موسیٰ گیلانی کی ’کرپشن‘ پر رؤف کلاسرا کا تبصرہ Top Story Online| topstoryonline.com Top Story Online

Via Scoop.itparachinarvoice

موسیٰ گیلانی کی ’کرپشن‘ پر رؤف کلاسرا کا تبصرہ
Published on 11. Apr, 2012

موسی گیلانی دس اپریل دو ہزار بارہ کو پورے چھبیس سال کے ہوئے اور ساتھ ہی وہ ’کرپشن کنگ‘ کے لقب کے حقدار ٹھہرے اور اسی دن ہی سپریم کورٹ آف پاکستان نے انہیں کرپشن الزامات پر طلب بھی کر لیا ۔ اب مجھے نہیں پتہ کہ یوسف رضا گیلانی اور ان کی بیگم نے جنوبی افریقہ میں ہنی مون کے لیے گئے اپنے اس بیٹے کو فون کر کے سالگرہ پر مبارکباد دی یا افسوس کا اظہار کیا یا پھر گیلانی کو اپنے اس ہونہار بیٹے پر فخر محسوس ہوا کہ جو وہ نہیں کر پائے اب ان کا بیٹا کر رہا ہے۔ گیلانی صاحب تو پچاس سال ہونے کے بعد جیل گئے تھے جب کہ ان کا ہونہار بیٹا چھبیس سال کی عمر میں جیل جانے کی تیار ی کر چکا ہے۔ شاید گیلانی صاحب کے اندر ایک باپ اس بات پر بہت خوش ہوگا کہ وہ خود جیل سے نکلے تو وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور اب دیکھیں ان کا بیٹا جیل سے نکلے گا تو کہاں پہنچے گا؟
کیا یہ بھی ممکن ہے کہ گیلانی صاحب اور ان کی بیگم کی آنکھوں میں کہیں چند قطرے آنسو بہہ نکلے ہوں کہ جس دن ان کا یہ بیٹا پیدا ہوا تھا اس دن ہی اسے عدالت نے کرپشن کے الزامات پر بلا لیا تھا ؟ شاید، نہیں !
آپ حیران ہوں گے کہ مجھے موسیٰ گیلانی کی تاریخ پیدائش کیسے یاد رہ گئی تھی؟ اس کے پیچھے ایک چھوٹی سی کہانی ہے۔ آج سے چھ سال قبل موسیٰ گیلانی سے میری پہلی ملاقات اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی جب اس کی مسیں بھیگ رہی تھیں۔ وہ اپنے تین دیگر بھائیوں کے ساتھ جیل میں باپ سے ملنے آیا ہوا تھا۔ گیلانی صاحب نے ہم عمر تین بچوں کی طرف اشارہ کر کے کہا میرے یہ تنیوں بیٹے ایک تاریخی دن پیدا ہوئے تھے۔ وہ بولے یہ اس دن پیدا ہوئے جس دن دس اپریل 1986 کو بے نظیر بھٹو پاکستان لوٹیں اور لاکھوں کا مجمع انہیں لینے کے لیے لاہور ائرپورٹ امڈ پڑا تھا۔
یوسف رضا گیلانی اس وقت جنرل ضیاء کے دور میں محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر تھے( شاید انہوں نے کبھی نہ سوچا ہو کہ ایک دن یہی بے نظیر قتل ہوں گی اور وہ ان کی جگہ وزیراعظم بنیں گے یا ہو سکتا ہے وہ مسلم لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے متعلق پلاننگ کر رہے ہوں) کہ انہیں اطلاع ملی کہ ان کے ہاں تین بیٹے پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے دس اپریل کے دن تین اکھٹے پیدا ہونے والے بیٹوں کا نام موسیٰ، قاسم اور حیدر رکھا ۔ چوتھے بیٹے عبدالقادر گیلانی سب سے بڑے تھے۔ گیلانی صاحب نے دس اپریل 1986کو کب سوچاتھا کہ ایک دن ان تین بیٹوں میں سے ایک کو چھبسیویں سالگرہ پر کرپشن پر عدالت میں پیش ہونے کے لیے کہا جائے گا اور وہ اس کی سالگرہ کا کیک کاٹنے کی بجائے وکیلوں کے ساتھ بیٹھ کر اسے بچانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہونگے اور ہر ٹی وی چینل پر اس کی کہانیاں چل رہی ہوں گی۔
تو پھر گیلانی سے کہاں غلطی ہوئی ؟
جب میں نے موسیٰ گیلانی کو سپریم کورٹ کا نوٹس ملنے کی خبر سنی تو مجھے قطعاً حیرت نہیں ہوئی کیونکہ میں نے گیلانی صاحب کو جولائی دو ہزار آٹھ میں ہی بتا دیا تھا کہ وہ اپنے اس بیٹے موسیٰ کو اپنی حکومت کے معاملات سے دور رکھیں ۔ ( ریفرنس کے لیے آپ میری کتاب ایک سیاست ، کئی کہانیاں کا وہ باب پڑھ سکتے ہیں جو میں نے گیلانی صاحب پر لکھا ہے۔ یہ کتاب اکتوبر دو ہزار دس میں چھپی تھی)۔
اگرچہ میری عادت رہی ہے کہ میں سیاستدانوں کو ہرگز مشورے نہیں دیتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ صحافی کا کام نہیں ہے کہ وہ سیاستدانوں کے مشیر بنے رہیں۔ جب دو ہزار سات میں، میں لندن سے رپورٹنگ کر رہا تھا تو نواز شریف صاحب نے بڑی کوشش کی کہ دوسرے صحافیوں کی طرح میں بھی انہیں مشورے دیا کروں لیکن ہر دفعہ معذرت کر لی کہ یہ میرا کام نہیں ہے۔ لیکن پتہ نہیں کیوں میں نے اپنی زندگی میں اپنی اس روایت کو خود توڑا اور گیلانی صاحب کو ایک دن یہ مشورہ دے بیٹھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ میری بات سن کر شاید برا بھی منائیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب گیلانی صاحب کو ابھی وزیراعظم بنے صرف چار ماہ ہوئے تھے اور میں نے محسوس کر لیا تھا کہ گیلانی صاحب کے صاحبزادوں کی حرکات آنے والے دنوں میں ان کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی تھیں۔ گیلانی صاحب نے میری بات غور سے سنی اور پھر بولے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔
میں نے کہا گیلانی صاحب آپ کے اس بیٹے موسیٰ کی عمر ابھی بہت چھوٹی ہے اور آپ اسے جس طرح کا ایکسپوزر دے رہے ہیں وہ اس کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ دشمنی کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا جیسے انہیں میری بات کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ انہوں نے کہ کھل کر بات کرو۔
میں نے کہا گیلانی صاحب آپ نے ساری عمر وزیراعظم نہیں رہنا اور آپ کا بیٹا ا اگر ابھی سے آپ کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا رہاتو وہ پڑھ نہیں سکے گا اور جب آپ وزیراعظم ہاؤس سے باہر آئیں گے تو یہ زندگی میں کبھی نارمل طریقے سے نہیں رہ سکے گا اور اسے موجودہ ایکسپوزر کچھ نہیں کرنے دے گا۔ فیڈرل سیکرٹریز اور وزراء اسے آپ کا بیٹا سمجھ کر ٹریٹ کرتے ہیں اور یہ بات اس کا دماغ خراب کر دے گی۔ کرپٹ پارٹیاں اور لوگ اس سے رابطہ کر کے پیسے آفر کرینگی کہ فلاں کام کرا دو تو اتنے پیسے ملیں گے۔ یہ بچہ ہے اور ان آفرز کو شاید نہ ٹھکرا سکے۔ آپ کے علم میں آئے بغیر بھی یہ ان افسروں سے کام کرا لے گا۔ میں نے کہا مجھے ایک اور بھی خطرہ ہے کہ کل کلاں کو آپ کو خود جیل جانا پڑا تو اپ کے لیے یہ بات تکلیف کا باعث نہیں ہوگئی لیکن اگر آپ کا کوئی بیٹا آپ کی نظروں کے سامنے جیل چلا گیا تو باپ کی حیثیت سے انہیں اذیت ہوگی۔ لہذا بہتر ہوگا کہ آپ اپنے بچوں اور رشتہ داروں کو اپنی حکومت سے دور رکھیں۔
گیلانی صاحب چپ رہے اور پھر کہا کہ ’تو پھر مجھے کیا کرنا چاہیے۔ ‘
میں نے کہا کہ آپ موسیٰ کو کہیں کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے اور سیاست اور آپ سے دور رہے۔ گیلانی صاحب پھر خاموش ہوگئے اور میں سمجھ گیا کہ انہیں میری یہ گستاخی پسند نہیں آئی تھی۔
تاہم انہوں نے اسے مثبت انداز میں لیا جب کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ گیلانی صاحب نے موسیٰ کو لندن پڑھنے کے لیے بھیج دیا ہے اور انہوں نے اپنے ملنے والوں کو کہا کہ یہ کام انہوں نے رؤف کے مشورے پر کیا تھا۔ تاہم دو سال بعد موسیٰ لندن سے لوٹا تو وہ موسیٰ نہیں تھا جو پاکستان سے گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گیلانی صاحب کے چار بیٹوں میں سے سیاسی طور پر موسیٰ سب سے سمجھدار ہے اور اس بات کا احساس گیلانی صاحب کو بھی ہے لہذا انہوں نے اپنے بڑے بیٹے عبدالقادر گیلانی کی بجائے موسیٰ کو اپنے قریب رکھا۔ پنجاب کی سیاست کے لیے بڑے بیٹے قادر کا انتخاب کیا تو مرکز کی سیاست کے لیے ان کی نگاہ انتخاب موسیٰ پر پڑی۔ جب کہ ان کے دوسرے دو بیٹوں قاسم اور حیدر کبھی اس چکر میں نہیں پائے گئے اور شاید پاکستانی میڈیا ان کا نام تک نہ جانتا ہو۔ یوں پہلے قادر کی کہانیاں مشہور ہوئیں تو اب موسیٰ کا نام سامنے آ گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ گیلانی صاحب اور ان کے بچوں کو کرپشن میں نام کمانے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا ان کے لیے یہ بات کافی نہیں تھی کہ خدا نے اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں میں سے ان کے باپ کو وزیراعظم بنایا تھا اور خدا کو ان کے باپ کو وزیراعظم بنانے کے لیے کسی اور کو نہیں بے نظیر بھٹو کو منظر سے ہٹانا پڑ گیا تھا؟ میں جب گیلانی صاحب حکومت کی کرپشن کی کہانیاں لکھتا یا سنتا ہوں تو اپنے آپ سے ضرور پوچھتا ہوں کہ گیلانی صاحب کو وزیراعظم بننے کے بعد کیا کرنا چاہیے تھا؟
ایک راستہ یہ تھا کہ وہ خدا کا شکر ادا کرتے کہ کچھ دن پہلے وہ اڈیالہ جیل بیٹھے تھے اور بچوں کے پاس اپنے سکول کی فیس دینے کے لیے پیسے تک نہیں تھے اور انہیں گھر کا خرچہ چلانے کے اپنی گھڑی تک بیچنی پڑ گئی تھی۔ آج خدا نے انہیں صبر کا پھل دیا تھا اور انہیں ملک کا سربراہ بنا دیا تھا۔ وہ ایمانداری سے ملک پر حکومت کرتے اور نام پیدا کر جاتے۔
دوسرا راستہ یہ تھا کہ گیلانی صاحب اور ان کے بچوں کوجیل میں رہنے اور گھر کے برے مالی حالات کا بدلہ اس طرح لینا چاہیے تھا جیسے ان سب نے مل کر لیا ؟ یا پھر گیلانی صاحب یہ جانتے تھے کہ پاکستان میں کرپشن کوئی ایشو نہیں ہے اور ہر سیاستدان نے کرپشن کی ہے چاہے کوئی بھی ہو۔ اس لیے انہوں نے بھی کرلی تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ پاکستان میں ووٹ کرپٹ اور ایمانداری کی بنیاد پر نہیں دیے جاتے۔ اگر لوگوں کا یہ اصول ہوتا تو اج اس ملک پر شریف اور زرداری حکومت نہ کر رہے ہوتے۔
پھر سوچتا ہوں کہ کہیں گیلانی صاحب کے ذہن میں یہ بات تو نہیں بیٹھ گئی تھی کہ انہیں پانچ سال بغیر کسی قصور کے جیل میں جنرل مشرف نے رکھا اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے غریبوں کو نوکریاں دی تھیں۔ کیا نوکریاں دینا جرم تھا ؟ کیا انہوں نے نوکریاں بیچی تھیں ؟ اگر وہ سرائیکی علاقوں کے لوگوں کو نوکریاں نہیں دیتے تو یہی میڈیا طعنے دیتا ہے کہ سرائیکی جاگیردار اپنے لوگوں کی پسماندگی کے ذمہ دار ہیں اور جب انہوں نے کچھ نوکریاں دیٰں تو جیل میں ڈال دیئے گئے۔ انہوں نے سرائیکی علاقوں میں وزیراعظم بننے کے بعد کام کرانے شروع کیے تو بھی ان کے خلاف خبریں لگیں کہ وہ صرف اپنے علاقوں میں ترقی کرا رہے ہیں۔
انہیں جیل جانے کا کیا صلا ملا ؟ جنرل مشرف کے خلاف مزاحمت پر کیا حاصل ہوا؟ جب بچے جوان ہو رہے تھے اور انہیں باپ کی ضرورت تھی تو وہ ان سے دور جیل میں راتیں گزار رہے تھے۔ ان کے بچوں کے پاس فیس تک نہیں تھی ؟ ملتان میں واقع اپنے گھر کا ایک پورشن بیچ کر اپنے انتخابی خرچے پورے کیے ۔ جیل کے دنوں میں میں ہی ماں اور بہن کی موت ہو گئی جب انہیں پتہ چلا کہ گیلانی جیل میں تھے کیونکہ ان سے یہ خبر چھپائی گئی تھی کہ وہ گرفتار ہو کر پنڈی جیل میں تھے ؟
ان حالات میں جب گیلانی وزیراعظم بنے تو وہ ایسے کام بھی کر سکتے تھے کہ ان کے دوست ان پر فخر کرتے ۔ بدقسمتی سے انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ اس معاشرے اور ملک سے انتقام لینے کی راہ پر نکل گئے۔ انہوں نے سوچا کہ اگر کچھ نہ کر کے بھی پانچ سال جیل گزار لی تو کچھ کر کے جیل میں جانا پڑا تو بھی سودا برا نہیں ہے۔ اب اتنا کما لیا جائے کہ پیچھے کوئی بھوکا نہ رہے اور آنیوالی سات نسلوں کی سکول فیس کا بندوبست ابھی سے کیا جائے کیونکہ وہ پہلی اور آخری بار وزیراعظم بنیں ہیں کیونکہ اگلی دفعہ وہ نہیں بلکہ بلاول زرداری بنیں گے۔
ان کے اندر موجود اپنے آپ کو مالی طور پر غیر محفوظ ہونے کے خیالات اور انتقام کی خواہش نے انہیں مجبور کیا کہ وہ نہ صرف اپنے ہاتھ گندے کریں بلکہ اپنے بچوں کو بھی اسی راستے پر لگا لیں جس کا نتیجہ وہی نکلا ہے جو ان کاموں کا نکلا کرتا ہے۔ میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ بھلا کیسے ایک باپ اپنے بیٹے کو بلا کرکرپشن کرنے کے طریقے بتا سکتا ہے یا اسے کہہ سکتا ہے کہ میری جان جاؤ اور لوٹ لو جس کو لوٹنا ہے، میں بیٹھا ہوں، سنھبال لوں گا۔
پاکستان میں رہتے ہوئے مجھے یہ مایوسی ایک دفعہ نہیں ، کئی دفعہ ہوئی ہے۔
پہلی اذیت اس وقت ہوئی جب پرویز الہی وزیراعلی تھے اور مونس الہی کی کرپشن کہانیاں سامنے آنا شروع ہوئیں۔ سوچتا تھا کہ بھلا کیسے پرویز الہی اپنے بیٹے کو یہ سب پٹیاں پڑھا سکتا ہے کہ بیٹا سب کچھ لوٹ لو۔ یہ تمہارا ہے۔ شہباز شریف کے وزیراعلی بننے کے بعد حمزہ شہباز کی کہانیاں سنیں تو پھر حیران ہوا کہ بھلا کیسے ایک باپ اپنے بیٹے کو مال کمانے کی ترکیبں بتا سکتا ہے۔ یونس حیبب کے منہ سے سنا کہ اس نے نواز شریف کو لاہور میں نقدی دی تو انہوں نے اپنے بیٹے کو بلا کر کہا کہ بیٹا انکل یونس سے پیسوں سے بھرا ہوا بیگ اندر لے جاؤ اور اب موسی گیلانی !!
کیا ہمارے سیاستدانوں نے ہماری نئی نسلوں پر حکمرانی کرنے کے لیے اس قسم کی کرپٹ نسلیں پیدا کی ہیں ؟ ؟ وہ خود تو کرپٹ تھے تو کیا ضروری تھا کہ اپنی اولادیں کو بھی اپنے ہاتھوں سے خود کرپٹ کرتے ؟ کیا انہیں اپنے بچوں پر فخر کرنے کے لیے کوئی اور کام نہیں سوجھا تھا؟
مونس الہی سے حمزہ شہباز اور اب موسی گیلانی تک ہمارے سیاسی کلچر کی بدعنوانیوں کی یہ وہ مکروہ داستان ہے جس لکھتے ہوئے میرا اپنا دل بہت دکھی اور افسردہ ہے کہ یہ کون لوگ ہیں، جنہوں نے خدا کی طرف سے دی گئی عزت کو چھوڑ کر اپنے لیے ذلت کا انتخاب کیا!

Via topstoryonline.com

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s