سرزمین حجاز اور ایران سے ہوتی ہوئی کرم ایجنسی پاراچنار تک پھیلی دہشتگردی کی مختصر کہانی۔ شفیق احمد

Political, religious 
مذہب پرستی، فرقہ پرستی، نسل پرستی اور قبائلی جھگڑے کوئی نئی بات نہیں، حق اور باطل کی پہلی لڑائی حضرت آدم کے بیٹوں قابیل اور ہابیل سے شروع ہو کر ابراہیم و نمرود اور آنحضرت صلی اللہ و صلعم اور ابوجہل سے ہوتا ہوا کربلا پر ختم نہیں ہوئی بلکہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے کونے کونے میں لڑی جا رہی ہے اور جب تک دنیا میں ظلم اور جہل باقی ہے یہ لڑائی جاری رہی گی۔
اسلام میں فرقہ پرستی اور نسل پرستی ساتھ ساتھ چلتی آ رہی ہے۔ جو جنگ بدر سے شروع ہو کر کربلا میں عروج کی حدود چھونی والی لڑائی ایک نئی سمت اختیار کر گئی اور بنی ہاشم اور بنی امیہ کی جنگ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں مسلمانوں کے درمیان اُسی شدت سے لڑی جا رہی ہے جیسے کہ اُحد میں رسول اللہ صلعم کے چچا جناب آمیر حمزہ کا کلیجہ چھبانے والے آج بھی کلیجے چھبانے میں ہچہچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور یزید نے کربلا واقعے کے بعد دیگر ممالک کے سفیروں کے سامنے رسول اللہ کے نواسے امام حسین کے دانت چھڑی سے چھیڑتے ہوئے شعر پڑھتے رہے کہ آج اپنے اباء و اجداد کے بدر میں قتل کا بدلا لے لیا ہے۔ جسکی تازہ مثال شام میں داعش نے تازہ کردی اور کربلا میں تنوں سے سر جدا کرنے والے آج بھی قسم قسم کے آرے، چھری، چاقو، چھاڑے اور تلواروں سے گردنی زنی کرتے نظر آتے ہیں جو پاکستان اور افغانستان سے لیکر شام، عراق، نائجیریا، لیبیا وغیرہ اور ایک برادر اسلامی ملک میں سرکاری سطح پر ہوتی نظر آتی ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں یہ بیج اُموی دور میں بونے شروع کردئیے گئے جب حجاج بن یوسف کے دور میں محمد بن قاسم، بنی ہاشم کے بچے کچے افراد کا پیچھا کرتے ہوئے سندھ تک پہنچے تو اسلام بھی یہاں پہنچا اور اسلام کے جھگڑے بھی۔
محمود غزنوی کے والد سبکتگین کے دورِ حکومت میں جب ہندوستان کے راجہ جے پال نے افغانستان پر لشکر کشی کی تو وادئِ کرم میں انہیں طوری اور بنگش قبائل نے روک کر زبردست جنگ لڑی اور راجہ جے پال کی افواج نہ صرف وادئِ کرم سے غزنی اور کابل میں داخل ہونے میں ناکام رہے بلکہ انہیں بدترین شکست سے دوچار کرکے واپس پنجاب بھاگنا پڑا۔ لیکن محمود غزنوی نے پہلے دو حملوں میں ملتان اور گرد و نواح میں قائم اسماعیلی قرامطہ سلطنت ختم کرکے ہندوستان میں شیعہ آبادی کا پہلی بار قتل عام کیا، اور بچی کچی آبادی کا صفایا شہاب الدین غوری نے کیا۔
مغلیہ دور ابتداء میں تعصبات سے اسلئے بالاتر تھا کیونکہ ایران کی صفوی بادشاہ نے قزلباش جنگجو بھیج کر بابر کی بھرپور معاونت کی اور مغل حکمران ایک وسیع و عریض سلطنت قائم کرنے کے قابل ہوئے، لیکن بأثر تکفیری علماء کے ایما پر کھبی کھبی مغل بادشاہ مقبرے اُکھاڑتے رہے جیسے کہ اکبر بادشاہ نے میر مرتضی شیرازی کا مقبرہ اُکھاڑا اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کرتے رہے جیسے کہ جہانگیر بادشاہ نے نور اللہ شُستری جو کافی عرصہ ہندوستان کے چیف جسٹس رہے لیکن پھر بھی شاہی غضب کا شکار ہوئے اور قتل کر دیئے گئے۔
مغل بادشاہ محمد شاہ کے وقت اودھ کے شیعہ گورنر برہان الملک سعادت علی خاں نیشاپوری بہت طاقتور ثابت ہوئے اور فیض آباد سے خاندانِ اودھ کے حکمرانی کی بنیادیں رکھ دیں جو مغل سلطنت کیساتھ ساتھ زوال پزیر ہوتی ہوئی انگریزوں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔
انگریز دور میں چونکہ سنی شیعہ دونوں برابر غلام تھے اسلئے حالات بہتر رہے لیکن انگریزوں نے کھبی بھی قبائلی علاقوں میں قدم نہیں جمائے، انگریز آتے رہے اور وزیر، محسود، یوسفزئی، مہمند اور طوری قبائل سے مار کھاتے رہے۔ لکھنؤ میں انیسویں صدی کے پہلے تین عشروں میں پانچ دفعہ بڑے پیمانے پر شیعہ سنی فسادات ہوئے اور ان فسادات کی آگ نے اس وقت کرم ایجنسی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جب لکھنؤ سے وہ سنی اور شیعہ واپس ہوئے جو ان فسادات میں حصہ لینے گئے تھے، لہٰذا انیس سو تیس میں کرم ایجنسی کے تمام سنی قبائل نے شیعہ آبادی پر لشکر کشی کی اور قتل عام کیا۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں بچا سقاؤ جیسا سفاک نیم خواندہ مولوی حکمرانی کررہا تھا، بچا سقاؤ کا دور افغانستان میں طالبان کے مُلا عمر کے دور سے بھی زیادہ رجعت پسند اور ظالم دور تھا اور افغانستان ظلم کے زنجیروں میں جھکڑا ہوا تھا، عین اسی وقت پر نادرشاہ، باچا سقاؤ کے افغانستان امارت پر حملہ آور ہوئے تو طوری اور بنگش قبائل نے نادرشاہ کا ساتھ دیا اور طوری قبیلہ مزید مشکلات سے دوچار رہا۔
۱۸۹۰ء میں افغانستان کے متعصب حکمرانوں بچہ سقا اور امان اللہ خان کے مسلسل ظلم ستم سے تنگ آکر طوری قبیلے نے طویل جدوجہد کے بعد انگریزوں کیساتھ مل کر کرم ایجنسی کو متحدہ ہندوستان میں شامل کرلیا تھا اورڈیورنڈ لائن کی اس پار انگریزوں نے طوری قبیلے کے حفاظت کیلئے ۱۸۹۳ء میں طوری میلشیا کے نام سے قبائلی ملیشیا بنایا جو بعد میں کرم ملیشیا بن گیا اور ۱۹۴۸ء میں قائد اعظم کے اصرار پر دیگر ایجنسیوں کی طرح پاکستان کیساتھ الحاق کیا ۔
کرم ایجنسی میں موجود سب سے بڑا قبیلہ طوری قبیلہ جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور بنگش بھائیوں کیساتھ مل کر اکثریت میں ہیں، ضیاالحق کے سخت گیر اسٹیبلشمٹ کو قبول رہے اور نہ ہی علاقے کی دیگر سنی قبائل کو قابل قبول رہے۔ مذہبی اور مسلکی منافرت کے علاوہ یہاں چونکہ شیعہ سنی ساتھ ساتھ رہے ہیں تو زمین ، پہاڑ اور پانی کے جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں جو بعد میں مذہبی اور مسلکی لڑائی میں بدل کر علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور یہاں کے اکثریتی شیعہ آبادی کو مسلکی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لہٰذا کرم ایجنسی میں دہشتگردی صرف ایرانی انقلاب یا افغانستان انقلاب سے جوڑنا حقیقت نہیں لیکن “مردِ مومن مردِ حق” ضیاالحق کے پالیسیوں اور ایران انقلاب کے بعد اس میں تیزی ضرور آئی ہے۔ پاکستان میں ایران اور خمینی کے پہلے نمائیندہ عارف حسین الحسینی کا تعلق پاراچنار سے تھا جو پاکستان کے اُفق پر ضیاالحق کے دور میں نمودار ہوئے جبکہ عارف الحسینی سے پہلے زکواة کے معاملے پر اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کا فیصلہ کن معرکہ مفتی جعفر حسین نے سر کیا جب مطلق العنان آمر نے گھٹنے ٹیک دئیے اور مفتی جعفر حسین اور ساتھیوں نے ہی پاکستان میں سیاسی جدودجہد جاری رکھنے کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کی بنیاد رکھی، جبکہ عارف الحسینی انکے دست راست بنے رہے۔ بعض نام نہاد مبصرین اور کالم کار تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں موجود اقلیتی شیعہ مسلک نے یہ تحریک پاکستان میں ایران طرز کا خمینی انقلاب لانے کیلئے بنایا تھا جو تاریخی بددیانتی ہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ پاکستان میں صرف شیعہ اقلیتی مسلک کی تحفظ اور خدمت کیلئے بنایا گیا پہلا پلیٹ فارم تھا۔
۱۹۲۹-۲۸، ۱۹۵۰ اور ۱۹۵۶ء کے خونریز لڑائیوں کے علاوہ میرے سامنے جو خونریز لڑائی ہوئیں انکا مختصر تاریخ یہ ہے۔
۱۹۸۱-۸۲ میں کرم ایجنسی کے سارے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر صدہ قصبہ میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور دادو حاجی کے سارے خاندان کو ہلاک کیا گیا اور صدہ قصبے سے شیعہ آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیاگیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔ کیونکہ اس وقت تک انگریز کا بنایا گیا کرم ملیشیا وادی کرم میں موجود تھا لہٰذا جنگ صدہ تک ہی محدود رہی اور ایجنسی کے دیگر علاقوں تک نہیں پھیلنے دی گئی۔ یاد رہے کرم ملیشیا صرف طوری قبیلہ پر مشتمل نہیں تھا بلکہ اس میں منگل، مقبل، بنگش سمیت ایجنسی کے سارے قبائل کو متناسب نمائیندگی موجود تھی جو کہ اپنے، اپنے علاقے کے امن قائم رکھنے کے ذمہ تھی۔ اس وقت تک ایران کا کوئی مولوی پاکستان میں موجود تھا اور نہ ہی پاراچنار میں۔ بدقسمتی سے ضیااء لحق کے فرقہ ورانہ پالیسیوں کا شکار ہو کر کرم ملیشیا کو برطرف کرکے پورے پاکستان میں پھیلایا گیا، علاقے کو آگ و خون میں نہلایا گیا اور سرسبز وشاداب ، حسین و جمیل اور جنت نظیر وادئِ کرم کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جو آج تک نہیں نکل سکا۔
۱۹۸۷-۸۸ ضیاءالحق کے دور میں شیعہ مسلک کے روح رواں اور ملت جعفر یہ کے صف اوّل کے رہنما تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کے روح رواں علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا اور علاقے کے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر مقامی شیعہ آبادی پر حملہ کردیا جو صدہ قصبے سے ہوتے ہوئے بالش خیل اور ابراہیم زئی جیسے بڑے گاؤں کو روندتے اور جلاتے ہوئے سمیر گاؤں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور بعد میں طوری لشکر نے پسپا کرکے واپس صدہ کی طرف دھکیل دیا لیکن دسیوں گاؤں جلائے گئے اور لوٹے گئے، امام بارگاہیں اور مساجد مسمار کردی گئیں۔ ۱۷ دن پر محیط لڑائی میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے جبکہ پاک فوج اور پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ تماشا دیکھتی رہی۔
۱۹۹۶ء میں رسول اللہ صلعم کے چچا اور حضرت علی کے والد حضرت ابو طالب کی توہین کی گئی اور مقامی شیعہ آبادی کو اشتعال دلا کر خونریز جنگ کا آغاز کیا گیا جو کئی ہفتے تک جاری رہا ہائی سکول پاراچنار میں اسکے پرنسپل اسرار حسین کو قتل کیا گیا جسے بعد صدارتی تمغہ دیا گیا، اسکے بعد کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو محصور کیا گیا اور انکے لئے پاراچنار تک رسائی کے صرف ایک راستے ٹل پاراچنار روڈ کو بند کیا گیا اور پاراچنار پاکستانی غزا میں تبدیل ہوا۔
۲۰۰۱ء میں پھر فرقہ ورانہ فسادات شروع ہوئے اور پیواڑ پھر لشکر کشی کی گئ، پیواڑ کے مختلف گاؤں سمیت مرکزی امام بارگاہ پر بمباری کئ گئی جس میں درجنوں لوگ قتل کیئے گئے۔
۲۰۰۷ میں طالبان نے انجمن سپاہ صحابہ (جو کہ اب اہل سنت والجماعت کے نام سے مصروف بہ جہاد ہے) پاراچنار کے سیکریٹری جنرل عید نظر المعروف “یزید نظر” کیساتھ ملکر ۱۲ ربیع الاول کے عید میلاد النبی کے جلوس میں “حسین مردہ باد اور یزید زندہ باد” کے نعرے لگا کر فرقہ ورانہ جنگ کا آغاز کیا یہ ایک منظم اور منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ تھا جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوئے، بڑی تعداد میں القاعدہ جنگجوؤں کیساتھ ساتھ طالبان کے حکیم اللہ محسود اور منگل باغ نے جنگ کی کمان سنبھالی اور وزیرستان سے لیکر خیبر تک کے سنی قبائل کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی پر حملہ آور ہوئے۔ القاعدہ اور طالبان کے سینکڑوں نہایت مستعد اور ماہر نشانہ بازوں نے پارچنار شہر میں اہل سنت والجماعت کا واحد مسجد سب سے بڑا مورچہ نہیں بلکہ قلعے میں تبدیل کردیا تھا جس سے پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری شروع کر دی گئی اور ارد گرد کے سارے شہر کیلئے مسجد کے میناروں میں لگائی گئی مشین گنیں ہی کافی تھیں۔ لہذا سینکڑوں قتل ہوئے اور امام بارگاہ سمیت آدھے پاراچنار شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری وادی میدان جنگ میں تبدیل ہوئی اور پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ صدہ کے مین بازار میں شیعہ افراد گاڑیوں سے اتارے گئے اور انکے ہاتھ پیر کاٹ کر پاراچنار بھیج دیئے گئے جنہوں آگ پر پٹرول کا کام کیا اور خونریز لڑائیاں شروع ہوئیں جو پانچ سال تک جاری رہی۔ پاراچنار کو پاکستان سے ملانے والا واحد شاہراہ کئی سال تک بند رہا اور پاراچنار فلسطین اور غزا میں تبدیل ہوا۔ تین سال پاراچنار کا محاصرہ جاری رہا اور طوری بنگش قبائل افغانستان کے راستے تیس گھنٹے پُرخطر سفر کرنے پر مجبور ہوئے تھے، بہت سے لوگ راستے سے اغوا کرکے قتل کئے گئے، بعض لوگ بھاری تاوان دیکر چھڑائے گئے اور کچھ ابھی بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔ بچے ادویات اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مرنے لگے اور لوگ فاقے کاٹنے پر مجبور ہوئے۔ یاد رہے عید نظر کالعدم سپاہ صحابہ کا سرگرم رکن تھا اور اب اہل سنت والجماعت کا سرگرم رکن ہے جس طرح دیگر سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے لوگ اہل سنت والجماعت کے چھتری تلے جمع ہوئے ہیں ۔ اسکے علاوہ جہاد کشمیر کے ہیرو اور لشکر طیبہ کے میجر مست گل بھی آجکل پاراچنار سے متعلق خبروں میں جلوہ گر ہو رہے ہیں اور مرکزی مسجد و امام بارگاہ کے پیش امام نواز عرفانی کے اسلام آباد میں ہونے والے قتل میں دیگر دہشتگردوں کیساتھ انکا بھی نام لیا جاتا رہا ہے۔
اسکے بعد پاراچنار میں ہے درپے خودکش دھماکے شروع کردئیے گئے جس میں سینکڑوں لوگ قتل کئے گئے جس میں ۲۰۰۸ کے انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کے اُمیدوار ڈاکٹر ریاض حسین شاہ کے جلسے پر خودکش حملہ بھی شامل ہے جس میں ڈاکٹر ریاض تو بچ گئے لیکن ایک سو سے زیادہ لوگ قتل ہوئے، ڈاکٹر ریاض شاہ کو بعد میں پشاور کے بھرے بازار میں دن دیہاڑے قتل کیا گیا۔ اور پاراچنار کے مشہور ماہر تعلیم سید رضی شاہ اور پیر عسکر علی شاہ کو اغوا کرکے قتل کیا گیا۔ پارچنار کے علاوہ کراچی، پشاور اور افغانستان کے راستے پاراچنار جاتے ہوئے لوگوں کو بھی خودکش دھماکوں، نسب شدہ بموں اور ٹارگٹ جاری رہی۔
۲۰۱۱ میں آخری فرقہ ورانہ فسادات شلوزان تنگی اور خیواص میں ہوئے جب خیواص گاؤں پر حملہ کرکے جلایا گیا، ایک سو سے زیادہ لوگ قتل کئے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
آخری خودکش دھماکہ عیدگاہ میں ہوا جس میں ۲۳ افراد جاں بحق ہوئے اور دسیوں زخمی ہوئے تو کالعدم لشکر جھنگوی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے شام کے لڑائی سے جڑنے کی ناکام کوشش کی لیکن صرف لشکر جھنگوی نہیں جو لوگوں کو گمراہ کررہی ہے بلکہ پاکستان اور ہندوستان میں بلاگرز اور کالم نگاروں کا ایک کھیپ تیار ہوا ہے جو شدت پسند دیوبندی نظریات کے حامل ہیں اور ضیاالحق دور میں ان کالم نگاروں کی خوب آبیاری کی گئی، جو ہر دھماکے کے بعد ایران اور شام کا ورد کرتے رہتے ہیں جبکہ شام کی لڑائی ۲۰۱۱ سے شروع ہوئی ہے اور ایران کا انقلاب ۱۹۸۹ کا قصہ ہے، جبکہ کرم ایجنسی میں دہشتگردی سینکڑوں سال سے ہو رہی۔ اس دھماکے میں ایک طرف چوبیس افراد شہید ہوئے لیکن ایک گھرانہ پورے کا پورا برباد ہوا، بغکی نامی گاؤں کے گوہر علی اپنے دو بیٹوں قیصر علی اور نعمان علی سمیت شہید ہوئے۔
کہتے ہیں کہ پاراچنار سے شیعہ بڑی تعداد میں ایران کی مدد کیلئے شام میں لڑنے جا رہے ہیں۔ تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں طالبان، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ سمیت جہادی تنظیموں، القاعدہ اور داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ جن کے سہولت کار نامی گرامی اور مختلف سیاسی اور مذہبی پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور کھبی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار تھے۔ ‎پاکستان سے داعش کیلئے بھرتی جاری ہے اور بھرتی کے بعد شام، یمن اور دوسرے ممالک بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اور کرم ایجنسی سمیت کوہاٹ، کرک، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اور دیگر علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں جنگ زدہ ممالک شام، عراق، لیبیا اور یمن میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس سارے سلسلے کا ٹھیکہ مولانا شاہ عبدالعزیز نے لیا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو تکفیری دہشتگرد گروہوں کی مدد کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز اور جاوید ابراہیم پراچہ کا نام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، کیونکہ مولانا کے طالبان، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی سمیت لال مسجد کے تکفیری مولانا عبدالعزیز سے قریبی مراسم ہیں اسلیئے اب یہ سب تعلقات استعمال کرتے ہوئے داعش کیلئے بھرتیا کررہا ہے۔کرم ایجنسی، پاراچنار کے گاؤں بوشہرہ کا رہائیشی حوالدار بخت جمال بنگش دولت اسلامیہ کا پہلا سہولت کار ہے جو دولت اسلامیہ کیلئے بھرتی کرتا ہے، ‎پاراچنار کے گاؤں گوبازنہ کے رہائشی عید نظر دوسرا داعش سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے، یاد رہے
‏‎کرم ایجنسی کا دولت خان تکفیری گروپ دولت اسلامیہ خراسان کا نیا کمانڈر ہے وہ بھرتی کرتا ہے۔ میجر مست گل جو پہلے لشکر طیبہ کیساتھ کشمیر میں جہاد کرتے رہے اب دولت اسلامیہ کیساتھ مل چکا ہے اور پاراچنار بم دھماکوں سمیت پاکستان فوج کے اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔ لوئر کرم کے گاؤں اُچت کا فضل سعید حقانی طالبان کے سرغنہ اور داعشی سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے اور پاکستان آرمی اور دیگر ایجنسیوں نے انکے ذمے سارے خون معاف کئیے ہیں جو نہتے پاراچنار والوں کو اغوا کے بعد قتل کرتا رہا اور شیعہ نوجوانوں کے سر ، پیر اور ہاتھ کاٹ کر پاراچنار ارسال کرتا رہا، جبکہ کرم ملیشیا اور لیویز خاموش تماشائی بنے رہے۔ گاؤں بوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ میر زمان بنگش تقریباً تمام دہشتگردوں کے قانونی مشیر ہیں۔
پاراچنار کے طوری اور بنگش قبائل (شیعہ) اب پرانے زمانے کے بدو قبائل نہیں رہے، کرم ایجنسی میں تعلیم پاکستان کے مقابلے کافی زیادہ ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں شخصیات پیدا کیئے ہیں اور پاک افواج کے جنرل جمال سید میاں سے لے کر ائیر چیف مارشل (ریٹائرڈ) سید قیصر حسین شاہ کے علاوہ نامور عالم دین عارف الحسینی، بیوروکریسی میں علی بیگم اور ڈاکٹر غیور اور بہت سارے انکی واضح مثالیں ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹرز، بنکرز، انجینئرز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے امریکہ سے لے آسٹریلیا اور خلیجی ممالک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ محنت کش لوگ ہیں اور وادئِ کرم کی زرخیز زمین سے آلو، گندم، مکئ، ٹماٹر شلجم سمیت مختلف اجناس اور سبزیاں پیدا کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔
روٹی روزی کے پیچھے ڈرائیورز سمیت مزدور طبقہ بڑی تعداد میں خلیجی ممالک کیساتھ ساتھ یورپ، ایران اور عراق میں بھی برسر روزگار ہیں جو رقم کما کر گھر بھیجتے رہتے ہیں اور زرمبادلہ کی صورت میں ملک و قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اور ایران و عراق میں مزدور طبقے سے کچھ بے روزگار اور کچھ اہلبیتؑ پر مر مٹنے والے آخرت سنوارنے کے واسطے شام بھی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
اسلیئے کہتے ہیں کہ غریب کا مذہب روٹی ہے، اگر ان بے روزگار اور غریب و نادار لوگوں کو پاکستان میں روٹی میسر ہوتی تو یہ لوگ ایران جاتے اور نا شام کی خونین لڑائی میں جان ڈالنے کیلئے ایندھن بن جاتے۔
اگر اس پوری تاریخ اور پاکستان کے تاریخ پر سرسری نظر دوڑائیں تو آپ کو پاراچنار کی طوری اور بنگش قبائل کا ایک بھی دہشتگرد نہیں ملے گا۔ پندرہ ہزار کی تعداد میں طوری۔بنگش قبائل متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کی غرض سے رہائش پزیر ہیں لیکن گزشتہ تیس سالوں سے ایک بھی دہشتگردی کے جرم میں ملوث نہیں پائے گئے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہر کوئی اپنی گریبان میں جھانکیں اور مزید حالات سے آنکھیں چرانا بند کریں! آنکھیں چرانے سے آپکے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، سازشوں ، دہشتگردی اور فرقہ واریت کا مل کر مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کریں اور حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے لوگوں میں شعور پیدا کریں۔
کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی مسلک نہیں ہوتا، البتہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھنے والوں کی اکثریت شیعہ مسلک سے ہی ہوتا ہے چاہے کوئٹہ میں ہو یا کراچی لاھور، ڈی آئی خان یا پاراچنار، اور چن چن کر شیعہ سینئیر آفیسرز کو قتل کیا جا رہا ہے۔
‏پاکستانی کے صف اوّل کے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ہر دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاؤں ہمیشہ پاکستانی ہوتے ہیں اور دماغ کا کبھی کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

See on Scoop.itFrom Parachinar The Pakistani Gaza

کرم ایجنسی، پاراچنار: عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو دھمکی۔

Political, religious 
کرم ایجنسی، پاراچنار: اطلاعات کے مطابق اے پی اے لوئر کرم نصراللہ خان کا بالش خیل چیک پوسٹ پر مشران ماہورہ ، بالش خیل اور صدہ کے ساتھ جرگہ ہوا ہے اور عثمانیہ پلازہ کریکر دھماکہ سازش کے سلسلے میں ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہوئے قبائلی مشران کو دھمکی دی ہے کہ اگر ملزمان کو کل بارہ بجے تک حوالے نہ کیا گیا تو اہلیان بالشخیل ،صدہ اور ماہورہ سے گرفتاریاں شروع کی جائیں گی اور ان قبائل جنکا تعلق اکثریت شیعہ مکتبہ فکر سے ہے کے خلاف سخت ترین کاروائی آغاز ہوگا۔
پولیٹیکل انتظامیہ نے کرم ایجنسی میں طالبان، داعش اور لشکر جھنگوی کیخلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے جو ایجنسی میں دہشتگردانہ کارروائی کرتے آ رہے ہیں جنہوں نے انہی شیعہ قبائل کے ہزاروں لوگ قتل کئے ہیں اور پرسوں غوزگڑھی مقبل سی بارودی مواد گاڑی میں بھر کر پاراچنار شہر لایا جا رہا تھا کہ راستے میں ہی پھٹ گیا۔ ان سے پوچھ گچھ ہوئی ہے، نہ کوئی قوم کو ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سپاہ صحابہ (والجماعت) کے عید نظر مینگل اور حوالدار بخت جمال بنگش کرم ایجنسی سے ہزاروں لوگ داعش میں بھرتی کروا رہے ہیں اور پاراچنار کے پاسپورٹ آفس سے روزانہ ان گنت پاسپورٹ بنوا کر یمن، شام اور عراق بھیج رہے ان سے کوئی تحقیق اور نہ کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
لیکن عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو سنگین نتائج دھمکی دے ڈالی۔
کرم ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کو پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ میں فقید المثال شیعہ سنی اتحاد راس نہیں آیا اور ایجنسی کے حالات خراب کرنے کی سازشیں شروع کر دی گئیں۔
اے پی اے صاحب لوئر کرم نصراللہ خان پر پاراچنار میں کل والا جلسہ ناگوار گزارا ہے اسلئے اب دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔ اور پولیٹیکل انتظامیہ فرقہ واریت کی بیج بونا بند کرے۔

See on Scoop.itparachinarvoice

فاٹا ریفارمز کمیٹی کا دورہِ کرم ایجنسی : عمائدین، ٹریڈ یونینز، سیاسی جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے بدنام زمانہ ایف سی آر کیخلاف فیصلہ دے دیا، گورنر ہاؤس گو ایف سی آر گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔

Political FCR
فاٹا ریفارمز کمیٹی کا دورہِ کرم ایجنسی : عمائدین، ٹریڈ یونینز، سیاسی جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے بدنام زمانہ ایف سی آر کیخلاف فیصلہ دے دیا، گورنر ہاؤس گو ایف سی آر گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ 

 پاراچنار: (شفیق طوری کا رپورٹ اور تجزیہ) اعلیٰ سطح فاٹا ریفارمز کمیٹی نے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز کے سربراہی میں پیر اٹھائیس مارچ کو گورنر ہاؤس پاراچنار میں عمائدین کیساتھ جرگہ کیا کمیٹی کے ممبران گورنر خیبر پختونخواہ جناب اقبال ظفر جھگڑا، وفاقی وزیر سفیران جناب عبدالقادر بلوچ وفاقی وزیر زید حامد، قومی سلامتی کے مشیر جناب ناصر جنجوعہ سیکریٹری سفیران جناب ارباب شہزاد کیساتھ ساتھ ایک اعلی سطح ملٹری وفد بھی کمیٹی کیساتھ موجود تھا۔ جبکہ کرم ایجنسی کے منتخب نمائندے ممبر قومی اسمبلی جناب ساجد حسین طوری اور سینیٹر سجاد حسین طوری بھی سٹیج پر براجمان تھے۔ باقاعدہ اجلاس تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا مولانا امیر حمزہ نے قارئین کے دلوں کو تلاوت کلام پاک منور فرمایا۔ جس کے بعد ریفارمز کمیٹی کے ممبران کو فرداً فرداً روایتی قبائلی لونگی پیش کی۔ اسکے بعد سٹیج سیکریٹری جناب پروفیسر جمیل حسین شیرازی نے گورنر خیبر پختونخواہ کو اجلاس سے خطاب کیلئے بلایا۔
گورنر خیبر پختونخواہ نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک تاریخی جرگہ ہے جو قبائل کے مستقبل کا تعین کریگی اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو کریدیٹ دیتے ہوئے ارلی
فاٹا اصلاحاتی کمیٹی نے عمائدین سے ایف سی آر قانون، قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد میں ضم کرنے یا علیحدہ صوبہ بنانے سے متعلق تجاویز پر سیر حاصل بحث کی۔
اصلاحاتی کمیٹی سے کرم ایجنسی کے سرکردہ عمائدین نے خطاب کیا اور اکثریت نے فاٹا سے ایف سی آر جیسے فرسودہ قانون اور کالے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سید سجاد سید میاں نے الفاظ میں ایف سی آر میں آ،انسانی حقوق کیخلاف قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کیا اور وقت کیساتھ ساتھ اس قانون کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی، پیر صاحب کی ان تجاویز کو قبائلی عمائدین نے یکسر مسترد کردیا۔
اصلاحاتی کمیٹی سے دوسرا اور اہم خطاب منیر خان اورکزئی نے فرمایا کہ کرم ایجنسی سمیت فاٹا کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ایف سی آر کو قبائلی عوام مزید برداشت نہیں کرینگے۔ منیر خان صاحب کے خطاب کو قبائلی عوام نے پسند کیا اور تائید کی۔
کرم ایجنسی کے عمائدین میں سے صرف حوالدار بخت جمال بنگش نے ایف سی آر کے حق میں دلائل دینے کی ناکام کوشش کی۔ حوالدار بخت جمال بنگش انجمن فاروقیہ پاراچنار کے سابقہ سیکریٹری جنرل اور اہل سنت والجماعت کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ہیں۔ حوالدار بخت جمال نے کہا کہ اگر ایف سی آر ختم ہوئی تو پاراچنار کے عوام صدہ کے راستے سفر نہیں کرسکیں گے اور اسی طرح بوشہرہ سمیت دیگر علاقوں کے لوگ پاراچنار آنے جانے کے قابل نہیں رہیں گے جو نہایت جاہلانہ اور شر پسندانہ تجویز تھی، حوالدار کو نہایت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب قبائلی مشران نے یک زبان ہوکر بخت جمال کی مخالفت کی اور پورے گورنر ہاؤس نے اعلی سطحی اصلاحاتی کمیٹی کے سامنے کھڑے ہو کر گو ایف سی آر گو کے نعرے لگائے اور بخت جمال کو اپنی تقریر ختم کرکے سٹیج سے بھاگنا پڑا۔
اصلاحاتی کمیٹی سے انجمن حسینیہ پاراچنار کے سیکریٹری جنرل جناب سراج حسین نے خطاب کرتے ہوئے شرکا کی توجہ ایک اہم نقطہ کی طرف مبذول کرائی اور کرم ایجنسی کے منفرد جغرافیہ جو تین اطراف سے ڈیورنڈ لائن یعنی افغانستان نے گھیرا ہے اور کئی دہائیوں سے وقتاً فوقتاً مسلکی جھگڑے سر اُٹھاتے رہے ہیں جن سے کرم ایجنسی کے تحفظ کا مسئلہ لا حق رہتا ہے اور ایجنسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہا ہے۔ اپنی تقریر میں انجمن حسینیہ کے سیکریٹری جنرل نے ایف سی آر کے خاتمے پر زور دیا اور مل بیٹھ کر نئے اور متفق نظام وضع کرنے کی تجویز پیش کی۔
جرگہ سے فخر زمان بنگش کے علاوہ دیگر چند عمائدین نے بھی خطاب کیا لیکن جرگہ کی فیصلہ کن تقریر اقبال حسین طوری (بستو) نے کی اور جسے کرم ایجنسی کی ترجمان تقریر کہا جا سکتا ہے۔ اقبال حسین طوری نے فرمایا کہ ایف سی آر ایک ظالمانہ قانون ہے جو اکیسویں صدی میں انسانوں پر نافذ کرنا انسانیت کی تذلیل ہے۔ اقبال حسین طوری نے اصلاحاتی کمیٹی کو تجویز دی کہ اگر ایف سی آر اتنی اچھی قانون ہے تو پورے پاکستان پر نافذ کریں اگر پاکستان کیلئے یہ قانون قابل قبول نہیں تو پھر قبائلی عوام کسی بھی حوالے سے دیگر پاکستانی عوام سے کم نہیں اور قبائل کو مرکزی دھارے میں شامل کرکے ترقی اور خوشحالی کے مواقع پیدا فراہم کریں۔ اقبال حسین طوری نے پاکستان میں کمیٹیوں کے کردار پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ایک لاحاصل مشق قرار دیا اور فرمایا کہ پاکستان میں جو معاملہ حل نہ کرنے کا سوچ ہو اور معاملات اُلجھانے کا اور فائلوں میں دفن کا پروگرام ہو تو پھر کمیٹی بنائی جاتی ہے لیکن توقع ظاہر کی کہ فاٹا اصلاحاتی کمیٹی اس ٹرینڈ کو ختم کرکے جلد از جلد فیصلہ اور لائحہ عمل تیار کریگی۔ عمائدین کرم ایجنسی نے اقبال حسین طوری کی جرگہ سے خطاب کو تاریخی اور فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے داد دی۔
جرگے سے اختتامی خطاب فاٹا ریفارمز کمیٹی کے سربراہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز نے کی۔ سرتاج عزیز نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ فاٹا کے مستقبل کا تعین انکے اُمنگوں، تجاویز اور مشاورت کیمطابق کیا جائے گا۔
جرگہ کے بعد ایم این اے ساجد حسین سے تفصیلی بات چیت کی جو جرگہ کے انعقاد اور کامیابی سے کافی خوش دکھائی دئیے اور کہا کہ کرم ایجنسی کے عوام نے ایف سی آر کے خاتمے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ ساجد طوری نے فرمایا کہ قبائلی عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور قومی اسمبلی سمیت مختلف کمیٹیوں اور قومی سلامتی کے اداروں کیساتھ ملاقاتوں میں ایف سی آر کیخلاف آواز اُٹھایا ہے۔
سینیٹر سجاد حسین طوری سے بات چیت تو نہیں ہوئی لیکن سٹیج پر بیٹھے انکے حشاش بشاش چہرے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جرگے کے نتیجے سے کافی خوش تھے۔ ایک ہفتہ پہلے اسلام آباد میں سینیٹر سجاد سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی اور انہوں نے فرمایا کہ وہ ہر فورم پر ایف سی آر قانون کیخلاف آواز اٹھاتے رہینگے۔

See on Scoop.itparachinarvoice

پاراچنار کرم ایجنسی میں سنی شیعہ اتحاد کا عملی مظاہرہ

Politics, religion 
کرم ایجنسی: پاراچنار سے بہت بڑی خبر۔ اس سے بڑی خوشی نہیں ہو سکتی جب سنی اور شیعہ علماء متفق طور پر جلسوں سے خطاب فرمائیں۔
کرم ایجنسی پاراچنار میں سنی اور شیعہ علماء نے دس قدم آگے بڑھتے ہوئے اس اتفاق اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کیا ہے اور دونوں مکتبہ فکر کے علماء سمیت انجمن حسینیہ نے بے نظیر مثال پیش کی ہے۔
اب اس اتفاق اور اتحاد کو مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حسین و جمیل وادئ کرم ایجنسی میں امن و آشتی کی فضا برقرار رہ سکے۔
مرکزی امام بارگاہ پاراچنار میں تین روزہ جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اہل سنت و الجماعت کے مشہور عالم سردار احمد بریلوی مرکزی چیئرمین قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی، علامہ محمدشعیب ، علامہ گلزار حسین اور دیگر علماء سمیت ایجنسی بھر سے ہزاروں کی تعداد میں سامعین نے شرکت کی۔
علماء نے داماد رسول نے دین اسلام کی سربلندی کے لئے شجاعت اور بہادری کے وہ کارنامے انجام دیئے جو رہتی دنیا تک یاد رکهے جائیں گے. علماء نے کہا کہ مسلمانوں کو اتفاق و اتحاد اور حضرت علی علیہ السلام شیر خدا کے نقشِ قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔
جلسے میں انتظامیہ کے اعلی حکام اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اپر کرم ، تحصیلدار اور سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ جلسے کیلئے پولیٹیکل انتظامیہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
تصاویر اور معلومات بشکریہ صحافی دوست محمد علی طوری

See on Scoop.itparachinarvoice

پاک-افغان بارڈر پر حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ شفیق طوری

Political, war
 کرم ایجنسی، پاراچنار پر اگر افغانستان کی طرف سے کسی بھی تکفیری گروہ یا ملی افغان اردو کی طرف سے خدا نخواستہ حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہاں پر موجود کرم ملیشیا اور کرم لیویز ذمہ دار ہیں اور بعد میں پاک فوج ذمہ دار ہے لیکن اب تو پاک فوج کو حالات کی سنگینی کا پتہ لگ چکا ہے تو ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ اور ہم قبائل پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
بوڑکی اور خرلاچی چیک پوسٹوں پر بیٹھے یہ اہلکار روزانہ لاکھوں کروڑوں بنا رہے ہیں اور غیور قبائل کیلئے ایک بوری کھاد بھی چھوڑنے پر راضی نہیں! پھر بھی ہم طوری۔بنگش قبائل اپنی سرزمین کے ایک، ایک انچ کا دفاع کرینگے، کیونکہ کرم ایجنسی کا دفاع ہم تین سو سالوں سے کررہے ہیں، جب پاک فوج نہیں تھی، لیکن پاک فوج کے ہوتے ہوئے طوری بنگش قبائل کو نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے اور 1980, 1987, 1996, 2001 اور 2007 سے لیکر 2011 تک پاراچنار کے خراب ترین صورتحال اور پاراچنار کا طویل محاصرہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔
افغان ملی اردو قبائل کیخلاف کوئی عزائم نہیں رکھتے اور اگر کوئی عزائم ہیں بھی تو انکا تعلق قبائل کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ پاکستان ریاست کو نقصان پہنچانا ہے کیونکہ افغانستان سمجھتا ہے کہ پاکستانی ریاست افغان طالبان کو سپورٹ کرتے ہیں اور افغان طالبان پاکستان کی مدد سے افغانستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور افغانستان میں انتشار پھیلا رہے ہیں لیکن طالبان اور داعش جیسے بدنام زمانہ تکفیری گروہ کسی بھی کارروائی سے دریغ نہیں کرینگے اور معاشرے کہ یہ ناسور ( طالبان، داعش) اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونگے۔ اسکی وجہ ہے۔
پہلی وجہ یہ کہ تککفیری گروہ اپنی ظالمانہ طرز عمل کی وجہ سے دنیا میں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ دوسری یہ کہ کرم ایجنسی میں ہمیشہ انکو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تیسری یہ کہ پہلے پوری پاک فوج انکے ساتھ کھڑی تھی لیکن اب ضیائی باقیات اور تبلیغی جراثیم آلود فوجیوں کے علاوہ پاک فوج انکے خلاف ہے، اور اسکی بھی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان گروہوں نے پاک فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ انکا ٹاکرا سب سے پہلے فوج سے ہوگا۔
پہلے طوری بنگش تکفیری گروہوں کے نشانے پر تھے اب فوج بھی انکے نشانے پر ہے بلکہ اب تکفیری گروہوں کا پہلا نشانہ پاک فوج ہی ہے اور فوجیوں کو قتل کرکے انکے سروں سے فٹبال کھیلتے کون بھول سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ اگر افغان ملی اردو حملہ آور ہوتا ہے یا تکفیری گروہ طالبان و داعش دونوں کا پہلا نشانہ پاک فوج ہوگا، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ قبائل نے نہ انگریز فوج پر تکیہ کیا ہے، نہ افغان اور نہ ہی پاکستان فوج پر، بلکہ مذکورہ بالا افواج نے قبائل کو نقصان کے علاوہ کچھ دیا بھی نہیں اسلئے ان پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا۔
اہم بات یہ کہ پاک فوج پہلے سب طالبان کو اپنے بگڑے ہوئے بچے سمجھ رہے تھے لیکن جب انکے سر کاٹ کر فٹبال کھیلا گیا تو پاک فوج کو اندازہ ہوا کہ طالبان اب صرف ہمارے بچے نہیں رہے بلکہ ہندوستان اور بہت سے اوروں کے بھی بچے ہیں۔

See on Scoop.itparachinarvoice

پاک-افغان بارڈر پر حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ شفیق طوری

Political, war
 کرم ایجنسی، پاراچنار پر اگر افغانستان کی طرف سے کسی بھی تکفیری گروہ یا ملی افغان اردو کی طرف سے خدا نخواستہ حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہاں پر موجود کرم ملیشیا اور کرم لیویز ذمہ دار ہیں اور بعد میں پاک فوج ذمہ دار ہے لیکن اب تو پاک فوج کو حالات کی سنگینی کا پتہ لگ چکا ہے تو ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ اور ہم قبائل پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
بوڑکی اور خرلاچی چیک پوسٹوں پر بیٹھے یہ اہلکار روزانہ لاکھوں کروڑوں بنا رہے ہیں اور غیور قبائل کیلئے ایک بوری کھاد بھی چھوڑنے پر راضی نہیں! پھر بھی ہم طوری۔بنگش قبائل اپنی سرزمین کے ایک، ایک انچ کا دفاع کرینگے، کیونکہ کرم ایجنسی کا دفاع ہم تین سو سالوں سے کررہے ہیں، جب پاک فوج نہیں تھی، لیکن پاک فوج کے ہوتے ہوئے طوری بنگش قبائل کو نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے اور 1980, 1987, 1996, 2001 اور 2007 سے لیکر 2011 تک پاراچنار کے خراب ترین صورتحال اور پاراچنار کا طویل محاصرہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔
افغان ملی اردو قبائل کیخلاف کوئی عزائم نہیں رکھتے اور اگر کوئی عزائم ہیں بھی تو انکا تعلق قبائل کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ پاکستان ریاست کو نقصان پہنچانا ہے کیونکہ افغانستان سمجھتا ہے کہ پاکستانی ریاست افغان طالبان کو سپورٹ کرتے ہیں اور افغان طالبان پاکستان کی مدد سے افغانستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور افغانستان میں انتشار پھیلا رہے ہیں لیکن طالبان اور داعش جیسے بدنام زمانہ تکفیری گروہ کسی بھی کارروائی سے دریغ نہیں کرینگے اور معاشرے کہ یہ ناسور ( طالبان، داعش) اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونگے۔ اسکی وجہ ہے۔
پہلی وجہ یہ کہ تککفیری گروہ اپنی ظالمانہ طرز عمل کی وجہ سے دنیا میں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ دوسری یہ کہ کرم ایجنسی میں ہمیشہ انکو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تیسری یہ کہ پہلے پوری پاک فوج انکے ساتھ کھڑی تھی لیکن اب ضیائی باقیات اور تبلیغی جراثیم آلود فوجیوں کے علاوہ پاک فوج انکے خلاف ہے، اور اسکی بھی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان گروہوں نے پاک فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ انکا ٹاکرا سب سے پہلے فوج سے ہوگا۔
پہلے طوری بنگش تکفیری گروہوں کے نشانے پر تھے اب فوج بھی انکے نشانے پر ہے بلکہ اب تکفیری گروہوں کا پہلا نشانہ پاک فوج ہی ہے اور فوجیوں کو قتل کرکے انکے سروں سے فٹبال کھیلتے کون بھول سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ اگر افغان ملی اردو حملہ آور ہوتا ہے یا تکفیری گروہ طالبان و داعش دونوں کا پہلا نشانہ پاک فوج ہوگا، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ قبائل نے نہ انگریز فوج پر تکیہ کیا ہے، نہ افغان اور نہ ہی پاکستان فوج پر، بلکہ مذکورہ بالا افواج نے قبائل کو نقصان کے علاوہ کچھ دیا بھی نہیں اسلئے ان پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا۔
اہم بات یہ کہ پاک فوج پہلے سب طالبان کو اپنے بگڑے ہوئے بچے سمجھ رہے تھے لیکن جب انکے سر کاٹ کر فٹبال کھیلا گیا تو پاک فوج کو اندازہ ہوا کہ طالبان اب صرف ہمارے بچے نہیں رہے بلکہ ہندوستان اور بہت سے اوروں کے بھی بچے ہیں۔

See on Scoop.itparachinarvoice

فاٹا ریفارمز کمیٹی کا دورہِ کرم ایجنسی : عمائدین، ٹریڈ یونینز، سیاسی جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے بدنام زمانہ ایف سی آر کیخلاف فیصلہ دے دیا، گورنر ہاؤس گو ایف سی آر گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔

Political FCR
فاٹا ریفارمز کمیٹی کا دورہِ کرم ایجنسی : عمائدین، ٹریڈ یونینز، سیاسی جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے بدنام زمانہ ایف سی آر کیخلاف فیصلہ دے دیا، گورنر ہاؤس گو ایف سی آر گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ 

 پاراچنار: (شفیق طوری کا رپورٹ اور تجزیہ) اعلیٰ سطح فاٹا ریفارمز کمیٹی نے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز کے سربراہی میں پیر اٹھائیس مارچ کو گورنر ہاؤس پاراچنار میں عمائدین کیساتھ جرگہ کیا کمیٹی کے ممبران گورنر خیبر پختونخواہ جناب اقبال ظفر جھگڑا، وفاقی وزیر سفیران جناب عبدالقادر بلوچ وفاقی وزیر زید حامد، قومی سلامتی کے مشیر جناب ناصر جنجوعہ سیکریٹری سفیران جناب ارباب شہزاد کیساتھ ساتھ ایک اعلی سطح ملٹری وفد بھی کمیٹی کیساتھ موجود تھا۔ جبکہ کرم ایجنسی کے منتخب نمائندے ممبر قومی اسمبلی جناب ساجد حسین طوری اور سینیٹر سجاد حسین طوری بھی سٹیج پر براجمان تھے۔ باقاعدہ اجلاس تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا مولانا امیر حمزہ نے قارئین کے دلوں کو تلاوت کلام پاک منور فرمایا۔ جس کے بعد ریفارمز کمیٹی کے ممبران کو فرداً فرداً روایتی قبائلی لونگی پیش کی۔ اسکے بعد سٹیج سیکریٹری جناب پروفیسر جمیل حسین شیرازی نے گورنر خیبر پختونخواہ کو اجلاس سے خطاب کیلئے بلایا۔
گورنر خیبر پختونخواہ نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک تاریخی جرگہ ہے جو قبائل کے مستقبل کا تعین کریگی اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو کریدیٹ دیتے ہوئے ارلی
فاٹا اصلاحاتی کمیٹی نے عمائدین سے ایف سی آر قانون، قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد میں ضم کرنے یا علیحدہ صوبہ بنانے سے متعلق تجاویز پر سیر حاصل بحث کی۔
اصلاحاتی کمیٹی سے کرم ایجنسی کے سرکردہ عمائدین نے خطاب کیا اور اکثریت نے فاٹا سے ایف سی آر جیسے فرسودہ قانون اور کالے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سید سجاد سید میاں نے الفاظ میں ایف سی آر میں آ،انسانی حقوق کیخلاف قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کیا اور وقت کیساتھ ساتھ اس قانون کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی، پیر صاحب کی ان تجاویز کو قبائلی عمائدین نے یکسر مسترد کردیا۔
اصلاحاتی کمیٹی سے دوسرا اور اہم خطاب منیر خان اورکزئی نے فرمایا کہ کرم ایجنسی سمیت فاٹا کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ایف سی آر کو قبائلی عوام مزید برداشت نہیں کرینگے۔ منیر خان صاحب کے خطاب کو قبائلی عوام نے پسند کیا اور تائید کی۔
کرم ایجنسی کے عمائدین میں سے صرف حوالدار بخت جمال بنگش نے ایف سی آر کے حق میں دلائل دینے کی ناکام کوشش کی۔ حوالدار بخت جمال بنگش انجمن فاروقیہ پاراچنار کے سابقہ سیکریٹری جنرل اور اہل سنت والجماعت کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ہیں۔ حوالدار بخت جمال نے کہا کہ اگر ایف سی آر ختم ہوئی تو پاراچنار کے عوام صدہ کے راستے سفر نہیں کرسکیں گے اور اسی طرح بوشہرہ سمیت دیگر علاقوں کے لوگ پاراچنار آنے جانے کے قابل نہیں رہیں گے جو نہایت جاہلانہ اور شر پسندانہ تجویز تھی، حوالدار کو نہایت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب قبائلی مشران نے یک زبان ہوکر بخت جمال کی مخالفت کی اور پورے گورنر ہاؤس نے اعلی سطحی اصلاحاتی کمیٹی کے سامنے کھڑے ہو کر گو ایف سی آر گو کے نعرے لگائے اور بخت جمال کو اپنی تقریر ختم کرکے سٹیج سے بھاگنا پڑا۔
اصلاحاتی کمیٹی سے انجمن حسینیہ پاراچنار کے سیکریٹری جنرل جناب سراج حسین نے خطاب کرتے ہوئے شرکا کی توجہ ایک اہم نقطہ کی طرف مبذول کرائی اور کرم ایجنسی کے منفرد جغرافیہ جو تین اطراف سے ڈیورنڈ لائن یعنی افغانستان نے گھیرا ہے اور کئی دہائیوں سے وقتاً فوقتاً مسلکی جھگڑے سر اُٹھاتے رہے ہیں جن سے کرم ایجنسی کے تحفظ کا مسئلہ لا حق رہتا ہے اور ایجنسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہا ہے۔ اپنی تقریر میں انجمن حسینیہ کے سیکریٹری جنرل نے ایف سی آر کے خاتمے پر زور دیا اور مل بیٹھ کر نئے اور متفق نظام وضع کرنے کی تجویز پیش کی۔
جرگہ سے فخر زمان بنگش کے علاوہ دیگر چند عمائدین نے بھی خطاب کیا لیکن جرگہ کی فیصلہ کن تقریر اقبال حسین طوری (بستو) نے کی اور جسے کرم ایجنسی کی ترجمان تقریر کہا جا سکتا ہے۔ اقبال حسین طوری نے فرمایا کہ ایف سی آر ایک ظالمانہ قانون ہے جو اکیسویں صدی میں انسانوں پر نافذ کرنا انسانیت کی تذلیل ہے۔ اقبال حسین طوری نے اصلاحاتی کمیٹی کو تجویز دی کہ اگر ایف سی آر اتنی اچھی قانون ہے تو پورے پاکستان پر نافذ کریں اگر پاکستان کیلئے یہ قانون قابل قبول نہیں تو پھر قبائلی عوام کسی بھی حوالے سے دیگر پاکستانی عوام سے کم نہیں اور قبائل کو مرکزی دھارے میں شامل کرکے ترقی اور خوشحالی کے مواقع پیدا فراہم کریں۔ اقبال حسین طوری نے پاکستان میں کمیٹیوں کے کردار پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ایک لاحاصل مشق قرار دیا اور فرمایا کہ پاکستان میں جو معاملہ حل نہ کرنے کا سوچ ہو اور معاملات اُلجھانے کا اور فائلوں میں دفن کا پروگرام ہو تو پھر کمیٹی بنائی جاتی ہے لیکن توقع ظاہر کی کہ فاٹا اصلاحاتی کمیٹی اس ٹرینڈ کو ختم کرکے جلد از جلد فیصلہ اور لائحہ عمل تیار کریگی۔ عمائدین کرم ایجنسی نے اقبال حسین طوری کی جرگہ سے خطاب کو تاریخی اور فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے داد دی۔
جرگے سے اختتامی خطاب فاٹا ریفارمز کمیٹی کے سربراہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز نے کی۔ سرتاج عزیز نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ فاٹا کے مستقبل کا تعین انکے اُمنگوں، تجاویز اور مشاورت کیمطابق کیا جائے گا۔
جرگہ کے بعد ایم این اے ساجد حسین سے تفصیلی بات چیت کی جو جرگہ کے انعقاد اور کامیابی سے کافی خوش دکھائی دئیے اور کہا کہ کرم ایجنسی کے عوام نے ایف سی آر کے خاتمے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ ساجد طوری نے فرمایا کہ قبائلی عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور قومی اسمبلی سمیت مختلف کمیٹیوں اور قومی سلامتی کے اداروں کیساتھ ملاقاتوں میں ایف سی آر کیخلاف آواز اُٹھایا ہے۔
سینیٹر سجاد حسین طوری سے بات چیت تو نہیں ہوئی لیکن سٹیج پر بیٹھے انکے حشاش بشاش چہرے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جرگے کے نتیجے سے کافی خوش تھے۔ ایک ہفتہ پہلے اسلام آباد میں سینیٹر سجاد سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی اور انہوں نے فرمایا کہ وہ ہر فورم پر ایف سی آر قانون کیخلاف آواز اٹھاتے رہینگے۔

See on Scoop.itparachinarvoice