نیشنل ایمچئور شارٹ فلم فیسٹول! قبائلی نوجوان، روحی کاشفی نے میلہ لوٹ لیا۔ احمد طوری

اسلام آباد میں پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کی مشترکہ کاوش سے نیشنل امیچئور شارٹ فلم فیسٹیول کا انعقاد ہوا، تقسیم انعامات کی اختتامی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی شرکت کی اور انعامات تقسیم کیئے۔ نیشنل ایمچئور شارٹ فلم فیسٹول (ناسف) نے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا تصورپیش کیا ہے، جو فلم اور ٹیلی ویژن پروڈكشن کو اپنے تعلیمی / پیشہ ورانہ کیریئر کے طور پر منتخب کرتے ہیں۔ ناسف کا مقصد ایسے قابل اور انتہائی باصلاحیت نوجوانوں کو موقع فراہم کرنا ہے جو پاکستان کی اصل تصوير(ايميج) پیش کرنے والى اعلی معیار کی مختصر فلمیں تیار کریں۔ یہ اپنے نوعیت کا پہلا قومی میلہ ہے، جس میں تخلیقی طلباء پر توجہ دی جائے گی

روحی کاشفی وزيراعظم عمران خان سے ایوارڈ وصول كرر ہے ہیں


اس تھیم بیسڈ فلم فیسٹیول میں  پاکستان کے ثقافتی اورسماجی رنگ شامل تھے‘ جس میں خواتین کا معاشرے میں کردار، وادی سندھ کی تہذیب ، علاقائی ثقافتیں، پاکستانیوں کی انسان دوستی اورجذبہ ایثار، زراعت اور چھوٹے  پیمانے پر صنعتی سرگرمیاں جیسے تھیمز شامل تھے‘۔ فیسٹیول میں 72 یونیورسٹیوں کے 1100سے زائد نوجوان شامل تھے اور 300 سے زائدشارٹ فلمز موصول ہوئیں، ماہرین نے جائزہ لینے کے بعد 122 فلمز شارٹ لسٹ کیں، بعد ازاں جیوری نے 55 فلمز شارٹ لسٹ کیں‘۔ اور ’گرینڈ جیوری جس میں فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کےمعتبر نام شامل ہیں، نے 18 بہترین پراجیکٹس کوانعام کےلیے منتخب کیا، فلم ٹی وی اور میڈیا کے اسٹوڈنٹس نےاپنےتخلیقی جوہر کا شاندار مظاہرہ کیا اور ہونہارآرٹسٹس نےپاکستان کے دلفریب رنگوں کوپراجیکٹس میں بخوبی سمویا ‘۔
اب اس فیسٹیول کے 15 بہترین شرکا کو اسکالر شپ پربیرون ممالک بھیجاجائے گا، جہاں وہ متعلقہ شعبوں میں اعلی تعلیم حاصل کریں گے۔
پاک فوج۔ وزارت اطلاعات و نشریات خاص کر فواد چوہدری اور عمران خان کی خصوصی شرکت نے اس پروگرام کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ کیاہے اور اب ایک اُمید کی شمع بھی دل کے ایک کونے میں روشن ہوئی ہے کہ کچھ ادارے اور لوگ معاشرے کو سدھارنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔۔

نیشنل ایمچئور شارٹ فلم فیسٹول! قبائلی نوجوان، روحی کاشفی نے میلہ لوٹ لیا۔ ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے ابھرتے ہوئے نوجوان فلم میکر روحی کاشفی کی شارٹ ڈاکومنٹری آرٹ فلم “تانہ بانہ” نے قومی فلم میلہ میں دو ایوارڈ جیتے ہیں۔ ایک تو فلم “تانہ بانہ” کو دوسری بہترین شارٹ فلم کا ایوارڈ ملا ہے، جبکہ “جیوری کی پسندیدہ” فلم ایوارڈ بھی روحی کاشفی کو ملا ہے۔

روحی کاشفی کی شارٹ ڈاکومنٹری آرٹ فلم “تانہ بانہ” نے قومی فلم میلہ میں دو ایوارڈ جیتے

یہ دستاویزی فلم بنیادی طور پر عصری فرنیچر ڈیزائن میں روایتی کام پر مبنی ہے ۔ روحی کاشفی کی فلم “تانہ بانہ” ایک آرٹ فلم ہے، یہ انتہائی ستم ظریفی کی بات ہے کہ اس طرح کی حیرت انگیز مہارتیں اور شاندار نسلی فنون کو اگلی نسل میں منتقل نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس مرنے والے آرٹ رجحان کی بہت سی وجوہات ہیں ، جن پر ہمارے سرکاری محکموں کی فوری توجہ کی ضرورت ہے ، جن کو پاکستان کے روایتی فن پاروں کی حفاظت کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اور آرٹ فلم کی اپنی اور بہت کم آڈئنس ہوتی ہے، یہ کمرشل فلم نہیں ہوتی، مگر اس میں آرٹ کے چاہنے والوں کو سکون ملتا ہے، اسی لئے ایسے لوگوں کو کروڑوں کے انعامات بھی ملتے ہیں، بڑے بڑے سکالرشپ اور نوکریاں بھی ملتی ہیں، اور سب سے اہم ایسے لوگوں کی پزیرائی بھی ہوتی ہے۔
ملالہ یوسفزئی نے بھی دنیا کے سب سے بڑی ہائی ٹیک کمپنی ایپل سے معاہدہ کرکے شارٹ فلمز اور ڈاکومنٹری بنانے کا پلان بنایا ہے، فاطمہ بھٹو بھی آرٹ کی دلدادہ ہیں اور پرنس ہیری نے بھی شوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روحی کاشفی نیشنل کالج آف آرٹس، لاہور کے گریجیویٹ ہیں، روحی کاشفی نے نیشنل کالج آف آرٹس کے امتحان میں بھی امتیازی (دوسری) پوزیشن حاصل کی ہے، اور تھیسز فلم “ب فار ناؤ” وادئ کرم میں بچوں کے تعلیم سے متعلق ہے۔ میرا خیال ہے روحی کاشفی اس فلم کے کچھ سین دوبارہ شوٹ کرکے بین الاقومی فورم پر پیش کرنے کے خواہاں ہیں، اور اب موقع بھی، کیونکہ روحی کاشفی کو دنیا کے معتبر ترین تھیٹر، فلمم اور ٹیلی ویژن کے سکول، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس انیجلس میں اعلی تعلیم کے لئے سکالرشپ بھی ملا ہے۔ روحی کاشفی نے وادئ کرم کے حوالے سے سلگتے چنار فلم بھی بنایا ہے، جسے مناسب وقت اور کچھ سین کے دوبارہ شوٹ کے بعد ریلیز کرنے کا پروگرام ہے، اس کے علاوہ روحی کاشفی نے عبداللہ قریشی، حمزہ اور صبا قمر کے ساتھ میوزک کے بہترین ویڈیوز پروڈیوس کیئے ہیں۔

روحی کاشفی کا صبا قمر کے ساتھ میوزک ویڈیو۔


روحی کاشفی کو ایوارڈ ملنے کے بعد مبارکباد کی میسیج کی تو انکا جواب “مثبت” تھا، اس فیسٹیول کی طرح مثبت۔ روحی نے جواب دیا کہ اس فلم کے ڈائریکٹر آپ “احمد طوری” ہیں۔ اس کی وجہ روحی کاشفی کھبی بیان کریں گے۔
روحی کاشفی کو اس میڈیم میں لانے کا مقصد بھی صرف یہی تھا کہ یہ معاشرے کی بہبود و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے، اور وادئ کرم کو ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے پرسکون بنانے کی کوشش کی جائے، تاکہ عوام پرسکون ہو کر زندگی سے لطف اندوز ہوں، علاقے میں امن ہوگا تو ترقی بھی ہوگی، امن ہوگا تو لوگ بھی آئیں گے، سیر وتفریح کے مواقع پیدا ہونگے، تو لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی ملیں گے، اور وادئ کرم کے حسین ترین وادی اور یخ بستہ کوہ سفید کے لطیف احساس سے بھی لطف اندوز ہونگے۔

روحی کاشفی نے اپنے فیس بک پیج سے فلم کا ٹریلر ریلیز کیا ہے۔
https://fb.watch/6q-WDpEC7W/

احمدطوری#

وادئ کرم اور افغان، پشتون قبائلی تاریخ کے کچھ تلخ حقائق۔ احمد طوری

بارہویں صدی عیسوی کے ابتداء میں شہاب الدین غوری کے ترک النسل چہیتے گورنر تاج الدین یلدز وادئ کرم (کڑمان-شلوزان) پربادشاہت قائم اور اپنا سکہ رائج کرچکے تھے جس کے آثار ابھی تک موجود ہیں۔ عظیم فاتح شہاب الدین غوری ہندوستان پر حملوں کے لئےدرہ کرم استعمال کرتے رہے اور جب گھکڑوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تو لاشہ بھی کڑمان سے ہوکر غور پہنچایا گیا۔

طوری قبائل کا ذکر پہلی دفعہ “تاریخ نامہ ہرات“ نامی کتاب میں آیا ہے جب طوری قبیلے کے مشر احمد طوری دیگر ڈیڑھ درجن ملوک عظام کےساتھ غزنی کے شاہی (گورنر)کے دربار میں موجود تھے جو ملکی صورتحال پر غور و حوض کے لئے بادشاہ کے دربار میں بلائے گئے تھے۔ بہرامشاہ غوریوں کے حملے سے کڑمان اور سنقران (شلوزان کا پرانا نام) بھاگے ہوئے تھے۔

طوری بنگش قبائل کا ذکر مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے اپنی سوانح حیات “تزک بابری” یعنی ”بابُرنامہ“ میں کیا ہے جب وہ ہندوستان پر حملہکرتے ہوئے کوہاٹ اور بنوں تک پشتوں قبائل کا قتل عام کر رہے تھے۔ بنگش قبیلے کے بہت سے لوگ قتل کئے تھے جس کا ذکر تفصیلسے کیا گیا ہے۔

طوری بنگش اور جاجی قبائل کا ذکر ابو الفضل کی کتاب اکبر نامہ میں موجود ہے جو مغل شہنشاہ جلال دین اکبر کے زمانے میں لکھا گیا ہے۔ابو الفضل اکبر نامہ میں لکھتے ہیں کہ طوری اور جاجی مشران مغل بادشاہ اکبر کے دربار میں دیگر پشتون قبائلی مشران کیساتھ پیش ہوئے جباکبر بادشاہ 1586ء میں اٹک میں تشریف فرما تھے۔ دیگر قبائل میں خلیل، مہمند، خوگیانی یا گیگیانی، شیرزاد، خضر خیل، عبد رحمانی اور غورغشتاور غوریا خیل قبائل شامل تھے۔ ان سب قبائل نے مل کر اکبر بادشاہ کے ہاں یوسفزئی قبیلے کی شکایت لگائی تھی۔

سترھویں صدی کے ابتداء میں زیرک غلجی افغان تاجر و سیاسی رہنما میر ویس ھوتک (میرویس نیکہ) (1709-1747) حج سے واپس آئے توایک فتوی بھی ساتھ لائے، افغان قوم کو اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوئے تو  ایرانی حمایت یافتہ گورنر گورگین کو ساتھیوں سمیت قتل کرکےکندھار کے بادشاہ بنے، حاجی میرویس (نیکہ) کی ناگہانی موت کے بعد انکے بھائی عبدالعزیز بادشاہ بنے تو ناراض افغانوں نے محل پر حملہ کیا اورمیرویس کے اٹھارہ سالہ نوجوان بیٹے محمود نے اپنے ہاتھوں سے چچا کا سر تن سے جدا کرکے قتل کیا اور بادشاہ بن گئے۔

میر محمود کندھار سے اُٹھے اور تاریخی افغان شہر ہرات جو دورانیوں کا نیا گڑھ تھا سمیت ایران کے بیشتر علاقے فتح کرنے میں کامیاب ہوئےاور افغانستان بادشاہت اصفہان تک پھیلایا۔ شاہ محمود ایران میں قتل ہوئے تو چچا زاد شاہ اشرف نے ایرانی بادشاہت پر قبضہ کیا اور شاہمحمود کے بھائی اور کندھار کے گورنر شاہ حسین نے شاہ اشرف کو قتل ذمہ دار ٹھہرا کر اعلان جنگ کردیا۔

اب درانی اور غلجی قبائل کی پرانی لڑائی پھر شروع ہوئی اور ساتھ میں مغل، ایرانی، روسی اور سلطنت عثمانیہ سب اس جنگ کی آگ کو ہوادے رہے تھے اور اپنے فائدے اُٹھانے کی کوشش کررہے تھے۔

احمد شاہ ابدالی (درانی ) نے ایرانیوں (نادر شاہ) سے مل کر 1738 میں ہوتک بابا کا قلع قمع کیا اور نادرشاہ کی سرکردگی میں قندھار، ہرات سمیت  افغانستان اور ہندوستان کو روندتے ہوئے دہلی پر قبضہ کر گئے۔

ایرانی بادشاہ نادر شاہ ایک بغاوت میں قتل ہوئے تو اس کے جنرل احمد شاہ ابدالی سرعت سے واپس کندھار آئے، خزانہ اور “کوہ نور ہیرا” بھی ساتھ کندھار لائے جو نادر شاہ دہلی حملے میں مغل بادشاہ سے لوٹ کر لائے تھے اور 1747 میں لویہ جرگہ کے ذریعے افغانستان کے بادشاہمنتخب کروانے میں کامیاب ہوئے۔

احمد شاہ ابدالی کندھار سے بہت بڑی لشکر لیکر کابل و غزنی کو تہہ وبالا کرتے ہوئے پنجاب، سندھ اور کشمیر میں مغلوں کو شکست دینے میںبھی کامیاب ہوئے جبکہ 1761 کے مشہور ومعروف پانی پت جھگڑے میں مراٹھا سلطنت کو بھی شکست سے دوچار کیا تو دہلی کے کمزور مغلبادشاہ نے ہتھیار ڈالنے میں دیر نہیں کی۔

دوسری طرف ایران کے صوبہ مشہد جہاں نادرشاہ کے نواسے شاہ رُخ افشار گونر تعینات تھے پر حملہ آور ہوئے۔ جبکہ شمالی افغانستان پرقابض تاجک، اُزبک، ھزارہ اور ترکمن قبائل کو بھی تابع بنایا اور ایک عظیم افغانستان سلطنت کی بنیاد رکھی۔

احمد شاہ ابدالی کے ساتھ سب پشتون (پختون) قبائل اور غیر پشتون جیسے ہزارہ، ترکمن، تاجک اور اُزبک سب نے دل کھول کر مدد کی اورخوشی خوشی لشکروں میں شامل ہوئے اور بہت سے قبائل آج بھی ہندوستان میں آباد ہیں جو  زیادہ تر احمد شاہ بابا یا اس سے پہلے غزنوی،غوری، سوری وغیرہ کے لشکروں میں شامل تھے پھر وہیں “جہاد “ میں مصروف رہے اور وہیں زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے قبائلبھی مختلف علاقوں میں اپنی جگہ مضبوط کرنے میں مصروف ہوئے کیونکہ اس سے پہلے تقریباً تمام پشتون قبائل مال مویشی پالتے تھے اورایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے تھے، اور اس وقت آبادی بھی کم تھی اور کوئی پابندی بھی نہیں تھی لہذا جہاں جاتے مال مویشیبھی لے جاتے اور وہیں ڈھیر ہوجاتے تھے۔

بنگش پشتون قبائل میں سے ایک طاقتور اور بڑا قبیلہ ہے۔ یہ اس دور میں عجیب صورتحال سے دوچار تھے۔ ایک جانب یہ وادئ کرم میںافغان حکمرانوں ( کے زیادہ خراج/ٹیکس) سے تنگ تھے تو دوسری طرف اورکزئی قبائل کے ساتھ جنگ بھی جاری تھی۔ اس کے علاوہ کوہاٹکے محاذ پر خٹک قبائل سے بھی جنگ ہو رہی تھی جس میں خوشحال خان خٹک کود پڑے تھے اور مغل اور افغان حکمران بھی کیونکہ لوئر بنگشبہت زیادہ ٹیکس (خراج) دے رہا تھا جبکہ اپر کرم کے بنگش کم ٹیکس دے رہے تھے۔ اسی دور میں طوری قبائل نے وادئ کرم پر اپنا تسلطمضبوط کرنا شروع کیا اور اگلے ایک سو سول میں مکمل طور پر وادئ کرم کے مالک بن بیٹھے۔ آپ پشتونوں پر جو بھی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں،مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر کے تزک بابری سے لیکر اولف کیراؤ اور عبدالحئی حبیبی، خلاصۃ الانساب۔ حافظ رحمت خان

سید بہادر شاہ ظفر کاکاخیل۔ پشتانہ د تاریخ پہ رنڑا کے

پشتانہ قبیلے ووپیژنی۔ ڈکٹر لطیف یاد؛ حمید اللہ حبیبی ، معصوم ھوتک، روشن خان، خوشحال خان خٹک (بیاض)، احمد کہزاد، زلمی ھیواد مل،حبیب اللہ رفیع، الوف کیراؤ۔ دی پٹھانز اور 

آنریبل انفسٹن سب میں آپ کو یہی تاریخ ملے گی۔

احمد شاہ ابدالی نے خراسان، کشمیر، شمالی ہندوستان، اور آمو دریا سے خلیج فارس و عرب تک عظیم افغان سلطنت کی بنیاد رکھی لیکن انکے بعد درانی خاندان نااہل نکلا۔ طاقت کے حصول کی کوشش آپس کی دشمنی میں تبدیل ہوئی، پورا افغانستان میدان جنگ بن گیا اور یہپچاس سال کے اندر تقریباً سارے مفتوحہ علاقے گنوا بیٹھے۔

درانیوں نے 1747 سے 1823 تک کندھار، ہرات، خراسان، تاجک، ہزارہ، ترکمن، اُزبک، ایران اور ہندوستان سمیت درجنوں سلطنتوں کیاینٹ سے اینٹ بجائی اور احمد شاہ درانی بابا، تیمور شاہ درانی، زمان شاہ درانی، محمد شاہ درانی (اندھا)، شجاع شاہ درانی، علی شاہ درانی اورایوب شاہ درانی سے ہوتی ہوئی افغان بادشاہت پہلی افغان جنگ کے بعد درانی (سدوزئی) قبیلے سے بارکزئی قبیلے میں منتقل ہوئی اور 1823 میںدوست محمد خان افغانستان کے بادشاہ بن گئے۔ دوست محمد خان کے والد سردار پائندہ خان کنگ میکر تھے اور ہر مہینے ایک درانی کو کرسیسے اتار کر دوسرے کو بٹھاتے رہے بالآخر افغان سلطنت کے وارث بن گئے۔

روسی، برطانوی، جرمن، پرتگالی، ولندیزی، ایرانی، مغل اور دیگر طاقتوں کے ہاتھ اپنی جگہ لیکن اوپر بتائے گئے لسٹ میں کون سا افغانبادشاہ ہے جو اپنے بھائی کو یا بھتیجے کو قتل کرکے تخت نشین نہ ہوا ہو؟ یہ ریت کوئی نئی نہیں، مغل، بنی امیہ اور بنی عباس بھی اسی روش پرچل رہے تھے اور نادر شاہ بھی اسی کا شکار بنے۔

شاہ شجاع جو 1804-1809 اور 1839-1842 تک افغان بادشاہ رہے نے زمان شاہ کو زبردستی تخت سے اتارا کہ تم اندھے ہو تو محمود شاہ، شاہشجاع سے تخت چھین کر قابض ہوئے اور شاہ شجاع سکھوں کے پاس پنجاب جا بیٹھے۔

شاہ شجاع درانی (سدوزئی) نے 1834 میں سکھوں سے مل کر کابل پر قبضہ کرنے کوشش کی تو پشاور سکھوں کے حوالہ کر بیٹھے۔ شاہ شجاعنے بس نہیں کیا بلکہ انگریزوں اور سکھوں سے مل کر 1838 میں ایک بار پھر افغانستان پر حملہ آور ہوئے ۔ اس دفعہ دوست محمد خان کوہٹانے میں کامیاب ہوئے اور ایک بار پھر درانی (سدوزئی) سلطنت قائم کرنے کی کوشش کی لیکن افغانوں نے بری طرح مسترد کر دیا۔ شاہشجاع نے وحشیانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اور بیرونی دشمن قوتوں سے مل کر ملک پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور بارکزئی قبیلے کی طاقتپر گرفت بھی مضبوط ہو چکی تھی۔

احمد شاہ ابدالی (درانی) کے دور میں پشتون قبائیل کو خاص اہمیت دی گئی اور مختلف قبائیل کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرکے اپنےلشکروں کا حصہ بنایا گیا تو سترھویں صدی کے آخر میں طوری قبائل وادئ کرم میں زبردست اثر و رسوخ اور طاقت حاصل کرکے دیگر قبائلپر غالب آئے۔ درہ کرم پر قبضہ کرنا شروع کیا تو اپر اور لوئر کرم ٹل، شبک اور زازی میدان تک سارا کا سارا علاقہ ان کے قبضے میں چلاگیا۔

امیر کبیر دوست محمد خان 1863 میں ہرات فتح کرتے ہی وفات پا گئے لیکن ایک نااہل بیٹے کو ولی عہد بنا کر بھاگ ڈور منتقل کرنے کیوصیت کی تھی جس کے لئے سب دوست احباب اور مشران نے منع کیا تھا۔ شیر علی خان یا تو نشہ کرکے دنوں تک مے خانے میں پڑےرہتے پھر نشے سے بیدار ہوکر مسجد میں نمازیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرکے توبہ واستغفار مانگتے پھرتے۔ ڈاکٹر بیلیو نے ‘افغان ریسز؛ میںاس کی تفصیل صفحہ نمبر 45 اور 46 پر لکھی ہے۔

افغان تاریخ دون احمد علی کہزاد کے مطابق امیر شیر علی خا کے پیچھے سید جمال الدین افغانی کابھی ہاتھ تھا جو امیر شیر علی خان کے بھائیوںکے درمیان خونریزی اور ناکامی کے بعد ایران  ترکی، عرب ملکوں اور یورپ کے دورے پر نکلے اور اُمتِ مسلمہ کا ڈنڈورا پیٹنے لگے۔ یکم مئی1896 کو جمال الدین افغانی کے ایک گماشتے (پیروکار) مرزا رضا کرمانی نے ایرانی بادشاہ نصیرالدین شاہ قاجار قتل کردیا۔

غزنی کے گورنر شیر علی خان والد امیر دوست محمد خان کو دفن کرنے کے بعد افغانستان کے نئے بادشاہ بن کر کابل میں داخل ہوئے۔ امیرشیر علی خان بادشاہ بننے کا سالانہ جشن منانے کی تیاری کر رہے تھے کہ ایک بھائی اعظم خان نے (جو وادئ کرم کے گورنر تھے) بغاوتشروع کردی اور دوسرے محمد افضل (جو صوبہ بلخ کے گورنر تھے) نے 1864 بغاوت شروع کر دی۔ ان دونوں بغاوتوں کے پیچھے کوئی سازشتھی اور نہ ہی وادئ کرم یا بلخ کے عوام باغی ہو گئے تھے! بلکہ بادشاہ کے بھائی اپنے ہی (سوتیلے) بھائی کے خلاف کھڑے ہوئے۔

امیر شیر علی خان نے ایک بڑا لشکر اپنے بھائی اعظم خان کی سرکوبی کیلئے وادئ کرم بھیجا تو بادشاہ کے بھائی اعظم خان صاحب راولپنڈیبھاگ کر انگریزوں کے پاس پناہ مانگنے پر مجبور ہوئے۔ اعظم خان کے بھاگنے پر وادئ کرم میں جو گورنر مسلط کر دیئے گئے تھے انہوں نےاعظم خان کی بغاوت کا بدلہ عوام سے لینے کا فیصلہ کیا اور وادئ کرم کے اہل تشیع آبادی پر ظلم کے پہاڑ توڑنا شروع کر دئے۔ وادی کرم کیآبادی پہاڑوں پر جا کر بسنے لگی۔

امیر دوست محمد خان کا دور پرسکون تھا! وادئی کرم پر 1848 سے 1864 تک محمد اعظم خان افغانستان کی طرف سے پہلے گورنر بھیجے گئے، جوافغان بادشاہ دوست محمد خان کے صاحبزادے اور امیر شیر علی خان کے بھائی تھے، اعظم خان کی والدہ اور بیگم کا تعلق بھی وادئ کرم(شلوزان) سے تھا، اس سے اندازہ کریں کہ وادئی کرم کی کتنی اہمیت تھی۔ افغان بادشاہ دوست محمد خان کے انتقال کے بعد بھائیوں میںپھوٹ پڑی اور اقتدار صاصل کرنے کے لئے آپس میں لڑ پڑے تو شیر علی خان لشکر لے کر وادئ کرم کے گورنر اعظم خان پر حملہ آورہوئے جو اپنے بھائی اور افغان بادشاہ شیر علی خان کے خلاف دوسرے بھائی أفضل خان کی حمایت کررہے تھے، اعظم خان جان بچا کرانگریزوں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

وادئ کرم گورنر اعظم خان کے وقت میں کافی خوشحال اور پرامن تھی کیونکہ اعظم خان اور والد امیر دوست محمد خان دونوں کی رشتہداریاں بھی ہو چکی تھیں لیکن وادئ کرم پر امیر شیر علی خان کی لشکر کشی اور اعظم خان کے ہٹائے جانے سے جو حالات افغانستان نےخود پیدا کئے، اس کا ذمہ دار طوری بنگش قبائل یا کسی مسلک کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا!

اس معاملے میں پشتون (پختون) لکھاری تصویر کا صرف ایک رخ دکھاتے ہوئے ادبی اور تاریخی بددیانتی کر جاتے ہیں۔ کیا پشتون قلمکاروں میں سے کسی نے یہ لکھنے کی جرأت کی ہے کہ افغان بادشاہ وادئ کرم کی شیعہ آبادی کو کافر سمجھ کر دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ خراجکا تقاضا کرتے تھے۔

أفضل خان اور اعظم خان کے بعد امیر کے سگے بھائی امین خان قندھار میں باغی ہوئے تو امیر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھائی کے مقابلےمیں میدان جنگ میں اترے۔ اپنے بھائی کو بھتیجے کے ساتھ 1865 مین قتل کر ڈالا اور پھر وہیں تعزیت کے لئے بیٹھ گئے۔ امیر شیر علی خاناب ہفتوں کی بجائے مہینوں اپنے آپ کو کمرے میں بند کرکے نشہ کرتے اور بے حال پڑے رہتے اور اُٹھ کر پھر مہینوں مسجد کے محرابمیں بیٹھ مولویوں کے منتر سنتے۔

امیر شیر علی خان ابھی قندھار میں بھائی اور بھتیجے کو قتل کرکے کابل پہنچے بھی نہیں تھے کہ جیل میں ٹھونسے گئے بھائی أفضل خان کے بیٹےعبد الرحمن نے بغاوت کرکے صوبہ بلخ فتح کر لیا اور کابل کی طرف مارچ شروع کیا۔ وہاں اعظم خان بھی ساتھ ملے تو شیر علی خان جوقندھار سے کابل آ رہے تھے اور عبد الرحمن بلخ سے کابل فتح کرنے۔ لہذا فروری 1866 میں شیخ آباد کے مقام ہر ایک اور جنگ ہوئی جسمیں امیر شیر علی خان کو شکست ہوئی، تو عبد الرحمن نے والد أفضل خان کو رہائی دلوائی اور اعظم خان کے ساتھ مل کر کابل پہنچے۔

اب شیر علی قندھار پہنچے اور اپنے بیٹے یعقوب خان کو ایران سے مدد لینے واسطے مشہد بھیجا! کابل میں امیر أفضل خان کا فقید المثال استقبالہوا اور 1867 میں افغانستان کے نئے امیر بن گئے۔ امیر أفضل خان ایک سال کے اندر فوت ہوئے تو اعظم خان کو بھی امیر بننے کا موقعملا لیکن دونوں بری طرح ناکام ہوئے اور عوام نے مسترد کیا۔

شیر علی خان کے بیٹے یعقوب خان نے اعظم خان کے بیٹے سرور خان کو قندھار میں شکست دی اور کابل کی طرف بڑھے۔ اعظم خان اسبار میدان چھوڑ کر ترکستان کی طرف بھاگ نکلے جہاں انہوں فوج اکٹھا کرنے کی کوشش کی اور پھر سے شکست کھا گئے اور اب فارس(ایران) کی طرف بھاگے جہاں بالآخر وفات پا گئے۔

امیر دوست محمد خان کے وفات کے بعد پانچ سال افغانستان میں شورش اور سول وار رہی لیکن اب شیر علی خان پھر امیر بننے میںکامیاب ہوئے لیکن اس دفعہ امبالہ پہنچے اور انگریز وائسرائے لارڈ میو کے پاؤں پڑ گئے۔ وہاں امیر کو خوش آمدید کہا گیا اور انگریزوں نے دنیاکے سامنے شیر علی خان کو افغان بادشاہ تسلیم کرلیا۔ امیر کافی خوش تھے لیکن ایک بزنس ڈیل کی وجہ سے کچھ ناراض بھی تھے۔

تین سال میں برطانوی افواج کے ساتھ مل کر افغانستان نے ایک بڑی فوج تیار کی اور اپنی رٹ قائم کی تو امیر شیر علی نے دربار میں روسینمائیندے کو خصوصی اہمیت دینی شروع کر دی۔ برطانوی نمائندے کا کابل میں داخلہ منع کیا تو برطانوی وائسرائے آگ بگولہ ہو گئے اورقندھار، پیواڑ اور خیبر کے راستوں افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کرنا شروع کی اور یوں وادئ کرم ایک بار پھر میدان جنگ بن گیا۔

امیر شیر علی خان روس کی طرف بھاگتے ہوئے 1879ء میں مزار شریف میں انتقال کرگئے اور اس کے بیٹے نئے امیر یعقوب خان نے مئی1878 کو گندمک کے مقام پر میجر کیویگنری کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور ایک معاہدے کے تحت جنگ منسوخ کرکے سالانہ 60,000 پاؤنڈسبسڈی کے ذلت آمیز شرائط پر دستخط کیے، اور آدھے ملک کے ساتھ افغانستان کی آزادی، عزت و تکریم بھی انگریزوں کے حوالے کی۔

میر غلام محمد غبار لکھتے ہیں: “نادر شاہ درانی کے پردادا سلطان محمد طلائی سکھوں کے نوکر تھے تو پشاور سکھوں کو فروخت کر دیا جو کہ اسوقت افغانستان کا حصہ تھا جبکہ سلطان محمد طلائی کے بیٹے یحیی طلائی نے امیر یعقوب کو انگریزوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ یحیطلائی امیر یعقوب کے داماد بھی تھے”۔

آپ اندازہ کریں! افغان بادشاہ اور انکے بیٹے اور داماد و رشتہ دار خود انگریزوں کی گود میں بیٹھتے رہے، کبھی پشاور و پنجاب سے سکھ رنجیتسنگھ کے ساتھ مل کر کابل پر حملہ آور ہوتے ہیں اور کھبی ایرانیوں کے ساتھ مل کر ہرات و قندھار تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ کبھی روس کےہمنوا ہوتے ہیں تو کبھی امریکی چھتری تلے بیٹھ جاتے ہیں مگر تاریخ نویس افغان حکمرانوں کے کرتوت قبائل کے کھاتے میں ڈالنے پہ بضد کیوںنظر آتے ہیں۔

گندمک میں ہتھیار ڈالنے کے بعد پ افغانوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو امیر یعقوب خان ہندوستان بھاگ گئے۔

دوسری افغان جنگ 80-1878 ختم ہوئی تو وادئ کرم میں افغانستان کا کوئی گورنر نہیں رہا۔ 26 دسمبر 1878 کو میجر جنرل رابرٹس نے وادئکرم کے تمام قبائل سے خطاب کیا اور چلتے بنے۔ خطاب میں مذہبی معاملات اور سماجی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس کے علاوہ ایک مولوی کو برطانوی راج کے خلاف اکسانے پر علاقہ بدر اور دوسرے کو گرفتار کرنے کی خبر دی۔ انگریز جنرل کے تقریرسے لگتا ہے کہ وادئ کرم کے طوری۔بنگش سمیت منگل، مقبل، زازی پاڑہ چمکنی سارے قبائل موجود تھے، طوری۔بنگش قبائل کا خاصذکر ہے جنہوں احمد زئی میں موجود افغان گورنر کی چھاؤنی جلائی۔ اس تقریر کے بعد جنرل رابرٹس خوست کی طرف گئے اور وادئ میں کوئیمداخلت نہ کرنے کی پالیسی اپناتے ہوئے وادئ کرم کو آزاد چھوڑ دیا۔

گندمک میں سرنڈر کے زخم ابھی تازہ تھے کہ امیر عبدالرحمن نے ڈیورنڈ لائن ایگریمنٹ پر دستخط کردیئے اور انگریزوں کو مکمل اختیار دیا کہ وہجہاں سے گزرے وہاں ہندوستان اور افغانستان کا بارڈر ہو گا۔ امیر عبدالرحمن کی شیعہ دشمنی اتنی شدید تھی کہ ڈیورنڈ لائن پر کرم کو دمخنزیر کہا کرتے تھے اور خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے کہ دم ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔

ڈیورنڈ لائن لکیر نے چمن، پشین، چاغی، وزرستان، کورم (کرم)، خیبر، باجوڑ، سوات، بُنیر، دیر، چلاس اور چترال تک کے علاقے افغانستانسے الگ کرکے ہندوستان کے حوالے کئے۔

اب وادئ کرم مکمل آزاد ریاست بن چکی تھی اور طوری۔بنگش قبائل نے حکومت کرنے کے لئے اپنے دو گورنر منتخب کئے جو ایک سید،جناب سید گل بادشاہ صاحب اور ایک میاں مرید جناب محمد نور خان صاحب تھے۔

وادئ کرم کی حالت ایک جنگل کی طرح تھی، جہاں ہر طرف لاقانونیت تھی۔ طوری قبائل آپس میں بھی لڑ رہے تھے اور ارد گرد بسے سنیقبائل بھی وادئی کرم پر حملہ آور ہوئے۔ طوری قبائل بھی ٹل اور کوہاٹ تک دیگر قبائل پر حملے کرتے رہے۔ لامتناہی جنگوں کا سلسلہ شروعہو چکا تھا اور سرور خان المعروف “چکئی” سنی قبائیل کو اکٹھا کرکے لوئر وادئ پر حملے کرکے طوری بنگش قبائل کے علاقوں پر قبضہ کرکے اپرکرم کی طرف بڑھ رہے تھے۔

چکئی سرور خان نے عیاری سے پہلے چنارک پر قبضہ کیا اور خوست میں گورنر کے بھائی کو ہٹانے کے مشن پر چلے، وہاں کامیاب ہوکر کابلپہنچے تو اپنے آپ کو کنگ میکر سمجھنے لگے۔

پن چکی (ژرندی گڑئ) چلانے والے جو اجرتی قاتل اور پیشہ ور ڈاکو و رہزن بن گئے تھے۔ اہل سنت پشتون قبائل ان ڈاکوؤں کے گرد جمعہوئے اور لوئر کرم سے طوری بنگش قبائل کو بےدخل کر کے وہاں گورنر بن گئے۔ انگریزوں نے مصلحت (ڈیوائڈ اینڈ رول) کے تحتآنکھیں بند کیں جبکہ چکئی سرور خان مشن کے پیچھے افغان حکمران عبدالرحمن خان بھی تھے جو وادئ کرم کو واپس کابل کے زیر تسلط لانےکے خواہشمند ہو چکے تھے۔

سوال اُٹھتا ہے کہ ایسے حالات میں آفریدی قبائل یا وزیر و محسود قبائل اور طوری بنگش قبائل کے پاس کیا آپشن دستیاب تھے؟ وادئ کرمکے افغانستان کے ساتھ حالات گونر اعظم خان سے پہلے بھی ٹھیک نہیں تھے جس کی کئی وجوہات ہیں لیکن یہاں سے وادئ کرم کیافغانستان سے علیحدگی اور ہندوستان میں شامل ہونے کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ اس میں قبائلیوں کو دوش دینا زیادتی ہے بلکہ افغانستانکے جتنے بھی مسائل اور ناکامیاں ہیں ان کے ذمہ دار اس کی نااہل لیڈرشپ اور سیاسی ہٹ دھرمیاں ہیں۔

وادئ کرم 1901 سے 2018 تک کرم ایجنسی تھی۔ 1901 سے پہلے وادی کرم کبھی افغانستان تو کبھی ہندوستان کے زیر تسلط رہا اور کبھیشورش کی وجہ سے آزاد حیثیت میں بھی کام چلتا رہا۔ انگریزوں نے وادئ کرم میں طوری لیوی (طوری ملیشیا) کی بنیاد رکھی تو اس سے پہلےخیبر رائفلز میں آفریدی قبائل، وزیرستان سکاؤٹس میں وزیر اور محسود قبائل، اسی طرح باجوڑ اور مہمند میں ملیشیا کھڑے کر دیئے تھے اور سبقبائل ملیشیا میں بھرتی ہو کر انگریزوں کے ساتھ شانہ بشانہ لڑتے رہے اور آج بھی وہ سب ملیشیا قائم و دائم ہیں اور سب قبائل بھی۔صرف طوری ملیشیا یا کرم ملیشیا کو مورد الزام ٹھہراتے رہنا تاریخی بددیانتی ہے، جس کا ازالہ نہایت ضروری ہے۔ تاریخی حقائق کو مسخکرنے سے تاریخ نہیں بدلتی۔ قلم کار اور لکھاری اگر تاریخ کے دسترخوان پر حرامخوری شروع کریں تو اقوام کی حالت وہی ہوتی ہے، جوپشتون قوم کی ہے۔

جب سے پشتون اس علاقے میں آباد ہیں طوری بنگش قبائل بھی وادئ کرم پر قابض ہیں اور تین سو سال سے مسلکی تعصب کا نشانہ بنتے آرہے ہیں۔ اکثر مؤرخین نے انہیں رافضی جیسے الفاظ کے ساتھ تاریخ میں یاد کیا کرکے تعصب برتا ہے جبکہ اہل سنت قبائل پانچ سو سالسے وادئ کرم کے اہل تشیع آبادی کو کافر سمجھ کر قتل کرکے ثواب دارین حاصل کرنے کے چکر میں ایک دوسرے پہ سبقت لینے کی کوششکرتے رہے ہیں۔

گندمک کے شرمناک سرنڈر سے جھکے ہوئے سر کو غازی امان اللہ خان نے اُٹھانے کی کوشش کی تو حبیب اللہ کلکانی مکار انگریز و عیارمولویوں کے ہاتھوں استعمال ہوئے جبکہ غلجی قبائل، نادرشاہ، سدوزئی اور بارکزئی کی آپس میں رسہ کشی بھی تباہی و بربادی میں حصہ ڈالتیرہی۔

افغانستان ایک ایسا بدنصیب خطہ أرض ہے جہاں محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، میر اویس بابا، احمد شاہ ابدالی اور غازی امان اللہجیسے دنیا کے عظیم رہنما اور فاتح پیدا ہوئے ہیں وہاں نااہل، نیم مولوی، چور، ڈاکو، رہزنوں کے سرغنہ، جاہل، مطلق، نام نہاد خادمین دینرسول اللہ، امیرالمومنین حبیب اللہ خان کلکانی المعروف بچہ سقہ جیسے لوگ بھی ایوان اقتدار تک پہنچے ہیں۔

افغان بادشاہ امان اللہ خان یورپ اور پڑوسی ممالک کے شاندار تاریخی دورے سے واپس آئے تو پورے افغانستان کا بھی دورہ کیا۔ شاہنے اپنے خسر محمود طرزی کے مرتب کردہ اصلاحات کے نفاذ اعلان کیا۔ ساتھ ہی انگریز سفیر کو بلا کر کہا کہ اب افغانستان کی خارجہ اور مالیپالیسی آزاد ہو گی تو انگریزوں نے امان اللہ خان کو ہٹانے کا پورا پلان بنا لیا۔ امان اللہ کی جدیدیت پسند بیگم کی یورپ میں لی گئی کچھ تصاویروسیع بنیادوں پر شئر کرکے پروپیگنڈا کیا گیا کہ امان اللہ خان مرتد و زندیق ہو چکے اور مغربی اصلاحات نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ پروپیگنڈا افغانستان کیا ہندوستان میں بھی پھیل گیا اور جاہل مولویوں نے مسجدوں کا استعمال کرکے امان اللہ خان کے خلاف بھر پورمہم چلائی اور بچہ سقہ نے اس کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔سیدو حسین اور ملا شور بازار سے ملکر غلجی اور شینواری قبیلے کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔مولویوں نے دھوکے سے امان اللہ کو دستبردار کرکے قندھار پہنچا دیا اور اس کے سادہ لوح بھائی عنایت اللہ خان کو دو ہفتوں کیلئے تخت پربٹھایا۔ اب کیا تھا، بچہ سقہ کے ساتھ شینواری، منگل، جاجی اور غلجے سمیت دیگر قبائل مل گئے اور ۱۷ جنوری ۱۹۲۹ کو کابل میں داخل ہوکرپایہ تخت پر قبضہ جما لیا اور خادمِ دینِ رسول اللہ کے لقب سے لٹیروں کے ایک سرغنہ حبیب اللہ خان کلکانی افغانستان کے بادشاہ بنگئے۔

جب نادر شاہ نے سفاک بادشاہ اور جعلی امیرالمؤمنین حبیب اللہ کلکانی کے خلاف لشکر کا فیصلہ کیا تاکہ عظیم افغانستان کا قبضہ واپسچھڑائیں تو سویٹرزلینڈ سے پشاور اور پھر پاراچنار آئے اور طوری قبائیل سمیت جاجی، مقبل، منگل اور خوست کے قبائل کر لشکر لیکر کابلپر حملہ کیا۔

کوئی تاریخ نویس آپ کو طوری قبیلے کے ایسے سینکڑوں مثبت کردار اور پہلوؤں پر قلم اُٹھانے کی زحمت گوارا نظر نہیں آئیں گے۔ غنی خانبابا نے اپنی کتاب دی پٹھان میں غازی امان اللہ خان اور اورکزئی کے شیعہ قبائل کے ساتھ ہونیوالی نہایت درناک داستان لکھی ہے۔اورکزئی کے زیرک شیعہ قبائل نے غازی امان اللہ خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو عیار انگریزوں کے ایماء پر مکار مولویوں نے پروپیگنڈاشروع کر دیا کہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رض کے قتل میں اورکزئی کے اہل تشیع لوگ بھی شامل تھے”۔ سب کو پتہ تھا کہ اس وقتیہاں اسلام آیا بھی نہیں مگر 

پھر کیا تھا آفریدی قبائل نے اورکزئی میں کربلاء برپا کردی۔ مرد خواتین، بچے جو نظر آتے قتل ہوتے رہے، ہزاروں لوگ بےگناہ قتلہوئے۔ جب انسان ختم ہوئے تو باغات کا رُخ کیا اور میوہ جات کے درخت کاٹے گئے اور آخر میں چنار کے درخت کاٹ کر آفریدیقبائل کے کلیجے ٹھنڈے ہوئے۔ غنی خان بابا نے ذکر نہیں کیا لیکن ایسی آگ وادئ کرم میں لگ چکی تھی اور آس پاس کے سارے اہلسنت قبائل اہل تشیع طوری قبائل پر ٹوٹ پڑے تھے۔ یہ سب اس وقت ہو رہا تھا جب اورکزئی اور وادئ کرم ہندوستان کا حصہ تھے۔

پشتون تاریخ نویس وادئ کرم کے طوری بنگش قبائل کو رافضی لکھتے رہے ہیں۔ حیات افغانی کے مصنف محمد حیات خان (ترجمہ فرہاد ظریفیاور عبداللطیف یاد) کے صفحہ 17 پر رافضی کہتے ہیں مگر صفحہ 340 پر شیعہ مذہب اور اہل سنت جماعت کے دشمن کے طور پر لکھتے پائے گئےہیں۔ فقہی لہذ سے شیعہ اہل سنت کے بھائی ہیں دشمن بالکل نہیں بلکہ ذاتی دشمنی اور پہاڑ، زمین اور پانی کے جھگڑے مذہبی شکل اختیارکرجاتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔

تواریخ خورشید جہان کے صفحہ 126 پر مصنف شیر محمد خان صاحب وادئ کرم کے طوری قبائل کو راضی سید کے زیر اثر بتاتے ہیں۔ دپختون قبیلو شجری کتاب کے مؤلف م ج سیال مومند صاحب صفحہ نمبر 275 پر لکھتے ہیں کہ وادئ کرم کے شیعہ اپنے کو سچا جبکہ دوسرےقبائل کو گمراہ سمجھتے ہیں۔ کیا کسی پشتون لکھاری میں یہ لکھنے کی جرأت بھی ہے کہ ضیاالحق پلان کے تحت افغان مہاجرین کے ساتھ مقامیقبائل نے حالیہ تاریخ 1987 میں وادئ کرم سے اہل تشیع آبادی کو ختم کرنے کی کوشش کی؟

کیا پشتون لکھاریوں میں یہ جرأت ہے کہ 2005 سے لے کر 2012 تک وادئ کرم کے محاصرے کا ذکر کریں جب طوری بنگش کے اہل تشیعقبائل پر وزیرستان سے لیکر اورکزئی، خیبر، باجوڑ اور مہمند سے طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کی سربراہی میں لشکر آتے رہے اور انہیں صفحہہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی؟

افغان جہاد کے نام پر فساد کس نے کیا جس نے افغانستان کا بیڑہ غرق کیا؟ سوات اور باجوڑ میں جو مولانا صوفی محمد اور مولوی فضل اللہنے کیا وہ سب کے سامنے ہے، خیبر میں لشکر اسلام اور منگل باغ نے جو نہیں کیا وہ فوجی آپریشن نے کیا۔ اسی طرح شمالی اور جنوبیوزیرستان کس نے کھنڈرات میں تبدیل کئے؟

وادئ کرم کے طوری اور بنگش، جاجی و منگل، جدران و مقبل اور پاڑہ چمکنی سمیت سب قبائل آپس میں زمینی تنازعات، پہاڑوں اور پانیکے جھگڑوں میں عرصہ دراز سے لڑتے آ رہے ہیں۔ پشتونوں کا جینیاتی مسئلہ ہو یا جنگجوانہ روش، یہ مسئلہ سب قبائل میں یکساں موجودہے۔ ایسے میں وادئ کرم کے طوری بنگش قبائل پر کسی مسلک و مذہب کا لیبل لگا کر ٹارگٹ کرنا تاریخی بددیانتی ہی کہلا سکتی ہے۔

وقت آ پہنچا ہے کہ نئی نسل آبا و اجداد کی ان فاش غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھے۔ اگر پشتونوں نے تاریخ میں زندہ رہنا ہے تو جنوجوہات کی وجہ سے تباہی و بربادی سے ہمکنار ہیں ان وجوہات کی بیخ کنی کرنا ضروری ہے۔ سب قبائل کو ایک دوسرے کو برداشت کرناہوگا، ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھنا ہو گا اور ایک متفقہ لائحہ عمل اختبار کرنا ہوگا جہاں سے ترقی کی منازل طے کرنا شروع کریں۔

نئی نسل کو نئے جذبے سے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم و تربیت حاصل کرکے دنیا کے عظیم اقوام کے صف میں کھڑا ہونے کاامتحان درپیش ہے اور اس وقت اس امتحان میں پاس ہوسکتے ہیں جب نسلی، مذہبی اور فقہی افراط و تفریط پس پشت ڈالیں اور تنازعاتپرامن طور پر حل کرکے آگے بڑھیں۔

اس مضمون سے آپ اخذ کرسکتے ہیں کہ

۱-وادئ کرم طوری قبیلے کا سینکڑوں سال سے مسکن ہے۔

۲-درہ کرم بھی درہ خیبر جیسے گزرگاہ رہی ہے جو سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال سے جنگجو حکمرانوں کا راستہ ہے۔

۳- طوری قبائل بھی دیگر پشتون قبائل طرح ہی ہیں، پشتونوالی میں کسی سے پیچھے نہیں اور ننگ و غیرت اور دفاع میں سب سے مضبوطہیں۔

۴- افغانستان چار سو سالوں سے اگر تباہی کا سامنا کررہا ہے تو اس میں قبائیل سے زیادہ افغان حکمرانوں کا ہاتھ ہے جو ایک دوسرے کو قتلکرتے رہے ہیں فتح حاصل کرنے کیلئے کسی بھی بیرونی قوت کے ساتھ مل کر اپنے بھائی کو دھڑن تختہ کرسکتے ہیں، تو ایسے میں گندمک جیسےمعاہدے کا الزام کسی قبیلے کے سر تھوپنا تاریخی بددیانتی ہے۔

۵- افغان حکمران انگریز خود لائے اور آدھا افغانستان انگریزوں کے حوالے کیا اس میں کسی قبیلے کو دوش دینا تاریخی بددیانتی ہے۔

۶- پشتون (پختون) قبائل سب آپس میں دشمن دشمن ہیں، تو صرف طوری قبیلے کو مسلک یا مذہب کے بنیاد پر نشانہ بنانا تاریخی طور پر درستطرز عمل نہیں۔

حوالہ جات:

۱- الکامل فی التاریخ۔ ابن اثیر۔ جلد ۱۰ صفحہ ۳۰۸ سن ۶۰۲۔ مطبوعہ بیروت۔

۲- تاریخ فرشتہ۔

۳- تاریخ نامہ ہرات: سیف بن محمد بن یعقوب ہروی صفحہ 196

۴- تزک بابری (اردو) کے صفحہ نمبر ۳۳ اور ۳۴

۵- تزک بابری انگریزی ترجمے کے صفحہ 220، اور 229 سے لیکر 235 تک

۶- ځاځی د جہاد پہ بھیر کی۔ عوض الدین صدیقی۔ صفحہ ۲،۳

۷- پښتانه د تاریخ په رڼا کی۔ سید بہادر شاہ ظفر کاکاخیل

۸- پختون قبیلو شجری کتاب کے مؤلف م ج سیال مومند صاحب صفحہ نمبر 275

۹- تواریخ خورشید جہان کے صفحہ 126

۱۰- حیات افغانی: مصنف محمد حیات خان (ترجمہ فرہاد ظریفی اور عبداللطیف یاد) صفحہ 17، 340

۱۱- اکبر نامہ ابو الفضل

۱۲: کابل میں چار بادشاہ: سید شاہ بخاری

۱۳- افغانستان د تاریخ پہ تګلوري کې۔ میر غلام محمد غبار

14: Address of Major-General Roberts to the Chiefs of Kurram on the 26th of December 1878. George Edward and William spottiswwode, printer.

15: India’s north-west Frontier by Sir William Barton, page 103 onward.

16: Among the wild tribe of Afghan frontier by T. L Pennel, page 277 onwards

17: the lights and sheds of Hill life, travels in the Hills of Kullu & Kuram in the NWFP region (Circa-1890), chapter and 3 pages 190 onwards.

18: Photo: the lights and sheds of Hill life

19: Notes on Afghanistan & parts of Baluchistan By Maj H.G. Raverty

20: Epoutastuart Elphinstone: An account of the kingdom of Cabul

21: Journal of the royal Asiatic society. Vol 17

22: Ghani khan: The Pathan (Eng page 48, 49)

23: Ghani Khan: The Pathan (Pashto Translation page 82, 83 & 84)

24: The Pathan Sir Olaf Caroe

25: Edward Thomas: the chronicle of the Pathan kings of Delhi

26: The Chronicles of the Pathan kings of Delhi by Edward Thomas, page 25 onwards.

27: Afghanistan in the course of history: Mir Ghulam Muhammad Ghobar (page 28)

‎مشر محمود اچکزئی کا بنوں میں جرگہ کا اعلان، تاریخی پیش و پس منظر۔

‎مشر محمود اچکزئی کا بنوں میں جرگہ کا اعلان، تاریخی پیش و پیش منظر۔
 

پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے رہنما اور سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ پیر  21جون کراچی میں انتقال کر گئے، ڈاکٹر صمد پنزئی نے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ عثمان کاکڑ کو کیسے چوٹ لگی اور ان کے اہل خانہ کو وہ ڈرائنگ روم میں قالین پر ملے تھے اور ان کے سر سے خون بہہ رہا تھا ,میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے عثمان خان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا,جناح پوسٹ گریجویٹ کی ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ سر میں مبینہ چوٹ کے بارے میں فی الحال تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

سینیٹ میں ارکان نے مرحوم سینیٹرعثمان خان کاکڑ کی خدمات کوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے لئے بڑا کام کیا،نظریاتی سیاستداں تھے ،ہمیشہ وفاق کے لئے لڑتے رہے،سول بالادستی مشن تھا، آج پاکستانی سیاست مضبوط آواز سے محروم ہو گئی ہے ، عثمان کاکڑ کی وفات سے پاکستان میں جمہوری تحریک اور بالخصوص بلوچستان کے حقوق کی تحریک کو بڑا دھچکا لگا ہے، وہ کمزور طبقوں کی آواز ،انسانی حقوق کے بہت بڑے علمبردار اور اٹھارھویں ترمیم کے طاقتور محافظ تھے، بعض ارکان نے عثمان کاکڑ کی وفات کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

محمود خان اچکزئی نے مرحوم عثمان خان کاکڑ کے جلوس جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک نمائیندہ پختون جرگہ بنوں میں بلانے کا اعلان کیا تو اس مضمون میں بنوں میں جرگہ منعقد کرنے کے حوالے سے تاریخی تناظر سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ پختونستان ایشو کے مختلف پہلو ہیں، اس کالم میں باچا خان پر بات ہوگی اور افغانستان پر مختصر بات ہوگی کہ کیسے انہوں نے اس ایشو سے سیاسی فائدے اُٹھائے۔

محمود خان اچکزئی

دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی امپائر زوال پزیر ہوئی تو ہندوستان کو آزادی دینے فیصلہ کیا اور تقسیم کا فارمولا پارلیمنٹ سے منظور کرنے کے بعد مشاورت شروع کی۔ اور 3 جون 1947 کو وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سربراہی میں قائداعظم اور جواہر لال نہرو لندن میں ملاقات کی اور اس ملاقات لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر، بلدیو سنگھ، اچاریہ بھی شامل تھے۔ اس کو 3 جون پلان بھی کہا جاتا ہے۔

وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سربراہی میں قائداعظم اور جواہر لال نہرو

مگر 2 جون کو باچا خان لندن میں ہی گاندھی کو لے کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملے اور سرحدی صوبہ کے گونر اولف کیراؤ (دی پٹھان کتاب کے مؤلف) کے ہٹانے کا مطالبہ کیا، جو رد کردیا گیا، یاد رہے ، پختونخواہ میں اُس وقت ڈاکٹر خان صاحب (باچا خان کے بھائی) کانگریس کی طرف سے وزیراعلی تھے، اور باچا خان متحدہ ہندوستان کی سیاست کرتے تھے اور تقسیم ہند کے خلاف تھے۔

تین جون پلان کے تحت پختونخواہ میں ریفرنڈم کا فیصلہ ہوا تو باچا خان نے فسادات بھڑکنے کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے شدید اختلاف کیا، باچا خان نے مذہبی بنیادوں پر ریفرنڈم سے بھی اختلاف اسی لئے کیا تھا کہ مذہبی نفرت پھیلے گی اور مذہبی بنیادوں پر قتل و غارت ہوگی۔ یہی وہ وقت تھا جب باچا خان خان عبد الغفار خان نے گاندھی سے کہا کہ “آپ نے ہمیں بھیڑیوں کے حوالے کیا ہے”۔ اور باچا خان اور گاندھی نے صوبہ سرحد ریفرنڈم میں پاکستان اور ہندوستان کی بجائے پاکستان اور پشتونستان تجویز کی۔ 1

تو یہاں سے پشتونستان کی تحریک شروع ہوتی ہے کیونکہ باچا خان پشتونوں کے لئے ایک علیحدہ ملک یا شناخت دینے کے حق میں تھے۔ باچا خان کانگرس پارٹی کے پختونخواہ (اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ) کے روح رواں تھے اور گاندھی صاحب کے قریبی رفقاء میں شامل تھے۔

تین جون پلان منظوری کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن، جناح اور گاندھی لائیو ریڈیو پر تقسیم ہند کا اعلان کیا۔ تو باچا خان نے جناح صاحب کو خدشات سے آگاہ کیا اور قائداعظم کو صوبہ سرحد دورے کی دعوت دی جو سیاسی وجوہات کی وجہ سے ملتوی ہوگیا۔

آٹھ جون کو باچا خان نے گاندھی کو خط لکھ کر باقاعدہ آگاہ کیا کہ وہ “ریفرنڈم کےخلاف ہیں” اور مزید یہ کہ وہ “پاکستان کے خلاف ہیں اور آزاد پشتون ریاست کے حق میں ہيں جو ہندوستان کے ساتھ ملحق ہوگا” 2

گیارہ جون کو ایک اور خط میں باچا خان نے اپنے مطالبات دہرائے۔ مگر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے گاندھی نے 16 جون 1947 کو ایک خطاب میں باچا خان سے مخاطب ہوکر کہا کہ “پختون مذہب کے نام پر قتل و غارت کیوں کریں گے جب ہم سالوں سے خدائی خدمتگار اور عدم تشدد کے فلسفے کی ترویج کررہے ہیں ”؟ 3

گاندھی نے باچا خان کی دکھتی رگ ہر ہاتھ رکھا! یہ بات باچا خان کو بھی پتہ تھا کہ پختون یا ہندو یعنی مذہبی لوگ جتنے بھی سیاسی ہوجائیں وقت آنے پر اپنی اصل رنگ دکھاتے ہیں اور وہی تقسیم ہند کے وقت لاکھوں افراد کی قتل و غارت گری سے یہ بات ثابت بھی ہوئی۔

گاندھی اور ہندوؤں سے ناُمید ہو کر اب باچا خان نے قائداعظم سے ملنے کا فیصلہ کیا اور 18 جون کو قائداعظم سے مل کر دو مطالبات انکے سامنے رکھ دیئے۔ نمبر1 یہ کہ ریفرنڈم کو ملتوی کریں اور نمبر2 صوبہ سرحد کو اپنی حال پر چھوڑ دیں، بعد میں کسی وقت ہم (پشتون) فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔

اُنّیس جون کو ڈان اخبار میں بے بنیاد خبریں شائع ہوئیں اور الزامات لگائے، تو باچا خان نے جناح صاحب سے خط لکھ کر خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ “میں اس لئے آپ سے ملا کہ اگر ممکن ہو ایک معلومات کا ایک پُرامن اور باعزت راہ حل نکالیں، مگر ہم مزید متفق نہیں”۔4

جناح اور باچا خان کی یہ ملاقات بے نتیجہ رہی۔

بیس جون 1947 کو نیو یارک ٹائم اخبار نے سُرخی لگائی کہ “گاندھی نے پٹھانستان کی حمایت کردی” 5

یوں پشتونستان کا مسئلہ بین الاقوامی ہوا اور افغانستان اپنا حصہ ڈالنا شروع کردیا۔ مگر باچا خان نے گاندھی سمیت سب کو پٹھانستان کی بجائے پختونستان کا لفظ استعمال کرنے کی تاکید کی۔

پختون مؤرخ ڈاکٹر نفیس رحمن کے مطابق 21 جون 1947 کو باچا خان، ڈاکٹر خان، عبدالصمد اچکزئ (محمود خان اچکزئ کے والد) اور حاجی مرزا علی خان (فقیرایپی)نے بنوں میں ایک جرگہ کیا جس میں بہت سے نمائندہ پشتون مشران شامل تھے۔ بنوں جرگہ میں مشترکہ قرارداد منظور کی کہ” پختونوں کی ایک آزاد ریاست قائم کی جائے، جس کا آئین جمہوری، مساوات اور معاشرتی انصاف کے اسلامی تصور پر مبنی ہو” اس جرگے نے تمام پختونوں کو متحد ہونے اور اغیار کا تسلط قبول نہ کرنے کی اپیل کی۔ 6

اس جرگہ کی قرارداد جناح صاحب کو بھی بھیج دی گئی۔

پشاور میں بھرپور کمپین چلاتے وقت باچا خان نے 27 جون کو کارکنوں سے ایک خطاب میں کہا کہ” آئیں! ہم ہرکسی کے تسلط آزاد ایک ایسا ریاست قائم کریں جو دوسرے مسلمان ممالک سے برادرانہ تعلقات رکھیں” برادرانہ مسلمان ممالک کا ذکر کرتے ہوئے باچا خان سب سے پہلا نام “افغانستان” کا لیتے ہیں، بعد ایران، عراق، عربیہ اور مصر کام نام لیتے نظر آتے ہیں۔7

باچا خان ایک آزاد پختون ملک یا ریاست چاہتے تھے۔

باچا خان ایک آزاد پختون ملک یا ریاست چاہتے تھے۔

سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ باچا خان نے افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا ذکر کیوں کیا؟ کیا باچا خان آزاد پختونستان حاصل کرکے افغانستان کے جھولی میں ڈالنے والے تھے؟ یہ سوچنے اور سمجھنے والی بات ہے، اور اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ باچا خان کو افغان ایجنٹ کہنے والوں کے لئے بھی اس خطاب میں نشانیاں ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی جو “لر و بر” ایک افغان کا نعرہ لگاتے ہیں ان کے لئے بھی اس میں سبق ہے۔

مسلم لیگ نے پروپیگنڈا شروع کردیا کہ خان برادرز نے افغانستان سے مدد مانگ لی ہے اور یہ کہ افغانستان نے نہرو سے ڈیورنڈ لائن معاہدہ پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا ہے۔ افغاستان نے باچا خان تحریک ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا جب وہ اس پروپیگنڈا میں شامل ہوئے اور پشتونستان تحریک کی مدد کا فیصلہ کیا، اور انگریزوں سے رابطہ کرکے ڈیورنڈ لائن پر نظر ثانی کا مطالبہ دہرایا۔

باچا خان کے بھائی اور صوبہ سرحد کے وزیراعلی، ڈاکٹر خان نے نہرو کو خط لکھ کر یقین دلایا کہ” ہم نے کھبی سوچا بھی نہیں کہ افغانستان کے ساتھ الحاق کریں” ہمیں تو ابھی پتہ چلا ہے کہ افغانستان نے ہندوستان سے باقاعدہ رابطہ کیا ہے، ہمیں ناگفتہ بہ اور ناخوشگوار صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں، افغانستان صورتحال سے فائدہ اُٹھا رہی ہے، ہم نے افغانستان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے”۔ 8

قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی پختونستان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے 3 جون پلان کے خلاف ورزی قرار دی، مسلم لیگ سرحد نےباچا خان پر سنگین الزامات لگائے اور گاندھی نے باچا خان پر سنگین الزام “باچا خان افغانستان کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے” رد کرتےہوئے کہا کہ “باچا خان ایک زیرک سیاستدان ہیں اور کھبی بھی افغانستان کے ساتھ الحاق نہیں چاہیں گے ”9

باچاخان کی مخالفت کے باوجود 6 جولائی 1947 کو ریفرنڈم منعقد ہوا، اور باچا خان کی “خدائی خدمتگاروں” اور “ویخ زلمی” نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا۔ باچا خان کے بائیکاٹ کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا کیونکہ جس انداز سے ریفرنڈم منعقد ہوا تھا، اس سے صاف واضح تھا کہ لوگ ضرور ووٹ ڈالیں گے۔ گاندھی نے باچا خان کو بائیکاٹ نہ کرنے کا کہا تھا، باچا خان کو بھی بعد میں ضرور محسوس ہوا ہوگا کہ انتخابات یا ریفرنڈم کا بائیکاٹ کتنا مضر ہوتا ہے۔

خیر! سبز رنگ کے ڈبے میں پاکستان کے لئے ووٹ ڈالے گئے اور سُرخ رنگ کے ڈبے میں ہندوستان کے لئے ووٹ ڈالے گئے۔ 18 جولائی تک جاری رہنے والے ریفرنڈم میں 572,798 رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 298,244 ووٹ سبز ڈبوں میں پاکستان کے حق میں پڑے جو ڈالے گئے ووٹوں کا 99.02% بنتے ہیں جبکہ 2874 ووٹ جو %0.98 بنتے ہیں یعنی ایک فیصد سے بھی کم ووٹ ووٹ سُرخ ڈبوں میں ہندوستان کے حق میں پڑے۔ 10

جب 20 جولائی کو ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان ہوا تو باچا خان نے سوال اُٹھائے کہ “بنوں میں جو نمائندہ پشتون جرگہ ہوا تھا اس کے چئیرمین امیر محمد خان کا ووٹ بھی پاکستان کے حق میں ڈالا گیا تھا”۔ اور پنجاب سے لوگ لائے جانے کا ذکر کیا۔

باچا خان یہ بھی چاہتے تھے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ پشتونستان کا بھی ایک ڈبہ شامل کیا جائے! اگر ایک ڈبہ کسی اور (نیلے) رنگ کا پشتونستان کے لئے رکھ دیا جاتا تو ریفرنڈم کے نتائج کیا ہوتے؟ 11

اس کا فیصلہ آپ خود سوچ لیں، میں آگے بڑھتا ہوں۔

ریفرنڈم کے بعد 27 جولائی 1947 کو آخری بار ہندوستان جا کر گاندھی سے ملاقات کرتے ہیں اور گاندھی نے باچا خان کو پاکستان “پاک” کرنے کا مشورہ دیا۔ پاک کا مطلب عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار لیا جا سکتا ہے۔ گاندھی اس سے پہلے بھی باچا خان کو یہ مشورہ دے چکے تھے۔ یوں باچا خان آخری بار ہندوستان سے پاکستان واپس ہوئے۔ 12

گاندھی اور باچا خان كى آخرى ملاقات

پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔

قائداعظم نے 21 اگست کو ڈاکٹر خان کی حکومت برطرف کرتے ہوئے عبدالقیوم کو سرحد کا نیا وزیراعلی بنایا۔

باچاخان نے 3 اور 4 ستمبر 1947 کو چارسدہ (سرداریاب) میں صوبائی جرگہ بلایا جس میں قبائلی مشران، پارلیمانی پارٹی، زلمی پختون اور خدائی خدمتگار شامل تھے، جرگے سے خطاب کرتے ہوئے باچا خان نے تین قراردادیں پیش کی۔

1.     خدائی خدمتگار (باچا خان کی پارٹی) پاکستان کو اپنا ملک مانتے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں پاکستان کی مفاد اور تحفظ کے لئے بھرپور کوشش کریں گے اور اس مقصد کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

2.     خدائی خدمتگار ڈاکٹر خان حکومت کی برطرفی غیر جمہوری عمل قرار دیتی ہے لیکن چونکہ ملک نازک مرحلے سے گزر رہا لہذا اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جائے گا۔

3.     تقسیم کے بعد خدائی خدمتگار تنظیم نے آل انڈیا مسلم لیگ سے تمام روابط منقطع کئے اور اپنا جھنڈے کو تین رنگوں (ترانگا) کی بجائے ایک رنگ (سرُخ) رنگ علامت کے طور پر اپنایا۔ 13

پاکستان بننے کے بعد باچا خان نے یہ رہنما اصول وضع کیئے اور فروری میں دارالحکومت کراچی پہنچے، 23 فروری کو قومی اسمبلی میں ممبر کی حیثیت سے حلف اُٹھا کر پاکستان سے وفاداری کا واضح اظہار کیا۔

باچا خان نے ، 23 فروری1947 کو قومی اسمبلی میں ممبر کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔

اگلے دن یعنی 24 فروری کو گونر جنرل پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے باچاخان خان عبد الغفار خان کو چائے کی دعوت دی، باچا خان خان نے دعوت قبول کرتے ہوئے جب پہنچے تو قائداعظم پرتپاک استقبال کرتے ہوئے باچا خان کو گلے لگایا اور کہا کہ “پاکستان کا خواب آج شرمندہ تعبیر ہوا ہے”۔

گونر جنرل پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور باچاخان خان عبد الغفار خان ملاقات

تاریخی اور خوشگوار ملاقات میں باچا خان نے قائداعظم کو سرحد کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ قائداعظم پھر باچا خان کئ دعوت پر سرحد گئے مگر مسلم لیگ سرحد اور عبدالقیوم جو ایک سازشی شخصیت تھے، کی وجہ سے باچا خان اور خدائی خدمتگاروں سے ملاقات نہ ہوسکی۔

کراچی میں پریس سے باچا خان نے پختونستان کے نظریئے کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد وہ پختونوں کے حقوق کے لئے پاکستان کے اندر جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اور کہا کہ “ پنجاب، پنجابیوں کے لئے، سندھ سندھیوں کے لئے، بنگال، بنگالیوں کے لئے، بلوچستان بلوچوں کے لئے، لہذا پختونوں کے لئے پختونستان (صوبہ) ہونا چاہئے، سرحد کا نام انگریزوں کی “بدعت” ہے۔ 14

یوں پشتونستان یا پختونستان کے لئے باچا خان کی جدوجہد ختم ہوئی مگر افغانستان آج تک پروجیکٹ کو استعمال کررہا ہے۔

بدقسمتی سے پختونخواہ کا نام ستر سال بعد قومی اسمبلی سے تبدیل ہوا جو پاکستان بننے کے فوری بعد تبدیل کرنا چاہیے تھا۔

اور انگریزوں کا مسلط کردہ ایف سی آر بھج ستر سال بعد ہٹا کر پختونخواہ میں ضم کردیا ہے مگر معدنیات پر قبضے کے علاوہ قبائلی اضلاع کی کوئی اور خدمت نہیں کی جارہی۔

سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی ناگہانی موت کے بعد محمود خان اچکزئی اور عثمان کاکڑ مرحوم کے بیٹے نے جو سوالات اُٹھائے ہیں حکومت کو فی الفور خدشات دور کرنے کے لئے جیوڈیشل کمیشن قائم کرنا چاہئے تاکہ موت کے چھان بین ہوسکے اور قتل کے محرکات کا پتہ چلایا جا سکے۔

محمود خان اچکزئی صاحب نے مرحوم عثمان خان کاکڑ کے جلوس جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک نمائیندہ پختون جرگہ بنوں میں بلانے کا اعلان کیا تو اس مضمون میں بنوں میں جرگہ منعقد کرنے کے حوالے سے تاریخی تناظر سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ بنوں جرگہ میں پختون قوم کا کیا ردعمل آتا ہے، مگر 1947 میں تاریخی پختون جرگہ کے بعد حاجی میرزعلی خان (فقیر ایپی) نے ایک آزاد “پختونستان” کا اعلان کیا تھا اور بندوق اُٹھا کر موت تک مسلح جدوجہد جاری رکھی۔

اقوام متحدہ میں 30 ستمبر 1947 کو پاکستان 54 ممالک نے ووٹ دے کر تسلیم کیا اور صرف ایک افغانستان کا ووٹ پاکستان کے خلاف پڑا جنہوں پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ 15

دوسری جنگ عظیم کے دوران افغانستان کے ظاہر شاہ نے غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا مگر پختونستان ایشو کو ہوا دے کر افغان شاہی خاندان نے پختونوں اور باچا خان کو مشکلات سے دوچار کیا۔ 16

ظاہر شاہ سلطان محمد طلائی کے نواسے تھے جنہوں نے سکھوں (رنجیت سنگھ) اور انگریزوں سے مل کر پشاور کو افغانستان سے علیحدہ کر دیا تھا۔ اور معاہدہ گندمک کے شرمناک معاہدے میں بھی سلطان محمد طلائی کے بیٹے یحی خان نے انگریزوں کے سہولتکار کا کردار ادا کیا تھا، افغان امیر یعقوب خان جنہوں نے گندمک معاہدے پر دستخط کئے وہ یحی خان کے داماد تھے۔

سلطان محمد طلائی کا ایک واقعہ بطور مثال پیش کرتا ہوں باقی پڑھنے والے نتیجہ خود نکالیں کہ آج تک افغانستان کے حالات کیوں دگرگوں اور ناگفتہ بہ ہیں۔

جب 1832 میں ہرات کے حالات خراب ہوئے تو انگریزوں اور رنجیت سنگھ (سکھوں) نے شاہ شجاع کو ورغلا کر کندھار پر حملے کے لئے اُکسیا۔ 1833 میں شا شجاع کندھار پہنچے تو امیر دوست محمد خان کابل سے کندھار روانہ ہوئے۔ جب افغان آپس میں کندھار اور ہرات میں لڑنے لگے تو رنجیت سنگھ نے پشاور پر حملہ کرکے 1834 میں مکمل قبضہ کرلیا اور “سلطان محمد طلائی” باجوڑ کی طرف چلے گئے۔ باجوڑ میں انہیں پتہ چلا کہ افغان بھائی سب ہرات اور کندھار میں مصروف ہیں تو جلال میں لشکر تیار کرنے لگے کہ کابل پر قبضہ کریں!

شاہ۔ شجاع کو کندھار میں شکست دے کر جب دوست محمد خان فاتح کابل واپس پہنچے تو سلطان محمد طلائی صاحب نے جلال آباد میں بندوق رکھ کر پھولوں کے ہار لے کر کابل پہنچے اور دوست محمد خان جانتے بوجھتے خوش آمدید کہا! مگر پشاور پر حملہ کرنے رنجیت سنگھ سے واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

سلطان محمد طلائی کے ساتھ 20 ہزار افغان لشکر پشاور پر حملے کے لئے بھیجا اور پیچھے امیر دوست محمد خان بھی 30 ہزار لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب جنگ شروع ہوئی تو سلطان محمد طلائی رنجیت سنگھ کے سپاہ سالار ہری سنگھ نلوا سے مل گئے اور رات کی تاریکی میں افغان لشکر چھوڑ کر سکھ لشکر کے ساتھ شامل ہوگئے۔ افغان امیر دوست محمد خان لاچار اور بےبس کابل واپس روانہ ہوئے اور اگلی جنگ کی تیاری کرنے لگے۔

سلطان محمد طلائی انگریزوں اور سکھوں کو ٹیکس تو دینے کے لئے تیار تھے مگر افغانستان میں اپنے بھائی کی حکومت تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ شاہ شجاع نے 1838 میں انگریز مگناٹن اور رنجیت سنگھ کے ساتھ جو معاہدہ کیا اس کے تحت افغان سندھ، بلوچستان، اور کشمیر سمیت پشاور، ڈیرہ جات اور قبائلی اضلاع سے مکمل طور پر دستبردار ہوئے تھے، معاہدہ گندمک میں امیر یعقوب علی خان نے ہتھیار ڈال دیئے اور امیر عبد الرحمن خان نے ڈیورنڈ لائن معاہدے پر دستخط کرکے سب کچھ انگریزوں کے حوالے کیا۔ 17

سلطان طلائی کی اولاد نے یہی بس کیا ہوتا تو اچھا تھا! مگر غازی امان اللہ خان کے پیٹھ میں چھرا  بھی انہی کی اولاد نے گھونپ کر نادر شاہاور بھائیوں نے راستہ بنایا، 1827 میں خوست کے گونر نادرشاہ کے بھائی نے گوڈ مُلا کے ذریعے پروپیگنڈا مہم شروع کی، اس وقت بدنام زمانہانگریز جاسوس “لارنس آف عربیہ” وزیرستان سے کمپین کو مانیٹر کررہے تھے جبکہ روس میں نادر شاہ کے ایک اور سفیر بھائی تھے، ان کےروابط پکڑے گیے، غازی امان اللہ خان نے نادرشاہ کو چیف آف آرمی، سے ہٹایا اور فرانس میں “سفیر” بنا کر سائیڈ لائن کردیئے گئے، توانکے بھائیوں نے بیچ بوکر سب فرانس پہنچے، اور بالآخر ایک ڈاکو حبیب اللہ کلکانی اور کابل کے پیر فضل عمر مجددی المعروف مُلا شوربازار کےذریعے غازی امان اللہ کے خلاف کافر، زندیق اور مرتد کے فتوے صادر کرنے اٹھارویں صدی کی ابھرتی ہوئی افغانستان کو پتھر کے زمانےتک واپس پہنچایا، غازی امان خان ملک چھوڑ کر دیار غیر میں وفات پائے تو جنازہ افغانستان لایا گیا مگر تیسرے دن ہی اس کے خاندان کوملک بدر کردیا۔

ظاہر شاہ نے پیر فضل عمر مجددی المعروف مُلا شوربازار اپنا پیر بنا کر کابل میں انعام و اکرام سے نوازا۔ اپنے چچا زاد سردار داؤد خان نے ظاہرشاہ کا دھڑن کیا تو پاکستان کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوئے، مگر پاکستان نے بھی ملا عمر اور طالبان کی حمایت کرکے دیکھ لی،  ڈیورنڈ لائنمنوانے میں ملا عمر، ظاہر شاہ، داؤد خان، نجیب اللہ اور حامد کرزئی و اشرف غنی سب ایک پیج پر ہیں۔

جب سینیٹ میں کسی نے محمود خان اچکزئ کی توہین کی تو مرحوم عثمان کاکڑ نے ببر شیر کی طرح دھاڑتے جواب دیا کہ “سن لو! ہم نے شاہشجاع کو نہیں بخشا ہے تو تم کیا چیز ہو، ہم کسی کو برداشت نہیں کریں گے جس نے انگریزوں کی غلامی کی ہو” عثمان کاکڑ کا ایک جملہ میرے مضمون کا نچوڑ ہے۔ کہ افغانستان کے بعض حکمران پختونوں کے لے لئے باعث عار و ننگ ہیں۔

سینیٹ میں  مرحوم عثمان کاکڑ

میں حیران ہوں کہ ان سارے معاہدوں اور جنگوں کے بعد کیسے کوئی تاریخ کا دھارا تبدیل کرسکتا ہے اور دریائے سندھ کو اُٹھا کر کابل میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہا سکتے ہیں۔ مگر اس کا مقصد یہ نہیں کہ پختون پاکستان کے اندر اپنے حقوق سے بھی فافل رہیں یا کوئی پختونوں کے حقوق غصب کریں، پختونوں کو متحد ہوکر پاکستان کے اندر اپنے حقوق کی جنگ دبنگ طریقے سے لڑنا چاہئے، اور اپنے حقوق حاصل کرنے کی تحریک جاری رہنی چاہیے۔ حکومت کو سیاسی اور جمہوری جہد کے ذریعے آوازوں کو دبانے سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ پریشر کوکر بن کر پھٹ نہ جائے۔ پختونوں کے جائز حقوق کے لئے آوازوں کو دبایا گیا تو بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں جو عثمان کاکڑ مرحوم کے جنازے میں دیکھنے کو ملے۔

عبدالصمد خان اچکزئی خان شہید پاکستان بنتے ہی گرفتار کردیئے گئے، اور چھ سال بعد صرف چھ مہینوں کے لیے رہا کردیئے گئے اور ایوبی مارشل لاء ختم ہونے کے بعد 1968 میں رہا کردیئے گئے، مگر یہ راہی کافی نہیں تھی!اب کچھ 

اور ہونے والا تھا!!! جب پاکستان میں آئین اور جمہوریت کا دور شروع ہورہا تھا تو کوئٹہ میں 2 دسمبر 1973 عبدالصمد خان اچکزئی ایک دھماکے میں قتل کردیئےگئے، باپ کے خون میں لت پت چادر 25 سالہ محمود خان اچکزئی نے کندھے پر رکھ کر والد کی سیاسی جدوجہد آگے بڑھانے کی کوشش کی تو“عمران خان” جیسے سیاستدان بھی اس پر جملے کستے نظر آتے ہیں! تو    پختونوں کو غصہ بھی نہ آئے؟ پھر کہتے ہیں کہ اچکزئی تُند و تیز باتیں کرتےہیں۔ عبدالصمد خان اچکزئی سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے، سیاست میں مذہبی جنونیت کے خلاف تھے۔

عبدالصمد خان اچکزئی 

قتل کرنے والوں نے تو “قومی اور نسلی فرقہ واریت” کو دفن کرنے کی کوشش کی مگر محمود خان اچکزئی نے ایسا نہیں ہونے دیا۔  عبدالصمدخان اچکزئی کو ایسے قتل کیا گیا جیسے بلوچ نوروز خان، جیسے اکبر بگٹی، مگر نہ بلوچ اپنے حقوق سے پیچھے ہٹے، نہ پختون اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنےوالوں سے ڈرے ہیں، اب ایک الگ بات ہے کہ پختون متحد نہیں، اور حقوق حاصل کرنے کا مناسب پلیٹ فارم بھی نہیں، مگر پختونزیادتی بھولتے نہیں!!! وہ ایک ایک کرکے اپنے سے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو جمع کرتے ہیں، اور وقت آنے پر حساب چھکاتے ہیں، وہبھی سود سمیت۔ اور یہ بات تین سو سالوں سے ایرانیوں کو بھی پتہ چلا ہے، انگریز اور روسی ادبی حلقوں کو بھی احساس ہوچکا ہے،حکمرانوں کو بھی ہوجائے گا اور اب امریکہ کو بھی بیس سال لڑنے کے بعد یہی احساس ہوا کہ سو سال تک لڑیں تو بھی افغانستان میں کچھہاتھ آنے والا نہیں اور بھاگنے کی تیاری کیئے ہوئے ہیں۔

بتانا صرف یہ تھا کہ ظلم اور زیادتی اتنا کریں، جتنا آپ خود برداشت کرسکتے ہیں۔ بنگالیوں کے ساتھ جو ہو رہا تھا، کسی کو احساس نہیں ہوا،مگر 1971 کے بعد جو حال ہوا، اس کا ملبہ آج بھی ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے، مگر زیادتی کی نشاندہی ہوئی، نہ کوئی تسلی بخش جوابات ملے، حمود الرحمن کمیشن کو دبایا گیا۔

References:

1.     Abdul Ghaffar Khan: faith is a battle by D. G. Tendulkar: Page 424.

2.     Ibid: Page 433

3.     Link Gandhi Speech: Post Prayer Speech 1947-06-16 : Mahatma Gandhi

4.      Abdul Ghaffar Khan: faith is a battle by D. G. Tendulkar: Page 438

5.     Link The New York Times: Gandhi Backs Pathanistan – nytimes

6.     Abdul Ghaffar Khan: faith is a battle by D. G. Tendulkar: Page 439

7.     Ibid: Page 441

8.     Ibid: Page 443

9.     Ibid: Page 444

10.  Ibid: Page 446

11.  Ibid: Page 433

12.  Ibid: Page 450 & 451

13.  Ibid: Page 452

14.  Ibid: Page 452

15.  United Nations Resolution Link Admission of Pakistan to membership in the United Nations.

16.   The Pashtunistan Issue & Politics in Afghanistan, 1947-1952 Theses by Faridullah Bezhan

17.  The History of Afghanistan: Fayż Muḥammad (سراج التوريخ) by Mcchesney & Khorram: P 209

18.  Waqiat e Shah Shuja: by Shah Shuja: Page 198-213

تحریر و تحقیق: احمد طوری #احمدطوری