اسامہ کے بعد حافظ سعید کا بوجھ: رؤف کلاسرا کا کالم

Via Scoop.itparachinarvoice

اسامہ کے بعد حافظ سعید کا بوجھ: رؤف کلاسرا کا کالم

پاکستانیوں اور بھارتیوں کی ایک دوسرے سے نفرت اور محبت کی داستان بھی عجیب ہے۔ نفرت کی کہانیاں تو ہمیں بہت یاد ہیں لیکن محبت کی کہانیاں ہم یاد نہیں رکھنا چاہتے کیونکہ دونوں ممالک کے کچھ لوگوں نے یہ بات اپنے ذہن میں بٹھالی ہے کہ وہ ڈیرھ ارب کی آبادی کے اس خطے کو نفرت کی بنیاد پر ترقی نہیں کرنے دیں گے اور یوں دونوں اطراف میں ایسی قوتیں موجود ہیں جو ان دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب نہیں آنے دیتیں۔ میرا خیال تھا کہ ہمارا میڈیا حب الوطنی کے نام پر بھارت کے معاملے میں ڈنڈی مارتا ہے لیکن بھارتی میڈیا بھی اس سلسلے میں کچھ کم نہیں ہے۔
اس کا اندازہ مجھے پچھلے دنوں اس وقت ہوا جب میں ڈش ٹی وی پر بھارتی لوک سبھا کے اپنے ٹی وی چینل پر ایک پروگرام دیکھ رہا تھا۔ اس پروگرام کے میزبان کا یہی موضوع تھا کہ ہندوستانی میڈیا کیوں ہر وقت پاکستان کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور اگر اسلام آباد کچھ اچھے کام کرتا ہے تو اس کا بھارتی میڈیا میں کوئی ذکر تک نہیں ہوتا لیکن اگر کوئی ایک گولی بھی چل جائے تو کئی دنوں تک پاکستان کے بارے میں نیگٹو شوز کیے جاتے ہیں۔ اس اینکر نے اپنے پروگرام میں چند مشہور صحافیوں کو بلایا ہوا تھا اور ان سے یہی سوالات پوچھ رہا تھا کہ آخر اس مائنڈ سیٹ کے پیچھے کیا کہانی ہے کہ دونوں ملکوں کا میڈیا ایک دوسرے کی خامیوں کو تو بہت ابھار کر پیش کرتا ہے لیکن اگر دونوں ملک ایک دوسرے کے لیے اچھے اقدامات کریں تو وہ ہرگز اس کا ذکر تک نہیں کرتے۔
اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے اس اینکر نے حالیہ دنوں میں پاکستان کی طرف سے بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دینے کے اعلان کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ اتنی بڑی خبر تھی جس پر بھارتی میڈیا نے ایسے بائیکاٹ کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ میزبان کا خیال تھا کہ پاکستان اور بھارت نے پچھلے دنوں میں تجارت بڑھانے کے لیے بہت اہم اقدامات لیے ہیں لیکن میڈیا پھر بھی اس سے خوش نہیں ہے۔ پروگرام کے شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اب اس طرح کی مثبت چیزوں سے میڈیا کو کوئی خبر نہیں بنتی لگتی کہ اس سے تو دونوں ملکوں کے درمیان دوستی ہو رہی تھی جو انہیں کسی طور پر سوٹ نہیں کرتی۔
اس طرح میزبان نے ایک اور خبر کی طرف اشارہ کیا کہ کیسے جب پچھلے دنوں ایک چینی راہنما نیو دہلی کے دورے پر آرہے تھے تو ایک دن پہلے ایک خبر تمام اخبارات کے فرنٹ پیج پر لگی ہوئی تھی کہ چین نے بھارت کا پانی روک لیا تھا اور بعد میں وہ خبر جھوٹی نکلی۔ اس پر میزبان کا پوچھنا تھا کہ کیا میڈیا کے لیے اس دن ہی کوئی خبر بنتی ہے جس دن کسی غیرملکی سربراہ نے دورے پر بھارت آنا ہوتا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کو قریب لانے کی بجائے انہیں ایک دوسرے سے لڑایا جائے۔
مجھے یہ پروگرام دیکھ کر جہاں دکھ ہوا وہاں خوشی بھی ہوئی کہ چلیں بھارت کے اندر اس پر کوئی بحث تو شروع ہوئی ہے کہ حکومتی سطح پر میڈیا کے نگیٹو کردار کی حوصلہ شکنی کی جائے اور لوگوں کو بتایا جائے کہ پاکستان بھی بھارت کے ساتھ کچھ ایسے اقدامات کررہا تھا جو ماضی میں نہیں کیے گئے تھے لہذا پاکستان اتنا بھی برا نہیں ہے جتنا کہ ان کا میڈیا انہیں ہر وقت سمجھانے میں لگا رہتا ہے۔
اس طرح کا رویہ ہمارے میڈیا میں بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جب سری لنکن ٹیم پر لاہور میں حملہ ابھی جاری تھا تو ایک ٹی وی چینل یہ بریکنگ خبر دے رہا تھا کہ یہ دہشت گرد واہگہ باڈر سے پاکستان آئے تھے۔ جس بات کی خبر پاکستانی کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو نہیں ہو سکی تھی اس کا علم چند لمحو ں میں اس چیینل کے ایک رپورٹر نے کر لیا تھا۔ بعد میں علم ہوا کہ اس چینل کے ڈائریکٹر نیوز دراصل بھارتی چینیلوں کو جواب دے رہے تھے جو بھارت میں ہونے والی ہر دہشت گردی پر یہ بریک کرتے ہیں کہ حملہ آور پاکستانی ہیں۔ یوں دونوں ملکوں کی زیادہ تر جنگ میڈیا میں اپنے وطن سے محبت کے نام پر لڑی جاتی ہے اور دونوں اطراف کے فیصلے کرنیو الے اپنے اپنے ملک کے میڈیا کو وطن سے محبت کے نام پر اندھا دھند استعمال کرتے ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ دونوں ممالک کچھ ایسے بوجھ لے کر چل رہے ہیں جنہیں لیڈران اور میڈیا اتنی جلدی بھولنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے جب صدر زرداری اور من موہن سنگھ کی چالیس منٹ تک نیو دہلی میں ملاقات ہوئی اور اس کے بعد، بھارت کے فارن سیکرٹری نے ایک بیان پڑھا تو اس میں انہوں ذکر کیا کہ دونوں کی ملاقات کے دوران حافظ سعید کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔ اس کے ساتھ انہوں نے دیگر اچھی باتوں کا بھی ذکر کیا جس میں دونوں ملکوں کے درمیان اہم مسائل کو اب کی دفعہ سنجیدگی سے حل کرنے کی کوششوں کا اعادہ کیا اور بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ کرنے کی حامی بھی بھر لی۔ بھارت نے سیاچین میں برف کے طوفان میں پھنسے ہوئی پاکستانی فوجیوں کو نکالنے کے لیے مدد کی پیشکش بھی کی جہاں ان کی اپنی فوجیں پاکستانی فوجوں کے سامنے موجود ہیں۔
کسی نے اس بھارتی پیشکش پر فوکس کرنے کی زحمت نہیں کی کہ اس سے دونوں ملکوں کو قریب لانے میں مدد مل سکتی تھی۔ اس کے برعکس سارے ٹی وی شوز حافظ سعید پر کیے گئے۔ دنیا ٹی وی کے ارشد شریف واحد اینکر تھے جنہوں نے اپنا پورا پروگرام” کیوں” اس بات پر صرف کیا کہ پاکستان نے بھارت کی پشکش قبول نہیں کی اور اسے کرنی چاہیے تھی۔
حافظ سعید بھی اسامہ بن لادن کی طرح پاکستان کے لیے ایک بڑا خطر ہ بن کر ابھرے ہیں۔ ایک طرف وہ بھارت کو مطلوب ہیں تو اب امریکہ نے بھی ان کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کی قیمت مقرر کر دی ہے۔ حافظ سعید ایک طرف کہتے ہیں کہ وہ سوشل سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور ان کے پاس اپنے فلاحی کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے جسے وہ گنواتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دفاع پاکستان کونسل کے جلسوں میں جا کر دھواں دھار تقریریں کر کے بھارت اور امریکہ کو سبق سکھانے کی بات بھی کرتے ہیں۔ اور تو اور آج کل وہ پارلیمنٹ کے باہر دفاع کونسل پاکستان کی طرف سے ایک دھرنے کے انتظامات میں مصروف ہیں کہ اگر پارلیمنٹ نے نیٹو سپلائی کی اجازت دی تو وہ نہیں ہونے دیں گے۔
اگر حافظ سعید سوشل ورکر ہیں تو پھر پارلیمنٹ پر چڑھائی ان کی ترجیح میں نہیں ہونی چاہیے ۔ ہاں اگر وہ امریکہ اور بھارت کو شکست دینے کے لیے نکلے ہوئے ہیں تو پھر اس کا اعتراف کریں اور پھر سوشل ورک کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب بھارت اور امریکہ کا دباؤ پڑے تو سوشل ورکر بن جاؤ اور جب حالات کچھ بہتر ہوں تو پھر امریکہ اور بھارت کے خلاف اعلان جنگ۔
سوال اب یہ ہے کہ پاکستان اسامہ کے بعد، کیا حاٖظ سعید کا بوجھ لے کر بھارت اور امریکہ سے لڑ سکتا ہے ؟ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ حافظ سعید ہندوستان پاکستان کی تقسیم کے وقت ہونیو الے فسادات میں جس میں بقولWikipedia ان کے خاندان کے تیس لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، کب تک سرحد کے اس پار رہنے والے ان بے قصور عورتوں اور بچوں سے سے بدلہ لیتے رہیں گے، جو اتنے ہی بے قصور ہیں، جتنے حافظ سعید کے اپنے خاندان کے لوگ تھے۔ کیا حافظ سعید ماضی کو کھینچ کر واپس لا سکتے ہیں یا پھر انہیں یہ علم نہیں ہے کہ آج سے 65 سال پرانے پاگل پن کی اداس راتوں کو دونوں اطراف کی قتل و غارت متاثرہ انسان چاہے مسلمان ، سکھ یا ہندو ہوں، ان کا اپنا اپنا سچ، اپنی اپنی کہانیاں اور اپنے اپنے دکھ ہیں !!
بشکریہ اخبار جہاں، کراچی
______________________________________
رؤف کلاسرا ٹاپ سٹوری آن لائن کے مینجنگ ایڈیٹر ہیں۔ رؤف کلاسرا سے اس ای میل jaysalklasra@gmail.com کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Via topstoryonline.com

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s