کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو نسل کشی کا خطرہ

پاکستان کی حکومت نے کرم ایجنسی کے عوام کو اسلحہ تسلیم کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ جنگ زدہ علاقے کو ایک اور سنگین چیلنج ہے کیونکہ یہاں کے شیعہ آبادی کو سو سالوں سے تکفیری دیوبندیوں سے نسل کشی کا خطرہ رہا ہے اور کئی ۱۹۲۹، ۱۹۵۴، ۱۹۷۸، ۱۹۹۶اور ۲۰۰۷ میں خطرناک جنگیں لڑی گئی ہیں جس میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ مشران قوم سے مذاکرات کریں اور اسلحہ صرف کرم ملیشیا کو اس وقت سرنڈر کریں اور کرم میلیشیا میں مناسب تناسب سے اقوام کی نمائندگی یقینی بنایا جائے۔ کرم ایجنسی کی تاریخ دیگر ایجنسیوں سے مختلف ہے اور اس ایجنسی کی شیعہ آبادی کو اگر غیر مسلح کیا گیا تو شیعہ قتل عام اور نسل کشی کا خطرہ یقینی ہو جائےگا کیونکہ یہاں قبائلی جنگ بھی مذہبی روپ اختیار کر لیتا ہے اور مذہبی لڑائی نسل کشی میں تبدیل ہوتی ہے اور اس طرح کی مثالیں صدہ اور گوبازانہ میں شیعہ کی صورت میں علاقے کی آبادی پہلے ہی بھگت چکی ہے۔ طوری، بنگش اور دیگر قبائل کا حکومت کو اسلحہ مفت میں تھما دینا اپنے بچوں اور عورتوں کو طالبان کے حوالے کرنے کے مترادف ہے، ان غیور اقوام کو دہشتگردوں کے رحم کرم پر چھوڑ کر حکومت خطرناک کھیل، کھیل رہا ہے، کرم ایجنسی کے غیور فرزندوں کو اپنا اسلحہ حکومت کو اس وقت تک نہیں دینا چاہئے جب تک ہماری تحفظ کا مناسب بندوبست نہ ہو، جیسے کرم میلیشیا کو دوبارہ ۱۹۸۷ کی پوزیشن پر بحال کریں یا سارے قبائل سے مناسب ، تناسب سے نئی بھرتی کریں، اور پھر اسلحہ انہی میلیشیا کے حوالے کریں۔

See on Scoop.itparachinarvoice

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s