راہبر ہی رہزن نکلے، رؤف کلاسرا کا کالم

Via Scoop.itparachinarvoice

جب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اصغر خان کا کیس سماعت کے لیے منظور ہوا ہے میں ہر پیشی پرعدالت ضرور جاتا ہوں اور یہ سوچ کر پہلے سے زیادہ مایوس ہو کر لوٹتا ہوں کہ اس ملک کے ساتھ کیا ہو تا رہا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔ ہر سماعت پر ایک نیا بم شیل ججوں اور صحافیو ں کے سروں پر گرتا ہے۔ جو کچھ چیف جسٹں آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی عدالت میں بتایا جاتا ہے اس کا عشر اشیر بھی لوگوں تک نہیں پہنچ رہا کیونکہ ٹی وی رپورٹرز نے چند ٹکرز دے کر دریا کو کوزے میں بند کرنا ہوتا ہے لہذا وہ محض اس سکینڈل کے چند سنسنی خیز پہلو اٹھا کر رپورٹ کرتے جاتے ہیں اور چند لحموں کے بعد ٹی وی کی سکرین پر سے وہ ٹکرز بھی غائب ہو جاتے ہیں اور پھر سب بھول جاتے ہیں۔
پتہ نہیں کیوں میرا یہ تجویز دینے کو دل چاہ رہ ہے کہ اصغر خاں کیس کی سماعت کی لائیو ٹی وی کوریج کورٹ روم سے کی جائے اور پاکستان کے لوگوں کو براہ راست اپنے گھروں میں بیٹھے پتہ چلے کہ اس ملک کے ساتھ کتنا بڑا ہاتھ کیا گیا تھا اور کرنے والے وہ لوگ تھے جنہوں نے اس ملک کی سرحدوں کے تحفظ کی قسم کھائی تھی لیکن اپنے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے بیٹھ گئے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ مجھے کہا جائے کہ جناب دنیا کی تاریخ میں بھلا کب ہوتا ہے کہ عدالتوں میں ٹی وی کیمرے لگا کر پورے ملک میں براہ راست کسی بھی کیس کو دکھایا جائے۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کی مثالیں دنیا بھر میں موجود ہیں جب عدالتوں نے میڈیا کو اجازت دی کہ وہ براہ راست کسی اہم کیس کی اپنے ٹی وی پر کوریج کریں تاکہ عوام سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔
اس سلسلے میں امریکہ کی مثال دی جا سکتی ہے جب نوے کی دہائی میں وہاں کے ایک مشہور ادکار او جے سمپسن پر اپنی بیوی کو قتل کرنے کا مقدمہ عدالت میں چل رہا تھا۔ سی این این نے اس پورے مقدمے کے سماعت کئی روز تک مسلسل اس وقت تک براہ راست دکھائی جب تک اس کیس کا فیصلہ نہیں ہو گیا۔ اگرچہ او جے سمپسن کو اپنی بیوی کو قتل کرنے کے الزام سے بری کر دیا گیا اور سب نے یہ عدالتی کارروائی لائیو دیکھی لیکن او جے سمپسن بھری عدالت کو اس کیس کی میڈیا کوریج کے باوجود دھوکا دے کر کامیابی سے نکل گیا۔ اس نے بعد میں ایک مصنف سے پیسے لے کر اس کی کتاب میں یہ انکشاف کیا کہ اس نے واقعی اپنی بیوی کو ناجائز تعلقات کے شبہ میں قتل کیا تھا۔ اس اعتراف کے بعد بہت شور مچا تھا اور عدالت نے بھی اس کا نوٹس لیا تھا۔ تاہم یہ ایک اور کہانی ہے۔
اس ساری کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ مہران بنک سکینڈل اور آئی ایس آئی اصغر خان پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم کیس ہے اور ضروری ہے کہ لوگوں کو میڈیا کی بجائے براہ راست اس کے حقائق کا پتہ چلے اور اس کے لیے امریکی عدالت کی مثال پر چلتے ہوئے اس کو براہ راست دکھانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس کیس میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے کیونکہ یونس حبیب کے انکشافات اور جنرل اسلم بیگ اور جنرل درانی کے اعترافات کے بعد اس کیس کی نوعیت بالکل بدل گئی ہے اور اس کا اشارہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی چودہ مارج کو ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران بھی دیا جب انہوں نے جنرل اسد درانی اور یونس حبیب کو یہ مشورہ دیا کہ بہتر ہو گا کہ وہ اپنا اپنا وکیل کر لیں کیونکہ معاملات اب بہت سنجیدہ ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ دونوں کو اندازہ ہونا چاہیے کہ آپ لوگوں نے عدالت میں آکر اعترافات کیے ہیں جنہیں عدالت نظر انداز نہیں کر سکے گی لہذا بہتر ہو گا کہ وہ وکیل کر لیں۔
چیف جسٹس نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ یہ کارروائی کس طرح کا رخ اختیار کر سکتی ہے اور اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ لگتا ہے کہ چیف جسٹس اور یہ کیس سننے والے ساتھی ججوں جسٹں عارف خلجی اور جسٹں طارق پرویز نے اس کیس کی خوفناک تفصیلات سامنے آنے کے بعد کچھ ذہن بنا لیا ہے اس لیے انہوں نے یونس حبیب اور جنرل درانی کو مشورہ دیا کہ بہتر ہو گا کہ وہ اپنے اپنے وکیل کریں۔ جنرل اسلم بیگ پہلے ہی اپنے وکیل اکرم شیخ کے ذریعے پیش ہورہے ہیں جب کہ اصغر خاں کے وکیل سلمان اکرم راجہ ہیں جن کی قابلیت اور اہلیت نے کورٹ روم نمبر ون میں سب کو متاثر کیا ہے کیونکہ اس نوجوان وکیل نے اس کیس پر خاصی محنت کی ہے اور بڑے زبردست دلائل اور دستاویزات کی مدد سے اب تک اپنے کلائنٹ کا کیس لڑا ہے۔
اگرچہ لوگوں کو ابھی تک میڈیا یہ سمجھانے میں ناکام رہا ہے کہ حیبب بنک آئی ایس آئی سکینڈل اور مہران بنک سکینڈل میں کیا فرق ہے اور اس مغالطے کا شکار بڑے بڑے سیاستدان اور جرنیل بھی ہو رہے ہیں کیونکہ سب لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید مہران بنک سے پیسے نکال کر ہی آئی ایس آئی کو چودہ کروڑ روپے دیے گئے تھے جو بعد میں سیاستدانوں میں بانٹے گئے تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ دونوں سکینڈل ایک دوسرے سے مخلتف ہیں اور اس میں دو بنک حبیب اور مہران کو علحیدہ علحیدہ لوٹا گیا اور لوٹنے و الے اور کوئی نہیں اس ملک اور قوم کے راہنما تھے جن نے حلف اٹھائے ہوئے ہیں۔
حبیب بنک سکینڈل اس وقت سامنے آیا تھا جب یونس حبیب نے چودہ کروڑ روپے نکال کر جنرل اسلم بیگ کو دیے تھے جو کہ ان سیاستدانوں میں بانٹے گئے تھے جو کہ انیس سو نوے میں بے نظیر بھٹو کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کے تحت الیکشن لڑ رہے تھے۔ ان سیاستدانوں میں نواز شریف بھی شامل تھے جنہوں نے 35 لاکھ روپے آئی ایس آئی سے لیے تھے۔ پیرپگاڑہ ، محمد خان جونیجو، جام صادق جیسے سیاستدان بھی شامل تھے۔ ان چودہ کروڑ میں سے چھ کروڑ روپے سیاستدانوں میں بانٹے گئے تھے جب کہ باقی کے آٹھ کروڑ روپے آئی ایس آئی کے ایک خفیہ فنڈ میں رکھ دیے گئے تھے۔ ان آٹھ کروڑ روپوں کا کسی کو کوئی پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں گئے سب اس وقت چھ کروڑ کا رونا رو رہے ہیں جو سیاستدانوں میں بانٹا گیا تھا۔
اس طرح مہران بنک سکینڈل چار سال بعد اس وقت سامنے آیا جب یہ پتہ چلتا کہ یونس حبیب نے بہت سارے سیاستدانوں کو نواز شریف حکومت میں کروڑوں روپے مہران بنک نے دیے تھے۔ یونس حبیب نے عدالت کے سامنے یہ لکھ کر دیا ہے کہ اس سے بیس کروڑ روپے جام صادق نے مہران بنک کا لائسنس دلوانے کے لیے لیے تھے جب کہ ایف ائی اے کی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی انکوائری رپورٹ کہتی ہے کہ نواز شریف کی ملوں کو بھی مہران بنک سے بیس کروڑ روپے کا قرضہ دیا گیا تھا جو کبھی واپس نہیں ہونا تھا۔ ایف آئی اے کی سپریم کورٹ مٰیں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق یہ بیس کروڑ روپے رشوت تھی جو کہ نواز شریف کو وزیراعظم کے طور پر یونس حبیب نے پیش کی تھی۔
یونس حبیب نے پیپلز پارٹی کو بھی مہران بنک سے بھاری رقومات دینے کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے پیپلز پارٹی کے ٹاپ لوگوں کو اس طرح کروڑوں روپے دیے تھے جیسے کہ نواز شریف اور جنرل اسلم بیگ اور جنرل درانی کو دیے تھے۔ یونس حبیب کا کہنا تھا کہ اس نے پیپلز پارٹی کے راہنماء آفتاب شیر پاؤ کو وزیراعلیٰ بنوانے کے لیے کروڑوں کی ادائیگی کی اور اس کے علاوہ بھی انہوں نے دیگر لیڈروں کو بھاری رقومات دیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے انیس سو ترانوے میں مولویوں میں بھی پیسے بانٹے تاکہ وہ آزاد الیکشن لڑیں اور اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو اور یہی کچھ ہوا۔
یونس حبیب نے اپنے حمام میں سب کو ننگا کر کے کھڑا کر دیا ہے۔ اس حمام میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز جنرلز سے لے کر سیاستدانوں اور مولویوں تک سب نے غسل فرمایا ہے اور اپنی اوقات کے مطابق کسی نے کم تو کسی نے زیادہ مال کمایا ہے۔ یونس حبیب نے ہر کسی کو اتنے نوٹ دیے جتنی ان کی اوقات تھی، کسی کو سندھ کے سابق وزیراعلی لیاقت جتوئی کی طرح ایک لاکھ تو کسی کو اسلم بیگ کی طرح چودہ کروڑ اور نواز شریف بیس کروڑ۔ ان سب نے مل کر اپنی اوقات قوم کو دکھا دی کہ راہبر ہی راہزن نکلے چاہے وہ وردی میں تھے یا سویلین کپڑوں میں !!
بشکریہ اخبار جہاں، کراچی

Via topstoryonline.com

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s