اسلامی ورثہ کی پامالی و انہدام ۔ ایس ایچ بنگش : Islami Virsa Ke Pamali Aur Inhadam~ S H Bangash

See on Scoop.itparachinarvoice

اسلامی ورثہ کی پامالی و انہدام کے 87 سال ۔۔ذمہ دار کون۔۔اپریل 1925 تا اپریل 2012
دنیا بھر کے مذہب و تہذیبوں کی طرح اسلام بھی ایک ذندہ جاوید مزہب اور مکمل ضابطہ حیات ہیں۔آج بھی دنیا کے مختلف مذاہب اور تہذبیں بشمول مسلمان اپنا ورثہ محفوظ کر رہے ہیں، بلکہ اس کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ قبلہ اول بیت المقدس کو صیہونیوں کے چنگل سے چھڑانا اور اس کے لئے کوشش کرنا بھی اس لئے ہے کہ قبلہ اول بیت المقدس دین حق اسلام کا ہی ورثہ اور مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے قبلہ اول بیت المقدس کی پامالی تو صیہونیوں کے ہاتھ ہوئی لیکن افسوس صد افسوس حجاز مکہ و مدینہ میں اسلامی ورثہ اور شعائر اللہ کی پامالی اور انہدام اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے وہابیوں آل سعود کے ہاتھ ہوئی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ آل سعود کی مجرمانہ کردار کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ حجاز کی مقدس سرزمین پر کئی دہائیوں سے قابض آل سعود کے مطلق العنان بادشاہوں کے ورثے کو محفوظ بنانے کے لئے کروڑوں ڈالرز اور ریال کے منصوبے شروع کر دئیے گئیے ہیں۔۔۔۔لیکن آل رسول ص اور اہلبیت اطہار ؑ کے صدیوں سے قائم مزارات اور مساجد و مقدس مقامات اسلامی ورثے کو منہدم کر دیا گیا اور یہ سلسہ آج بھی جاری ہے۔ اسلامی ورثہ جسے قرآن نے شعائر اللہ یعنی اللہ کی نشانیاں قرار دیا کی اہمیت اس لئے ہیں کہ اس ورثے کو دیکھ کر لوگ اور آنی والی نسلیں اللہ کے دین کی طرف متوجہ ہو کر تقوی الہی اختیار کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے صفی و مروی کی پہاڑیوں کو شعائر اللہ کہی کر پکارا ہے۔ اسی طرح حجر اسود ظاہرا ایک پتھر ہے لیکن اللہ کے نذدیک اہمیت اتنی ہے کہ ہر حاجی کی خواہش ہوتی ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دیا جائے اور تمام تر مکاتب اسلام کے ہاں یہ عین عباد ت و ثواب کا کام ہے۔۔۔کیا حجر اسود کو بوسہ دینے اور چومنے سے خدانخوانستہ کوئی شخص بت پرستی و پتھر پرستی کا مرتکب ہو رہا ہے ،ہرگز نہیں بلکہ حجر اسود کو چومنا اللہ کی ایک نشانی کو چومنا ہے جس سے عقیدہ توحید میں اضافہ ہوتا ہے۔ یا مذید آسانی کی خاطر اگر کوئی شخص اپنی بوڑھی ماں کے ہاتھ کو عقیدت و عزت کی خاطر بوسا دیتا ہے تو کیا نعوز باللہ وہ شرک و بدعت کرکے ماں کو پوج رہا ہے، ہرگز نہیں بلکہ ماں کے مقام میں ماں کی عزت و احترام کرتا ہے نا کہ معبود و خالق کے مقام میں کیونکہ معبود کے مقام تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، اللہ لاشریک و لامحدود ہے اور اس کا احاطہ کرنا محال و ناممکن ہے۔ ماں کا ماں کے مقام پر احترام عین اسلام اور حکم پروردگار ہے۔ لیکن اپنے آپ کے علاوہ دیگر تمام مسلمانوں کو کافر کہنے والے وہابیت اس حقیقت کو سمجھنے کی بجائے ہر چیز حتی کہ ماں کا ماں کے درجے میں احترام کو بھی شرک و بدعت قرار دے کر کفر کے فتوے والی فیکڑی سے فتوے دینا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔حالانکہ اوائل اسلام حتی کہ رسول اللہ ،ص کی ذندگی میں گزشتہ انبیا ؑ اور اولیا کے قبور کی تعمیر اور پیغمبروںؑ ،اولیاء اور خدا کے نیک بندوں کی قبروں پر عمارت یا مزار بنانے کا سلسلہ موجود تھا، اور رسول ص کے زمانے میں مسلمان و اصحاب رسول ص انبیاؑ و اولیاؑ کے قبور و مزارات پر دعا کے لئے جاتے تھے۔ اگر یہ عمل اسلام کے خلاف یا نعوز باللہ شرک و بدعت ہوتا تو رسول ص اپنے زمانے ہی میں مسلمانوں کو روک لیتے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوا۔
اس مسئلے کو سب سے پہلے ابن تیمیہ کے مشہور و معروف شاگرد ( ابن القیم ) نے چھیڑا اور اولیاء خدا نیز پیغمبروں کی قبروں پر عمارت بنانا حرام قرار دیا ۔ اور ان کی ویرانی و انہدام کا فتویٰ دیا ہے ۔ ابن القیم اپنی کتاب (زاد المعاد فی ھدی خیر العباد )(زاد المعاد ص٦٦١) میں لکھتا ہے :
”یجب ھدم المشاھد التی بُنِیَت علی القبور ، و لا یجوز ابقاء ھا بعد القدرة علیٰ ھدمھا و ابطالھا یوماً واحداً” ( قبروں پر تعمیر شدہ عمارتوں کو ڈھانا واجب ہے ، اگر انہدام اور ویرانی ممکن ہو تو ایک دن بھی تاخیر کرنا جائز نہیں ہے)
١٣٤٤ھ میں جب کہ آل سعود نے مکہ و مدینہ کے گرد و نواح میں اپنا پورا تسلط جمایا تو مقدس مقامات ، جنت البقیع ،اصحاب رض اور اہلبیت اطہارؑ محمد و آل محمدؑ سے بغض کی وجہ سے خاندانِ رسالت کے آثار کو صفحۂ ہستی سے محو کر دینے کا عزم کیا اس سلسلے میں انہوں نے مدینہ کے علماء سے فتوے وغیرہ لئے تاکہ تخریب کی راہ ہموار ہو جائے ۔ اور اہل حجاز کو جو کہ اس کام کے لئے تیار نہ تھے ، بھی اپنے ساتھ ملایا جائے ۔اسی بناء پر نجد کے قاضی القضات ، ”سلیمان بن بلیہد ” کو مدینہ روانہ کیا تاکہ وہ ان کے من پسند فتوے ،علمائے مدینہ سے حاصل کرے ،اس نے ان سوالات کو اس طرح توڑ موڑ کر پوچھا کہ ان کا جواب بھی وہابیوں کے نظریئے کے مطابق انہی سوالات میں موجود تھا ۔ اس طرح مفتیوں کو یہ سمجھادیا گیا کہ ان سوالات کے وہی جوابات دیں جو خود سوالات کے اندر موجود ہیں ورنہ انہیں بھی مشرک قرار دے دیا جائے گا ۔اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں انہیں قتل کر دیا جائے گا ۔
سوالات اور جوابات مکہ سے شائع ہونے والے رسالہ (ام القریٰ ) ماہ شوال ١٣٤٤ھ میں منتشر ہوئے ۔ وہابی ١٥ ربیع الاول ١٣٤٣ھ کو حجاز پر قابض ہوئے اور آٹھویں شوال ١٣٤٣ ھ بمطابق اپریل ۱۹۲۵ عیسوی کو جنت البقیع میں ائمہ کے مزاروں کی قبروں کو منہدم کر دیا ۔اس کے بعد شیعہ سنی تمام مسلمانوں میں ردّ عمل کی شدید لہڑ دوڑ گئی ۔کیونکہ سب کو پتہ تھا کہ مدینہ کے علماء سے فتویٰ حاصل کرنے کے بعد اگر چہ ڈرا دھمکا کر ہی کیوں نہ لیا گیا ہو ، ائمہؑ کی قبروں کا انہدام اور عمارتوں کی تخریب شروع ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا بھی ۔ مدینہ کے پندرہ علماء سے فتویٰ لینے اور اسے حجاز میں نشر کرنے کے بعد فوراً خاندان رسالتؑ کے آثار کو اسی سال آٹھویں شوال کو محو کرنا شروع کر دیا ۔ اہل بیت علیہم السلام اور اصحاب نبی (ص) کے آثار بطور کلی مٹا دیئے گئے ۔ جنت البقیع میں ائمہ علیہم السلام کے روضوں کی گراں بہا اشیاء لوٹ لی گئیں ۔ اور قبرستان بقیع ایک کھنڈر اور ویرانے کی صورت اختیار کر گیا کہ جسے دیکھ کر انسان لرز جاتا ہے ۔ وہابی اور آل سعود اسی سال روضئہ رسول ص اور گنبد حضرا کو بھی منہدم کرکے زمیں بوس کرنا چاہتے تھے لیکن جب پوری دنیا میں مسلمانوں کا رد عمل دیکھا تو اپنے آقا بوڑھے استعمار برطانیہ کے مشورے اور اس ڈر سے کہ کہیں پورا عالم اسلام وہابیت اور آل سعود کو قادیانیوں کی طرح غیر مسلم نہ قرار دیں ،روضئہ رسول ص کو منہدم تو نہ کیا لیکن آج تک وہابیت اور آل سعود کے نمک خوار سپاہی روضہ رسول ص کی طرف عقیدت اور زیارات کی خاطر آنے والے دنیا بھر کے سنی شیعہ مسلمانوں کو زیارات رسول ص سے روکتی رہی ہے، اور گنبد حضری کو صاف کرنے کی بجائے اس پر گرد و غبار کی گہری تہہ جمع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہابیت دل ہی دل میں آثار نبوی ص کے باقی رہنے پر غصہ اتار رہی ہے۔
الف۔ قبروں کی تعمیر کے سلسلے میں
اس موضوع کے حکم کو قرآن کے عام اصولوں سے اخذ کر سکتے ہیں ۔
١۔ اولیاء خدا کی قبروں کی تعمیر اور حفاظت شعائر اللہ کی تعظیم میں داخل ہے ۔
قرآن کریم شعائر اللہ کی تعظیم کو قلوب کی پرہیزگاری اور دلوں پر تقوائے الٰہی کے غلبہ کی علامت و نشانی جانتا ہے ۔ارشاد ہوتا ہے :
” ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ ” (سورۂ حج ٣٢)
جو شخص شائراللہ کی تعظیم کرتا ہے تو یہ تقوائے قلوب کی علامت ہے۔ شعائر اللہ کی تعظیم کا اصل مقصد کیا ہے ؟شعائر ”شعیرہ ” کی جمع ہے ،جس کے معنی علامت و نشانی ہیں آیت کا مطلب وجود خدا کی نشانیاں بیان کرنا نہیں کیونکہ تمام موجودات عالم اس کے وجود کی نشانیاں ہیں ۔ اور کسی نے یہ نہیں کہا کہ جو کچھ اس گلزار ہست و بود میں ہے ان سب کی تعظیم تقویٰ کی علامت ہے۔ بلکہ اس سے مراد اس کے دین کی نشانیاں ہیں ۔اسی بناء پر تو مفسرین اس آیت کی یوں تفسیر کرتے ہیں ۔
”معالم دین اللہ ” خدا کے دین کی نشانیاں ۔(مجمع البیان ،ج٤،ص ٨٢) اگر قرآن نے صفاومروہ کے اور اس اونٹ کو جو منیٰ میں قربانی کے لئے لے جایا جاتا ہے ،شعائر اللہ میں شمار کیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ یہ آئین ابراہیمؑ اور دین حنیف کی نشانیاں اور علامتیں ہیں ۔ اگر ”مزدلفہ ” کو ”مشعر ” کہتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ دین الٰہی کی نشانی ہے وہاں پر ٹھہرنا ،دین پر عمل اور خدا کی اطاعت کی علامت ہے ۔
اگر تمام مناسک حج کو شعائر اللہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں تو وہ بھی اسی لئے ہے کہ یہ اعمال دین حنیف اور دین توحید کی علامتیں اور نشانیاں ہیں ۔
مختصر یہ کہ جو چیز بھی دین الٰہی کی نشانی قرار پائے اس کی تعظیم و تکریم خدا کی بارگاہ میں تقرب و خوشنودی کا باعث بنتی ہے ۔ اور یہ ایک امر مسلم ہے کہ انبیاء و اولیاء خدا ، دین الٰہی کی روشن ترین دلیلیں اور بزرگترین نشانیاں ہیں ، جن کی بدولت دنیا میں دین کا پرچم بلند ہوا ۔ اور دین کا بول بالا ہوا ۔کوئی بھی منصف شخص ہر گز اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ پیغمبر اسلام (ص) اور ائمہ طاہرین (ع) کا وجود اسلام کی دلیل اور اس کی علامت ہے ۔ اور ان کی تعظیم کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے آثار و قبور کی حفاظت کی جائے اور انہیں انہدام و نابودی سے بچایا جائے ۔
حسب ذیل دو چیزوں کو مدّ نظر رکھنے سے قبور اولیاء کی تعظیم و تکریم کا مسئلہ واضح ہو جاتا ہے ۔
الف۔ اولیاء خدا اور بالخصوص وہ لوگ جنہوں نے دین اسلام کی سر بلندی کے لئے قربانی پیش کی ہو وہ بلا شبہ شعائر اللہ اور دین خدا کی نشانیاں ہیں ۔
ب۔ تعظیم کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان بزرگوں کی وصال کے بعد ان کے آثار و مکتب کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ ان کی قبور کی تعمیر ،نگہبانی اور حفاظت کی جائے ۔ اسی لئے تمام قوموں کی عظیم سیاسی اور دینی شخصیتوں کی قبریں جو ان کے مکتب فکر کی علامت ہوتی ہیں ایسی جگہوں پر بنائی جاتی ہیں جہاں وہ ہمیشہ محفوظ رہیں ۔ اور ان کے مکتب کی یاد تازہ رہے ۔گویا ان کی قبروں کو خرابی سے محفوظ رکھنا ایسے ہی ہے جیسے ان کے وجود اور ان کے مکتب کی حفاظت ہے ۔ اور ان کے آثار کو زندہ رکھنے کی علامت ہے ۔
اس حقیقت کے ادراک کے لئے ضروری ہے کہ سورۂ حج کی چھتیسویں آیت کو پوری توجہ سے تفسیر کریں ۔ بیت اللہ الحرام کے بعض زائرین گھر سے ہی اپنے ساتھ اونٹ کو قربانی کے لئے مکہ لاتے ہیں اور اس کی گردن میں پٹہ ڈال کر فی سبیل اللہ قربانی کے لئے مختص کر دیتے ہیں ۔اور اسے باقی اونٹوں سے علیحدہ رکھتے ہیں ۔کیونکہ یہ اونٹ ایک طرح سے خدا سے وابستہ ہو گیا ہے ۔ اور خود خدا نے اسے شعائر اللہ میں سے شمار کیا ہے لہذا سورہ حج کی بتیسویں آیت کے مطابق ” و من یعظم شعائر اللہ ” کے مطابق اسے مورد احترام قرار دینا چاہئے مثال کے طور پر یہ لوگ اس پر سوار نہ ہوں اور وقت پر اسے پانی ، گھاس وغیرہ ڈالنا چاہئے یہاں تک کہ اس مخصوص مقام پر اسے ذبح کر دیا جائے ۔ جب ایک اونٹ منیٰ کی سر زمین پر قربانی کے لئے مخصوص ہونے کی وجہ سے شعائر اللہ میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے لئے مناسب تعظیم ضروری ہوتی ہے تو کیا پیغمبرص ،علماء ،شہداء اور مجاہدین شعائر اللہ میں سے نہیں ہیں ؟ جنہوں نے زندگی کے ابتدائی ایام ہی میں اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں وقف کر دیا اور اس کی خوشنودی کے لئے دین اسلام کی ایسی خدمت انجام دی کہ خود خدا اورخلق کے مابین وسیلہ قرار پائے اور در حقیقت بشریت نے دین خدا کو انہی کے طفیل میں پہنچانا ہے ۔ کیا ان کے مقام و منزلت کے لحاظ سے ان کی حیات و ممات میں ان کی تعظیم و تکریم نہ کی جائے ؟ اگر کعبہ ، صفا و مروہ ، منیٰ وعرفات جو مٹی اور پتھر کے سوا کچھ نہیں ہیں ۔دین خدا سے ارتباط کی وجہ سے شعائر اللہ میں داخل ہیں ۔ اور ہر ایک کی اپنے موقع و محل کے اعتبار سے تعظیم و تکریم ضروری ہے تو بھلا اولیاء خدا جو دین الٰہی کے مبلغ ومحافظ ہیں وہ شعائر اللہ میں سے کیوں نہ ہوں ، اور ان کی تعظیم و تکریم کیوں نہ کی جائے ؟
ہم یہاں پر خود وہابیوں کے ضمیر کو قاضی و منصف قرار دیتے ہیں ۔کیا انبیاء کے شعائر اللہ میں ہونے کے سلسلہ میں کسی قسم کا شک و تردد ہے ؟ یا ان کے آثار اور ان سے مربوط اشیاء کی حفاظت کو ان کی تعظیم نہیں سمجھتے ۔ ان کی قبروں کی تعمیر اور صفائی کا خیال رکھنا تعظیم و تکریم ہے یا ان کی قبروں کو مسمار کر دنیا تعظیم ہے ؟
٢۔ قرآن کریم واضح الفاظ میں ہمیں حکم دیتا ہے کہ پیغمبر گرامی (ص) کے اقربا سے محبت رکھو ۔ ارشاد قدرت ہوتا ہے :
”قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى” (سورۂ شوریٰ ٢٣)
اے رسول کہہ دیجئے میں تم سے اجر رسالت نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اقربا سے مودت رکھو ۔
کیا اہل دنیا کی نگاہ میں ، جن سے یہ آیت مخاطب ہے ، خاندان رسالت سے محبت و مودت کا ایک طریقہ ان کی قبروں کی تعمیر نہیں ہے ؟حالانکہ دنیا کی تمام ملتوں میں یہ رسم پائی جاتی ہے اور سب لوگ قبروں کی تعمیر کو صاحب قبر سے اظہار عقیدت کی علامت قرار دیتے ہیں ۔اسی لئے تو عظیم سیاسی و علمی شخصیات کو کلیسا ، یا معروف مقبروں میں سپرد خاک کرتے ہیں ۔ اور ان کی قبروں کے اردگرد درخت لگاتے ہیں ۔ اور پھولوں کی چادریں چڑھاکر اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔ لیکن وہابیت کا اصل مسئلہ بغض و عدوات محمد و آل محمد ص بالخصوص خاتون جنت سیدہ النسا العالمینؑ حضرت بی بی فاطمتہ الزھرا سلام اللہ علیہا سے بغض کی انتہا ہے اس حوالے سے عالمی سنی تحریک نے وہابیت کے فتنے کو عیاں کرنے کے لئے ایک ویب سائٹ بنائی ہے جس میں وہابیت کے فتنے کی تشریح کرکے وہابییوں کو سنی ماننے سے انکار کیا ہے۔ ویب سائٹ یہاں قارئین کے استفادے کے لئے دی جا رہی ہے۔
www.najd2.wordpress.com
اور یہ انتہا یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ نہ صرف اپریل 1925 میں وہابیوں آل سعود نے خاتون جنت فاطمتہ الزھرا سلام اللہ علیہ کا جنت البقیع میں روضہ منہدم کروایا بلکہ گذشتہ سال بھی خاتون جنت بی بی فاطمتہ الزھرا سلام اللہ علیہ سے منسو مسجد فاطمہ س کو مسمار کرکے آل سعود سے منسوب پارک میں تبدیل کر دیا گیا۔۔۔کیا حجاز مکہ و مدینہ کی سرزمین میں آل سعود کے ابا و اجداد اور مطلق العنان حکمرانوں کی آثار بنانا عین اسلام اورآل رسول ص کے آثار حتی کہ مساجد عین کفر و شرک ہے؟؟؟؟ اس سوال کا جواب ہر باضمیر انسان اور مسلمان کو دینا ہوگا۔۔وگرنہ اسلام کے یہ نام نہاد ٹھیکدار قیامت کے دن رسول ص کو کیا جواب دیں گے، جب رسول ص نے تاکید سے یہ احادیث فرمائی تھی کہ۔۔فاطمہ س میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس کسی نے اس فاطمہ س کو ناراض کیا اس نے مجھ رسول ص کو ناراض کیا اور جس نے رسول ص کو ناراض کیا اس نے اللہ کو ناراض کیا۔اسلئے یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو کافر کہہ کر آل سعود کے اس ظلم و جبر کے پالسی اور کفر کے فتوؤں کی فیکٹریوں جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے اور اسی تکفیری وہابی فکر و دہشت گردی کی وجہ سے مساجد و بازار تو کیا داتا دربار رحمان بابا و بری امام کے مزارات تک نشانے پر ہیں، اس کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہئے ورنہ یہ فتنہ پاکستانی معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گا اور پھر بات ۔۔۔اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئی کھیت۔۔۔۔۔والی بات رہ جائے گی۔
(ختم شد شکریہ)
تحریر و ترتیب: ایس ایچ بنگش

See on makepakistanbetter.com

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s