Takfiri terrorists Maj Mast Gul assassinate Allama Nawaz Irfani in Islamabad

Top Shia Scholar who was representative of Grand Ayatollah Syed Ali al-Sistani in Pakistan and pro…

Source: en.shiapost.com

علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاراچنار کی معروف شخصیت امام جمعہ و جماعت علامہ شیخ نواز عرفانی کے قتل میں کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے علامہ نواز عرفانی کی شہادت پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس واقعہ میں کالعدم تحریک طالبان کا میجر مست گل گروپ ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق نامعلوم مقام پر داعش کے نمائندے زبیر الکویتی اور میجر مست گل گروپ کے اعلیٰ ذمہ داران کے درمیان ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں داعش کی تشکیل، ابوبکر البغدادی کی بیعت اور فاٹا کی سرزمین کو داعش کا مرکز بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں پاراچنار کی سرزمین پر موجود شیعہ برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کرتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں شیعیان پاراچنار کی جانب سے طالبان کو ملنے والی پے در پے شکستوں کا بدلہ لینے اور فاٹا میں داعش کی آمد کا آغاز کرم ایجنسی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق میجر مست گل گرو کے سرکردہ افراد پاراچنار کی اہل تشیع برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اس لئے ماضی کا بدلہ لینے کی غرض سے پاراچنار کی اہم شخصیت علامہ نواز عرفانی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میجر مست گل گروپ کے افراد یہ بات بھی جانتے تھے کہ پاراچنار میں سادات اور غیر سادات کے فرق نے شیعوں کو تقسیم کیا ہوا ہے، اس ہی لئے پاراچنار کی مجاہد شخصیت علامہ نواز عرفانی جوکہ خود غیر سید تھے کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان کو قتل کرنے کا ہدف یہ تھا کہ پاراچنار میں شیعہ آپس میں دست و گریباں ہوجائیں اور شیعوں کی اس تقسیم کا فائدہ اٹھا کر پاراچنار پر مکمل چڑھائی کردی جائے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاراچنار کی تسخیر کے بعد پورے فاٹا میں داعش کی عملداری کو آسانی کے ساتھ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس ہی پلان کے تحت پاراچنار سے جلا وطن کئے جانے والے علامہ شیخ نواز عرفانی کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ مخالف گروپ کی کاروائی ہے، تاہم علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے بعد پورے ملک میں شیعہ تنظیموں کے احتجاج نے کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی کوششوں پر پانی پھیر دیا اور علامہ نواز عرفانی کی شہادت کو ملت جعفریہ کاعظیم نقصان قرار دیا ۔ بعدازاں ملکی سلامتی کے خفیہ اداروں کی رپورٹ نے بھی اس کی حقیقت بیان کردی اور کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاراچنار کے شیعہ اس سازش کو بھانپتے ہوئے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں تاکہ کالعدم تحریک طالبان کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکے اور امام حسین (ع) ہم سے راضی ہوسکیں

See on Scoop.itparachinarvoice

علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا

علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاراچنار کی معروف شخصیت امام جمعہ و جماعت علامہ شیخ نواز عرفانی کے قتل میں کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے علامہ نواز عرفانی کی شہادت پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس واقعہ میں کالعدم تحریک طالبان کا میجر مست گل گروپ ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق نامعلوم مقام پر داعش کے نمائندے زبیر الکویتی اور میجر مست گل گروپ کے اعلیٰ ذمہ داران کے درمیان ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں داعش کی تشکیل، ابوبکر البغدادی کی بیعت اور فاٹا کی سرزمین کو داعش کا مرکز بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں پاراچنار کی سرزمین پر موجود شیعہ برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کرتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں شیعیان پاراچنار کی جانب سے طالبان کو ملنے والی پے در پے شکستوں کا بدلہ لینے اور فاٹا میں داعش کی آمد کا آغاز کرم ایجنسی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق میجر مست گل گرو کے سرکردہ افراد پاراچنار کی اہل تشیع برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اس لئے ماضی کا بدلہ لینے کی غرض سے پاراچنار کی اہم شخصیت علامہ نواز عرفانی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میجر مست گل گروپ کے افراد یہ بات بھی جانتے تھے کہ پاراچنار میں سادات اور غیر سادات کے فرق نے شیعوں کو تقسیم کیا ہوا ہے، اس ہی لئے پاراچنار کی مجاہد شخصیت علامہ نواز عرفانی جوکہ خود غیر سید تھے کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان کو قتل کرنے کا ہدف یہ تھا کہ پاراچنار میں شیعہ آپس میں دست و گریباں ہوجائیں اور شیعوں کی اس تقسیم کا فائدہ اٹھا کر پاراچنار پر مکمل چڑھائی کردی جائے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاراچنار کی تسخیر کے بعد پورے فاٹا میں داعش کی عملداری کو آسانی کے ساتھ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس ہی پلان کے تحت پاراچنار سے جلا وطن کئے جانے والے علامہ شیخ نواز عرفانی کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ مخالف گروپ کی کاروائی ہے، تاہم علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے بعد پورے ملک میں شیعہ تنظیموں کے احتجاج نے کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی کوششوں پر پانی پھیر دیا اور علامہ نواز عرفانی کی شہادت کو ملت جعفریہ کاعظیم نقصان قرار دیا ۔ بعدازاں ملکی سلامتی کے خفیہ اداروں کی رپورٹ نے بھی اس کی حقیقت بیان کردی اور کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاراچنار کے شیعہ اس سازش کو بھانپتے ہوئے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں تاکہ کالعدم تحریک طالبان کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکے اور امام حسین (ع) ہم سے راضی ہوسکیں۔

See on Scoop.itparachinarvoice