خطے میں بسنے والے یزیدی سن لیں کہ کربلائے عصر کا میدان حسینیوں سے خالی نہیں ہے ، علامہ ناصر عباس جعفری (باتصویر)

Via Scoop.itparachinarvoice

وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ پورے خطے میں بسنے والے یزیدی سن لیں کہ کربلائے عصر کا میدان حسینیوں سے خالی نہیں ہے،ہم خون کے آخری قطرے تک ثابت قدم رہ کر سرزمین پر یزیدان عصر کا تعاقب جاری رکھیں گے ، کربلا ہماری میراث اور قرآن و اہلبیت ہماری پناہ گاہ ہیں، انہوں نے ان خیالات کا اظہار نشتر پارک کراچی میں منعقدہ قرآن و اہلبیت کانفرنس کی دوسری نسشت میں اپنے اختتامی خطاب کے دوران کیا ،انہوں نے کہا کہ اللہ کے نبیۖ نے کہا تھا

کہ قرآن و اہلبیت کا دامن تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، قرآن و اہلبیت ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے، جو قرآن کے درجات و مناقب ہیں وہی اہلبیت کے ہیں ، جو قرآن کی صفات ہیں وہی اہلبیت کی ہیں جس طرح قرآن حاکم ہے ، محکوم نہیں ، غالب ہے مغلوب نہیں اسے طرح اہلبیت حاکم ہیں محکوم نہیں ، غالب ہیں مغلوب نہیں ، آل محمدۖ کی محبت انسان کو کامل بناتی ہے اور دنیاوی نظاموں سے نجات کا نام سفینہ آل محمدۖ ہے، جس طرح امامت کا نعم البدل خلافت و ملوکیت نہیں اسی طرح امام عادل کی قیادت کا متبادل بھی کوئی دنیاوی نظام نہیں بلکہ فقیہہ عادل کی حکومت ہے ، سیکولر اور کمیونسٹ سیاسی جماعتوں کا رکن بننے اور ان کے ناز اٹھانے سے امام زمانہ راضی نہیں ہوتے، ہم خون دیتے آئے ہیں اور دیتے رہیں گے لیکن کسی یزید کے سامنے نہیں جھکیں گے ، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا ہم نظام ولایت کا عادلانہ نظام چاہتے ہیں ۔ موجودہ سیاسی نظاموں نے ہمارے حقوق پامال کیے ، آج تک کسی سیاستدان نے ہمارے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کی ، پاکستان میں بریلوی بھائیوں کے بعد سب سے بڑی اکثریت علی کے ماننے والوں کی ہے ، جب تک ہم منظم اور متحد نہیں ہوں گے، مادر وطن سے ظلم ختم نہیں ہو گا اب ہم اپنے حقوق پامال نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ لبنان میں علی کے پیروکاروں نے اپنی سیاسی طاقت سے امریکہ ، اسرائیل اور ان کے عرب مزدوروں کو شکست دی ، انشاء اللہ پاکستان کی سرزمین پر بھی ہم ایک بڑی سیاسی طاقت بن کر انہیں شکست سے دوچار کریں گے ، اب علی کے ماننے والوں کے حقوق کی پامالی کا زمانہ بیت چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ بیداری کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ، ہم ملک و قوم کے تمام طبقات سے رابطے کر رہے ہیں انشاء اللہ یکم جولائی کو مینار پاکستان لاہور میں شہید قائد کی قرآن و سنت کانفرنس کی یادیں تازہ کر دیں گے ، بیداری کے اس سلسلہ کو آگے بڑھانا ہمار نصب العین ہے اس ضمن میں مظلوموں کو وحدت کی لڑی میں پرو کر طاقتور بنائیں گے اور اسی طاقت سے ظالموں کو ملک سے نکال باہر کریں گے ، آج کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کو آزادی مل گئی ، لیکن حقیقتاً عدلیہ آزاد نہیں ہوئی بلکہ آج بھی مظلوم اور محکوم ہے ، بے گناہوں کو پکڑ کر شیعہ اورسنی بھائیوں کے قاتلوں کو آزاد کیا جا رہا ہے، عدلیہ کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے ، ہمارے قاتلوں کو مسلح کیا جا رہا ہے اور عدلیہ خاموش ہے ، لیکن سن لو کہ علی کے ماننے والوں کو کبھی بھی دیوار لے ساتھ نہیں لگایا جا سکتا ، انہوں نے کہا کہ اب ہمیں ان یزیدیوں کو نیچا دکھانے کے لیے اپنے گھروں سے باہر نکلنا ہو گا ، جہاں بھی کسی بے گناہ کا خون گرتا ہے تو اس میں امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہوتا ہے ، امریکہ اور اسرائیل ہمارے قاتل ہیںانہیں ہمارے ملک میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اس لیے پاکستان میں امریکی دہشت گردوں کے مشن کو کم کیا جائے ، عوام امریکہ سے نفرت کرتے ہیں ، علی کے ماننے والوں نے جس طرح ایران ، لبنان اور عراق کی سرزمین سے امریکہ کو بھگایا اسی طرح پاکستان کی سرزمین سے بھی اسے بھاگنے پر مجبور کر دیں گے ، اس کے لیے ہمیں تین مرحلوں میں کام کرنا ہو گا ، ہماری تحریک کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ قوم کو منظم کیا جائے مولا علی نے بستر شہادت پر وصیت کی تھی کہ اے میرے شیعو منظم ہونا منتشر نہ ہونا ، تمہارا دشمن بہت کمینہ ہے ، ہم نے علمائے کرام ، ذاکرین ، شعراء ، ماتمیوں ، ڈاکٹروں ، اور وکلاء سمیت ہر طبقہ فکر کے افراد کو منظم کرنے کی تحریک شروع کر دی ہے ، دوسری بات وحدت ہے ، میں اس پلیٹ فارم سے مکتب تشیع کی تمام جماعتوں ، علمائے کرام کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اکٹھے ہو کر یزیدیوں کے مقابلے میں کھڑے ہو جائیں۔ ہمارا راستہ ، ہماری آرزویں اور ہماری امنگیں ایک ہیں ہم اکٹھے ہوں گے اور ایک طاقتور قوم بن کر رہیں گے اس لیے علماء ، خطباء ، ذاکرین اور خواتین سب مل کر وحدت کے کام کریں اور اگرکہیں کوئی تفرقہ کی بات کرے تو اسے روک دیں، تیسری بات یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت میں میدان میں رہنا ہے ، یہ سال میدان میں حاضر رہنے کا سال ہے ، انشاء اللہ ہم قلندر کی سرزمیں سیہون شریف میں بھی اجتماع کریں گے ، مینار پاکستان ، کے علاوہ اسلام آباد اور بلوچستان میں بھی اجتماعات ہوں گے، انہوں نے کہا کہ شہید قائد نے مینار پاکستان پر قرآن و سنت کانفرنس میں قوم کوروڈ میپ دیا تھا ہم جولائی میں ملت کو روڈ میپ دیں گے ، قوم کو ایک منشور دیں گے ، ہم تمام پاکستانیوں کے درمیان وحدت چاہتے ہیں ، میں اہل سنت بھائیوں کو بھی وحدت کی دعوت دیاتا ہوں ۔ ہم ہر مظلوم کے ساتھی ہیں خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ہر ظالم کے خلاف ہیںخواہ وہ مسدل؛مان ہی کیوں نہ ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اکٹھے ہو کر امریکی یزیدیت کا ہاتھ کاٹنا ہے ، علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ آج عزاداری کومحدود کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں، عزاداری ہماری شہ رگ حیات ہے ، ایسی ہر سازش ناکام بنائیں گے اور یزیدی نسل یہ آرزو اپنے دل میں ہی لے کر مر جائے گی لیکن عزاداری محدود د نہیں ہو گی ، ہم سب کچھ فدا کر سکتے ہیں لیکن عزاداری کے مسئلہ پر ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ، علمائے کرام اور بالخصوص آغا راحت حسین حسینی خود کو تنہا نہ سمجھیں ۔ مادر وطن کے تمام غیرت مند شیعہ ان کی پشت پر کھڑے ہیں

Via mwmpak.org

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s