سلامِ آخر – ناصر جہاں

سلام خاک نشینوں پہ سوگواروں کا
غریب دیتے ہیں پرسہ تمہارے پیاروں کا

سلام ان پر جنہیں شرم کھاۓ جاتی ہے
کھلے سروں پہ اسیری کی خاک آتی ہے

سلام ان پر جو زحمت کش سلاسل ہے
مصیبتوں میں امامت کی پہلی منزل ہے

سلام بھیجتے ہیں اپنی شہزادی پر
کہ جس کو سونپ گۓ مرتے وقت گھر سرور

مسافرت نے جسے بے بسی یہ دکھلائ
نثار کردیے بچے نہ بچ سکا بھائ

اسیر ہو کے جسے شامیوں کے نرغے میں
حسینیت ہے سکھانا علی کے لہجے میں

سـکـینـہ بی بی تمہارے غلام حاضر ہیں
بجھے جو پیاس تو اشکوں کے جام حاضر ہیں

یہ سن یہ حشر یہ صدمے نۓ نۓ بی بی
کہاں پہ بیٹھی ہو خیمے تو جل گۓ بی بی

پہاڑ رات بڑی دیر ہے سویرے میں
کہاں ہو شام غریباں کے گھپ اندھیرے میں

زمین ہے گرم یتیمی کی سختیاں بی بی
وہ سینہ کہ جس پہ سوتی تھی اب کہاں بی بی

جناب مادر بیشیر کو بھی سب کا سلام
عجیب وقت ہے کیا دیں تسّـلیوں کا پیام

ابھی کلیجے میں آگ سی لگی ہوگی
ابھی تو گود کی گرمی نہ کم ہوئ ہوگی

نہیں اندھیرے میں کچھ سوجھتا کہاں ڈھونڈیں
تمہارا چاند کہاں چھپ گيا کہاں ڈھونڈیں

نہ اس طرح کوئ کھیتی ہری بھری اجڑی
تمہاری مانگ بھی اجڑی ہے کوکھ بھی اجڑی

نہیں لعینوں میں انساں کوئ خداحافظ
درندے اور یہ بے وارثی خداحافظ

شہید کے حق اے درود و سلام اے پیغمبر
سلام سید لولاک کے لٹے گھر پر

سلام محسن اسلام اسد اللہ کو
سلام تم پر شہیدوں کے بے کفن لاشوں

سلام تم پر رسول و بتول کے پیاروں
سلام مہر شہادت کے گرد سیاروں

بچے تو اگلے برس ہم ہیں اور یہ غم پھر ہے
جو چلے بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے

گھبرائے گی زینب – ناصر جہاں

گھبرائے گی زینب – ناصر جہاں

گھبراۓ گی زینب ‘ گھبراۓ گی زینب
بھیا تمہيں گھر جا کے کہاں پاۓ گی زینب

کیسا یہ بھرا گھر ہوا برباد الہی
کیا آئ تباہی
اب اس کو نہ آباد پاۓ گی زینب

گھبراۓ گی زینب ‘ گھبراۓ گی زینب

گھر جا کے کسے دیکھے گی قاسم ہیں نہ عباس
اکبر سے بھی ہے آس
اپنے علی اصغر کو کہاں پاۓ گی زینب

گھبراۓ گی زینب ‘ گھبراۓ گی زینب

پوچھیں گے جو سب لوگ کہ بازو کہ ہوا کیا
یہ نیل ہے کیسا
کس کس کو نشاں رسّی کے دکھلاۓ گی زینب

گھبراۓ گی زینب ‘ گھبراۓ گی زینب

پھٹ جاۓ گا بس دیکھتے ہی گھر کو کلیجہ
یاد آؤ گے بھیا
دل ڈھونڈے گا تم کو اب کہاں پاۓ گی زینب

گھبراۓ گی زینب ‘ گھبراۓ گی زینب

بے پردہ ہوئ قید بھی خواہر نے اٹھائ
پر موت نہ آئ
کیا جانیے کیا کیا ابھی دکھ پاۓ گی زینب

گھبراۓ گی زینب ‘ گھبراۓ گی زینب

کیا کرنل قذافی شیعہ تھے؟ قتل کے محرکات۔ احمد طوری

یکم ستمبر 1969 کا دن تھا۔ اس روز لیبیا کے حکمران شاہ ادریس بیرون ملک تھے۔

بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ سڑکوں، دفاتر اور گھروں میں زندگی رواں تھی۔ اچانک فوج کے 70 آفیسرز ٹینکوں سمیت بن غازی کے علاقے میں نکل آئے۔ ان کی قیادت 12 فوجی افسران پر مشمتل ایک ڈائریکٹوریٹ کر رہا تھا جسے ’ریوولوشنری کمانڈ کونسل‘ کا نام دیا گیا تھا۔ معمر قذافی اس ڈائریکٹوریٹ کے ایک رکن تھے۔ صرف دو گھنٹے کی کارروائی میں لیبیا کا تمام انتظام اس ’آر سی سی‘ نے سنبھال لیا۔ شاہ ادریس بیرونی ملک دورے پر تھے اور حسن بن ردا، جو شاہ ادریس کے خاندان کے ایک اہم رکن تھے اور ان کے جانشین کے طور پر دیکھے جاتے تھے۔ ان کو دیگر شاہی امرا کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا۔

کیپٹن معمر قذافی کو کرنل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے لیبیا کا کمانڈر انچیف بنایا دیاگیا۔کچھ روز بعد معمر قذافی ملک کے سربراہ بن گئے اور 42 برس تک اس عہدے پر رہے۔

 کرنل معمر قذافی کا 2009 میں سعودی عرب کے شاہ عبدللہ سے عرب لیگ اجلاس (دوحہ) میں شدید جھڑپ ہوئی اس سے پہلے 2003 میں بھی شاہ عبدللہ اور قذافی کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔معمر قذافی سعودی عرب پر الزام عائد کررہے تھے کہ امریکہ کو مشرق وسطی میں لے کر آئے اور اس کے چھتری تلے بیٹھ گئے ہیں۔ جبکہ شاہ عبدللہ نے قذافی پر الزام لگایا کہ وہ برطانوی ایجنٹ ہیں اور برطانیہ نے مسلط کیا ہے اور شاہ عبدللہ نے معمر قذافی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ “قبر آپکا منتظر ہے”۔

معمر قذافی اور شاہ عبداللہ کے درمیان عرب اجلاس کے دوران جھڑپ ویڈیولنک

 معمر قذافی اور شاہ عبداللہ کے درمیان عرب اجلاس کے دوران جھڑپ دوسری ویڈیو لنک

مارچ 31, 2007 کو پڑوسی ملک نائیجر میں قبائل سے خطاب کرتے ہوئے دوسرے فاطمید سلطنت کا اعلان کیا اور کہا کہ مسلمانوں میں کوئی شیعہ، سنی نہیں۔ اور اگر شیعہ ہیں تو وہ شمالی افریقی ممالک کے لوگ ہیں۔ شیعہ سنی تقسیم کو صیہونی اور سامراجی سازش قرار دیتے ہوئے قذافی نے کہا کہ یہ سازش مسلمانوں کو شیعہ سنی اور عرب وعجم میں تقسیم کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ قذافی نے عربوں کے ایران کے خلاف اتحاد کو اسی سازش کا شاخسانہ بتاتے ہوئے کہا کہ کون شیعہ سنی اور عرب و عجم اختلافات کو ہوا دے رہے؟ یقیناً وہ اسلام کے دشمن سامراجی اور طاغوتی ایجنٹس ہیں۔ کرنل قذافی نے مزید کہا کہ شمالی افریقہ سارا شیعہ ہے اور آپ یہاں معاویہ اور یزید کا نام کھبی نہیں سنیں گے۔ یہاں بچوں کے نام فاطمہ، علی، حسن اور حسین رکھے جاتے ہیں۔ فاطمید دور میں جامعہ الازہر بنا اور یہ نام فاطمہ زہرا کی نسبت کی وجہ سے شیعہ حکمرانوں نے رکھا ہے انہوں نے کہا ہم سب شیعہ ہیں۔ قذافی نے تقریر آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مذہب کے نام پر کسی کو اگر حکومت کی اجازت ہے تو اہل بیت ہیں اس کے علاوہ کوئی مذہبی ریاست قبول نہیں۔ اگر سنی کا مطلب رسول اللہ سے محبت ہے تو ایرانی سب سنی ہیں۔ عرب حکمران امریکہ و اسرائیل کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایرانیوں سے نفرت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایرانی شیعہ ہیں۔ نہیں۔۔ نہیں۔ ہم شمالی افریقی جدید فاطمی سلطنت اور شیعہ ہیں۔ حرمین شریفین مکہ اور مدینہ نہیں بلکہ مکہ اور القدس (یروشلم) ہیں۔ ہم شکریہ ادا کرتے ہیں فارسی بھائیوں (ایران) کا جنہوں اہل بیت کی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ میں حیران ہوں اردن کے شاہ عبداللہ ہاشمی جو آل رسول میں سے ہیں اور شیعوں (ایران) سے نفرت کرتے ہیں؟

 

 معمر قذافی کے تقریر کا ویڈیولنک ۔۔

 لیبیا کے سابق ڈیکٹیٹر کا سب سے بڑا جرم اگر ہے تو وہ ایرانی نژاد لبنانی شیعہ سکالر اور مرد آہن امام موسی الصدر کا اغوا اور لاپتہ کرنا ہے۔ لبنان کے حزب امل کے سربراہ اور عالمی شہرت یافتہ مفکر، دانشور، مجاہد آیت اللہ امام موسی الصدر 31 اگست 1978دو ساتھیوں شیخ محمد یعقوب اور صحافی عباس بدرالدین کے ہمراہ لیبیا کے آفیشل دورے پر گئے اور اس کے بعد منظر سے غائب ہیں۔ شاہ ایران نے امام موسی الصدر کی ایرانی نیشنیلیٹی ختم کردی تھی لیکن انقلاب ایران کے ابتدا میں موسی الصدر کے کئی قریبی رفقاء کلیدی عہدوں پر فائز ہوئے جن میں یداللہ صاحبی پہلے سائنس کے وزیر، ڈاکٹر صادق طباطبائی، پہلے ڈپٹی پرائم منسٹر، سید قطب زادہ (جس کو امام خمینی اپنا بیٹا سمجھتے تھے بعد میں پھانسی کئے گئے)، ابراھیم یزدی وغیرہ لیکن بعد میں ایک ایک کرکے ساروں کو حکومت سے آؤٹ کردیا گیا۔ امام موسی الصدر نے ہی لبنان کے امل ملیشیا۔دمشق اور ایران کا گڑھ جوڑ بنایا تھا جس کو حزب اللہ اور پاسداران انقلاب آگے لیکر چلے۔ امام موسی الصدر کے شاہ ایران سے ملاقات، تعلقات اور انقلاب ایران میں کردار اور بعد میں رونما ہونے والے واقعات پر ایک علیحدہ مضمون لکھنے کا متقاضی ہے لیکن یہاں کچھ تفصیل اسلئے ضروری ہے کہ امام موسی الصدر کے لاپتہ ہونے کا انقلاب ایران، شاہ ایران اور لبنان کے امل تحریک سے گہرا تعلق ہے۔

 کرنل قذافی کے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر اور فرانسیسی صدر سرکوزی سمیت کئی رہنماؤں سے دوستی ہوگئی اور اپنا ایٹمی پروگرام ترک کرکے ایک ترقی پسند رہنما بننے کا خواب دیکھنے لگے۔ قذافی کی مغربی بنکوں میں اربوں ڈالر کے اثاثہ جات تھے اور لیبیا کے تیل پر مغرب کی کی نظر بھی تھی۔ لیبیا میں قذافی کے بعد کوئی حکومت نہیں، اور تیل کی کنویں مغرب کی ہاتھ میں ہیں جبکہ اثاثے سارے منجمد کرکے قابض ہوگئے۔

کہنے کو تو پڑوسی ملک تیونس سے شروع ہونے والی ’عرب سپرنگ‘ کے اثرات کو لیبیا پہنچنے میں زیادہ عرصہ نہیں لگا۔ اور کرنل قذافی نے اسے سختی سے دبانے کی کوشش کی لیکن امریکہ اور اتحادی (عرب) ممالک کی پشت پناہی سے یہ تحریک زور پکڑ گئی۔ دنیا بھر سے جہادی اور تکفیری غنڈے اکھٹا کرکے لیبیا لائے گئے بالکل اسی طرح جس طرح افغانستان میں روس کے خلاف فضاء بنائی گئی تھی۔ افغانستان میں روس اور امریکہ کی جنگ کو کفر اور اسلام کی جنگ کہنے والوں نے لیبیا میں قذافی کے خلاف وہی طریقہ واردات دہرایا اور قذافی کو قتل کرکے لیبیا کو افغانستان کی روح ایک نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔

 اکتوبر 2011 میں کرنل قذافی کو باغیوں نے ایسے وقت میں گرفتار کر لیا جب وہ سڑک کنارے ایک پل کے نیچھے چھپے ہوئے تھے بالکل ویسے جیسے سابق عراقی صدر صدام حسین ایک بنکر میں چھپے ہوئے تھے۔ ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ خون میں لت پت باغیوں کے درمیان بے بسی کے عالم میں موجود تھے اور ان پر تشدد کیا جا رہا تھا، اسی روز، 17 اکتوبر 2011 کو ان کو قتل کر دیا گیا۔

 کرنل قذافی کو قتل اور لیبیا کو تباہ و برباد کرنے کے بعد امریکہ، مغرب اور ان کے حواریوں نے سارے جہادی اثاثے لیبیا سے شام منتقل کئے تاکہ لگے ہاتھوں اسرائیل کے آخری دشمن عرب ملک شام اور بشارالاسد کو سبق سکھائیں۔جس کو حزب اللہ، ایران اور روس نے ملکر