عمر میڈیا پروڈکشن ویڈیو! تحریک طالبان درہ آدم خیل اور اسکے کمانڈر عمر منصور چار حملہ آوروں کیساتھ

جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد مسلمان نہیں ہو سکتے! جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پاکستانی نہیں ہو سکتے! جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پختون نہیں ہو سکتے! وہ کان کھل ک…

Sourced through Scoop.it from: www.youtube.com

جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد مسلمان نہیں ہو سکتے!
جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پاکستانی نہیں ہو سکتے!
جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پختون نہیں ہو سکتے!
وہ کان کھل کر سن لیں۔۔
عمر میڈیا پروڈکشن کا تیار کردہ ویڈیو! تحریک طالبان درہ آدم خیل اور اسکے کمانڈر عمر منصور ان چار حملہ آوروں کیساتھ جنہوں نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ کرکے ہماری مستقبل کو خاک و خون میں نہلا دیا اور بے گناہ پروفیسر اور طالبعلموں سمیت اکیس افراد کو شہید کردیا۔ یہ ویڈیو باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملے سے پہلے تیار کی گئی اور ریاست پاکستان اور پاک افواج کیخلاف غلیظ ترین الفاظ استعمال کرتے ہوئے اپنے ناپاک ارادے دہرائے گئے۔
یہ نہ اسریئل سے آئے یہودی ہیں اور نہ ہی ہندوستان سے آئے ہندو!
بلکہ یہ سب مسلمان، پاکستانی اور پختون ہیں۔
آپ بھی دیکھ لیں کہیں آپکا باپ، بھائی یا کوئی رشتہ دار تو ان کیساتھ نہیں ملا ہوا!

See on Scoop.itparachinarvoice

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان!پاکستانی داعشور، صحافی

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان!
آرمی پبلک سکول پشاور بمقابلہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ
باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے ذمے داری ملا اختر منصور والے طالبان گروپ نے قبول کی ہے، جبکہ ملا فضل اللہ گروپ کے خراسانی نے کہا ہے کہ اس حملے سے انکا کوئی تعلق نہیں۔ سلیم صافی نے جیو نیوز پر عائشہ بخش کے پروگرام میں کہا! مزید لنک

http://www.dawnnews.tv/news/1032319/
یاد رہے آرمی پبلک سکول پر حملہ پاکستانی طالبان نے 16 دسمبر 2015 کو کیا تھا جس میں بچوں سمیت 140 افراد شہید ہوئے تھے۔
اور آج 20 جنوری 2016 کو افغانی طالبان نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ کرکے طالبعلموں سمیت بیس افراد کو شہید کیا گیا۔
کوئی سلیم صافی کو بتائیں کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ پاکستانی طالبان ملا فضل اللہ نے کیا تھا اور باچا خان یونیورسٹی پر حملہ افغانستان کے طالبان ملا اختر منصور گروپ نے قبول کی ہے تو پاکستانی اور افغانی طالبان میں فرق کیا ہے؟
ہم تو روز اوّل سے بتا رہے ہیں کہ افغانی طالبان یا پاکستانی طالبان میں کوئی فرق نہیں لیکن آپ جیسے نام نہاد سینئیر صحافی ہو یا اوریا مقبول یا وزیراعظم کے مشیر اعظم عرفان صدیقی جیسے دانشور (داعشور) پوری قوم کو گمراہ کرتے رہے اور افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے بیانیہ کے مؤجد ہیں
اب اوریا مقبول ہوں یا انصار عباسی، جاوید چوہدری ، خود سلیم صافی ہو یا حامد میر جو افغانستان طالبان کے شیدائی ہیں اور ملا عمر کو امیرالمؤمنین کہتے رہے ان سب کیخلاف ضرب غضب شروع کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔
حکومت کو چاہئیے کہ مندرجہ بالا افراد کے پچھلے پانچ سال کے کالم اور ٹی وی پروگراموں کا تجزیہ کریں اور افغانی طالبان کے حق میں دلائل دینے والوں سے حساب لیا جائے۔
باچا خان یونیورسٹی کے پروفیسر اور طالبعلموں کا خون ان سب کے ہاتھ پر صاف دیکھا جا سکتا ہے جو افغانی طالبان اور ملا عمر کے شیدائی تھے۔
شام اور عراق کا داعش، دنیا بھر میں پھیلی القاعدہ، نائجیریا کے بوکو حرام، صومالیہ کے الشباب سمیت پاکستانی طالبان سپاہ صحابہ، اہل سنت والجماعت ، لشکر جھنگوی اور افغانی طالبان تکفیری وہابی، تکفیری سلفی، اور تکفیری دیوبندی ہیں، اور ان میں کوئی فرق نہیں، سب خونخوار وحشی درندے ہیں، انکی تعریف کے لیئے مجھے الفاظ نہیں مل رہے۔

See on Scoop.itparachinarvoice

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا۔ مولانا فدا حسین مظاہری نئے پیش نماز مرکزی امام بارگاہ مقرر

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا” ۔”

شفقنا اردو: پاراچنار مرکزی امام بارگاہ و مسجد پورے پاراچنار کے عوام کا مرکز ہے، جس میں خطیب جامع مسجد پورے کرم ایجنسی کے عوام کا روحانی شخصیت کے علاوہ تمام اندرونی و بیرونی مسائل کیلئے اپنے لئے رہبر سمجھتے ہیں۔ اور اسی خطیب کو اسلام آباد میں مقیم آیت اللہ سید علی سیستانی کے نمائندہ علامہ شیخ محسن منتخب کرتاہے۔ گزشتہ انتخابات کے دوران جامع مسجد پاراچنار کے خطیب جمعہ علامہ شیخ محمد نواز عرفانی انتخابات میں مداخلت کرکے پاراچنار کے عوام کے درمیان کشید گی پیدا ہوگئی تھی۔ پاراچنار کے عوام دو حصوں (ایم این اے ساجد طوری اور امیدوار ائیرمارشل(ر) قیصر حسین ) میں منقسم ہوا۔ بعد ازاں علامہ شیخ نواز عرفانی کو ایجنسی بدر کیا گیا، اور 2014 کے دسمبر کے مہینے میں اسلام آباد میں شہید کردیا گیا۔ انکے شہادت کے بعد پاراچنار کے مرکزی مسجد کے خطیب کے مسئلے نے شور پکڑا۔ تاہم مقامی مولانا عارف حسین جعفری کو کشیدہ حالات سنبھالنے کیلئے خطیب جمعہ مقرر کیا گیا۔ لیکن کرم ایجنسی کے اکثر عوام اسے نہیں چاہتے تھے۔ آخر کار اسی نئے سال کے شروع میں ہی پاراچنار کے عمائدین کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا جہاں مولانا شیخ محسن سے پاراچنار کے مرکزی جامع مسجد کے خطیب کے فیصلے کا مطالبہ کیا۔ وفد میں ایم این اے ساجد طوری، سینیٹر سجاد حسین اور دیگر اراکین انجمن شامل ہیں۔ کل رات کو مولانا شیخ محسن نے فیصلہ کرکے گلگت سے تعلق رکھنے والے علامہ فداحسین مظاہری کو پاراچنار کے جامع مسجد کے خطیب اور مدرسہ جعفریہ کے مدیر اعلی کیلئے منتخب کردیا۔
جب پاراچنار مرکزی جامع مسجد میں خطیب کا مسئلہ چلا آرہاتھا۔ اس موقع پر پاراچنار کے شیعیوں کا بیرونی دشمن ناپاک عزائم بنا کر کوئی بھی نقصان پہنچا سکتاہے۔ اور دشمن اس خوشفہمی تھے کہ اب پاراچنار کے عوام آپس میں لڑیں گے۔ لیکن پھر بھی پاراچنار کے عمائدین نے سوچ سمجھ کر خطیب کا مسئلہ حل کرکے عوام کو آپس میں لڑنے سے بچالیا۔

Sourced through Scoop.it from: urdu.shafaqna.com

رپورٹ بشکریہ شفقنا نیوز ایجنسی

See on Scoop.itparachinarvoice

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک، وزیراعلی پرویز خٹک کی ہٹ دھرمی

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک۔۔۔۔

تیرہ فروری دوہزار پندرہ کو حیات آباد پشاور میں واقع شیعہ مسلمانوں کی مسجد ،امامیہ مسجد پر یکے بعد تین خود کش حملے ہوئے جس میں دو درجن سے زائد افراد شہید اور پانچ درجن سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔۔ حملے کے بعد صوبائی حکومت نے امامیہ مسجد انتظامیہ کیساتھ کئی مطالبات پر اتفاق کیا اور وعدہ کیا کہ تما م تر مطالبات بہت جلد پورے کئے جائینگے لیکن آج تک وہ مطالبات پورے نہیں کئے گئے بلکہ ستم ظریفی تو یہ ہے۔ کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا جناب پرویز خٹک کو ملاقات کے لئے کئی بار درخواستیں لکھے لیکن وزیر اعلی صاحب کے پاس امامیہ مسجد انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کے لئے ٹائم ہی نہیں۔ امامیہ مسجد پر حملےکو ایک سال پورا ہونے کو ہے۔ لیکن صوبائی حکومت ہر وعدے سے تقریبا پیچھے ہٹ چکی ہے۔

میں عوامی نیشنل پارٹی کا اس لئے حامی ہو۔ کہ اگر وہ وعدہ پورا نہیں کرسکتے ملاقات تو کر لیتے ہیں۔ لیکن پروٹوکول اور کرپشن ختم کرنے کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے عوام سے ملاقات کے لئے بھی ٹائم نہیں دیتے جو کہ صوبائی حکومت کی منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔

ہم صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے سربراہ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں۔ کہ وہ امامیہ مسجد حیات آباد انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے وعدے پورا کریں۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کوئی دوسرا واقع رونما ہوجائے۔

ہم اُمید کرتے ہیں۔ کہ صوبائی حکومت اور عمران خان صاحب اس نازک معاملے کو توجہ دیں گے
اور شیعہ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہیں کرینگے۔۔۔

تفرقہ بازی مٹاؤ۔۔۔۔ انسانیت اور امن پھیلاؤ

بخدا۔۔۔۔ مزہ تفرقہ بازی اورایک دوسرے کے خلاف فتوے دینے میں نہیں جتنا کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جینے میں ہے۔ آئیں ایک دوسرے کے ساتھ نیک سلوک کریں نہ کہ مذہب اور فرقے کے نام پر شجرکاری کریں۔۔۔۔

See on Scoop.itparachinarvoice

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک، وزیراعلی پرویز خٹک کی ہٹ دھرمی

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک۔۔۔۔

تیرہ فروری دوہزار پندرہ کو حیات آباد پشاور میں واقع شیعہ مسلمانوں کی مسجد ،امامیہ مسجد پر یکے بعد تین خود کش حملے ہوئے جس میں دو درجن سے زائد افراد شہید اور پانچ درجن سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔۔ حملے کے بعد صوبائی حکومت نے امامیہ مسجد انتظامیہ کیساتھ کئی مطالبات پر اتفاق کیا اور وعدہ کیا کہ تما م تر مطالبات بہت جلد پورے کئے جائینگے لیکن آج تک وہ مطالبات پورے نہیں کئے گئے بلکہ ستم ظریفی تو یہ ہے۔ کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا جناب پرویز خٹک کو ملاقات کے لئے کئی بار درخواستیں لکھے لیکن وزیر اعلی صاحب کے پاس امامیہ مسجد انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کے لئے ٹائم ہی نہیں۔ امامیہ مسجد پر حملےکو ایک سال پورا ہونے کو ہے۔ لیکن صوبائی حکومت ہر وعدے سے تقریبا پیچھے ہٹ چکی ہے۔

میں عوامی نیشنل پارٹی کا اس لئے حامی ہو۔ کہ اگر وہ وعدہ پورا نہیں کرسکتے ملاقات تو کر لیتے ہیں۔ لیکن پروٹوکول اور کرپشن ختم کرنے کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے عوام سے ملاقات کے لئے بھی ٹائم نہیں دیتے جو کہ صوبائی حکومت کی منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔

ہم صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے سربراہ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں۔ کہ وہ امامیہ مسجد حیات آباد انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے وعدے پورا کریں۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کوئی دوسرا واقع رونما ہوجائے۔

ہم اُمید کرتے ہیں۔ کہ صوبائی حکومت اور عمران خان صاحب اس نازک معاملے کو توجہ دیں گے
اور شیعہ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہیں کرینگے۔۔۔

تفرقہ بازی مٹاؤ۔۔۔۔ انسانیت اور امن پھیلاؤ

بخدا۔۔۔۔ مزہ تفرقہ بازی اورایک دوسرے کے خلاف فتوے دینے میں نہیں جتنا کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جینے میں ہے۔ آئیں ایک دوسرے کے ساتھ نیک سلوک کریں نہ کہ مذہب اور فرقے کے نام پر شجرکاری کریں۔۔۔۔

See on Scoop.itparachinarvoice

Scores of Takfiri militants have left for Syria from Kurram Agency to join ISIL, Daesh through their local facilitators. By Shafique Ahmed Turi

Scores of Takfiri militants have left for Syria from Kurram Agency to join Daesh through their local facilitators and are fighting against the forces loyal to Syrian President Bashar al-Assdad.

According to reliable information, a local chapter of the banned sectarian outfit, Lashk-e-Janghvi (LeJ) is playing a key role in sending the local people to Syria for the so-called Jihad and so far more than 1000 people have joined Daesh in war-torn Syria.

Haji Bakht Jamal Bangash, a resident of Boshehra, Parachinar Kurram Agency is the key facilitator who is secretly facilitating and sending the militants to Syria. Bakht Jamal, formerly associated with TTP is now secretly heading the local chapter of LeJ to engineer sectarian conflict in Parachinar, a Shia majority tribal belt bordering Afghanistan.

Eid Nazar, resident of Gobazana, who has a history for his notorious role in creating 1996 and 2007 sectarian conflicts in Parachinar, is another important character who has developed links with Daesh across the border in Afghanistan. Nazar, who was previous heading the local chapter of Sipah-e-Sahaba is now recruiting the locals for Daesh.

Dawlat Khan, a member of the Khorasan chapter of Daesh and is also playing an important role in recruiting and sending the militants to Syria to fight against the Syrian Arab Army.

Major Mast Gul, previous associated with Lashkar-e-Taiba has now joined forces with Daesh. Gul has been involved in terrorists attacks and bomb blasts against the local Shiites in Parachinar.

Fazal Saeed Haqqani, previous TTP Amir for Kurram Agency and later formed his own terror faction, is also recruiting the local people for Daesh and is a potential threat to the country’s security.

Haqqani who belongs to Uchat village of Lower Kurram Agency has a history of killing and kidnapping Shiites community members and was pardoned by the security establishment when an operation was launched in central Kurram against TTP.

Advocate Mir Zaman Bangash, resident of village Boshehra, is the legal council for almost all local militants who pursue the cases of terrorism against them in the courts.

See on Scoop.itparachinarvoice

Scores of Takfiri militants have left for Syria from Kurram Agency to join ISIL, Daesh through their local facilitators. By Shafique Ahmed Turi

Scores of Takfiri militants have left for Syria from Kurram Agency to join Daesh through their local facilitators and are fighting against the forces loyal to Syrian President Bashar al-Assdad.

According to reliable information, a local chapter of the banned sectarian outfit, Lashk-e-Janghvi (LeJ) is playing a key role in sending the local people to Syria for the so-called Jihad and so far more than 1000 people have joined Daesh in war-torn Syria.

Haji Bakht Jamal Bangash, a resident of Boshehra, Parachinar Kurram Agency is the key facilitator who is secretly facilitating and sending the militants to Syria. Bakht Jamal, formerly associated with TTP is now secretly heading the local chapter of LeJ to engineer sectarian conflict in Parachinar, a Shia majority tribal belt bordering Afghanistan.

Eid Nazar, resident of Gobazana, who has a history for his notorious role in creating 1996 and 2007 sectarian conflicts in Parachinar, is another important character who has developed links with Daesh across the border in Afghanistan. Nazar, who was previous heading the local chapter of Sipah-e-Sahaba is now recruiting the locals for Daesh.

Dawlat Khan, a member of the Khorasan chapter of Daesh and is also playing an important role in recruiting and sending the militants to Syria to fight against the Syrian Arab Army.

Major Mast Gul, previous associated with Lashkar-e-Taiba has now joined forces with Daesh. Gul has been involved in terrorists attacks and bomb blasts against the local Shiites in Parachinar.

Fazal Saeed Haqqani, previous TTP Amir for Kurram Agency and later formed his own terror faction, is also recruiting the local people for Daesh and is a potential threat to the country’s security.

Haqqani who belongs to Uchat village of Lower Kurram Agency has a history of killing and kidnapping Shiites community members and was pardoned by the security establishment when an operation was launched in central Kurram against TTP.

Advocate Mir Zaman Bangash, resident of village Boshehra, is the legal council for almost all local militants who pursue the cases of terrorism against them in the courts.

See on Scoop.itparachinarvoice

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ شفیق طوری

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ جن کے سہولت کار نام ولدیت اور مستقل پتہ درجہ ذیل ہیں !
1۔ پاراچنار کے گاؤں بوشہرہ کا رہائیشی حاجی بخت جمال بنگش دولت اسلامیہ کا پہلا سہولت کار ہے جو دولت اسلامیہ کیلئے بھرتی کرتا ہے

2۔ پاراچنار کے گاؤں گوبازنہ کے رہائشی عید نظر المعروف یزید نظر دوسرا داعش سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے، یاد رہے یزید نظر کا تعلق کالعدم اہل سنت والجماعت سے ہے اور اسے پہلے سپاہ صحابہ کے سرگرم رکن رہے ہیں جنہوں نے دو ہزار سات کے پاراچنار فسادات کے بیج بوئے ۔

3 ۔ کرم ایجنسی کا دولت خان تکفیری گروپ دولت اسلامیہ خراسان کا نیا کمانڈر ہے وہ بھرتی کرتا ہے۔

4۔ میجر مست گل جو پہلے لشکر طیبہ کیساتھ کشمیر میں جہاد کرتے رہے اب دولت اسلامیہ کیساتھ مل چکا ہے اور پاراچنار بم دھماکوں سمیت پاکستان فوج کے اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔

5۔ پاراچنار کے گاؤں اُچت کا فضل سعید حقانی طالبان کے سرغنہ اور داعشی سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے اور ⁦پاکستان آرمی اور دیگر ایجنسیوں نے انکے ذمے سارے خون معاف کئیے ہیں⁩ جو نہتے پاراچنار والوں کو اغوا کے بعد قتل کرتا رہا اور شیعہ نوجوانوں کے سر ، پیر اور ہاتھ کاٹ کر پاراچنار ارسال کرتا رہا، جبکہ کرم ملیشیا اور لیویز خاموش تماشائی بنے رہے، یاد رہے کرم ملیشیا کے کرنل ۔۔۔۔۔ بھی فضل سعید حقانی کیساتھ ملا ہوا تھا۔ اس وقت!
6۔ گاؤں بوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ میر زمان بنگش تقریباً تمام دہشتگردوں کے قانونی مشیر ہیں ۔
مزید معلومات درکار ہیں کمنٹ میں لکھیں۔

See on Scoop.itparachinarvoice