کو عبید اللہ کے حکم سے دار الخلافہ کی چھت پر لے جایا گیا اس حال میں کہ جناب مسلم خداوند عالم کی تسبیح پڑھ رہے تھے اور طلب مغفرت کر رہے تھے۔

دار الخلافہ کی چھت پر لے جانے کے بعد جناب مسلم کا سر تن سے جدا کر دیا گیا اور پہلے سر پھر بدن کو دار الامارہ کی چھت سے نیچے گرا دیا گیا تاکہ لوگ ان کا حشر دیکھ کر امام حسین(ع) کی نصرت سے دستبردار ہو جائیں۔ اس کے بعد ان کے بدن کو مجمع عام کے سامنے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ہانی بن عروہ کہ جو ۸۹ سال کے بوڑھے تھے کو بھی کوفہ کے بازار میں لے جا کر دردناک طریقے سے شہید کیا اور تختہ دار پر لٹکا دیا جبکہ وہ اپنے ساتھیوں کو مدد کے لیے بلاتے رہے لیکن کسی نے ان کی مدد نہ کی۔

بعد از آں، ابن زیاد نے جناب مسلم اور ہانی کے سروں کو یزید کے لیے شام بھیج دیا۔ جناب مسلم کا لاشہ بنی ہاشم میں سے وہ پہلا لاشہ تھا جسے تختہ دار پر لٹکایا گیا اور ان کا سر وہ پہلا سر تھا جو شام بھیجا گیا۔

دو محرم سن ۶۱ ھجری امام اپنے اہل و اعیال اور دوست احباب کے مختصر قافلے کے ساتھ کوفہ کے نزدیک ایک پڑاؤ پہنچے اور بھائی حضرت عباس علمدار کو حکم دیا کہ پتہ کریں یہ کونسی سرزمین ہے اور کس کی ملکیت ہے! جب آس پاس کے لوگ بلائے گئے۔ تو کرب و بلا اور نینوا سمیت کئی نام سامنے آئے! تب امام عالی مقام نے حضرت عباس علمدار علیہ سلام سے فرمایا کہ دریائے فرات کے کنارے خیمے نصب فرمائیں. تو پہلی بار کربلاء میں خواہر امام علاج مقام ثانی زہرا کی آواز بلند ہوئی۔۔۔۔ رونے کی۔

صبح عاشوریٰ سے عصر عاشور تک!

صبح جہاد، شام غریباں میں ڈهل گئی.

‏ خیمے. جلے. تو چادر. زہرہ. بھی جل گئی

اہل سنت کے مشہور دانشمند جلال الدین سیوطی نےتاریخ الخلفاءمیں لکھا ہے:”فكتب يزيد إلی واليه بالعراق عبيد الله بن زياد بقتله فوجه إليه جيشاً أربعة آلاف عليهم عمر بن سعد بن أبي وقاص؛ یزید نے کوفہ کے والی ابن زیاد کو حکم دیا کہ حسین بن علی ع کو قتل کردو اس نے عمُربن سعد کے ساتھ چار ہزار کا لشکر امام حسین ع کوقتل کرنے کے لئے روانہ کیا“

اموی خلافت کے گورنر کوفہ ابن زیاد نے سینکڑوں مفتی جمع کیئے اور مفتی اعظم قاضی شریح اور کبار علماء کے ذریعے نواسہ رسول اللہ کو باغی قرار دیکر قتل کا فتوایٰ حاصل کیا۔ اس طرح کبار علماء اور مفتیوں کے فتوے آج بھی دنیا بھر میں حاصل کیئے جاتے رہے ہیں اور بے گناہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے۔

تاریخ میں لشکر یزید کی تعداد چالیس ہزار تک بتائی جاتی ہے جو امام حسین کے ۷۲ ساتھیوں کے مقابلے میں کربلا میں دو محرم سے عاشوریٰ تک جمع ہوچکی تھی۔

صبح عاشوریٰ کربلاء میں پہلا تیر لشکر یزید کے سپہ سالار عمر سعد ابن سعد بن ابی وقاص نے پھینک کر لشکر یزید کو گواہ بنایا کہ، پہلا تیر میں نے چلایا ہے، اور جنگ کا آغاز ہوا، دن گیارہ بجے سے جھڑپیں شروع ہوئیں۔

لشکر یزید نے تین بار عرب دستور کے برخلاف جنگ ملغوبہ سے آغاز کیا اور پہلے ہی حملے میں امام عالی مقام کے تقریباً پچاس رفقاء باوفا نے شہادت جام نوش فرمایا۔ اب لشکر حسین میں کم و بیش تیس ساتھی رہ گئے۔ اور نماز ظہر کیلئے جب نواسہ رسول اللہ کھڑے ہوئے تو لشکر یزید بھی عمر سعد کی اقتداء میں باجماعت نماز کیلئے کھڑی ہوئی! (خوف آتا ہے اس طرح باجماعت نمازوں سے آج بھی)۔

ظہرِ عاشور تک کربلا کا میدان خون سے. بھرنے لگا، پھر امام حسین باری باری اپنے احباب بھیجتے رہے اور میدان میں کٹ مرنے کے بعد امام عباس اور اکبر سمیت ہاشمی جوانوں کیساتھ جا کر لاشے خیمہ گاہ حسینی لاتے رہے۔ عصر عاشور سے پہلے احباب کے بعد ہاشمی جوان اور رشتہ دار میدان میں بھیجنے شروع ہوئے، کیا بی بی زینب کے دو کم سن بچے عون و محمد لشکر یزید کے ظلم و بربریت کا نشانہ بنے کیسے قاسم کا لاشہ پائے مال ہوا اور کیسے. اکبر کے سینے میں برچھی پھنس کر رہ گئی۔ کیسے عباس کے ہاتھ کٹے اور کیسے حرملہ نے تین کلو بچے کو تیرہ کلو وزنی. تیر سے ذبح کیا، ظلم و بربریت کا طویل داستان ہے جو لشکر یزید کے ان خونخوار درندوں نے خود امیر مختار کے سامنے بیان کیا ہے جب ان سب درندوں کو پکڑ عبرت کا نشانہ بنایا گیا اور کچھ راویوں نے قلمبند کیا ہے۔

ظہر سے عصر عاشور تک جب سب دوست اور رشتہ دار بنی ہاشم ایک کے بعد ایک میدان کربلا میں شہید ہوتے رہے آخر کار امام حسین اکیلے رہ گئے اور جنگ کیلئے تیار ہورہے تھے تو آخری بار خیام حسینی کا دورہ کیا! امام حسین جب خیمہ گاہ پہنچے تو بچوں اور خواتین نے گھیر لیا اور ایک چھوٹی بچی “سکینہ” پاؤں سے لپٹ گئی۔

اب مجھے نہیں پتہ کہ کیسے ایک دوسرے کو تسلی دی ہوگی لیکن بالآخر امام نے جنگ کیلئے سامان مانگا اور تیار ہوئے۔

ذوالجناح پر سوار ہونے کیلئے بہن زینب نے سہار دیا اور میدان میں پہنچ گئے۔

علی کے بیٹے نے تاریخ کی بہترین جنگ لڑی تو لشکر یزید میں چہ مہ گوئیاں شروع ہونے لگی کہ کیسے امام کو روک کر قتل کردیں تو فیصلہ ہوا کہ پوری لشکر قوت کیساتھ ایک ساتھ حملہ کردے۔ وہی ہوا! پوری لشکر یزید نے ایک ساتھ حملہ کیا، تیر برسائے، نیزے برسائے اور کلہاڑیوں اور چھریوں سمیت جو جس تکفیری یزیدی کے ہاتھ میں تھا امام پر ٹوٹ پڑے اور امام زخمی ہوتے گئے بالآخر گھوڑے سے زمین پر آئے اور سجدہ شکر میں گر پڑے۔

یہی سجدہ شبیری ہے جو تاریخ میں یاد کیا رکھا جائے گا اور جس خاک پر سجدہ کیا اس خاک شفا کو آج بھی مسلمان نماز پڑھتے وقت اپنی پیشانی کے نیچے رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

‏یزیدی فوج کے سپاہی شمر سے کہ رہے تھے. ‏کہ‏ جلدی حسین سر تن سے جدا کرلیں نماز عصر قضا ہو رہی ہے۔

اب شبیر سجدے میں ہیں اور لشکر یزید کے خونخوار درندہ شمر لاشہ مظلوم پر پہنچ چکے ہیں۔ اب جیسے ہی بھائی آنکھوں سے اوجھل ہوا ادھر پہلی بار علی کی بیٹی اور ثانی زہرا س خیمہ گاہ حسینی سے باہر نکلیں اور ایک ایسی جگہ (تلے زینبیہ) پہنچی جہاں سے بھائی کا لاشہ دیکھ سکتی تھیں۔ اب بہن تلے زینبیہ پر کھڑی ہوکر یزیدی لشکر کے سپہ سالار شمر کو دیکھ رہی تھیں کہ شمر لاشہ امام کے اوپر. بیٹھ کر امام کو پس پشت ذبح کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

شمر ابن ذی لجوشن نے کند خنجر کے وار کر، کرکے امام کو پشت گردن سے ذبح کرکے نواسہ رسول کا سر تن سے جدا کردیا اس وقت لشکر یزید تکبیر، اللہ اکبر کے نعرے لگاتے رہے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

ذبح کرنے اور سر تن سے جدا کرنے کا تکفیری اور یزیدی رسم آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے۔

‏یزیدی فوج کے سپاہی شمر سے کہ رہے تھے. ‏کہ‏ جلدی حسین سر تن سے جدا کرلیں نماز عصر قضا ہو رہی ہے۔

ظلم ابھی ختم نہیں ہوا! اس کے بعد لشکر. یزیدی کے جرنیل عمر سعد نے حکم دیا کہ سب گھوڑوں کی نعلیں تازہ کر دی جائیں اور لاشوں کو پائے مال کیا جائے، کلمہ گو مسلمانوں نے نواسہ رسول اللہ اور ساتھیوں کے لاشوں کو گھوڑوں تلے روندا۔

عصر عاشور جب میدان کربلا میں جنگ ختم ہوئی اور لشکر یزید نے نواسہ رسول اور اہل بیت کے جوان اور ان کے ساتھیوں کو شہید کردیا تو کربلا میں سجی حسینی بستی پر ٹوٹ پڑے۔ خیام حسینی میں یزیدی لٹیروں نے لوٹ مار کی اور خیموں کو آگ لگا دی گئی۔ اہل بیت کے چھوٹے چھوٹے بچوں اور خواتین کو ہراساں کیا جس میں کئی بچے گھوڑوں کے ٹاپوں سے شہید ہوئے۔ اور روایات میں ہے کہ لشکر کے جرنیل امام حسین کی تین سال کی بچی سکینہ کو طمانچے دیتے رہے اور لوٹ مار کرتے ہوئے سکینہ کی بالیاں اسطرح کھینچ لیں کہ کان لہو لہان ہوئے۔

ایک روایت کے مطابق کربلا میں مقتل اور شام غریباں کے بعد جب امام حسین کی بہن نے بچوں اور خواتین کو جمع اور گنا تو انکی تعداد بہت کم تھی لیکن ایک واضح کمی امام حسین کی چھوٹی بچی سکینہ کی نوٹ کی گئی جس کی وجہ سے زینب کافی پریشان ہوئی اور ادھر اُدھر ڈھونڈنے کے بعد بھی جب نہیں ملی تو بی بی زینب نے لاشہ امام عالی مقام پر جا کر دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ اب مجھے نہیں پتہ کہ بی بی زینب نے لاشہ امام پر جانے کا فیصلہ کیسے کیا ہوگا جبکہ عصر عاشور بی بی زینب تلے زینبیہ پر کھڑی ہوکر یزیدی لشکر کے سپہ سالار شمر کو لاشہ امام کے اوپر. بیٹھ کر دیکھ چکی تھیں جب وہ کند خنجر کے وار کر، کرکے امام کو پشت گردن سے ذبح کررہے تھے اور لاشہ نواسہ رسول پر تیروں اور تلواروں کی بارش کے علاوہ گھوڑے بھی دوڑائے گئے تھے جس کی وجہ سے جسم میں کوئی جگہ باقی نہیں بچی تھی اور راویات میں آیا ہے کہ بی بی سکینہ بابا کے سینے پر سو رہی تھی۔ ھیئھات من الذلہ ( میرے آنسووں نہیں روک رہے یہ جملے لکھنے ہوئے، نہ جانے آپ کو پڑھ کر کیا محسوس ہو رہا ہوگا)۔ خیر، بی بی زینب سکینہ، سکینہ پکارتی لاشہ امام قریب پہنچی تو سکینہ کو امام کے لاشہ پر پایا اور بہت مشکل سے واپس ایک جلے ہوئے خیمے میں لے آئے جہاں امام زین العابدین ع سمیت خواتین اور بچے ہوئے بچے جمع کیئے گئے تھے۔ اب کئی دن بعد ایک خاتون پانی لیکر آئی تھیں تو حسب دستور بی بی زینب نے سکینہ کو جام تھما دیا کہ پانی پی لیں، سکینہ نے فرمایا کہ آپ مجھ سے زیادہ پیاسی ہیں آپ پی لیں! بی بی زینب نے فرمایا کہ آپ چھوٹی ہیں اسلئے حق ہے کہ آپ پہلے پانی پیئں۔ اب سکینہ نے جام ہاتھوں میں لیا اور مقتل کی طرف دوڑ پڑیں کہ پھوپھی اگر پانی پہلے چھوٹے بچوں کا حق ہے تو میرا بھائی علی اصغر۔۔۔ مجھ سے بھی چھوٹا ہے۔ سلام ہو اہلبیت رسول ص پر۔

الا لعنۃ اللہ علی القوم الظالمین و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔

#احمدطوری

ریفرنسز

ابن کثیر: بدایہ والنہایہ جلد ہشتم ص ۴۰۱

تاریخ الیعقوبی ج ۲ ص ۲۸۸

الکامل: ج ۳ ص ۳۵۱، ۳۸۷

سید بن طاووس، اللھوف فی قتلی الطفوف

شیخ عباس قمی، نفس المھموم

شیعہ اور جابر حکمران۔ علامہ جواد مغنیہ

تاریخ عاشوی۔ ڈاکٹر ابراھیم آیتی

شجرۂ ملعونہ: سید آل نقی

خلافت و ملوکیت: مولانا مودودی

حدیث کربلاء علامہ طالب جوہری

Historical artefacts associated with Shia Islam found in the British Museum, London. by @hazthesaz

 Historical artefacts associated with Shia Islam found in the British Museum, London 

Seal from Iran with the inscription of ‘Naad e Aliyyan Mazharul Ajaib’

Shield from India’s Mughal Empire which sends invocations upon Allah, Prophet Muhammad, and Imam Ali

This tile from Safavid Dynasty is decorated with Ayatul Kursi and names of the 12 imams

This bowl was produced in China 300 years ago. Surrounding the centre square it says ‘La Fata Ila Ali La Sayf Ila Zulfiqar’.

This goldsmiths box from late Safavid period has decorations including Imam Hasan and Imam Husain surrounded by angels.

They also had turbahs! These are 200 years old from Najaf and Karbala

In Urdu and Farsi this is called an alam, used in processions commemorating Ashura. This is from the Qajar dynasty.


This cap from Turkey has the message


‘Oh Ali one of the favourites of God, Oh the vanquisher of enemies! Oh Guardian of the friends of God!’

This inscription from a ruler of Fatimid Dynasty praises Allah, the Prophet and Imam Ali

This was incredible! This ‘haft rang’ bowl shows an illustration of mourners doing latom/matam in commemoration of Ashura.

The coinage from the Fatimid Dynasty included names of the Ahlulbayt.

Artefacts from the city of Samarra, a city home to the shrines of two of our Imams.

This massive alam from Awadh, Northern India includes the names of Ahlulbayt, Ayatul Kursi and various surahs of Quran and ziyarats.

This alam, also from Awadh in Northern India, depicts the scene where the arms of Hazrat Abbas were severed when getting water.

• • •

افغانستان میں جنگ و جدل، بیرونی مداخلت اپنی جگہ مگر قبائلی جھگڑے کون ختم کرے؟ احمد طوری

افغانستان میں جاری حالیہ جنگ میں امریکی انخلاء کے بعد تیزی آئی ہے جو 2001 ء میں طالبان کی اسلامی ریاست کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ڈیڑھ لاکھ فوج کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوئے مگر بیس سال میں پورے افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکام رہے، جنوبی افغانستان کے بیشتر پشتون علاقے طالبان کے کنٹرول میں رہے اور ہزاروں امریکی و اتحادی افواج کو نشانہ کر قتل بھی کرتے رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انخلاء کا اعلان کرتے ہوئے طالبان سے مزاکرات شروع کیئے تو جو بائیڈن نے صدارت سنبھالتے ہوئے سب سے پہلے افغانستان سے فوج واپس بلانے کا اعلان کیا، اور طالبان سے قطر کے دارالحکومت میں ایک ڈیل پر دستخط کیئے جو ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا ہے مگر ایک ہزار امریکی فوجیوں کے علاوہ بیشتر اتحادی افواج افغانستان سے نکل چکے ہیں۔

امریکی فوجی انخلاء شروع ہوتے ہی طالبان نے پچھلے دو ماہ سے افغانستان کے طول و عرض میں کارروائیاں تیز کردی اور کابل حکومت کے بیدار ہونے تک آدھے سے زیادہ افغانستان پر قبضہ کرچکے ہیں۔ کل تک افغان حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ آدھے ‫افغانستان پر ‫طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے! مگر اب امریکی وزیر جنگ نے کہا ہے کہ 419 میں سے 213 اضلاع طالبان کے قبضے میں ہیں! بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت پر قبضہ نہ کرنا طالبان کی سٹریٹیجی ہوسکتی ہے، اور 13 صوبائی دارالحکومت طالبان کے محاصرے میں ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ 3 سے 6 ماہ میں طالبان سے علاقے واگزار کرائیں گے! جبکہ گمبھیر صورتحال یہ ہے کہ کندھار شہر میں جنگ ہورہی ہے، ہرات، کندوز، تخار، بدخشان اور مزار شریف کے اس پاس جنگ ہورہی ہے۔
کندھار کے سپین بولدک میں واقع سابق افغان جنرل عبدلرازاق کے گھر پر طالبان کا دھاوا، لوٹ مار کرکے گھر کا سارا سامان لوٹا گیا اور قبضہ کرکے سابق جنرل کے گھر کو طالبان نے اپنے ضلعی دفتر میں تبدیل کیا ہے، جہاں جنگجو آتے ہیں اور جنرل عبد الرزاق کے ہاتھوں قتل دوسرے قبائلی نوجوانوں کو یاد کرتے ہیں، اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شئیر کرتے نظر آتے ہیں۔
کندھار میں قبائلی جنگ کی تین سو سالہ تاریخ ہے جس میں قبائل اثر رسوخ اور قبضے کے لئے آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ ان میں غلجی افغان، ابدالی، اچکزئی اور نورزئی قبائل قابل ذکر ہیں۔
قبائلی جنگ کی شروعات تو گونر گورجین نے کی جب انہوں نے 1700ء میں ابدالی قبائل کو کندھار سے نکال کر ہرات اور فرح کی طرف دھکیل دیئے، اور غلجی قبائل سے مل کر کندھار پر حکومت کرتے رہے، مگر میر اویس ھوتک (میرویس نیکہ) نے جلد گورجین کو اکھاڑ کر کندھار پر قبضہ کیا اور ایک ابدالی خاتون سے شادی کرکے اس جنگ کو کچھ عرصہ کے لیے ختم کردیا، مگر احمد شاہ ابدالی (احمد شاہ بابا) نے کندھار میں ھوتک قبیلے کی حکومت ختم کرکے 1747 میں ابدالی (درانی) قبیلے کی سرکردگی میں پہلی دفعہ لوئیی افغانستان (گریٹر افغانستان) کی حکومت بنائی اور کندھار میں قبائلی تناسب ایک بار پھر بگڑنے لگا۔ بارکزئی دور میں، دوست محمد خان کے بھائی کہندل خان اور پردل خان قابض رہے، جبکہ ان ادوار میں اچکزئ اور نورزئی قبائل کا کندھار کی سیاست میں کلیدی کردار رہا۔ مزید طوالت دیئے بغیر یہ بات ثابت کرنا مقصود ہے کہ کندھار میں وہی قبائلی سیاست اور رسہ کشی آج بھی اسی طرح جاری ہے۔
حامد کرزئی کندھار میں بیٹھے ہیں تو غلجی قبیلے سے تعلق رکھنے والے اشرف غنی کی کابل میں حکومت ہے، جبکہ جنرل عبد الرزاق اچکزئی کے اوپر امریکی الزام لگاتے رہے کہ انہوں نے ریاست کی رٹ قائم کرنے کے بہانے مخالف قبائل کے لوگوں کے قتل میں ملوث ہے۔ جنرل عبد الرزاق اور حامد کرزئی کے بھائی پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا بھی چرچا رہا ہے۔ اب جبکہ طالبان کندھار شہر میں لڑ رہے ہیں اور سپین بولدک پر قابض ہوئے ہیں تو وہ سیاسی، قبائلی اور منشیات کے ڈیلروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہے ہیں اور سپین بولدک میں مخالف قبائل کے سو سے زیادہ لوگوں کے قتل کے الزامات سامنے آئے ہیں، جسے افغان حکومت جنگی جرائم کہہ رہے ہیں، کیونکہ گھر گھر تلاشی کرکے لوگوں کو باہر لایا جارہا ہے اور قتل کیا جارہا ہے۔
جولائی کے پہلے ہفتوں میں ، طالبان نے صوبہ قندھار کے جنوب مشرق میں واقع اسپن بولدک پر حملہ کیا۔ یہ ضلع ڈیورنڈ لائن پر واقع ہے۔ ضلع کا مرکز، ایک قیمتی تجارتی اور سیاسی اثاثہ ہے ، جو افغانستان کو پاکستان کے ساتھ مربوط کرنے والے ایک انتہائی اہم سرحدی گزرگاہ ہے۔ 19 جولائی 2021 کو ، افغانستان میں مختلف فیس بک پیجز میں حاجی فدا محمد افغان کے بیٹے شیر محمد اور محمود خان کے قتل کی اطلاع ملی۔

 افغان ، جسے حاجی فدا اکا (یا چچا) بھی کہا جاتا ہے ، اچکزئی قبیلے کے ایک اہم قبائلی بزرگ اور قندھار کی صوبائی کونسل کے رکن ہے۔
قندھار کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ دونوں افراد یا تو نورزئی قبیلے کے افراد یا نورزئی قبیلے کے افراد جو طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مل گئے ہیں، ان کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ نورزئی سمیت سب قبائل کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ بدلہ لینے کے لئے یا تو حکومت/ ریاست کے حامی بن کر دوسرے قبائیل سے بدلہ لیتے ہیں، یا مخالف (طالبان) جو بھی ہوں ان کے ساتھ مل کر اپنے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور وقت آنے پر بدلہ لیتے ہیں، جو اب ہورہا ہے۔ بدلہ !
شیر محمد اور محمود خان کے قتل کو طالبان نے اچکزئی قبیلے کے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔ اچکزئی کا تعلق پشتونوں کے درانی قبائل سے ہے۔ درانی جنوبی افغانستان کے علاقے لوئی قندھار ، یا گریٹر قندھار میں سب سے بڑا قبائلی گروہ ہیں۔ درانی کو مزید زیرک اور پنجپئ (پانج پائی) شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زرق روایتی طور پر غالب رہا ہے۔ سابق شاہی خاندانوں کا تعلق زیرک شاخ میں بارکزئی یا پوپل زئی سے تھا۔ اچکزئی کا بھی تعلق زیرک سے ہے۔ دوسری طرف ، پنجپئ میں اسحاق زئی ، نورزئی اور علی زئی جیسے چھوٹے لیکن اہم قبائل شامل ہیں۔
سپن بولدک کی تاریخ اور قبائل
اسپن بولدک میں بنیادی طور پر نورزئی اور اچکزئی آباد ہے۔ یہ پہلے سوویت یونین کے قبضے کے دوران ایک قبائلی فلیش پوائنٹ کے طور پر سامنے آیا تھا، 1984 میں جنرل عصمت اللہ اچکزئی مجاہدین چھوڑ کر کمیونسٹ حکومت میں شامل ہوگئے اور بولدک کے مقام پر منافع بخش بارڈر کراسنگ پر قبضہ کرلیا۔ مسلم کو 1988 میں اسپن بولدک سے بے دخل کردیا گیا۔ عصمت کے کزن اور جنرل عبد الرازق کے چچا منصور اچکزئی نے ملیشیا کا چارج سنبھال لیا۔ منصور نے ایک بار پھر مجاہدین میں شامل ہو کر اپنی وفاداری بدلی۔ 1994 میں ملا عمر کی زیرقیادت ، طالبان ایک سیاسی تحریک کے طور پر منظم ہوگئے۔ انہوں نے منصور کو پھانسی دے دی۔
 2001 کے آخر تک ، امریکہ نے طالبان امارت کا تختہ الٹنے کا عزم کیا تھا۔ قندھار کے اندر ، جہاں طالبان سب سے زیادہ مضبوط تھے ، امریکی صدر کا اہم اتحادی ، حامد کرزئی تھا، جو پوپل زئی سے تعلق رکھنے والے ممتاز کندهاری رئیس کا بیٹا تھا ، وہ بھی زیرک درانی کی ایک شاخ ہے۔ کرزئی نے قبائلی رابطوں کے نیٹ ورک پر انحصار کیا ، انہوں نے امریکی حملے کی بنیاد رکھنے کے لئے طالبان کے مضبوط گڑھ قندھارمیں بغاوت کو مشتعل کرنے کے لئے متحدہ محاذ بنانے کی کوشش کی۔ اس میں انہوں نے سی آئی اے کے ایک اور اثاثہ بارکزئی قبیلے کے گل آغا شیرزئی سے شراکت قائم کی۔ کرزئی ایک اور اتحادی فدا محمد افغان تھے، جو بولدک کی حالیہ شورش میں ہلاک ہونے والے دو نوجوانوں کے والد ہیں۔

 احمد ولید کے مطابق امارت اسلامیہ (طالبان) کے خاتمے کے بعد ، نئی حکومت نے قندھار میں جو شکل اختیار کی تھی ، وہ ڈالروں سے کھیل رہے تھے، شیرزئی نے 2004 تک گورنر کی حیثیت سے حکمرانی کی ، اس دوران وہ نہ صرف بدعنوانی کی وجہ سے بدنام ہوئے ، بلکہ اپنے منصب کو اپنے اور اپنے قبائل کو بااختیار بنانے کے لئے استعمال کیا ، جن میں سے تقریبا سبھی بارکزئی شامل تھے۔ صدر کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی قندھار کی صوبائی کونسل کے چیف کے عہدے پر فائز رہے ، اس پر بھی منشیات کی تجارت میں مبینہ طور پر شامل ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ پاک افغان بارڈر اسپن بولدک میں ، 80 کی دہائی میں عصمت اللہ اچکزئی تعینات تھے تو طالبان کے بعد انکے ہم قبیلہ جنرل عبد رازق بارڈر پولیس کے چیف کی حیثیت سے تعینات تھے، مبینہ طور پر صرف منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی افواہیں ہی گردش نہیں کر رہے تھے ، بلکہ قبائلی دشمنی کے بدلے لینے کی رپورٹس بھی آتی رہیں، ایک دفعہ جنرل رازق نے دعویٰ کیا کہ انہون نے 16 افراد قتل کئے، جو پاکستان سے دراندازی کرنے والے طالبان تھے۔ امریکی تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ قتل ہونے والے افراد باغی (طالبان) نہیں تھے ، بلکہ وہ جنرل رازق کے قبائلی دشمن تھے، جن میں بزنس مین شین نورزئی بھی شامل تھے۔ سرکاری عہدہ ذاتی اور قبائلی اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے استعمال کرنے کا ایک اور واقعہ، 2006 کے موسم گرما میں ، رازق اور اس کی ملیشیا کو قندھار شہر کے مغرب میں ، نورزئی ( پنج پایئی) پانج پائی اکثریتی علاقے میں تعیناتی تھا ، جہاں مبینہ طور پر طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ بتایا گیا تھا۔ یہ تعیناتی ناکام ہوگئی اور ستمبر تک کینیڈا کے زیرقیادت آپریشن میڈوسا کرنی پڑی تاکہ اس علاقے کو طالبان کی موجودگی سے پاک کیا جاسکے۔ کینیڈین صحافی گریم اسمتھ نے اپنی کتاب ‘The Dogs Are Eating Them Now’ میں لکھا ہے کہ بارکزئی کے ایک بزرگ حاجی محمد قاسم نے اعتراف کیا ہے کہ رازق اور اس کی اچکزئی ملیشیا کو مخالف قبائل کے خلاف استعمال کی وجہ سے مخالف قبائل ریاست کے خلاف ہوگئے اور طالبان کے ساتھ مل گئے”۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا!!!

اس طرح طریقہ واردات جنرل رازق نے اسحاق زئی کے خلاف میوند اور پنج پائی میں بھی استعمال کیا ، جنھیں طالبان کے حامی بتا کر نشانہ بنایا گیا۔ فطری طور پر، اسحاق زئی نے طالبان کی طرف جھکاؤ اختیار کیا ، خاص طور پر جب طالبان امیر اختر منصور کا تعلق بھی ایک اسحاق زئی قبیلے سے تھا۔

اگر حالیہ واقعات صرف قبائلی دشمنی ہیں، تو پھر یہ طالبان کی طرف سے شروع کردہ تنازعہ نہیں بلکہ اور افغان حکومت امریکہ کی طرف سے شروع کی جانے والی مسلح دشمنیوں کا تسلسل ہے، کرزئی ، شیرزئی اور رازق امریکی اتحادی تھے اور اشرف غنی اس کا تسلسل ہے، ان کی حکومتیں خدمات کی فراہمی یا وسیع تر عوامی شرکت پر مبنی نہیں بلکہ قبائلی دشمنیوں کو اپنے سرپرستی کے نیٹ ورک بنانے کے لئے تشکیل دی گئی تھی۔ ان نیٹ ورکس کو واشنگٹن نے مالی اعانت فراہم کی اور حکومت کے متوازی چلتے رہے، جس کے نتیجے میں قبائلی دشمنیوں نے جنم لیا ، اور امریکہ نے مالی اعانت فراہم کرکے اس جنگ کو بڑھاوا دیا۔

احمد ولید کاکڑ کے مطابق افغان ریاست کی قبائلی نوعیت ، عدم مساوات پر مبنی اور بعض باثر قبائل کی سربلندی ، ایک تاریخی حقیقت ہے۔ مگر قبائلی تناؤ کو بڑھاوا دینے کے لئے مقامی حلیفوں کے ساتھ اتحاد کی امریکی پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی، جس نے جنرل رازق جیسے قبائلی سرداروں کی فوجی، مالی اور سفارتی مدد کی، جس نے صرف قندھار میں ہزاروں لوگوں کو قتل کیا، اور اب اس کے مضمرات سامنے آ رہے ہیں، جو کچھ سپین بولدک اور کندھار میں قتل عام ہورہا ہے۔ مغربی ذرائع اس کی ایک چھوٹی سی اطلاع دیتے تھے۔ لنکس (یہاں ، یہاں ، یہاں اور یہاں دیکھیں)۔

تاہم ، افغان جنگ کے صرف قبائلی پہلو پر توجہ مرکوز کرنا بھی درست نہیں۔ کچھ زمینی حقائق قبائلی تقسیم سے متصادم بھی ہیں۔ مثلاً سابقہ کمیونسٹ جنرل عبد الجبار قہرمان، جو طالبان کا ایک سخت دشمن تھا جو 2018 میں مارا گیا، نورزئی تھا۔ اور طالبان کے شریک بانی اور پولیٹیکل آفس کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر پوپل زئی (کرزئی کے ہم قبیلہ) ہیں۔ قندھار میں طالبان کی دو بڑی چوکیاں اس وقت اچکزئی کمانڈر کے زیر انتظام ہیں۔ دوحہ میں کابل کی مذاکراتی ٹیم کا قائد مسعوم ستانکزئی ہے ، جبکہ اس کا رشتہ دار شیر محمد عباس ستانکزئی طالبان کے سیاسی دفتر کے سینئر ممبر ہیں۔ جب جنرل رازق پریشانی میں مبتلا ہوگئے، تو قندھار کے غلزئی گورنر اسداللہ خالد ہی تھے جنہوں نے اس کی حفاظت کی۔

افغانستان کے طول و عرض میں اسطرح کے واقعات اب بھی سامنے آرہے ہیں، تاجک، اُزبک اور ہزارہ قبائل بھی یہی الزامات لگاتے رہے ہیں کہ طالبان مخالفین کے گھر مسمار کررہے ہیں، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر لوگوں کو گھروں سے اُٹھا کر قتل کیا جارہا ہے، اور کابل شہر کے پوش علاقوں میں اغوا برائے تاوان کے واردات کرکے لوگوں سے رقم وصول کئے جارہے ہیں، مگر افغان ریاست نظر نہیں آرہی! اغوا برائے تاوان کا واقعہ کابل میں میرے ایک قریبی دوست کے ساتھ بھی پیش آیا ہے، جس کے بیٹے کو اغوا کرکے بھاری رقم کے عوض چھوڑ دیاگیا ہے۔
دوسری طرف ہرات سے چند کلومیٹر دور افغانستان کے سابق وزیرخارجہ رنگین داد کے گھر پر طالبان نے حملہ کردیا، تو رنگین داد نے ٹویٹ کرتے ہوئے حکومتی اور سیکیوریٹی اداروں سے تحفظ مانگنے کی اپیل کی، جس کا واضح مطلب ہے کہ افغان ریاست طالبان کے سامنے بےبس نظر آرہے ہیں۔
لگ بھگ پانچ مہینے پہلے ہزارہ برداری نے کوچی قبائل کو اپنے علاقے ضلع بہسود میدان وردک میں قبضہ کرنے سے روکا تو سب سے پہلے طالبان نے کوچی (پشتون) قبائل سے مل کر ہزارہ قبائل سے کے خلاف جنگ شروع کی، تو امراللہ صالح اور افغان صدر اشرف غنی بھی پیچھے نہیں رہے، ہیلی کاپٹر بھیج کر علیپور ہزارہ کے خلاف اعلان جنگ کردیا، جب ہیلی کاپٹر گھروں پر بمباری کررہی تھی اور پرواز بہت نیچھے تھی تو کسی نے گھر سے نکل کر راکٹ سے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا! پھر کیا تھا! جیسے علیپور ہزارہ نے “ارگ” پر حملہ کیا ہو، ایسے سارے افغان لیڈر علیپور ہزارہ کے خلاف متحد ہوئے اور علیپور ہزارہ کے خلاف بھرپور آپریشن ہوا، پورے علاقے راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ علیپور ہزارہ کو صرف اس لئے ٹارگٹ کیاگیا کہ ان کی ملیشیا جو مکمل دفاعی ملیشیا تھی/ہے، ریاست کے لئے چیلنج بن سکتی ہے، مگر غنی یا حامد کرزئی کے دور میں ایسی کارروائی طالبان کےخلاف دیکھنے میں نہیں آئی، اور کیا افغان حکومت اب خود قبائل کو مسلح کرکے ملیشیا کھڑے نہیں کررہے؟
علیپیور ہزارہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ “جو لوگ اپنے آپ کو افغانستان میں محفوظ تصور نہیں کرتے وہ کہیں آور چلے جائیں”۔
کیا اشرف غنی صاحب اب بھی اپنے اس بیان پر قائم ہیں؟
طالبان کے تاجک اور اُزبک علاقوں پر قبضہ بھی کوئی انہونی بات نہیں، گزشتہ بیس سالوں سے ان علاقوں کو جنگجو قبائلی لیڈرز اور حکومت نے مکمل نظر انداز کیا تھا، سب رہنما کابل میں مزے لے رہے تھے، اب وہ لوگ ان رہنماؤں کی لڑائی کیوں لڑے؟ اس لئے طالبان کے خلاف کسی نے بندوق اُٹھانے کی زحمت نہیں کی، جبکہ طالبان نے بھی گزشتہ بیس سالوں میں ان علاقوں میں اثر و رسوخ حاصل کرکے بہت سے ناراض قبائلی رہنماؤں کو اور کچھ مذہبی شدت پسندوں کو اپنے ساتھ ملایا تھا جنہوں نے طالبان کے لئے راہ ہموار کی، جبکہ ڈیڑھ ماہ قبل ایک آرٹیکل میں قطر منصوبے کے متعلق لکھا تھا کہ بہت سے قبائلی اور سیاسی رہنماؤں کو رشوت دے کر خریدا گیا تھا، جس کی امراللہ صالح نے گالیوں بھرے ایک ٹیلی فون کال میں بھی تصدیق کی۔
حاصل گفتگو یہ ہے کہ افغاستان میں جنگ و جدل کا ایک پہلو نہیں، امریکہ، روس، چین، برطانیہ، ایران، پاکستان اور بھارت کی مداخلت اپنی جگہ مگر افغانستان میں قبائلی جھگڑے کون ختم کرے؟
افغان حکومت زیادہ تر پشتون علاقے طالبان کے حوالے کرکے باقی اُزبک، تاجک اور ہزارہ پر حکومت کرنا چاہتے ہیں تو یہ کسی کو بھی قبول نہیں ہوگا، ٹولو نیوز کے مطابق کل ہی صوبہ کنڑ کے ضلع نرئیی کو افغان سیکیوریٹی فورسز نے طالبان کے حوالے کرکے علاقہ چھوڑ دیا ہے۔
افغانستان کا ایلیٹ کابل میں بیٹھ کر بیس سال تک امریکی اور دیگر غیر ملکی امداد آپس میں بانٹتے رہے، جبکہ دیگر علاقے مکمل نظر انداز کئے گئے! اب ان علاقوں کے عوام اشرف غنی کے ساتھ کیوں کھڑے ہوجائیں؟
افغانستان میں موجود سب اقوام جو نظر انداز ہوئے ہیں سب خاموش ہیں اور اپنے گھروں اور علاقوں کے دفاع کے علاوہ ریاست کے بچاؤ میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے! ان کو پتہ ہے کہ ریاست ان کے ساتھ پھر وہی کرے گی جو علیپور ہزارہ کے ساتھ کیا گیا!!!

الغرض افغانستان میں قبائلی، نسلی، نظریاتی اختلافات ، مادی/مالی فوائد ، ذاتی دشمنی، پسند ناپسند اور دیگر کئی وجوہات کی بنا پر ایک ہی قبیلے کے رہنما دو مخالف کیمپوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں، اور یہ سینکڑوں سال سے روش رہی ہے۔افغان تنازعہ صرف نسلی، یا قبائلی دشمنی کی نظر سے دیکھنا بھی درست نہیں، بلکہ حماقت ہے، جو اکثر مغربی یا مشرقی صحافی و تجزیہ نگار سمجھتے ہیں۔ افغانی قبائلی طور پر منقسم تھے ، ہیں اور رہیں گے، لیکن پچھلی دو دہائیوں کے دوران مغرب کی افغان مہم جوئی ناکام ہونے کی وجہ صرف قدیم قبائلی تنازعات نہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ افغانوں میں فوجی قبضے غیر مقبول رہے ہیں، چاہے برطانیہ کا قبضہ ہو، روس ہو یا اب امریکہ، افغان عوام نے ڈٹ کر سب کا مقابلہ کیا ہے۔
مگر افغان رہنما پھر بھی اسی مغرب پر منحصر ہیں، پاکستان اور بھارت کے محتاج بھی نظر آتے ہیں، جن کو وہ پانچ وقت نمازوں میں اور صبح دوپہر شام بددعائیں دیتے تھکتے نہیں۔ طالبان نے لگ بھگ پانچ سال افغانستان پر حکومت کی، مگر میرا نہیں خیال کہ انہوں نے کوئی پرائمری سکول بھی بنایا ہو، ہسپتال، کالج یونیورسٹی تو دور کی بات، سائنس و ٹیکنالوجی کا نام لینا بھی حرام تھا اور افغانستان خواتین کے لئے قبرستان سے کم نہیں تھا، مگر یہ الگ بات ہے کہ اوریا مقبول جان، انصارعباسی جیسے قبیل کے داعشور مین سٹریم میڈیا میں طالبان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں، جس پر پاکستان کی ریاست کو نوٹس لینا چاہیے۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے واضح اعلان کیا ہے کہ پاکستان افغان مسئلے کا کوئی فریق نہیں، افغان ہمارے بھائی ہیں، آپس میں بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے جو بھی حکومت قائم ہوئی اس کی حمایت کی جائے گی، یہی امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی کہا ہے۔
مگر اشرف غنی، امراللہ صالح اور حمدواللہ محب جیسے افغان سیاستدان سمجھتے ہیں کہ طالبان کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے، جو اوپر بتائے گئے مضمون اور زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے دوسرے پڑوسی یہ ضرور چاہیں گے کہ کابل میں ان کی دشمن حکومت قائم نہ ہو، اگر بھارت نواز حکومت قائم ہوتی ہے تو پاکستان کے قبائلی اضلاع اور بلوچستان پر اس کے اثرات ضرور پڑیں گے! مگر افغانستان کو ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کرنی چاہئے جو افغان امنگوں کا ترجمان ہو، اگر ایسا ہوتا ہے تو پچاس لاکھ افغان گزشتہ چالیس سے پاکستان میں زندگی گزار رہے ہیں، تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور تجارت کررہے ہیں وہ کھبی پاکستان مخالف نہیں ہوسکتے۔
اگر افغان جہاد کا ملبہ صرف پاکستان پر ڈالا جارہا ہے تو یہ افغان رہنماؤں کی سنگین غلطی ہے، افغان جہادی رہنما امریکہ کے دورے کرتے رہے اور امریکہ سے مدد کی درخواستیں کرتے رہے، پاکستان میں جنرل ضیاالحق نے اپنی ناجائز حکومرانی کو طول دینے کے لئے نام نہاد افغان جہاد کا نعرہ بلند کیا، مگر وہ پالیسی اب دفن ہوچکی ہے، پاکستان مزید کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا تہیہ کرچکے ہیں۔
مگر افغان طالبان رہنماؤں اور صدر اشرف غنی کو بھی چاہئے کہ اسلام آباد، تاشقند، تہران، واشنگٹن، ماسکو، لندن اور برلن کی طرف ضرور دیکھیں مگر جرگے کابل میں کریں، کابل میں لویہ جرگہ بلائیں، طالبان امیت تمام اقوام اور قبائل آپس میں بیٹھ کر بات چیت کریں، متفقہ آئین بنائیں جو طالبان سمیت تمام اقوام اور قبائل کے لئے قابل قبول ہو، اگر افغانستان کو بطور ملک اور ریاست متحدہ دیکھنا ہے، ورنہ تین سو سال سے جاری قبائلی اور نسلی سمیت دیگر لڑائی کھبی نہیں ختم ہوگی۔

افغان جہادی رہنما امریکہ کے دورے کرتے رہے اور امریکہ سے مدد کی درخواستیں کرتے رہے

اصل حقیقت یہ ہے کہ افغاستان کے حالات پر تجزیہ کرنا نہایت مشکل ہے کیونکہ اس جنگ اتنے پہلو اور اتنی جہتیں ہیں جن کے متعلق پیشین گوئی کرنا ناممکن ہوجاتا ہے، مگر اس پر سب متفق ہیں کہ افغانستان میں جنگ بندی نہیں ہوئی اور فریقین آپس میں بیٹھ کر مزاکرات کے ذریعے حل نہیں نکالتے تو مسئلہ دن بدن مزید بگڑتا اور پیچیدہ تر ہوتا جارہا ہے، حالات تو ابھی بھی اس قابل ہیں کہ مکمل خانہ جنگی روکی جا سکتی ہے لیکن خانہ جنگی تو شروع ہوچکی ہے، گھر گلیاں اور کھیت کلیان تو ویران ہوچکے ہیں اور لوگ بھی مررہے، بےگھر ہورہے ہیں، مگر بڑے شہروں کے لوگ اس آس میں بیٹھے ہیں کہ امریکہ نے طالبان کے خلاف فضائی حملوں کا وعدہ کیا ہے اور افغان افواج بھی حرکت میں آئی ہیں، جس نے کئی علاقے طالبان سے واپس بھی لئے ہیں، مگر جس طرح بامیان میں نیا گونر تعینات کرکے انہوں طالبان کے خلاف بھرپور ایکشن کیا اور دو اضلاع واپس لئے اسی طرح اشرف غنی صاحب کو چاہئے کہ تازہ دم اور متحرک اہلکار تعینات کرکے طالبان کی پیش قدمی روکیں، اگر ایک دفعہ لڑائی بڑے شہروں تک پہنچی تو راتوں رات وفاداری کے تبدیلیوں سے مرکزی حکومت کابل تک محدود ہوسکتی ہے۔


احمدطوری#