شیر دل اور بہادر شہید عباس علی

….. علی افضل افضال……
13 فروری 2015 کو پشاور شہر کے پوش علاقے حیات آباد کے امامیہ مسجد میں معمول کے مطابق نماز جمعہ ادا کی جارہی تھی کہ اس دوران مسلح دہشت گرد مسجد میں د

Source: blog.jang.com.pk

See on Scoop.itparachinarvoice

قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں شفیق احمد

قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں شفیق احمد پاراچنار: ہمارے تین ہزار شہداء کا خون شاہد ہے کہ ہمیں دشمن نے کھبی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہمیشہ ہمارے بعض نام نہاد اور بعض ناداں دوست ہمیں بڑی آسانی سے نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے اور نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں۔ ہمیں اس وقت سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ حکومت سے مذاکرات کے ذریعے اسلحہ تسلیم کرنے کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے اگر ہم آپس میں متحد رہیں اور ایک طبقے کو دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کریں۔ میرے دوست سمجھ گئے ہونگے اور میں اسے زیادہ نہیں بتا سکتا۔ میرے خیال میں اور حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد اور کچھ معلومات کی بنیاد پر میں یہ بتا سکتا ہوں کہ پاراچنار کرم ایجنسی میں ایک طبقے کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ آپریشن بھی انہی لوگوں کے خلاف ہوگا جو آپس کے جھگڑوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ تو شرپسند عناصر اس خود بھی ذلیل و خوار اور شرمندہ ہونگے اور ہمیں بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائینگے۔

See on Scoop.itparachinarvoice

کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو نسل کشی کا خطرہ

پاکستان کی حکومت نے کرم ایجنسی کے عوام کو اسلحہ تسلیم کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ جنگ زدہ علاقے کو ایک اور سنگین چیلنج ہے کیونکہ یہاں کے شیعہ آبادی کو سو سالوں سے تکفیری دیوبندیوں سے نسل کشی کا خطرہ رہا ہے اور کئی ۱۹۲۹، ۱۹۵۴، ۱۹۷۸، ۱۹۹۶اور ۲۰۰۷ میں خطرناک جنگیں لڑی گئی ہیں جس میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ مشران قوم سے مذاکرات کریں اور اسلحہ صرف کرم ملیشیا کو اس وقت سرنڈر کریں اور کرم میلیشیا میں مناسب تناسب سے اقوام کی نمائندگی یقینی بنایا جائے۔ کرم ایجنسی کی تاریخ دیگر ایجنسیوں سے مختلف ہے اور اس ایجنسی کی شیعہ آبادی کو اگر غیر مسلح کیا گیا تو شیعہ قتل عام اور نسل کشی کا خطرہ یقینی ہو جائےگا کیونکہ یہاں قبائلی جنگ بھی مذہبی روپ اختیار کر لیتا ہے اور مذہبی لڑائی نسل کشی میں تبدیل ہوتی ہے اور اس طرح کی مثالیں صدہ اور گوبازانہ میں شیعہ کی صورت میں علاقے کی آبادی پہلے ہی بھگت چکی ہے۔ طوری، بنگش اور دیگر قبائل کا حکومت کو اسلحہ مفت میں تھما دینا اپنے بچوں اور عورتوں کو طالبان کے حوالے کرنے کے مترادف ہے، ان غیور اقوام کو دہشتگردوں کے رحم کرم پر چھوڑ کر حکومت خطرناک کھیل، کھیل رہا ہے، کرم ایجنسی کے غیور فرزندوں کو اپنا اسلحہ حکومت کو اس وقت تک نہیں دینا چاہئے جب تک ہماری تحفظ کا مناسب بندوبست نہ ہو، جیسے کرم میلیشیا کو دوبارہ ۱۹۸۷ کی پوزیشن پر بحال کریں یا سارے قبائل سے مناسب ، تناسب سے نئی بھرتی کریں، اور پھر اسلحہ انہی میلیشیا کے حوالے کریں۔

See on Scoop.itparachinarvoice