انسانی حقوق کے علمبردار خرم ذکی بھرے بازار میں شہید۔ از شفیق طوری

Religious, political, terrorism.
 پاکستان کے “مالک” خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے پاکستان میں قتل کرکے پاکستان دشمنی کا ثبوت دے دیا ہے۔
انسانی حقوق کے علمبردار خرم ذکی کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خون میں نہلا کرکے انسانیت کا جنازہ نکال دیا ہے۔
سول سوسائٹی کے دبنگ آواز خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے بھرے بازار میں قتل کرکے سول سوسائٹی کا جنازہ نکال دیا ہے۔
شیعہ نسل کشی کے وکیل خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے کھلے عام قتل کرکے انکے دعوے پر مہر تصدیق ثبت کر دیا ہے۔
شیعہ نوجوان خرم ذکی (جو ان کی سب سے بڑی گناہ بھی تھی) کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے رات کی تاریکی میں قتل کرکے اپنا بد نُما چہرہ چُھپانے کی ناکام کوشش کی ہے۔
صحافی خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے سرِعام قتل کرکے آزادئِ صحافت کا گلا گھونٹنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
مذہبی سکالر خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کرکے شدت پسندی اور قتل و قتال کا ثبوت پیش کردیا ہے۔
تعمیر پاکستان میگزین کے ایڈیٹر خرم ذکی کو قتل کرکے تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے تعمیرِ پاکستان میں رخنہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی ہے۔
بے گناہ لوگوں کے قتل پر پاکستان کے ہر چوراہے پر کھڑے ہوکر دبنگ احتجاج کرنے والے خرم ذکی کو ہمیشہ کے لیئے خاموش کردیا گیا ہے۔
خرم ذکی کے سینے پر انسانی و سماجی خدمت کے جتنے تمغے سجے ہوئے تھے، تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے ہر ایک تمغے پر گولی چلا کر انسانیت دُشمن اور سماج دُشمن ہو نے کا ثبوت دے کر ظلم و بربریت کی ہے۔
تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کے باپ نے آج سے چودہ سو سال پہلے ایک سنسان ریگستان میں نواسہِ رسول کو قتل کیا تھا تاکہ قتل کو چھپا سکے کہ اس لک و دک صحرا اور بے آب و گیاہ ریگستان میں کوئی امام کے مدد کیلئے نہیں اُٹھے گا لیکن ایک عورت اُٹھی، جنہوں نے نام نہاد اسلامی خلافت کو چیلنج کیا اور شہر، شہر، گاؤں، گاؤں، سڑکوں اور درباروں میں ظالم کو آشکار اور شرمندہ کرکے نیست و نابودی کی راہ پر گامزن کردیا، تو آج کے ظالم اولادِ یزید کے مقابلے میں دنیا کے کونے کونے میں کروڑوں لوگ سڑکوں پر لبیک یا حسین کی صدائے حق بلند کرکے احتجاج نظر آتے ہیں، ان تکفیری دہشتگردوں کو سمجھنا چاہئیے کہ ہم ان کی قتل و غارت گری اور ظلم و بربریت سے ڈرنے والے نہیں۔ تم نے ایک خرم ذکی کو شہید کردیا ہے ہم لاکھوں خرم ذکی اور پیدا کرکے دکھا ئیں گے۔
چلو حسین کی تقلید بھی کرے کوئی
کہ صرف سوگ منانے سے کچھ نہیں ہو گا
اٹھو کہ ہم بھی جھکا دیں کسی یزید کا سر
لہو کے اشک بہانے سے کچھ نہیں ہو گا
عرصہ دراز سے مملکت خداد پاکستان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ہے جس میں ایک اور شہید کا اضافہ ہوا۔
اطلاعات کے مطابق ہفتہ سات مئی کے رات دو موٹر سائیکل سواروں نے نارتھ کراچی میں ایک ہوٹل میں موجود تین نوجوانوں پر خود کار اسلحہ سے اندھا دھند گولیاں برسائیں، فائرنگ سے تینوں نوجوان شدید زخمی ہوگئے، ان زخمیوں میں ایک نوجوان جناب خرم ذکی بھی شامل تھے، جن کے سینے میں پانچ گولیاں پیوست کی گئی تھیں۔ خرم ذکی کو پہلے عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد میں آغا خان ہسپتال پہنچا دیا گیا لیکن زخموں کی تاب نہ لا کر خرم ذکی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
پاکستان میں سیاسی پارٹیوں سمیت مختلف مافیاؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے ان کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اگر پاکستان، خصوصاً کراچی، لاہور، گلگت، کوئٹہ اور پشاور میں کسی کے خلاف کوئی منظم کارروائی نہیں ہوئی ہے تو وہ مذہبی جنونی، مذہبی انتہا پسند اور تکفیری دیوبندی دہشتگرد ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ تکفیری دیوبندی دہشتگرد کھلے عام ہتھیاروں سمیت دندناتے پھرتے ہیں اور جس کسی کو بھی جب چاہے قتل کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ روکنے کا نام نہیں لیتا۔ تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے پاکستان کے تقریباً اسی ہزار پاکستانی شہری شہید کئیے ہیں۔ پاکستان آرمی اور پولیس کے ہزاروں شہیدوں سمیت انسانی حقوق کے نمائندوں، صحافیوں، ڈاکٹرز اور شیعہ مسلک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پروفیشنل کے شہادتوں کی ایک طویل داستان ہے، اور اس طویل داستان میں داستان گو خرم ذکی بھی شامل ہوئے۔
پاکستان کے تکفیری دیوبندی دہشتگرد القاعدہ، شام و عراق کے داعش، پاکستان و افغانستان کے طالبان نائجیریا کے بوکو حرام، اور صومالیہ کے الشباب سے کسی طور بھی کم نہیں۔ مذکورہ بالا دہشتگرد تنظیموں کا بغور جائزہ لیں تو ان سب کا عقیدے ایک جیسے، ان سب کا طریقہ واردات ایک جیسے اور ان سب کا ٹارگٹ ایک جیسا۔
پاکستان میں کالعدم لشکرِ جھنگوی، کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم اہل سنت والجماعت سمیت درجن بھر تکفیری دیوبندی جماعتیں جہاد فی سبیل شیطان میں مصروف عمل ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ سمیت ملک کے دو درجن سے زیادہ جاسوسی کے ادارے، پاکستان آرمی، رینجرز، پولیس سمیت ایک درجن کے قریب لاء انفورسمنٹ
کے ادارے، عدالتیں ان تکفیری دہشتگردوں کے ہاتھ روکنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کے پاس تکفیری دہشتگردوں کا مکمل ڈیٹا موجود ہے کہ انتہا پسند،تشدد پسند اور شدت پسند تکفیری دیوبندی دہشتگرد پاکستان کے مختلف اقلیتوں اور اقلیتی فرقوں، سول سوسائیٹی، ڈاکٹرز، صحافیوں، پروفیسرز سمیت زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں شخصیات کو چُن چُن کر قتل کرہے ہیں۔
جب تک پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور لاء انفورسمنٹ اجنسیاں خاموش تماشائی بیٹھے رہیں گے، پاکستان میں قتل و قتال روکنے والا نہیں۔ جب تک پاکستان اور کراچی میں جامعہ بنوریہ، لال مسجد جیسے مدارس موجود ہیں جن کے دہشتگرد خودکش حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں، پاکستان اور کراچی میں مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر قتل ہوتے رہیں گے۔ جب تک کراچی میں اورنگزیب فاروقی جیسے تکفیری دیوبندی دہشتگرد حکومتی سیکیوریٹی میں کھلے عام پھرتے رہتے رہے کراچی میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہیگی۔ جب تک سپاہ صحابہ کے سابق سیکریٹری جنرل طاہر اشرفی جیسے لوگ بیس بدل کر پاکستان کے مین سٹریم میڈیا پر جلوہ گر ہوتے رہیں گے، پاکستان میں فرقہ واریت ہوتی رہی گی اور اقیلتیں قتل ہوتی رہیں گی۔ طاہر اشرفی کا ذکر اسلئے کیا گیا ہے کہ طاہر اشرفی تعمیر پاکستان میگزین کو بند کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے ہیں۔
اور جب تک پاکستان میں کالعدم سپاہ صحابہ کے مولانا محمد احمد لُدھیانوی جیسے لوگ پارٹی کا نام بدل بدل کر انتخابات میں حصہ لیتے رہے اور عدالتیں خاموش تماشائی بنی رہی تو پاکستان میں فرقہ واریت کی عفریت سے نجات ناممکن ہے۔
پاکستان میں تکفیری دیوبندی دہشتگرد قابو سے باہر ہوگئے ہیں، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور مختلف لاء انفورسمنٹ ایجنسیاں تکفیری دہشتگردوں کو نکیل ڈالنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سمیت پاکستان آرمی و رینجرز سمیت مختلف لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کی طرف تکفیری دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا تکفیری دہشتگردوں کو ٹارگٹ کلنگ کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔
خرم ذکی شیعہ نسل کشی کرنے پر کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم لشکر جھنگوی اور کالعدم اہل سنت والجماعت سمیت دیگر تکفیری دہشتگرد تنظیموں کے خلاف میدان عمل میں شدید احتجاج کرتے رہے اور لال مسجد اور مولوی عبدالعزیز کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے رہے جس پر ان تکفیری دہشتگردوں کی طرف سے روزانہ قتل کی دھمکیاں ملتی رہی جن کا اظہار خرم ذکی مختلف فورم پر کرتے رہے اور مطلقہ اداروں کو دھمکیوں کے متعلق معلومات فراہم کرتے رہے۔
اب سندھ حکومت، رینجرز اور پولیس سمیت دیگر ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے کہ خرم ذکی کی فراہم کردہ قتل کی دھمکیوں اور معلومات کے عین مطابق قتل کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملزمان کو قانون کے شکنجے میں لائیں اور قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ شہید خرم ذکی کے غمزدہ خاندان کی تشفی ہو جائے اور دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملا کر مملکت خداد پاکستان کو دہشتگردی کے لعنت سے پاک ہوجائے۔

See on Scoop.itparachinarvoice