افغانستان میں جنگ و جدل، بیرونی مداخلت اپنی جگہ مگر قبائلی جھگڑے کون ختم کرے؟ احمد طوری

افغانستان میں جاری حالیہ جنگ میں امریکی انخلاء کے بعد تیزی آئی ہے جو 2001 ء میں طالبان کی اسلامی ریاست کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ڈیڑھ لاکھ فوج کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوئے مگر بیس سال میں پورے افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکام رہے، جنوبی افغانستان کے بیشتر پشتون علاقے طالبان کے کنٹرول میں رہے اور ہزاروں امریکی و اتحادی افواج کو نشانہ کر قتل بھی کرتے رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انخلاء کا اعلان کرتے ہوئے طالبان سے مزاکرات شروع کیئے تو جو بائیڈن نے صدارت سنبھالتے ہوئے سب سے پہلے افغانستان سے فوج واپس بلانے کا اعلان کیا، اور طالبان سے قطر کے دارالحکومت میں ایک ڈیل پر دستخط کیئے جو ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا ہے مگر ایک ہزار امریکی فوجیوں کے علاوہ بیشتر اتحادی افواج افغانستان سے نکل چکے ہیں۔

امریکی فوجی انخلاء شروع ہوتے ہی طالبان نے پچھلے دو ماہ سے افغانستان کے طول و عرض میں کارروائیاں تیز کردی اور کابل حکومت کے بیدار ہونے تک آدھے سے زیادہ افغانستان پر قبضہ کرچکے ہیں۔ کل تک افغان حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ آدھے ‫افغانستان پر ‫طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے! مگر اب امریکی وزیر جنگ نے کہا ہے کہ 419 میں سے 213 اضلاع طالبان کے قبضے میں ہیں! بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت پر قبضہ نہ کرنا طالبان کی سٹریٹیجی ہوسکتی ہے، اور 13 صوبائی دارالحکومت طالبان کے محاصرے میں ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ 3 سے 6 ماہ میں طالبان سے علاقے واگزار کرائیں گے! جبکہ گمبھیر صورتحال یہ ہے کہ کندھار شہر میں جنگ ہورہی ہے، ہرات، کندوز، تخار، بدخشان اور مزار شریف کے اس پاس جنگ ہورہی ہے۔
کندھار کے سپین بولدک میں واقع سابق افغان جنرل عبدلرازاق کے گھر پر طالبان کا دھاوا، لوٹ مار کرکے گھر کا سارا سامان لوٹا گیا اور قبضہ کرکے سابق جنرل کے گھر کو طالبان نے اپنے ضلعی دفتر میں تبدیل کیا ہے، جہاں جنگجو آتے ہیں اور جنرل عبد الرزاق کے ہاتھوں قتل دوسرے قبائلی نوجوانوں کو یاد کرتے ہیں، اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شئیر کرتے نظر آتے ہیں۔
کندھار میں قبائلی جنگ کی تین سو سالہ تاریخ ہے جس میں قبائل اثر رسوخ اور قبضے کے لئے آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ ان میں غلجی افغان، ابدالی، اچکزئی اور نورزئی قبائل قابل ذکر ہیں۔
قبائلی جنگ کی شروعات تو گونر گورجین نے کی جب انہوں نے 1700ء میں ابدالی قبائل کو کندھار سے نکال کر ہرات اور فرح کی طرف دھکیل دیئے، اور غلجی قبائل سے مل کر کندھار پر حکومت کرتے رہے، مگر میر اویس ھوتک (میرویس نیکہ) نے جلد گورجین کو اکھاڑ کر کندھار پر قبضہ کیا اور ایک ابدالی خاتون سے شادی کرکے اس جنگ کو کچھ عرصہ کے لیے ختم کردیا، مگر احمد شاہ ابدالی (احمد شاہ بابا) نے کندھار میں ھوتک قبیلے کی حکومت ختم کرکے 1747 میں ابدالی (درانی) قبیلے کی سرکردگی میں پہلی دفعہ لوئیی افغانستان (گریٹر افغانستان) کی حکومت بنائی اور کندھار میں قبائلی تناسب ایک بار پھر بگڑنے لگا۔ بارکزئی دور میں، دوست محمد خان کے بھائی کہندل خان اور پردل خان قابض رہے، جبکہ ان ادوار میں اچکزئ اور نورزئی قبائل کا کندھار کی سیاست میں کلیدی کردار رہا۔ مزید طوالت دیئے بغیر یہ بات ثابت کرنا مقصود ہے کہ کندھار میں وہی قبائلی سیاست اور رسہ کشی آج بھی اسی طرح جاری ہے۔
حامد کرزئی کندھار میں بیٹھے ہیں تو غلجی قبیلے سے تعلق رکھنے والے اشرف غنی کی کابل میں حکومت ہے، جبکہ جنرل عبد الرزاق اچکزئی کے اوپر امریکی الزام لگاتے رہے کہ انہوں نے ریاست کی رٹ قائم کرنے کے بہانے مخالف قبائل کے لوگوں کے قتل میں ملوث ہے۔ جنرل عبد الرزاق اور حامد کرزئی کے بھائی پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا بھی چرچا رہا ہے۔ اب جبکہ طالبان کندھار شہر میں لڑ رہے ہیں اور سپین بولدک پر قابض ہوئے ہیں تو وہ سیاسی، قبائلی اور منشیات کے ڈیلروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہے ہیں اور سپین بولدک میں مخالف قبائل کے سو سے زیادہ لوگوں کے قتل کے الزامات سامنے آئے ہیں، جسے افغان حکومت جنگی جرائم کہہ رہے ہیں، کیونکہ گھر گھر تلاشی کرکے لوگوں کو باہر لایا جارہا ہے اور قتل کیا جارہا ہے۔
جولائی کے پہلے ہفتوں میں ، طالبان نے صوبہ قندھار کے جنوب مشرق میں واقع اسپن بولدک پر حملہ کیا۔ یہ ضلع ڈیورنڈ لائن پر واقع ہے۔ ضلع کا مرکز، ایک قیمتی تجارتی اور سیاسی اثاثہ ہے ، جو افغانستان کو پاکستان کے ساتھ مربوط کرنے والے ایک انتہائی اہم سرحدی گزرگاہ ہے۔ 19 جولائی 2021 کو ، افغانستان میں مختلف فیس بک پیجز میں حاجی فدا محمد افغان کے بیٹے شیر محمد اور محمود خان کے قتل کی اطلاع ملی۔

 افغان ، جسے حاجی فدا اکا (یا چچا) بھی کہا جاتا ہے ، اچکزئی قبیلے کے ایک اہم قبائلی بزرگ اور قندھار کی صوبائی کونسل کے رکن ہے۔
قندھار کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ دونوں افراد یا تو نورزئی قبیلے کے افراد یا نورزئی قبیلے کے افراد جو طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مل گئے ہیں، ان کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ نورزئی سمیت سب قبائل کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ بدلہ لینے کے لئے یا تو حکومت/ ریاست کے حامی بن کر دوسرے قبائیل سے بدلہ لیتے ہیں، یا مخالف (طالبان) جو بھی ہوں ان کے ساتھ مل کر اپنے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور وقت آنے پر بدلہ لیتے ہیں، جو اب ہورہا ہے۔ بدلہ !
شیر محمد اور محمود خان کے قتل کو طالبان نے اچکزئی قبیلے کے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔ اچکزئی کا تعلق پشتونوں کے درانی قبائل سے ہے۔ درانی جنوبی افغانستان کے علاقے لوئی قندھار ، یا گریٹر قندھار میں سب سے بڑا قبائلی گروہ ہیں۔ درانی کو مزید زیرک اور پنجپئ (پانج پائی) شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زرق روایتی طور پر غالب رہا ہے۔ سابق شاہی خاندانوں کا تعلق زیرک شاخ میں بارکزئی یا پوپل زئی سے تھا۔ اچکزئی کا بھی تعلق زیرک سے ہے۔ دوسری طرف ، پنجپئ میں اسحاق زئی ، نورزئی اور علی زئی جیسے چھوٹے لیکن اہم قبائل شامل ہیں۔
سپن بولدک کی تاریخ اور قبائل
اسپن بولدک میں بنیادی طور پر نورزئی اور اچکزئی آباد ہے۔ یہ پہلے سوویت یونین کے قبضے کے دوران ایک قبائلی فلیش پوائنٹ کے طور پر سامنے آیا تھا، 1984 میں جنرل عصمت اللہ اچکزئی مجاہدین چھوڑ کر کمیونسٹ حکومت میں شامل ہوگئے اور بولدک کے مقام پر منافع بخش بارڈر کراسنگ پر قبضہ کرلیا۔ مسلم کو 1988 میں اسپن بولدک سے بے دخل کردیا گیا۔ عصمت کے کزن اور جنرل عبد الرازق کے چچا منصور اچکزئی نے ملیشیا کا چارج سنبھال لیا۔ منصور نے ایک بار پھر مجاہدین میں شامل ہو کر اپنی وفاداری بدلی۔ 1994 میں ملا عمر کی زیرقیادت ، طالبان ایک سیاسی تحریک کے طور پر منظم ہوگئے۔ انہوں نے منصور کو پھانسی دے دی۔
 2001 کے آخر تک ، امریکہ نے طالبان امارت کا تختہ الٹنے کا عزم کیا تھا۔ قندھار کے اندر ، جہاں طالبان سب سے زیادہ مضبوط تھے ، امریکی صدر کا اہم اتحادی ، حامد کرزئی تھا، جو پوپل زئی سے تعلق رکھنے والے ممتاز کندهاری رئیس کا بیٹا تھا ، وہ بھی زیرک درانی کی ایک شاخ ہے۔ کرزئی نے قبائلی رابطوں کے نیٹ ورک پر انحصار کیا ، انہوں نے امریکی حملے کی بنیاد رکھنے کے لئے طالبان کے مضبوط گڑھ قندھارمیں بغاوت کو مشتعل کرنے کے لئے متحدہ محاذ بنانے کی کوشش کی۔ اس میں انہوں نے سی آئی اے کے ایک اور اثاثہ بارکزئی قبیلے کے گل آغا شیرزئی سے شراکت قائم کی۔ کرزئی ایک اور اتحادی فدا محمد افغان تھے، جو بولدک کی حالیہ شورش میں ہلاک ہونے والے دو نوجوانوں کے والد ہیں۔

 احمد ولید کے مطابق امارت اسلامیہ (طالبان) کے خاتمے کے بعد ، نئی حکومت نے قندھار میں جو شکل اختیار کی تھی ، وہ ڈالروں سے کھیل رہے تھے، شیرزئی نے 2004 تک گورنر کی حیثیت سے حکمرانی کی ، اس دوران وہ نہ صرف بدعنوانی کی وجہ سے بدنام ہوئے ، بلکہ اپنے منصب کو اپنے اور اپنے قبائل کو بااختیار بنانے کے لئے استعمال کیا ، جن میں سے تقریبا سبھی بارکزئی شامل تھے۔ صدر کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی قندھار کی صوبائی کونسل کے چیف کے عہدے پر فائز رہے ، اس پر بھی منشیات کی تجارت میں مبینہ طور پر شامل ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ پاک افغان بارڈر اسپن بولدک میں ، 80 کی دہائی میں عصمت اللہ اچکزئی تعینات تھے تو طالبان کے بعد انکے ہم قبیلہ جنرل عبد رازق بارڈر پولیس کے چیف کی حیثیت سے تعینات تھے، مبینہ طور پر صرف منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی افواہیں ہی گردش نہیں کر رہے تھے ، بلکہ قبائلی دشمنی کے بدلے لینے کی رپورٹس بھی آتی رہیں، ایک دفعہ جنرل رازق نے دعویٰ کیا کہ انہون نے 16 افراد قتل کئے، جو پاکستان سے دراندازی کرنے والے طالبان تھے۔ امریکی تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ قتل ہونے والے افراد باغی (طالبان) نہیں تھے ، بلکہ وہ جنرل رازق کے قبائلی دشمن تھے، جن میں بزنس مین شین نورزئی بھی شامل تھے۔ سرکاری عہدہ ذاتی اور قبائلی اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے استعمال کرنے کا ایک اور واقعہ، 2006 کے موسم گرما میں ، رازق اور اس کی ملیشیا کو قندھار شہر کے مغرب میں ، نورزئی ( پنج پایئی) پانج پائی اکثریتی علاقے میں تعیناتی تھا ، جہاں مبینہ طور پر طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ بتایا گیا تھا۔ یہ تعیناتی ناکام ہوگئی اور ستمبر تک کینیڈا کے زیرقیادت آپریشن میڈوسا کرنی پڑی تاکہ اس علاقے کو طالبان کی موجودگی سے پاک کیا جاسکے۔ کینیڈین صحافی گریم اسمتھ نے اپنی کتاب ‘The Dogs Are Eating Them Now’ میں لکھا ہے کہ بارکزئی کے ایک بزرگ حاجی محمد قاسم نے اعتراف کیا ہے کہ رازق اور اس کی اچکزئی ملیشیا کو مخالف قبائل کے خلاف استعمال کی وجہ سے مخالف قبائل ریاست کے خلاف ہوگئے اور طالبان کے ساتھ مل گئے”۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا!!!

اس طرح طریقہ واردات جنرل رازق نے اسحاق زئی کے خلاف میوند اور پنج پائی میں بھی استعمال کیا ، جنھیں طالبان کے حامی بتا کر نشانہ بنایا گیا۔ فطری طور پر، اسحاق زئی نے طالبان کی طرف جھکاؤ اختیار کیا ، خاص طور پر جب طالبان امیر اختر منصور کا تعلق بھی ایک اسحاق زئی قبیلے سے تھا۔

اگر حالیہ واقعات صرف قبائلی دشمنی ہیں، تو پھر یہ طالبان کی طرف سے شروع کردہ تنازعہ نہیں بلکہ اور افغان حکومت امریکہ کی طرف سے شروع کی جانے والی مسلح دشمنیوں کا تسلسل ہے، کرزئی ، شیرزئی اور رازق امریکی اتحادی تھے اور اشرف غنی اس کا تسلسل ہے، ان کی حکومتیں خدمات کی فراہمی یا وسیع تر عوامی شرکت پر مبنی نہیں بلکہ قبائلی دشمنیوں کو اپنے سرپرستی کے نیٹ ورک بنانے کے لئے تشکیل دی گئی تھی۔ ان نیٹ ورکس کو واشنگٹن نے مالی اعانت فراہم کی اور حکومت کے متوازی چلتے رہے، جس کے نتیجے میں قبائلی دشمنیوں نے جنم لیا ، اور امریکہ نے مالی اعانت فراہم کرکے اس جنگ کو بڑھاوا دیا۔

احمد ولید کاکڑ کے مطابق افغان ریاست کی قبائلی نوعیت ، عدم مساوات پر مبنی اور بعض باثر قبائل کی سربلندی ، ایک تاریخی حقیقت ہے۔ مگر قبائلی تناؤ کو بڑھاوا دینے کے لئے مقامی حلیفوں کے ساتھ اتحاد کی امریکی پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی، جس نے جنرل رازق جیسے قبائلی سرداروں کی فوجی، مالی اور سفارتی مدد کی، جس نے صرف قندھار میں ہزاروں لوگوں کو قتل کیا، اور اب اس کے مضمرات سامنے آ رہے ہیں، جو کچھ سپین بولدک اور کندھار میں قتل عام ہورہا ہے۔ مغربی ذرائع اس کی ایک چھوٹی سی اطلاع دیتے تھے۔ لنکس (یہاں ، یہاں ، یہاں اور یہاں دیکھیں)۔

تاہم ، افغان جنگ کے صرف قبائلی پہلو پر توجہ مرکوز کرنا بھی درست نہیں۔ کچھ زمینی حقائق قبائلی تقسیم سے متصادم بھی ہیں۔ مثلاً سابقہ کمیونسٹ جنرل عبد الجبار قہرمان، جو طالبان کا ایک سخت دشمن تھا جو 2018 میں مارا گیا، نورزئی تھا۔ اور طالبان کے شریک بانی اور پولیٹیکل آفس کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر پوپل زئی (کرزئی کے ہم قبیلہ) ہیں۔ قندھار میں طالبان کی دو بڑی چوکیاں اس وقت اچکزئی کمانڈر کے زیر انتظام ہیں۔ دوحہ میں کابل کی مذاکراتی ٹیم کا قائد مسعوم ستانکزئی ہے ، جبکہ اس کا رشتہ دار شیر محمد عباس ستانکزئی طالبان کے سیاسی دفتر کے سینئر ممبر ہیں۔ جب جنرل رازق پریشانی میں مبتلا ہوگئے، تو قندھار کے غلزئی گورنر اسداللہ خالد ہی تھے جنہوں نے اس کی حفاظت کی۔

افغانستان کے طول و عرض میں اسطرح کے واقعات اب بھی سامنے آرہے ہیں، تاجک، اُزبک اور ہزارہ قبائل بھی یہی الزامات لگاتے رہے ہیں کہ طالبان مخالفین کے گھر مسمار کررہے ہیں، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر لوگوں کو گھروں سے اُٹھا کر قتل کیا جارہا ہے، اور کابل شہر کے پوش علاقوں میں اغوا برائے تاوان کے واردات کرکے لوگوں سے رقم وصول کئے جارہے ہیں، مگر افغان ریاست نظر نہیں آرہی! اغوا برائے تاوان کا واقعہ کابل میں میرے ایک قریبی دوست کے ساتھ بھی پیش آیا ہے، جس کے بیٹے کو اغوا کرکے بھاری رقم کے عوض چھوڑ دیاگیا ہے۔
دوسری طرف ہرات سے چند کلومیٹر دور افغانستان کے سابق وزیرخارجہ رنگین داد کے گھر پر طالبان نے حملہ کردیا، تو رنگین داد نے ٹویٹ کرتے ہوئے حکومتی اور سیکیوریٹی اداروں سے تحفظ مانگنے کی اپیل کی، جس کا واضح مطلب ہے کہ افغان ریاست طالبان کے سامنے بےبس نظر آرہے ہیں۔
لگ بھگ پانچ مہینے پہلے ہزارہ برداری نے کوچی قبائل کو اپنے علاقے ضلع بہسود میدان وردک میں قبضہ کرنے سے روکا تو سب سے پہلے طالبان نے کوچی (پشتون) قبائل سے مل کر ہزارہ قبائل سے کے خلاف جنگ شروع کی، تو امراللہ صالح اور افغان صدر اشرف غنی بھی پیچھے نہیں رہے، ہیلی کاپٹر بھیج کر علیپور ہزارہ کے خلاف اعلان جنگ کردیا، جب ہیلی کاپٹر گھروں پر بمباری کررہی تھی اور پرواز بہت نیچھے تھی تو کسی نے گھر سے نکل کر راکٹ سے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا! پھر کیا تھا! جیسے علیپور ہزارہ نے “ارگ” پر حملہ کیا ہو، ایسے سارے افغان لیڈر علیپور ہزارہ کے خلاف متحد ہوئے اور علیپور ہزارہ کے خلاف بھرپور آپریشن ہوا، پورے علاقے راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ علیپور ہزارہ کو صرف اس لئے ٹارگٹ کیاگیا کہ ان کی ملیشیا جو مکمل دفاعی ملیشیا تھی/ہے، ریاست کے لئے چیلنج بن سکتی ہے، مگر غنی یا حامد کرزئی کے دور میں ایسی کارروائی طالبان کےخلاف دیکھنے میں نہیں آئی، اور کیا افغان حکومت اب خود قبائل کو مسلح کرکے ملیشیا کھڑے نہیں کررہے؟
علیپیور ہزارہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ “جو لوگ اپنے آپ کو افغانستان میں محفوظ تصور نہیں کرتے وہ کہیں آور چلے جائیں”۔
کیا اشرف غنی صاحب اب بھی اپنے اس بیان پر قائم ہیں؟
طالبان کے تاجک اور اُزبک علاقوں پر قبضہ بھی کوئی انہونی بات نہیں، گزشتہ بیس سالوں سے ان علاقوں کو جنگجو قبائلی لیڈرز اور حکومت نے مکمل نظر انداز کیا تھا، سب رہنما کابل میں مزے لے رہے تھے، اب وہ لوگ ان رہنماؤں کی لڑائی کیوں لڑے؟ اس لئے طالبان کے خلاف کسی نے بندوق اُٹھانے کی زحمت نہیں کی، جبکہ طالبان نے بھی گزشتہ بیس سالوں میں ان علاقوں میں اثر و رسوخ حاصل کرکے بہت سے ناراض قبائلی رہنماؤں کو اور کچھ مذہبی شدت پسندوں کو اپنے ساتھ ملایا تھا جنہوں نے طالبان کے لئے راہ ہموار کی، جبکہ ڈیڑھ ماہ قبل ایک آرٹیکل میں قطر منصوبے کے متعلق لکھا تھا کہ بہت سے قبائلی اور سیاسی رہنماؤں کو رشوت دے کر خریدا گیا تھا، جس کی امراللہ صالح نے گالیوں بھرے ایک ٹیلی فون کال میں بھی تصدیق کی۔
حاصل گفتگو یہ ہے کہ افغاستان میں جنگ و جدل کا ایک پہلو نہیں، امریکہ، روس، چین، برطانیہ، ایران، پاکستان اور بھارت کی مداخلت اپنی جگہ مگر افغانستان میں قبائلی جھگڑے کون ختم کرے؟
افغان حکومت زیادہ تر پشتون علاقے طالبان کے حوالے کرکے باقی اُزبک، تاجک اور ہزارہ پر حکومت کرنا چاہتے ہیں تو یہ کسی کو بھی قبول نہیں ہوگا، ٹولو نیوز کے مطابق کل ہی صوبہ کنڑ کے ضلع نرئیی کو افغان سیکیوریٹی فورسز نے طالبان کے حوالے کرکے علاقہ چھوڑ دیا ہے۔
افغانستان کا ایلیٹ کابل میں بیٹھ کر بیس سال تک امریکی اور دیگر غیر ملکی امداد آپس میں بانٹتے رہے، جبکہ دیگر علاقے مکمل نظر انداز کئے گئے! اب ان علاقوں کے عوام اشرف غنی کے ساتھ کیوں کھڑے ہوجائیں؟
افغانستان میں موجود سب اقوام جو نظر انداز ہوئے ہیں سب خاموش ہیں اور اپنے گھروں اور علاقوں کے دفاع کے علاوہ ریاست کے بچاؤ میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے! ان کو پتہ ہے کہ ریاست ان کے ساتھ پھر وہی کرے گی جو علیپور ہزارہ کے ساتھ کیا گیا!!!

الغرض افغانستان میں قبائلی، نسلی، نظریاتی اختلافات ، مادی/مالی فوائد ، ذاتی دشمنی، پسند ناپسند اور دیگر کئی وجوہات کی بنا پر ایک ہی قبیلے کے رہنما دو مخالف کیمپوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں، اور یہ سینکڑوں سال سے روش رہی ہے۔افغان تنازعہ صرف نسلی، یا قبائلی دشمنی کی نظر سے دیکھنا بھی درست نہیں، بلکہ حماقت ہے، جو اکثر مغربی یا مشرقی صحافی و تجزیہ نگار سمجھتے ہیں۔ افغانی قبائلی طور پر منقسم تھے ، ہیں اور رہیں گے، لیکن پچھلی دو دہائیوں کے دوران مغرب کی افغان مہم جوئی ناکام ہونے کی وجہ صرف قدیم قبائلی تنازعات نہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ افغانوں میں فوجی قبضے غیر مقبول رہے ہیں، چاہے برطانیہ کا قبضہ ہو، روس ہو یا اب امریکہ، افغان عوام نے ڈٹ کر سب کا مقابلہ کیا ہے۔
مگر افغان رہنما پھر بھی اسی مغرب پر منحصر ہیں، پاکستان اور بھارت کے محتاج بھی نظر آتے ہیں، جن کو وہ پانچ وقت نمازوں میں اور صبح دوپہر شام بددعائیں دیتے تھکتے نہیں۔ طالبان نے لگ بھگ پانچ سال افغانستان پر حکومت کی، مگر میرا نہیں خیال کہ انہوں نے کوئی پرائمری سکول بھی بنایا ہو، ہسپتال، کالج یونیورسٹی تو دور کی بات، سائنس و ٹیکنالوجی کا نام لینا بھی حرام تھا اور افغانستان خواتین کے لئے قبرستان سے کم نہیں تھا، مگر یہ الگ بات ہے کہ اوریا مقبول جان، انصارعباسی جیسے قبیل کے داعشور مین سٹریم میڈیا میں طالبان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں، جس پر پاکستان کی ریاست کو نوٹس لینا چاہیے۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے واضح اعلان کیا ہے کہ پاکستان افغان مسئلے کا کوئی فریق نہیں، افغان ہمارے بھائی ہیں، آپس میں بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے جو بھی حکومت قائم ہوئی اس کی حمایت کی جائے گی، یہی امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی کہا ہے۔
مگر اشرف غنی، امراللہ صالح اور حمدواللہ محب جیسے افغان سیاستدان سمجھتے ہیں کہ طالبان کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے، جو اوپر بتائے گئے مضمون اور زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے دوسرے پڑوسی یہ ضرور چاہیں گے کہ کابل میں ان کی دشمن حکومت قائم نہ ہو، اگر بھارت نواز حکومت قائم ہوتی ہے تو پاکستان کے قبائلی اضلاع اور بلوچستان پر اس کے اثرات ضرور پڑیں گے! مگر افغانستان کو ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کرنی چاہئے جو افغان امنگوں کا ترجمان ہو، اگر ایسا ہوتا ہے تو پچاس لاکھ افغان گزشتہ چالیس سے پاکستان میں زندگی گزار رہے ہیں، تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور تجارت کررہے ہیں وہ کھبی پاکستان مخالف نہیں ہوسکتے۔
اگر افغان جہاد کا ملبہ صرف پاکستان پر ڈالا جارہا ہے تو یہ افغان رہنماؤں کی سنگین غلطی ہے، افغان جہادی رہنما امریکہ کے دورے کرتے رہے اور امریکہ سے مدد کی درخواستیں کرتے رہے، پاکستان میں جنرل ضیاالحق نے اپنی ناجائز حکومرانی کو طول دینے کے لئے نام نہاد افغان جہاد کا نعرہ بلند کیا، مگر وہ پالیسی اب دفن ہوچکی ہے، پاکستان مزید کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا تہیہ کرچکے ہیں۔
مگر افغان طالبان رہنماؤں اور صدر اشرف غنی کو بھی چاہئے کہ اسلام آباد، تاشقند، تہران، واشنگٹن، ماسکو، لندن اور برلن کی طرف ضرور دیکھیں مگر جرگے کابل میں کریں، کابل میں لویہ جرگہ بلائیں، طالبان امیت تمام اقوام اور قبائل آپس میں بیٹھ کر بات چیت کریں، متفقہ آئین بنائیں جو طالبان سمیت تمام اقوام اور قبائل کے لئے قابل قبول ہو، اگر افغانستان کو بطور ملک اور ریاست متحدہ دیکھنا ہے، ورنہ تین سو سال سے جاری قبائلی اور نسلی سمیت دیگر لڑائی کھبی نہیں ختم ہوگی۔

افغان جہادی رہنما امریکہ کے دورے کرتے رہے اور امریکہ سے مدد کی درخواستیں کرتے رہے

اصل حقیقت یہ ہے کہ افغاستان کے حالات پر تجزیہ کرنا نہایت مشکل ہے کیونکہ اس جنگ اتنے پہلو اور اتنی جہتیں ہیں جن کے متعلق پیشین گوئی کرنا ناممکن ہوجاتا ہے، مگر اس پر سب متفق ہیں کہ افغانستان میں جنگ بندی نہیں ہوئی اور فریقین آپس میں بیٹھ کر مزاکرات کے ذریعے حل نہیں نکالتے تو مسئلہ دن بدن مزید بگڑتا اور پیچیدہ تر ہوتا جارہا ہے، حالات تو ابھی بھی اس قابل ہیں کہ مکمل خانہ جنگی روکی جا سکتی ہے لیکن خانہ جنگی تو شروع ہوچکی ہے، گھر گلیاں اور کھیت کلیان تو ویران ہوچکے ہیں اور لوگ بھی مررہے، بےگھر ہورہے ہیں، مگر بڑے شہروں کے لوگ اس آس میں بیٹھے ہیں کہ امریکہ نے طالبان کے خلاف فضائی حملوں کا وعدہ کیا ہے اور افغان افواج بھی حرکت میں آئی ہیں، جس نے کئی علاقے طالبان سے واپس بھی لئے ہیں، مگر جس طرح بامیان میں نیا گونر تعینات کرکے انہوں طالبان کے خلاف بھرپور ایکشن کیا اور دو اضلاع واپس لئے اسی طرح اشرف غنی صاحب کو چاہئے کہ تازہ دم اور متحرک اہلکار تعینات کرکے طالبان کی پیش قدمی روکیں، اگر ایک دفعہ لڑائی بڑے شہروں تک پہنچی تو راتوں رات وفاداری کے تبدیلیوں سے مرکزی حکومت کابل تک محدود ہوسکتی ہے۔


احمدطوری#

افغاستان کی کہانی! درانی سدوزئی بادشاہت محمدزئی بارکزئی سلطنت میں کیسے تبديل ہوئی؟ احمد طوری

سترھویں صدی کے ابتداء میں زیرک غلجی افغان تاجر و سیاسی رہنما میر ویس ہوتک (غلجی خلجی) (میرویس نیکہ) (1709-1747) حج سے واپس آئے تو حجاز کے علماء سے ایک فتوی بھی ساتھ لائے۔ افغان قوم کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے تو ایرانی حمایت یافتہ گورنر گورگین کو ساتھیوں سمیت قتل کرکے قندھار کے بادشاہ بنے۔

حاجی میرویس (نیکہ) کی ناگہانی موت کے بعد انکے بھائی عبدالعزیز بادشاہ بنے تو ناراض افغانوں نے محل پر حملہ کیا اور میرویس کے اٹھارہ سالہ نوجوان بیٹے محمود نے اپنے ہاتھوں سے چچا کا سر تن سے جدا کرکے قتل کیا اور بادشاہ بن گئے۔

میر محمود قندھار سے اُٹھے اور تاریخی افغان شہر ہرات (جو درانیوں کا نیا گڑھ تھا) سمیت ایران کے بیشتر علاقے فتح کرنے میں کامیاب ہوئے اور افغان سلطنت اصفہان تک پھیلائی۔ شاہ محمود ایران میں قتل ہوئے تو چچا زاد شاہ اشرف نے ایرانی بادشاہت پر قبضہ کیا اور شاہ محمود کے بھائی اور قندھار کے گورنر شاہ حسین نے شاہ اشرف کو قتل ذمہ دار ٹھہرا کر اعلان جنگ کر دیا۔

اب درانی اور غلجی قبائل کی پرانی لڑائی پھر شروع ہوئی۔ ساتھ میں مغل، ایرانی، روسی اور سلطنت عثمانیہ سب اس جنگ کی آگ کو ہوا دے رہے تھے اور اپنے فائدے کشید کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ احمد شاہ ابدالی (درانی سدوزئی ) نے ایرانیوں (نادر شاہ) سے مل کر 1738 میں ہوتک بابا کا قلع قمع کیا اور نادرشاہ کی سرکردگی میں قندھار، ہرات سمیت افغانستان اور ہندوستان کو روندتے ہوئے دہلی پر قبضہ کر گئے۔

احمد شاہ ابدالی نادرشاہ کی سرکردگی میں افغانستان کو روندتے ہوئے دہلی پر قبضہ کر گئے

ایرانی بادشاہ نادر شاہ ایک بغاوت میں قتل ہوئے تو ان کے جرنیل احمد شاہ ابدالی سرعت سے واپس قندھار آئے، خزانہ اور “کوہ نور ہیرا” بھی ساتھ لیتے آئے جو نادر شاہ دہلی حملے میں مغل بادشاہ سے لوٹ کر لائے تھے اور 1747 میں لویہ جرگہ کے ذریعے خود کو افغانستان کا بادشاہ منتخب کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس طرح افغانستان میں ھوتک غلجی قبائل سے اقتدار درانی سدوزئی میں منتقل ہوا مگر پائندہ خان محمدزئی بارکزئی کا کردار احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے جو منجھے ہوئے سیاست دان اور بہادر سپاہ سالار تھے۔

احمد شاہ ابدالی قندھار سے بہت بڑا لشکر لے کر کابل و غزنی کو تہہ وبالا کرتے ہوئے پنجاب، سندھ اور کشمیر میں مغلوں کو شکست دینے میں بھی کامیاب ہوئے جبکہ 1761 کے مشہور ومعروف پانی پت جھگڑے میں مراٹھا سلطنت کو بھی شکست سے دوچار کر دیا تو دہلی کے کمزور مغل بادشاہ نے ہتھیار ڈالنے میں دیر نہیں کی۔

دوسری جانب احمد شاہ ایران کے صوبہ مشہد جہاں نادرشاہ کے نواسے شاہ رُخ افشار گونر تعینات تھے پر حملہ آور ہوئے۔ جبکہ شمالی افغانستان پر قابض تاجک، اُزبک، ہزارہ اور ترکمان قبائل کو بھی تابع بنایا اور ایک عظیم افغان سلطنت کی بنیاد رکھی۔

احمد شاہ ابدالی کے ساتھ سب پشتون (پختون) قبائل اور غیر پشتون جیسے ہزارہ، ترکمان، تاجک اور اُزبک سب نے دل کھول کر تعاون کیا اور خوشی خوشی لشکروں میں شامل ہوئے۔ احمد شاہ بابا عظیم افغان بادشاہت قائم کرنے کے بعد 4 جون 1772 کو قندھار میں انتقال کرگئے۔2

د دهلی تخت هیرومه چه را یاد کړم
زما د ښکلي پختونخواه د غرو سرونه
احمد شاہ بابا ؀ کی شاعری

احمد شاہ ابدالی (درانی-سدوزئی) کی وفات کے بعد ان کے 23 بیٹوں کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہوئی اور سب سے پہلے امراء دربار خصوصاً شاہ ولی خان وزیر نے اپنے داماد اور احمد شاہ بابا کے بیٹے سلیمان شاہ کو تخت پر بٹھا کر اس کے نام خطبہ جاری کیا۔ مگر بڑے بھائی تیمور شاہ درانی نے ہرات سے قندھار آکر وزیر شاہ ولی خان کو بیٹوں اور کچھ ساتھیوں سمیت قتل کردیا اور 1748 میں تخت نشین ہوئے۔1

تیمور شاہ لائق تھے اور وصیت بھی اسی کیلئے کی گئی تھی، طاقتور بھی تھے کہ انکی بیگم مغل خاندان سے تھی۔ شاہ ولی اور ساتھیوں کے قتل کا بہت برا اثر ہوا۔ درانی خاندان تقسیم ہوا تو تیمور شاہ نے تخت نشین ہوتے ہی دارالخلافہ کابل منتقل کیا۔

 تیمور شاہ جنگ جیت گئے اور چچا عبدالخالق کو پکڑ کر آنکھیں نکال کر اندھا کر دیا

عبدالخالق جو تیمور شاہ کے چچا ہونے کا دعوی کر رہے تھے ایک بڑا لشکر لیکر قندھار سے کابل پر حملہ آور ہوئے، لیکن ان کے کچھ سردار سمیت پائیندہ خان بارکزئی تیمور شاہ سے مل گئے۔ جنگ شروع ہوئی تو کمزور تیمور شاہ جنگ جیت گئے اور چچا عبدالخالق کو پکڑ کر آنکھیں نکال کر اندھا کر دیا اور پائندہ خان بارکزئی کو سینئیر وزیر مقرر کیا۔3

تیمور شاہ کے سرمائی دارلخلافہ پشاور میں فیض اللہ خلیل نے دھوکے سے قلعہ بالا حصار پر حملہ کردیا مگر تیمور شاہ نے کم و بیش تیس ہزار لوگوں کو قتل کرکے فساد پر قابو پالیا۔ بغاوت کے ذریعے چکمنی (څکمنې) اور دیگر قبائیل تیمور شاہ کو ہٹا کر شہزادہ سلیمان کو تخت پر بٹھانا چاہتے تھے۔3

اس کے بعد ملتان پر سکھوں نے حملہ کیا تو لشکر بھیج کر سکھوں کا قلع قمع کیا اور ہزاروں سکھوں کی سر اونٹوں پر لاد کر پشاور لائے گئے۔ اسی طرح بہاولپور، سندھ اور کشمیر پر بھی حملے کرکے مطیع بنائے گئے۔ پھر واپس ہوکر ترکستان کے ساتھ جنگ و جدل ہوئی۔4

تیمور شاہ نے تقریباً اکیس سالہ دور میں خراسان، پشاور، کشمیر، سندھ، بخارا اور قندوز تک کامیاب مہمات کئے اور بالآخر 1793 میں فوت ہوئے مگر اس سے پہلے پورا افغانستان اپنے بیٹوں میں ایسے بانٹ دیا تھا کہ قندھار میں ہمایوں درانی، ہرات میں محمود درانی، پشاور عباس درانی، کابل زمان درانی، غزنی شجاع درانی، کشمیر کوندل کو عطا کیا تھا۔

وزیر سردار پائندہ خان محمدزئی کی شاطرانہ چالوں سے کابل کے والی اور تیمور شاہ کے بیٹے زمان شاہ درانی 1793 میں تخت نشین ہوئے تو سگے بھائی شجاع کے علاوہ باقی سب بھائی کابل کے بالا حصار قلعے میں نظربند کر دیئے۔ قندھارکے والی اور بھائی ہمایوں قبائلی لشکر لئے کابل کی طرف بڑھے مگر شکست کھا کر بلوچستان کی طرف بھاگ نکلے۔ زمان شاہ نے اپنے کمسن بیٹے قیصر کو کندھار کا والی بنا دیا۔5

شاہ زمان کے نام کا سکہ

زمان شاہ اندرون اپنے خاندان اور بھائیوں سے لڑ رہے تھے، ادھر بیرونی طور پر افغانستان سکڑنے لگا اور بخارا، سندھ میں تالپور، پشاور میں سکھوں، خراسان کی طرف سے قاجاروں نے قبضہ کر لیا۔ زمان شاہ سکھوں سے لڑنے پشاور پہنچے تو ادھر سے بھائی ہمایوں نے بلوچستان اور سندھ سے لشکر لیکر قندھار پر قبضہ کر لیا۔

زمان شاہ پنجاب چھوڑ کر قندھار واپس ہوئے تو بھائی ہمایوں کو (جسے ملتان میں سکھوں نے پکڑ کر حوالے کیا) پکڑ کر دونوں آنکھیں نکال کر اندھا کر دیا۔ پھر سندھ سے ہوتے ہوئے پنجاب میں داخل ہوئے اور حسن ابدال میں بڑی جنگ سکھوں سے لڑ کر کامیاب ہوئے اور سیدھا لاہور جا کر قبضہ کر لیا۔ زمان شاہ ابھی پنجاب میں مصروف تھے کہ دوسرے بھائی محمود نے ہرات میں بغاوت کر دی۔

زمان شاہ درانی احمد شاہ ابدالی کے راستے پر گامزن تھے اور ہندوستان پر بھرپور حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ اسی دوران نپولین کے فرانسیسی لشکر نے مصر پر حملہ کیا اور ایک پیغام افغانستان زمان شاہ کے دربار بھی بھیج دیا جس میں انگریزوں کے خلاف اتحاد اور فرانس سے دوستی کا پیغام تھا۔6

زمان شاہ 1798-99 میں ہندوستان پر حملے کے سلسلے میں پھر پنجاب پہنچے۔ دریائے جہلم پار کیا تو شاہ محمود کے ہرات پر حملے کی خبر ملی اور واپسی میں کئی توپیں دریائے جہلم میں بہہ گئیں جو بعد میں رنجیت سنگھ نے نکال کر پشاور بھیج دیں۔ زمان شاہ اس عمل سے اتنے خوش ہوئے کہ رنجیت سنگھ پنجاب کے گورنر تعینات کر دیئے گئے۔ جو الفنسٹن کے مطابق انگریزوں کی مدد اور ساز باز سے لاہور سمیت پشاور اور ملحقہ علاقوں پر بھی قابض ہوئے۔7

انگریزوں کو زمان شاہ کے ہندوستان پر بھرپور حملے کی خبر پہنچی تو انگریز گونر جنرل لارڈ “ولزلی” نے سفر “جان ملکم” کے ذریعے ایران کے قاجاروں کے ساتھ ایک سٹریٹیجک معاہدہ کر لیا تاکہ زمان شاہ کو ہرات اور قندھار سمیت خراسان کی سرحدوں پر مشغول رکھیں ۔ ۔ ۔ اگر زمان شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا تو ایران کے قاجار بادشاہ افغانستان پر حملہ کریں گے۔ دوسری طرف ایران کو نپولین کے فرانسیسی لشکر اور خود زمان شاہ سے خوف تھا تو معاہدے کے مطابق اگر زمان شاہ یا فرانس نے ایران پر حملہ کیا تو برطانیہ کے بحری بیڑے اور فوج ایران کی بھرپور مدد کرے گی۔

شیر میسور ٹیپو سلطان کا ایک خیالی خاکہ

یہی وہ وقت تھا کہ شیر میسور ٹیپو سلطان نے خط لکھ کر زمان شاہ سے مدد طلب کی مگر ایک طرف وہ اپنے مسائل میں گھرے تھے اور ساتھ انگریزوں نے بھی انہیں مصروف رکھا تھا۔8 اگر تزویراتی نظر سے دیکھیں تو ایران اور انگریزوں نے بروقت خطرے کے پیش نظر ایک ایسا معاہدہ کیا جس سے برطانوی ہندوستان بھی زمان شاہ کے حملے سے بچ گیا اور ایران بھی زمان شاہ اور نپولین کے حملے سے بچ گئے۔

زمان شاہ نے بھائی شہزادہ شاہ ہمایوں کو اندھا کردیا تھا اور سردار پائندہ خان کو تختہ الٹنے کی سازش میں دربار میں قتل کردیا تھا۔ شہزادہ محمود  اور سردار پائندہ خان کے بھائی فتح خان، دونوں ایران میں بیٹھے تھے۔ انگریزوں نے انہیں استعمال کرنے کا سوچا۔ فتح خان بھی اثر و رسوخ رکھتے تھے اور سب بھائی کافی فعال تھے، اُٹھ کر سیستان، ہرات اور قندھار پر حملہ کرکے قابض ہوئے۔9

انگریز زمان شاہ کو قابو کرنے میں ناکام ہوئے اور زمان شاہ ایک بار پھر ہندوستان پر حملے کیلئے تیار ہوئے تو اس دفعہ انگریزوں نے وہ چال چلی جس میں پشتون ہمیشہ ہار جاتے ہیں۔ اب زمان شاہ کے بھائی محمو شاہ اور سردار فتح خان قندھار، ہرات اور سیستان سے ہوتے کابل پر حملہ آور ہوئے۔ زمان شاہ پشاور سے کابل جاتے ہوئے غزنی سے آگے مدمقابل ہوئے اور شکست سے دوچار ہو گئے۔

اب محمود شاہ نے زمان شاہ کو پکڑ کر آنکھوں میں سلائی پھرا کر اندھا کردیا۔ شاہ زمان ہندوستان (لدھیانہ) جا کر مقیم ہوئے۔ انگریزوں کا وظیفہ وصول کرتے رہے اور وہیں 1844 میں انتقال کر گئے۔ 10 جولائی 1801 میں شاہ محمود تخت نشین ہوئے اور سردار فتح خان کو وزیر بنایا تو پورا افغانستان فتح خان اپنے بھائیوں میں تقسیم کرکے ایک بڑی سیاسی طاقت کے حصول میں کامیاب ہوئے جو آگے جا کر بارکزئی بادشاہت پر منتج ہوئی۔11

محمود شاہ کو تین معاملات نے بےبس کرکے تخت سے محروم کیا، ایک درانی، سدوزئی بارکزئی آپس میں لڑتے رہے۔ سب سے پہلے شاہ شجاع، آفریدی اور دیگر قبائل ایک لشکر لیکر کابل پر حملہ آور ہوئے مگر فتح خان نے اسے شکست سے دوچار کیا۔ حالات کا فائدہ اُٹھا کر غلجی (خلجی) قبائل نے بغاوت کردی اور غزنی، قندھار اور کابل پر حملہ آور ہوئے مگر درانی اکھٹے ہوئے حتی کہ مقتول شاہ ولی کے بیٹے شیر محمد خان بامزئی کو جیل سے رہا کرکے لشکر کا سالار بنایا اور عبدالرحیم ہوتک کو شکست سے دوچار کیا، ہزاروں افراد دونوں طرف سے مارے گئے۔

ایک افواہ یہ بھی تھی کہ محمود شاہ ایران جا کر شیعہ ہوگئے ہیں

بعد ازاں اسی شیر محمد خان بامزئی نے شاہ شجاع، مولوی میر واعظ سید احمد، افغانیوں کو محمود شاہ کی نااہلی دیگر وجوہات کی بنا پر اکسایا۔ دیگر وجوہات میں ایک افواہ یہ بھی تھی کہ محمود شاہ ایران جا کر شیعہ ہوگئے ہیں اسلئے قزلباشوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔

حقیقت حال میں معاملہ یہ تھا کہ ایک قزلباش کا قتل ہوا تو مجرم پکڑ عدالت میں پیش کیاگیا جہاں اسے سزائے موت سنا کر پھانسی دے دی گئی۔ کابل میں مولوی میر واعظ سید احمد نے قزلباش (جو کہ شیعہ تھے) کے خلاف سنی قبائیل کو اکسایا اور قاتل کے جنازے کو جلوس کی شکل دیکر احتجاج شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ باہر سے بھی سنی قبائل بلا کر کابل میں شیعہ سنی جنگ چھیڑ دی گئی۔ قزلباشوں کے گھر لوٹے اور بہت سے قتل کر دیئے گئے۔

یعنی جو پروپیگنڈا مغل شہنشاہ ہمایوں کے خلاف ہوا تھا، وہی شاہ محمود کے خلاف بھی کارگر ثابت ہوا مگر یہ روش رُکی نہیں۔ سو سال بعد شاہ امان اللہ کو بھی گوڈ ملا اور ملا شوربازار نے مرتد اور کافر کے فتوے لگا کر معزول کرنے پر مجبور کیا جب وہ یورپ کا کامیاب دورہ کرکے واپس ہوئے تھے، اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر نئے منصوبوں اور اصلاحات کا اعلان کیا تو افغانستان کے شدت پسند مولویوں نے (انگریز اور نادر شاہ برادران کی مدد سے) ایک رہزن حبیب کلکانی کو تخت پر بٹھایا تھا لیکن اس پر بات بعد میں کریں گے۔

غنی خان بابا نے اپنی کتاب دی پٹھان میں غازی امان اللہ خان اور اورکزئی کے شیعہ قبائل کے ساتھ ہونیوالی نہایت درناک داستان لکھی ہے۔ اورکزئی کے زیرک شیعہ قبائل نے غازی امان اللہ خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو عیار انگریزوں کے ایماء پر مکار مولویوں نے پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رض کے قتل میں اورکزئی کے اہل تشیع لوگ بھی شامل تھے”۔ سب کو پتہ تھا کہ حضرت عثمان رض کے وقت اسلام علاقے یعنی اورکزئی ایجنسی پہنچا بھی نہیں تھا مگر ۔ ۔ ۔ پھر کیا تھا آفریدی اور دیگر سنی قبائل نے اورکزئی میں کربلا برپا کر دی۔ شیعہ مرد، خواتین، بچے جو نظر آتے قتل ہوتے رہے، ہزاروں لوگ بےگناہ قتل ہوئے۔ جب انسان ختم ہوئے تو باغات کا رُخ کیا اور میوہ جات کے درخت کاٹے گئے اور آخر میں چنار کے درخت کاٹ کر آفریدی قبائل کے کلیجے ٹھنڈے ہوئے۔12

شاہ شجاع جولائی 1803 میں تخت سجا کر براجمان ہوئے

شاہ محمود کے ابتدائی ڈھائی سالہ دور میں سازشیں، فساد، شورشوں، جنگ و جدل اور خانہ جنگی جاری رہی۔ شاہ شجاع جولائی 1803 میں تخت سجا کر براجمان ہوئے مگر فتح خان، کامران مرزا اور قیصر مرزا نے شاہ شجاع کی ناک میں دم کرنا شروع کر دیا جو دو دفعہ کابل اور تین دفعہ قندھار اور پھر کابل اور پشاور پر حملوں کی وجہ سے ہندوستان کی طرف دھیان نہ دے سکے۔ کشمیر، سندھ اور پنجاب ہاتھ سے نکلتے جارہے تھے۔ ایک جنگ میں شیر محمد خان بھی قتل ہوئے جبکہ محمود شاہ بارکزئی اور قزلباشوں کی مدد سے بھاگ کر پھر قندھار پر حملہ آور ہوئے اور قبضہ جمایا۔ مگر شاہ شجاع واپس آئے اور محمود شاہ کو پھر بھگا دیا۔13

دوسری جانب سکھ اور انگریز مل گئے تھے۔ انگریز فرانسیسیوں اور روسیوں سے خائف تھے اور شاہ شجاع نے 1809 میں الفنسٹن کے ساتھ پشاور میں مذاکرات کرکے انگریزوں کے ساتھ پہلا معاہدہ کر ڈالا۔ اس کی پہلے شق تھی کہ کسی بیرونی قوت نے افغانستان کے راستے ہندوستان پر حملہ کیا تو انگریز افغانستان میں فوج داخل کرسکیں گے جبکہ دوسری شق کے مطابق افغانستان کو پابند کیا گیا کہ کسی بیرونی سفارتی مشن کو کابل میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا اور ساتھ ہی تیسرے شق میں کہا گیا کہ افغان رہنما ہندوستان پر حملے بند کریں گے۔

اس بار شاہ محمود نے فتح خان کے ساتھ مل کر انگریز کارڈ کھیلا اور افغانوں کو اُکسایا کہ شاہ شجاع نے افغانستان کافر انگریزوں کے حوالے کیا ہے اور کافر سکھوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ افغانی تلملا اُٹھے، شاہ محمود شاہ ایک بار پھر اُٹھے کندھار سے ہوتے ہوئے کابل فتح کیا اور پشاور آتے ہوئے شاہ شجاع کو خیبر میں آفریدی اور دیگر قبائل سمیت شکست سے دوچار کیا اور پشاور پر بھی قبضہ کر گئے۔

شاہ شجاع اپنے بھائی زمان شاہ کو لے کر پہلے رنجیت سنگھ کے دربار میں پنجاب پہنچے، جہاں احمد شاہ ابدالی کی نشانی کوہ نور ہیرا اور خزانہ سب کچھ چھین لیا گیا

انگریزوں کا وفد جو شاہ شجاع کے ساتھ معاہدہ کرکے ابھی راولپنڈی نہیں پہنچا تھا کہ شاہ شجاع اپنے بھائی زمان شاہ کو لے کر پہلے رنجیت سنگھ کے دربار میں پنجاب پہنچے، جہاں احمد شاہ ابدالی کی نشانی کوہ نور ہیرا اور خزانہ سب کچھ چھین لیا گیا۔ پہلے شاہ زمان خاندان سمیت اور پھر شاہ شجاع رنجیت سنگھ کی قید سے فرار ہوکر ہندوستان میں انگریزوں کے ہاں لدھیانہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

الفنسٹن نے زمان شاہ سے راولپنڈی میں ملاقات کی درناک کہانی لکھی ہے اور بہادر شاہ کاکاخیل نے رنجیت سنگھ کے ہاں ساتھ حرم شاہی کے قیام کی داستان لکھی ہے جب شاہ شجاع دربدر پھرتے رہے۔ حتی ملتان کے گورنر نے دروازے تک بند کردیئے وہ نہات دلسوز ہے لیکن اصل کہانی تیس سال بعد پھر شروع ہو گی جب انگریز اسی شاہ شجاع کو دوست محمد خان بارکزئی کے خلاف میدان میں اتاریں گے۔

شاہ محمود 1809 میں پھر تخت نشین ہوئے مگر افغانستان کے اندرونی اور بیرونی جھگڑے اور حالات مزید خراب ہوئے۔ ایران میں فرانسیسی اثر و رسوخ بڑھا تو دہلی میں بھی خوف بڑھ گیا اور اب افغانستان کے ذریعے فرانس اور ایران کو قابو کرنے کیلئے پشاور میں موجود شاہ شجاع سے روابط بڑھا لئے گئے۔

شاہ محمود عیاش تھے مگر فتح خان نے افغانستان کو ایک بار پھر عظیم سلطنت کے راستے پر گامزن کیا اور لشکر کشی کے بعد قبائل کی دلجوئی کرکے زخموں پر مرہم رکھتے گئے اور قوم کو ایک بار پھر اکٹھا کیا مگر چونکہ سب بھائی قدرت حاصل کرچکے تھے اور دربار میں فتخ خان کا سکہ چلتا تھا لہذا شاہ محمود کے بیٹے کامران سمیت بہت سے أمراء حاسد بن گئے اور دشمنی پر اتر آئے۔

فتخ خان نے 1813 میں کشمیر پر لشکر کشی کرکے قبضہ کیا اور بھائی عظیم خان کو گورنر بٹھایا تو اٹک میں جہانداد خان نے رنجیت سنگھ سے معاملات طے کرکے فوج بلائی۔ دوست محمد خان لشکر لیکر اٹک گئے مگر سکھ لشکر کے ہاتھوں شکست کھا کر کابل واپس ہوئے۔ فتخ خان بھی کشمیر سے اٹک آ رہے تھے مگر شکست کی خوف سے واپس ہو کر کابل روانہ ہو گئے۔

تین سال بعد 1816 میں ہرات کی صورتحال خراب ہوئی جہاں شاہ محمود کے بھائی خودمختار بیٹھے تھے۔ فیروزالدین ایک تو ایران کے حملے سے خائف تھے لیکن اس سے زیادہ فتخ خان سے خاف زدہ تھے۔ لشکر کو ہرات شہر میں داخلے سے منع کیا مگر فتح خان کو پچاس افراد کے ساتھ شہر کے اندر جانے دیا۔ ان پچاس بندوں نے ہی کام کر دکھایا۔ شہر کے دروازوں کی چابیاں حاصل کرتے ہی فتخ خان نے فیروالدین کو کابل حاضر ہونے کا حکم دے دیا۔

دوست محمد خان بارکزئی” بادشاہ کے بھائی اور ہرات کے گورنر حاجی فیروز الدین کے گھر گھس گئے اور وہاں خواتین کے ساتھ بدتمیزی” اور “بےعزتی” کی

فتح خان بارکزئی کے لشکر نے قاجاروں کو زبردست شکست سے دوچار کیا مگر ہرات میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ وزیر فتح خان کے بھائی “دوست محمد خان بارکزئی” بادشاہ کے بھائی اور ہرات کے گورنر حاجی فیروز الدین کے گھر گھس گئے اور وہاں خواتین کے ساتھ “بدتمیزی” اور “بےعزتی” کی، زیورات سمیت گھر لوٹ لیا اور کشمیر بھاگ گئے۔

چونکہ پشتونوں میں گھر اور خواتین پر حملے کو سنگین جرم مانا جاتا ہے لہذا شاہ محمود نے کامران کے ذریعے اپنے چہیتے وزیر فتخ خان کی دونوں آنکھیں نکلوا کر اندھا کر دیا۔ بعد میں ہولناک اور وحشیانہ طرز عمل اختیار کرکے کھال کھینچی، پھر جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے قتل کر دیا۔ اس طرح دشمنی کی بنیادیں مزید گہری ہو گئیں جس نے آگے جا کر افغانستان کی تاریخ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔14

فتح خان کے اٹھارہ بھائی خبر سن کر آپے سے باہر ہو گئے اور دوست محمد خان (جو اس نئے جھگڑے کی بنیاد بنے تھے) عظیم خان سمیت کشمیر سے اور دوسرے بھائی بھی غزنی، قندھار، بلوچستان، بامیان اور پشاور سے لشکر لیکر کابل پر ہر طرف سے حملہ آور ہوئے اور دارالحکومت پر قبضہ کر گئے۔ شاہ محمود کو غزنی کی طرف دھکیل دیا گیا جہاں سے ہرات کی طرف بھاگے اور وہیں حکومت کرتے رہے۔ شاہ محمود اور فیروز دین کے درمیان حکومت پر جھگڑا ہوا اور کامران نے اُٹھ کر دونوں کو قتل کرکے قصہ تمام کر دیا۔

ادھر کابل میں تیمور شاہ کے بیٹے علی شاہ درانی ایک سال کیلئے بادشاہ بنائے گئے مگر ایوب شاہ درانی نے اُٹھے اور اپنے ہی بادشاہ بھائی کو موت کے گھاٹ اتار کر تین سال تک مزید لڑتے رہے۔ پنجاب سے پشاور تک انگریز اور سکھ قبضے کوشش کررہے تھے اور ہندوستان سے ایک مولوی سید احمد بریلوی بھی میدان میں کود پڑے۔ افغانستان میں دوست محمد خان کے 1826ء میں تخت نشینی تک فساد، سازشوں، جنگ و جدل، قتل و غارتگری اور لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔

کشمیر میں بھی فتح خان نے سنگین غلطی کی جہاں فتح حاصل کرنے کیلئے رنجیت سنگھ سے مدد لی۔ وہ فی الوقت تو اپنے بھائی محمد عظیم خان کو کشمیر کا گورنر بنانے میں کامیاب ہوئے مگر رنجیت سنگھ نے ہی بالآخر کشمیر پر قبضہ جما لیا۔9

حکمران خود اپنے فائدے کیلئے بڑے بڑے قبائل اور قبائلی سرداروں سمیت مذہب اور مسلک کا بے دریغ استعمال کرتے رہے

یوں احمد شاہ ابدالی (درانی سدوزئی) کی عظیم افغان بادشاہت بارکزئی افغان سلطنت میں تبدیل ہوئی۔ ایسی قتل و غارت کی داستان پڑھ کر آپ یقین کریں گے کہ زمان شاہ، شاہ محمود اور شاہ شجاع بھائی ہیں؟ اور جو قبائل ان جنگوں میں استعمال ہو کر قتل و غارتگری کرتے رہے، میں دانستہ ان کا نام نہیں لینا چاہتا کہ یہاں خالصتا تاریخ پر ہوئی بحث مبادا کوئی اور رخ نہ اختیار کر لے۔

دیکھا گیا ہے کہ بعض لکھاری دھڑلے سے بادشاہوں حتی ملکوں کے جھگڑے اور ناکامیاں کسی ایک قبیلے کے کھاتے میں ڈالتے نظر آتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکمران خود اپنے فائدے کیلئے بڑے بڑے قبائل اور قبائلی سرداروں سمیت مذہب اور مسلک کا بے دریغ استعمال کرتے رہے، جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔

حوالہ جات:

  1. افغانستان د تاریخ پہ تګلوري کې۔ میر غلام محمد غبار
  2. واقعات درانی- منشی عبدالکریم، ترجمہ میر وارث علی سیفی۔ ص ۵۵، ۶۲
  3. پختانہ د تاریخ پہ رنڑا کے۔ بہادر شاہ کاکا خیل۔ ص ۶۹۹ سے ۷۰۸ تک
  4. د کابل سلطنت۔ الفنسٹن۔ پشتو ترجمہ حسن کاکڑ ص ۵۴۹
  5. واقعات درانی- منشی عبدالکریم، ترجمہ میر وارث سیفی۔ ص ۶۴ تا ۹۵
  6. د افغانستان لنڈ تاریخ۔ عبدالحئ حبیبی۔ پشتو ترجمہ محمد داؤد: ص ۲۹۶
  7. تاریخ افغانستان۔ والکر اردو صفحہ ۱۳
  8. د کابل سلطنت۔ الفنسٹن۔ پشتو حسن کاکڑ ص ۵۹۳
  9. تاریخ افغانستان۔ والکر اردو صفحہ ۱۳
  10. مختصر تاریخ افغانستان۔ پروفیسر حمیداللہ: ص ۱۳۶- باب زمان شاہ
  11. مختصر تاریخ افغانستان۔ پروفیسر حمیداللہ: ص ۱۳۵- باب زمان شاہ ۔
  12. د افغانستان لنڈ تاریخ۔ عبدالحئ حبیبی۔ پشتو محمد داؤد: ص ۳۰۵
  13. غنی خان۔ دی پٹھان۔ انگریز صفحہ ٤٨، ٤٩
  14. پشتو ترجمہ صفحہ ۸۱ تا ۸۳
  15. مختصر تاریخ افغانستان۔ پروفیسر حمیداللہ: ص ۱۳۶- باب زمان شاہ
  16. پختانہ د تاریخ پہ رنڑا کے۔ بہادر شاہ کاکا خیل۔ ص ۳۳۰ تا ۷۴۶
  17. مختصر تاریخ افغانستان۔ پروفیسر حمیداللہ: ص ۱۳۹ تا ۱۵۰ باب زمان شاہ

افغاستان کی کہانی: دو سو سال پرانے جنگ کے بادل ایک بار پھر منڈلا رہے ہیں۔ احمد طوری

افغانستان پر وہی بادل منڈلا رہے ہیں جو دو سو سال پہلے کابل، ہرات، کندھار، بلخ، غزنی اور پشاور سے لے کر پنجاب اور کشمیر تک چھائے ہوئے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تیمور شاہ، زمان شاہ، شاہ شجاع، اور امیر دوست محمد خان کی جگہ اشرف غنی، حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور رنجیت سنگھ کی جگہ نریندرا مودی، عمران خان، جنرل باجوہ لکیر کے اس طرف بیٹھے ہیں جبکہ لارڈ آکلنڈ، نپولین، روسی شہنشاہ نکولس، قاجاری ایران اور ہارلن جوشیہ کی جگہ بوریس جونسن، جوبائیڈن، ایمانویل میکرون، ولادمیر پیوٹین اور ایران کے صدر روحانی برسراقتدار ہیں۔ یعنی پرانا کھیل نئے کھلاڑی۔

افغانستان میں “گریٹ گیم” میرویس ھوتک نیک (ھوتکوں کا دور 1709-1738) سے شروع ہوتی ہے جو حجاز سے فتوی لے کر ایرانی صفوی گورنر کے خلاف اُٹھے، احمد شاہ ابدالی (درانی) درانیوں کے دور 1747-1819 میں عروج پاتی ہے جو نادرشاہ فوج کے جنرل تھے اور گورگین نے درانی ہرات دھکیل دیئے۔

میرویس ھوتک (غلجی یا خلجی) کے بعد ان کے بھائی اور بیٹے لڑ پڑے تو کندھار پر احمد شاہ ابدالی (درانی) نے قبضہ کر لیا۔ سردار جمال خان (بارکزئی- محمدزئی) کی اولاد اقتدار میں برابر شریک رہی جو بالآخر سردار پائندہ خان اور فتح خان سے ہوتی ہوئی (امیرالمومنین) سردار دوست محمد خان (بارکزئی دور 1819-1973) کے افغانستان پر قبضے کی صورت میں افغانستان کے کرتا دھرتا بن گئی۔ [1]

ہم پچھلی قسط میں ذکر کر چکے ہیں کہ شاہ محمود درانی (1809-1819) کے وقت سردار فتح خان بارکزئی سپہ سالار تھے اور ہرات 1818ء میں شاہ محمود کے بھائی حاجی فیروز الدین کے گھر پر حملہ اور خواتین کی “بے عزتی“ کی گئی، (درانیوں کے غیض و غضب سے بےعزتی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے) تو درانیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور شاہ محمود کے حکم پر کامران خان نے وزیر اور سپہ سالار فتح خان کی کھال اتار کر جسم کے ٹکڑے کئے اور لاش بوری میں بند کر کے ایک ہفتہ تک ساتھ گھماتے رہے بالآخر غزنی میں دفن کیا۔ اس قتل کی روداد آپ کو Patrick Macrory کی کتاب Signal Catastrophe: The retreat from Kabul میں ملے گی۔ [2]

غلام محمد غبار ایرانیوں کے ایماء پر اندھا کرنے کا لکھ رہے ہیں جو غیر معقول ہے، جبکہ حبیبی اور دیگر تاریخ دان متفق علیہ شاہ محمود کا حکم بتا رہے ہیں۔ اس سے پہلے زمان شاہ نے فتح خان کے باپ پائندہ خان کو اپنے دربار میں قتل کردیا تھا، لہذا اس ظلم بربریت کے خلاف پائندہ خان کے دیگر انیس یا بیس بیٹے جو فتخ خان کے بھائی تھے سخت غصے میں کابل اور دیگر صوبوں پر حملہ آور اور قابض ہوئے، اور ہرات کے علاوہ جہاں شاہ محمود، کامران اور فیروز الدین 1842 تک حکومت کرتے رہے تمام افغانستان پر قابض ہوئے۔

تیمور شاہ کے 23 بیٹے تھے تو پائندہ خان کے بھی کم و بیش 20 بیٹے تھے۔ درانیوں کی طر ح آپس میں جنگ و جدل اور بے اتفاقی کی بیماری محمدزئی بارکزئی قبیلے کو پہلے دن سے لاحق تھی۔ بیس بھائی میں سے ہر ایک بادشاہ بننے کا امیدوار تھا۔ شاہ محمود کے بعد چار سال تک 1819 سے 1823 تک افغانستان میں خانہ جنگی اور بادشاہ گری کا دور تھا۔

عظیم خان کشمیر چھوڑ کر کابل میں حاکم تھے۔ تیمور شاہ درانی کے بیٹے مراد علی شاہ بادشاہ بنائے گئے مگر ایک سال تک دوست محمد خان یا عظیم خان سے کوئی قابل عمل ڈیل نہیں ہوئی تو اسے قتل کر کے ایوب شاہ درانی سے ڈیل کی کوشش کی گئی۔ درانیوں اور محمدزئی کی نہیں بن سکی تو یہ بھی تین سال بعد انجام کو پہنچے۔ عظیم خان پشاور کے قریب نوشہرہ میں سکھوں (رنجیت سنگھ) سے جنگ ادھوری چھوڑ کر خزانہ بچانے میں کامیاب تو ہوئے مگر کابل واپس جاتے ہوئے فوت ہوگئے اور خزانہ کمسن بیٹے حبیب اللہ خان کے حوالہ کر گئے۔ زیرک دوست محمد خان نے عظیم خان کی بیوہ سے شادی رچائی، یوں عظیم خان کے بیٹے بادشاہ حبیب اللہ خان، انکے خزانے اور کابل، غزنی اور افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

نپولین مصر اور ایران میں روسی فوج کے ساتھ دست و گریبان تھے اور بالآخر فرانکو رشین اتحاد کا معاہدہ طے پا گیا۔ [3] انگریز ان کے خوف میں مبتلا ہو گئے تھے۔ نپولین مصر پہنچتے 1898 میں شیر میسور ٹیپو سلطان اور افغان بادشاہ کے نام خطوط لکھ چکے تھے۔ [4] نپولین (فرانس) نے روس سے 1807 میں دو معاہدے کئے جسے Treaties Of Tilsit کہا جاتا ہے، اور ایران و افغانستان سے ہوتے ہوئے برطانوی ہندوستان پر حملہ کرنے کے پر تولنے لگا تو انگریزوں نے ہندوستان پر حملہ روکنے کیلئے سکھ راج (رنجیت سنگھ) سے 1809 میں معاہدہ امرتسر Treaty of Amritsar کرکے بند باندھنے کی کوشش شروع کی۔ [5]

ساتھ ہی برطانوی ڈیپلومیٹ الفنسٹن کی ذریعے 1809 میں شاہ شجاع کے ساتھ پشاور میں پہلا اینگلو افغان معاہدہ کر لیا لیکن شاہ محمود کندھار سے اُٹھے اور اپنے سوتیلے بھائی شاہ شجاع کا دھڑن تختہ کرکے پشاور تک افغانستان پر قابض ہو گئے۔ اب شاہ شجاع، انگریز اور سکھ سب نئی صف بندی کے لئے سر جوڑ کر بیٹھ گئے، کیونکہ شاہ محمود ایران کی طرف سے حملہ آور ہو کر کامیاب ہوئے تھے اور فرانس اور روس دونوں ایران میں بیٹھے تھے۔

شاہ زمان اور شاہ شجاع دونوں سکھ اور انگروزوں کے قبضے میں تھے۔ اس کے باوجود معزول شاہ شجاع کے دل میں یہ خواہش تھی کہ کسی طرح پھر افغانستان کے بادشاہ بن جائیں کیونکہ احمد شاہ ابدالی کا خون جسم میں گردش کر رہا تھا۔ نپولین 1812 میں ماسکو (روس) سے پسپا ہوئے تو فرانسیسی خطرہ ٹل گیا مگر روس نے سلطنت عثمانیہ اور ایران پر حملہ کردیا اور جارجیا، آرمینیا اور قسطنطنیہ (استنبول) سمیت کئی علاقے فتح کر کے انگریزوں کے سامنے خطرہ بن گئے۔ وہ خطرہ اور جنگ آج بھی جاری ہے، گو کہ ایران کے ساتھ روس کی دو جنگیں اور دو معاہدے ہوئے، پہلی روسو-ایران جنگ 1804-1813 کا اختتام Treaty Of Gulistan پر ہوا اور دوسری روسو-ایران جنگ 1826-1828 کا اختتام Treaty of Turkmenchy پر ہوا۔ اسی طرح روس نے خلافت عثمانیہ (ترکی) سے بھی 1806 سے 1812 تک کے جنگ اختتام پر Treaty of Bucharest پر دستخط کئے۔ [6]

نپولین (فرانسیسی) اور روسی، انگریز، سکھ، شاہ شجاع اور دوست محمد خان جبکہ جنونی وہابی (تکفیری) سید احمد بریلوی اور شاہ ولی اللہ کے نواسے شاہ اسماعیل دہلوی اس جنگ میں کود پڑے تھے۔ یہ بظاہر شریعت کا نفاذ چاہتے تھے یعنی طالبان یا داعش جیسی خلافت اسلامیہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ پشاور سے چارسدہ بھاگتے ہوئے سب سے چھوٹے بارکزئی سردار، سردار محمد خان نے سید احمد کے ہاتھ پر بیعت کی اور یوسفزئی و خٹک سمیت دیگر پشتون قبائل بھی ان کے گرد جمع ہوئے مگر سید احمد بریلوی کے اپنے مذموم مقاصد تھے جس کی کچھ تفصیل ضروری ہے۔

سید احمد بریلوی 1822 میں شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی سميت چار سو مریدوں کے ساتھ مکہ گئے تھے جہاں ڈھائی تین سال گزارنے کے بعد محمد بن عبدالوہاب کی فکر لئے واپس ہندوستان آئے اور“بدعت” کے خلاف “طریقہِ محمدیہ” تحریک شروع کی۔ [6-1] لگتا تھا دہلی، بمبئی، کلکتہ اور پٹنہ میں کوئی ہندو سکھ اور انگریز نہیں تھے جس کے ساتھ جہاد کریں بلکہ موصوف نے پشتونوں کو ورغلانے کا فیصلہ کیا اور راجپوتانہ، مارواڑ، سندھ و بلوچستان سے ہوتے ہوئے کندھار گئے۔ وہاں سے کچھ قبائل ساتھ ملائے اور کابل و غزنی سے ہوتے ہوئے سرحد (خیبر پختونخواہ) پشاور پہنچے۔

افغانستان میں کوئی بھی پشتون سردار وہابی مولوی کی شرائط پر جہاد کیلئے تیار نہیں تھا اور سب سے بڑا خوف یہی تھا کہ کامیابی کے بعد سرداروں کے پلے کچھ نہیں بچے گا۔ بدعت کے نام پر وہابیت دراصل ابن تیمیہ کی ایجاد کردہ ہے جو 1263 میں پیدا ہوئے تھے اور سولہویں صدی میں مولوی محمد ابن عبدالوہاب 1702- 1792 کا سیاسی ہتھیار بن گیا۔

برصغیر پاک و ہند اور افغانستان میں وہابیت مغل بادشاہ اورنگزیب سے شروع ہوئی جب وہ خود اس سے متاثر ہوئے۔ اورنگزیب نے 1680ء میں دکن میں شیعہ حکومتوں کا خاتمہ کر کے وہاں کے علمی مراكز کو تباہ کیا اور عزاداری پر پابندی لگائی۔ بوہری شیعوں کے داعی مطلق سیدنا قطب الدین کو شہید کرایا۔ ساتھ ہی مغل سلطنت کو زوال بھی شروع ہوا کیونکہ جو مذہب اورنگزیب اختیار کر چکے تھے وہ آج بھی رعایا کیلئے نقابل قبول نہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ خود سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے وہابیت ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ [6-2]

مولوی محمد بن وہاب کی بیٹی آل سعود کے بانی سے بیاہی گئی تو سیاسی و مذہبی اتحاد سے جدید وہابیت کی پیدائش ہوئی

ہندوستان میں انگریزوں نے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کیلئے وہی چال دہرانے کی کوشش کی جو خلافت عثمانیہ کے خلاف کامیاب ہوئی تھی، یعنی عرب دنیا کی طرح ہندوستان میں بھی منظم انداز میں وہابیت پھیلائی۔ یہ سب کچھ “گریٹ گیم” کا حصہ تھا۔ مولوی عبدالوہاب انگریز جاسوس لارڈ ھیمپر کے شاگرد تھے۔ مولوی محمد بن وہاب کی بیٹی آل سعود کے بانی سے بیاہی گئی تو سیاسی و مذہبی اتحاد سے جدید وہابیت کی پیدائش ہوئی جو حجاز مقدس میں خلافت عثمانیہ کی شکست پر منتج ہوئی۔

سید احمد بریلوی اور جمال الدین افغانی اسی مذہبی سیاسی گینگ کا حصہ تھے، اس کی تفصیل خود انگریزوں کے زبانی سننی ہے تو Charles Allen کی کتاب God’s Terrorists: The Wahabi Cult and the Hidden Roots of Modren Jihad ضرور پڑھیں تاکہ ان بزرگوں کی اصلیت کا پتہ تو چلے۔ [7]

سید احمد کی پہلی جنگ21 دسمبر 1826ء کو بمقام اکوڑہ واقع ہوئی جس میں نہ صرف انہیں کامیابی ہوئی بلکہ مال غنیمت بھی ہاتھ آیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف ان کے حوصلے بڑھا دیئے بلکہ سرحد کے قبائل میں اس فتح نے ان کے اثر و رسوخ کو بھی دوچند کر دیا۔ اس لیے یہ تجویز دی گئی کہ انتظامات اور دوسرے امور کے لیے باقاعدہ تنظيم ہو تاکہ شریعت کے مطابق باقاعدہ فیصلے کیے جا سکیں۔

اس تجویز کی روشنی میں 11جنوری 1827ء کو سید احمد کے ہاتھ پر بیعت کی گئی اور انہیں ‘امیرالمؤمنين’ منتخب کرکے خلیفہ کے خطاب سے پکارا جانے لگا۔ پشتون سکھوں کے ظلم و ستم سے تنگ تھے اسلئے سید احمد کو مسیحا سمجھ کر ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن یہاں نئے مسائل درپیش ہوئے۔

زکواة و عشر کے نام پر جو غنڈہ ٹیکس موصوف نے لگائے اور بدعت کے نام پر پشتونوں کی ہزاروں سال پرانی ثقافت برباد کرنے لگے تو پشتون قبائل نے سید احمد بریلوی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ بارکزئی سرداروں نے سید احمد کے خلاف بھرپور جنگ لڑی، اس سلسلے میں پہلی لڑائی یار محمد خاں سے ہوئی جو لڑائی میں مارا گیا اور1830 ء میں پشاور پر سید احمد کا قبضہ ہو گیا۔

پشتونوں کی اس شکست کے بعد رئیس پنجتار اور یوسفزئی سميت ديگر اقوام کے سردار ان کے مرید بن گئے۔ درانی اور بارکزئی سرداروں پر کفر کا فتوی لگا دیا گیا اور اس کے خلاف ‘جہاد’ کیا گیا جس میں اسے شکست ہوئی۔ خادی خاں، رئیس ہند مارا گیا، اس نے بیعت کے بعد ان کے خلاف بغاوت کی تھی اس لئے وہ واجب القتل ہوا۔ قتل کے بعد اس کی نماز جنازه پڑھنے سے بھی انکار کر دیا گیا جس کے بعد پٹھان مولویوں نے اس کی نماز جنازه پڑھائی۔

سکھ دربار کا ایک منظر

سید احمد 1830 میں بارکزئی سرداروں اور سکھوں کو شکست دے کر پشاور پر قابض ہو گئے تھے۔ پشاور میں سید احمد بریلوی کی وہابی تحریک کا فائدہ براہ راست سکھ حکمرانوں نے اُٹھایا کیونکہ سید احمد نے پشتون قبائل کو شریعت کے نفاذ پر آپس میں لڑوا کر کمزور کیا، پھر پشتون سرداروں سے لڑے، یوں کچھ عرصہ میں جب مولوی کے عزائم کا پتہ چل گیا سب نے ہاتھ کھنچ لیئے اور ایک دن مقرر کر کے سید احمد کے سینکڑوں پیروکاروں اور کمانڈروں کا قتل عام کیا۔

اس دوران رنجیت سنگھ نے منتشر قوتوں کا فائدہ اُٹھایا اور پشاور پر حملہ کرکے براہ راست حکومت کرنے لگے۔ سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی بارکزئی سرداروں اور رنجیت سنگھ کی فوج سے بھاگتے ہوئے بالآخر 1831 میں بالاکوٹ کے مقام پر سینکڑوں ساتھیوں سمیت قتل کر دیئے گئے۔ [8]

پائندہ خان کے بیٹوں یعنی فتخ خان کے بھائیوں میں جھگڑوں سے تنگ آکر افغان مشران نے ایک بہت بڑا جرگہ بلایا اور بھائیوں نے قرآنی راضی نامہ کر لیا اور افغانستان کو کئی حصوں میں تقسیم کرکے بانٹ لیا۔ وہ قرآن جس پر راضی نامہ کی شقیں لکھی گئی تھیں آج بھی کابل میوزیم میں موجود ہے۔ پائندہ خان کے بیٹوں اس معاہدے كا پاس نہیں ركها اور خانہ جنگی جاری رہی۔

پہلی اینگلو افغان جنگ کے اہم کردار مشہور جاسوس، سول سرونٹ الیگزینڈر برنس روس اور افغانستان کے حالات جانچنے کی مشن پر چل نکلے تھے۔ وہ جولائی 1831 کو رنجیت سنگھ کے دربار لاہور پہنچنے جہاں کوہ “نور ہیرے” کی زیارت سے مشرف ہوئے، وہاں سے پشاور کے حالات کا مشاہدہ کیا اور پھر “امیرالمؤمنین” دوست محمد خان کے پاس کابل پہنچے۔

احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں مرہٹوں کی شکست کے بعد پنجاب سمیت ہندوستان درانیوں کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ اس کے باوجود احمد شاہ ابدالی، تیمور شاہ اور زمان شاہ دور تک سکھ پنجاب اور کشمیر میں کافی اثر و رسوخ قائم کر چکے تھے کیونکہ درانی کچھ عرصہ کیلئے آتے اور پھر واپس چلے جاتے اور علاقے کو سکھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے۔

تزویراتی طور پر درانیوں کو پشاور کی بجائے لاہور کو سرمائی پایہ تخت بنانا چاہیے تھا تاکہ قبضہ مضبوط تر ہو سکے لیکن یہ نہ ہوا۔ نتیجتاً سکھ رنجیت سنگھ کے والد موھا سنگھ کی سرکردگی میں ملتان، کشمیر، ڈیرہ جات اور پشاور کے علاوہ لاہور سے حسن ابدال تک عملاً قابض ہو چکے تھے۔ جب زمان شاہ 1798 میں ہندوستان پر حملے کے سلسلے میں پھر پنجاب پہنچے اور دریائے جہلم پار کیا تو شاہ محمود کے ہرات پر حملے کی خبر ملی۔ واپسی میں کئی توپیں دریائے جہلم میں بہہ گئیں جو بعد میں رنجیت سنگھ نے نکال کر پشاور بھیج دیں۔ [9] زمان شاہ اس عمل سے اتنے خوش ہوئے کہ رنجیت سنگھ کو “ مہاراجہ” کا خطاب دیکر پنجاب کا گورنر تعینات کر دیا [10] جو الفنسٹن کے مطابق انگریزوں کی مدد اور ساز باز سے بعد میں لاہور سمیت پشاور، ڈیرہ جات، ہزارہ، ملتان، کشمیر اور ملحقہ علاقوں پر بھی قابض ہوئے۔ [11]

درانیوں اور بارکزئیوں (شاہ محمود اور فتخ خان) کے درمیان جھگڑے کا سب سے زیادہ فائدہ سکھوں نے اُٹھایا، شاہ شجاع رنجیت سنگھ کے مہمان (قیدی) تھے لہذا 1810 میں لاہور، 1812 میں اٹک، 1818 میں ملتان اور 1819 میں کشمیر پر رنجیت سنگھ قابض ہوئے۔ خوشونت سنگھ کی کتاب The Sikhs کے مطابق جب فتح خان نے پشاور پر قبضہ کیا تو شاہ شجاع رنجیت سنگھ کے دربار میں حاضر ہوئے اور مدد کی درخواست کی، اور جب فتح خان شاہ محمود کے بیٹے کامران کے ہاتھوں قتل ہوئے تو فتح خان کے بھائی عظیم خان نے کشمیر چھوڑ کر کابل پر قبضہ کیا اور رنجیت سنگھ نے جا کر کشمیر پر بآسانی قبضہ جمایا۔ [12] جس پر احمد شاہ ابدالی نے 1752 میں قبضہ کیا تھا! اس سے پہلے تک یہاں مغلوں کا قبضہ تھا۔

یوں کشمیر 600 سال بعد ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا اور رنجیت یہاں سے ڈیرہ جات کی طرف متوجہ ہوئے اور 1821 تک ہزارہ سے لے کر مارگلہ یعنی حسن ابدال تک تمام علاقوں کے حکمران بن گئے۔ اب یہاں کے سدوزئی اور بارکزئی حکمران بھی رنجیت سنگھ کو خراج دینے لگے۔ سکھوں کا یہ دور تاریک ترین دور تھا جہاں پشتون لوٹ لئے گئے، گھروں پر چھاپے پڑتے تھے، پشاور دو دفعہ برباد ہوا اور سکھوں کے ساتھ ساتھ انکے اطالوی جنرل ایوی ٹیبل (جو ابوطبیلہ کے نام سے مشہور تھے) نے بھی بدترین مظالم ڈھائے۔ [13]

تاریخ نویسوں کے مطابق شاہ شجاع کی بہت سارے فیصلے انکی بیگم وفاء کر رہی تھی جو بارکزئی تھی اور رنجیت سنگھ سے شاہ شجاع رہائی کی ڈیل بھی وفاء بیگم نے ہی کی۔ رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع کا خزانہ کیسے لوٹا، کوہ نور ہیرا کیسے چھین لیا اور شاہ شجاع کو کیسے ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا، خواتین کو شاہ سے علیحدہ رکھا گیا اس کیلئے شاہ شجاع کی اپنی کتاب “واقعات شاہ شجاع” ملاحظہ فرماویں۔ [14]

لدھیانہ میں شاہ شجاع نے حالات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے، انگریزوں سے چند ماہ کی پیشگی پنشن لیکر فوج جمع کی۔ راستے میں سندھ (شکارپور) کے ہندو کرنسی ڈیلرز سے قرض لے کر افغانستان پر لشکر کشی کے لئے پشاور پہنچے تو اقتدار کی بھوک اور متکبرانہ رویئے کی وجہ سے قبائلیوں نے ساتھ نہیں دیا۔ رہی سہی کسر اسلحہ ڈپو میں بارود پھٹنے نے پوری کردی جس سے معزول شاہ شجاع کی بڑی تعداد میں فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔

شاہ شجاع کے پہلے حملے میں انگریزوں اور سکھوں کا براہ راست تعاون حاصل نہیں تھا اسلئے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس مشن میں انگریز کرائے کے جنرل جوشیہ ہارلن Josia Harlan بھی شجاع الملک نے بھرتی کئے تھے جو دراصل جاسوسی کیلئے انگریزوں نے شامل کروائے تھے۔ شاہ شجاع نامراد لدھیانہ واپس روانہ ہوئے تو بچے کھچے لشکر کو سندھ کی شدید گرمی اور ریت کے طوفان کا سامنا کرنا پڑا اور یوں شجاع الملک 1819 سے پہلے اجمیر شریف اور دہلی شاہ اکبر دوم کی زیارت کرکے واپس لدھیانہ پہنچے۔ شاہ شجاع کے پہلے حملے میں انگریزوں اور سکھوں کا براہ راست تعاون حاصل نہیں تھا اسلئے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔[15]

امریکی نژاد جوشیہ ہارلن کی کہانی نہایت لچسپ ہے! سمندری کارگو جہاز کے نوکر ایسٹ انڈیا کمپنی میں سرجن بھرتی ہوئے حالانکہ ہارلن نے میڈیکل کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ اینگلو برما جنگ لڑنے بھیجے گئے تو ایک طاقتور سپاہی اور کمانڈر کے روپ میں سامنے آئے مگر دل میں کچھ اور ہی تھا! شاید بادشاہ بننے کا خواب؟

الفنسٹن کی کتاب “کنگڈم آف کابول” پڑھ کر فارسی اور اردو پڑھنے کا شوق ہوا۔ ساتھ ہی 1826 میں “کمپنی” کی نوکری چھوڑی اور لدھیانہ آ کر پہلے معزول شاہ شجاع کے مشیر بنے اور بعد میں دوست محمد خان کے قریب ہوئے۔ ایک دفعہ حاجی خان نامی دوست محمد خان کے مشیر نے ہارلن کو امیر دوست محمد خان کو قتل کرکے شاہ شجاع کو بادشاہ بنانے کی پیشکش کی۔ کابل میں اس ہیضہ کی وباء بھی پھیل گئی لہذا بالآخر لاہور جا کر پہلے رنجیت سنگھ کے ڈاکٹر بن گئے، اور بعد میں گجرات سمیت کئی اضلاع کے گورنر تعینات کر دیئے گئے۔

جوشیہ ہارلن

رنجیت سنگھ کے دیگر فرانسیسی اور اطالوی گورنر اور جنرلز بھی تھے جس سے انکی طاقت میں اضافہ ہوا تھا۔ ہارلن سے ایک یہودی مبلغ جوزف وولف کی جو بعد میں مسیحی بن گئے تھے گجرات میں ملاقات ہوئی تھی۔ جوزف وولف ہندوستان و افغانستان کے دس گمشدہ اسرائیلی یہود قبائیل ڈھونڈنے نکلے تھے تاکہ اسے دوبارہ مسیحی بنائیں۔ [16] خوشونت سنگھ اپنی کتاب “رنجیت سنگھ” میں لکھتے ہیں کہ ہارلن جوشیہ نے رنجیت پر ثابت کیا تھا کہ ہارلن ایک ڈاکٹر، سپاہی، مدبر سیاستدان اور ایک سفارتکار ہیں۔ [17]

درانی، بارکزئی افغان اور رنجیت سنگھ کے درمیان 1834میں پشاور قبضہ کیلئے رسہ کشی شروع ہوئی تو رنجیت سنگھ نے ہارلن کو بطور سفارتکار (دراصل پشتونوں کو ورغلانے اور آپس میں لڑانے) پشاو بھیجا اور مقصد میں کامیاب بھی ہوئے۔ یہاں ایک خاتون ڈانسر پر لڑائی کا قصہ بھی لکھا گیا ہے جس پر سلطان محمد خان بارکزئی اور امیر دوست محمد خان کے درمیان جنگ چل رہی تھی جیسے یہ پشاور پر قبضہ سے بڑا مسئلہ ہو۔

پشاور رنجیت سنگھ کے قبضے میں گیا، مگر ہارلن جوشیہ شاہ شجاع اور رنجیت سنگھ کے بعد امیر دوست محمد خان کی قربت حاصل کرنے میں کامیاب رہا حالانکہ وہ اس سے پہلے امیر دوست محمد خان کے دشمنوں کے آلہ کار تھا۔ ہارلن جوشیہ 1836 میں امیر دوست محمد خان کے دربار کابل پہنچا تو چارلس میسن سے متعارف ہوئے۔ یہ دراصل انگریز سپاہی جیمز لیوئس تھے، جو انگریز فوج سے بھاگے ہوئے تھے اور انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ موصوف ارکیالوجسٹ بن گئے تھے اور ہندوستان و افغانستان میں ارکیالوجیکل سائٹس پر بہترین تحقیق اور کتابیں بھی لکھی۔ ہارلن کے ہاتھوں جاسوسی پر مجبور ہوئے۔ ان سب کرداروں پر کتابیں لکھنے کی متقاضی ہیں مگر اب مضمون طوالت کی وجہ سے سمیٹنا پڑ رہا ہے۔

امیر دوست محمد خان نے برطانوی ہند گورنر لارڈ آکلنڈ کو خط لکھا کہ (جو بظاہر ہارلن سے لکھوایا گیا تھا) کہ پشاور کو سکھوں (رنجیت سنگھ) سے آزاد کر کے افغانستان (دوست محمد خان) کے حوالے کیا جائے مگر لارڈ آکلنڈ نے اندرونی مسائل میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نفی میں جواب دیا کیونکہ الیگزینڈر برنس کابل کی طرف روانہ کردیئے گئے تھے۔

سکھوں کے پر نکل آئے تھے اور پشاور کے سکھ گورنر ہری سنگھ نلوا (جو رنجیت سنگھ کے آرمی چیف بھی تھے) نے ایک خط لکھ بھیجا جس میں ہندو تاریخ کا ذکر تھا اور ساتھ کابل انکے حوالے کرنے کا لکھا گیا تھا۔ اب میر دوست محمد خان ہری سنگھ کا خط پڑھ کر غصے سے بےقابو ہو گئے۔ سکھوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور اپنے بیٹوں سردار محمد افضل خان، غازی سردار محمد اکبر خان اور بھائی سردار جبار خان کی سرد کرد گی میں لشکر پشاور پر حملے کیلئے روانہ کیا۔

ہارلن جوشیہ نے افغان آرمی (لیوی) کی کچھ تربیت کی تھی، انہوں نے سکھوں کے خلاف اس “جہاد” میں حصہ لیا اور سکھوں کو درہ خیبر کے جمرود کے مقام پر شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ رنجیت سنگھ کے چہیتے جنرل ہری سنگھ نلوا سمیت ایک ہزار افغان اور قبائلی سمیت دو ہزار سکھ اس “جنگ مغلوبہ” میں قتل ہوئے۔

سکھ (رنجیت سنگھ) 1814 میں اٹک قلعہ، 1819 میں لاہور ( پنجاب) و کشمیر اور 1834ء تک پشاور سمیت پختونخواہ کے اکثر علاقے فتح کرچکے تھے اور اپنا تسلط قائم اور مضبوط کرنے کیلیے شاہ شجاع کو استعمال کر رہے تھے۔ دوسری جانب انگریز، سکھ اور افغان دونوں کو زیر کرنے کا سوچ رہے تھے۔ ادھر دوست محمد خان روسیوں یا انگریز کے ذریعے اپنا قبضہ جمانا چاہتے تھے۔ اب ایک جنگ کے کئی فریق بن گئے تھے اور “گریٹ گیم” شروع ہوچکا تھا۔ ستمبر 1838 کو “گریٹ گیم” کے ایک اور برطانوی کردار الیگزینڈر برنس کابل پہچ چکے تھے، اور دسمبر میں روسی شہنشاہ نکولس 1 کے پولش نژاد روسی نمائندے لیفٹننٹ جونس پروپسپر ویٹکیوئچ بھی کابل میں امیر دوست محمد خان کے دربار میں حاضر ہوئے۔

ہارلن جوشیہ اپنی سوانح عمری A memoir of India & Avghanistan کے صفحہ 80 میں لکھتے ہیں کہ 1838 میں الیگزینڈر دی گریٹ کی طرح اُزبک، تاجک اور ہزارہ کو امیر دوست محمد خان کے تابع کرنے نکلے اور بلخ سے ہوتے ہوئے غور اور کندوز (قندوز) تک علاقے مسخر کئے۔ ہارلن ہزاروں“ہزارہ” شیعہ جنہیں ازبکوں نے غلام بنا رکھا تھا کو چھڑانے میں بھی کامیاب ہوئے اور ایک ہزارہ لڑکی سے معاشقے کا چرچا بھی گردش کرتا دکھائی دیا۔

ہارلن جوشیہ جب کمپین سے واپس ہوئے تو مگناٹن کابل پہنچ چکے تھے اور برطانوی ہندوستان کی فوج شاہ شجاع کو لیکر کابل پر حملہ کیلئے نکل چک تھے۔ ہارلن برطانوی افسران کیلیے قابل قبول نہیں تھے لہذا ہارلن روس کی طرف نکلے۔ وہاں کوئی پذیرائی نہیں ملی تو بطور ہیرو امریکہ واپس ہوئے اور وہاں بھی “غلامی کے خلاف جنگ” میں پیش پیش تھے۔ [18]

امیر دوست محمد خان کا انگریزوں سے مایوس ہوکر روس کی طرف جھکاؤ فطری تھا جب انگریز سکھوں کے خلاف ان کی مدد سے چشم پوشی کر رہے تھے۔ امیر دوست محمد خان اور کندھار کے گونر نے قاجار شاہ کو شہزادہ کامران کے خلاف ہرات پر حملے کیلئے خط لکھا۔ ادھر ہرات میں ایک اور انگریز جاسوس Eldred Plottinger ہندوستانی مولوی بن کر مسجد میں امامت کے منصب فائض ہوچکے تھے جو جاسوسی ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کی بنياد پر پیشينگوئى كرتے جس كى وجہ سے شہزادہ کامران اور ان کے وزیر یار محمد خان گرویدہ ہو چکے تھے۔

پلاٹنگر نے خطوط لکھ کر برطانوی گونر جنرل کو روس اور ایران کی مدد سے افغانستان پر قبضے سے آگاہ کیا جو نادر شاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کی طرح ہندوستان پر قبضے کا پیش خیمہ ثابت ہو چکے تھے۔ کابل سے الیگزینڈر برنس ناامید ہندوستان واپس ہوئے تھے کیونکہ برنس دوست محمد خان کو شاہ شجاع سے بہتر اور انگریزوں کیلئے موزوں قرار دے رہے تھے مگر مگناٹن اور آکلینڈ کو اس پر راضی نہ کر سکے۔ اور اب دونوں فوج کے ساتھ کابل پر حملے میں شریک واپس ہورہے تھے۔ مگناٹن اور برنس کے ساتھ جو ہوا وہ اینگلو-افغان وار کی اگلی قسط میں شائع کیا جائے گا۔

ایران کے قاجار بادشاہ نے ہرات کا محاصرہ کیا، تو شہزادہ کامران اور انکے وزیر نے ایرانیوں کے خلاف مولویوں کی مدد لینے کا فیصلہ اور ایرانیوں کو کافر قرار دیکر قتل اور لوٹ مار جائز قرار دے دیا۔ اس جنگ میں مرنے والوں کو شہید اور بچنے والوں کو غازی قرار دیا گیا۔ اس کا احوال آپکو فیض محمد کاتب کی کتاب “سراج التواریخ” میں ملے گی جس کا انگریزی ترجمہ The History of Afghanistan: Fayz Muhammad Kateb (Brill)بھی دستیاب ہے۔

شاہ شجاع

برطانوی ہندوستان کے گونر آکلینڈ نے کابل پر فیصلہ کن حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ امیر دوست محمد خان کو ہٹا کر شاہ شجاع درانی کو ان کا “حق” دلایا جائے۔ آکلنڈ نے شاہ شجاع کو یہی بتا کر کندھار پر حملے کیلئے ساتھ لیا اور درہ کرم اور بلوچستان پر دو اور محاذ کھول کر برطانوی فوج افغانستان میں داخل ہوگئی۔ [19] خوش قسمتی سمجھیں یا بدقسمتی! برطانوی فوج کے افغانستان پر حملہ شروع ہوتے ہی رنجیت سنگھ بھی وفات پا گئے۔ اب سکھ بھی مسلمانوں کی طرح آپس میں لڑنے لگے تھے اور ایک خاتون سب کو انگلیوں پر نچا رہی تھی۔ [20]

معزول شاہ شجاع جس نے 1831 میں افغانستان پر حملہ کرنے کیلئے رنجیت سنگھ سے مدد کی درخواست کی تهى تو رنجیت سنگھ نے نہایت بیہودہ مطالبات سامنے رکھ دیئے جس میں گائے ذبح نہ کرنا اور سومنات مندر کے دروازے واپس کرنا شامل تھے۔ یہ مطالبات شاہ شجاع نے رد کردئیے تھے اور 1833 میں انگریزوں سے چند ماہ کی پیشگی پنشن لیکر لدھیانہ سے افغانستان پر لشکر کشی کرکے ناکام ہوئے تھے۔ اس بار 38-1839 میں لارڈ آکلینڈ نے فیصلہ کیا کہ افغانستان میں امیر دوست محمد خان کی جگہ شاہ شجاع کو بٹھا کر ہی دم لیں گے۔ دوست محمد خان انگریزوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے، قیدی بنا کر انگریز ہندوستان لے گئے۔ شاہ شجاع کو انگریز ہندوستان سے ایک بار پھر افغانستان لائے اور بادشاہ بن دیا۔

تین سال خانہ جنگی کے بعد شاہ شجاع برطرف کرکے قتل ہو جاتے ہیں، بالآخر انگریز کی مدد سے ایک بار پھر دوست محمد خان کابل لا کر بادشاہ بنا دیئے جاتے ہیں۔ یہی “گریٹ گیم” بارکزئی شیر علی خان، عبد الرحمن خان، حبیب اللہ خان، امان اللہ خان، نادرشاہ، اور ظاہر شاہ سے ہوتی ہوئی داؤد خان تک پہنچتی ہے اور بالآخر 1979 میں روس حملہ کرتا ہے اور پھر امریکی گریٹ گیم کا حصہ بنتے ہیں اور افغان جہاد کے نام پر ایک اور فساد شروع ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ آج تک چلتا رہا ہے، ہم اسے قسط وار شائع کرنے کی کوشش کریں گے۔

افغانستان کی تازہ ترین حالت یہ کہ دو سو سال پرانے جنگ کے بادل ایک بار پھر افق منڈلا رہے ہیں، امریکی بیس سال لڑنے کے بعد افغانستان سے فرار کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں جیسے گورباچوف نے روسی فوج افغانستان واپس بلائی تھی۔ طالبان طاقت کے طور پر ابھرے ہیں مگر آپ اس میں سید جمال‌‌‌الدین افغانی، أسامه بن لادن، سید جمال الدین افغانی اور سید احمد بریلوی اور شاہ عبدالعزیز دہلوی اور اس کے بیٹے شاہ اسماعیل دہلوی کی سلفی، وہابی اور تکفیری جھلک دیکھ سکتے ہیں۔

روس اور ایرن کے ساتھ اب چین بھی امریکی انخلاء کا پُرزور مطالبہ کر رہا ہے کیونکہ چین ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور منڈیوں پر قبضہ کر رہا ہے۔ چین پاکستان کے ساتھ سی پیک اور ایران کے ساتھ ایک تاریخی طویل المعیاد پانچ ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کر چکے ہے۔

پاکستان! امریکہ اور چین کے درمیان سینڈوئچ کی طرف پھنس چکا ہے جہاں بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کو بھارت، افغانستان اور کسی حد تک امریکہ کی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے فکر لاحق ہے، جبکہ پاکستان افغانستان میں ایک ایسی حکومت کا خواہاں ہیں جو پاکستان کا دوست نہ سہی مگر دشمن بھی نہ ہو۔

افغانستان کی حالت یہ کہ آدھے پر ملک پر طالبان کی حکومت نہ سہی اثر ضرور ہے خاص کر پشتون علاقوں میں جبکہ شمالی اور مشرقی افغانستان مزار شریف، بلخ اور بامیان سے لے کر غور، باغیث اور ہرات تک اسلئے پرسکون ہے کہ کابل میں انکا اثر رسوخ کافی مضبوط ہے۔

اگر شمالی اتحاد یعنی اُزبک، تاجک اور ہزارہ کو طالبان کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی، جیسے حالیہ کچھ واقعات اور اشرف غنی کے بیانات سے تاثر مل رہا ہے تو افغاستان ایک بار پھر اندرونی خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ افغانستان کو علاقائی، نسلی اور مذہبی گروہوں میں تقسیم کر کے بیرونی قوتیں اپنا حصہ علیحدہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے دو سو سال پہلے رنجیت سنگھ نے پنجاب سے لیکر پشاور، ڈیرہ جات اور ہزارہ سے کشمیر تک کا حصہ علیحدہ کیا تھا۔ ایرانی کسی حد تک ہرات اور کندھار کے ملحقہ علاقوں تک اثر و نفوز رکھتے تھے جبکہ روسی ترکمانستان، ازبکستان حتی آزربائیجان تک قابض ہو چکے تھے۔ کندھار اور ہرات کے علاوہ باقی علاقے کھبی افغانستان کا حصہ نہیں رہے۔ افغانستان آج اسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں آج سے دو سو سال پہلے تھا۔

پہلی اینگلو افغان جنگ کی مفصل احوال اگلی قسط میں شئیر کریں گے۔ انشااللہ

حوالہ جات

1. افغانستان د تاریخ پہ تګلوري کې۔ میر غلام محمد غبار ص ۳۶۹ تا ۳۸۷
1: English translation of Ghulam M. Ghobar History Afghanistan in the course of history Vol 1
2. Signal Catastrophe: the retreat from Kabul 1842: London, 1966, page 35.
3. Russia against Napoleon, D Lieven, London 2009, page 7-45
4. The Return of a King by William Dalrymple, Bloomsbury, page 32.
5. Russia against Napoleon, D Lieven, London 2009. Page 79
6. The Return of a King by William Dalrymple, Bloomsbury, page 48-117
6-1. Metcalf, “Islamic revival in British India: Deoband”, p. 58, Princeton University Press (1982).
6-2. Truschke, Aurangzeb the Man & the Myth, ch. 5, Penguin Books, 2017.
7. God’s Terrorists: The Wahabi Cult & the Hidden Roots of Modren Jihad: by Charles Allen, Da Capi Press
8. پختانہ د تاریخ پہ رنڑا کے۔ بہادر شاہ کاکا خیل۔ ص 764 تا 773
9. Ibid۔ ص 750-756
10. د افغانستان تاریخی پیښلیک۔ عبدالحئ حبیبی۔ ص 172
11. د کابل سلطنت۔ الفنسٹن۔ پشتو حسن کاکڑ ص 593
12. The Shikhs, Khushwant Singh, p 63
13. پختانہ د تاریخ پہ رنڑا کے۔ بہادر شاہ کاکا خیل۔ ص 750-756
14. واقعات شاہ شجاع: فارسی۔ در کتابخانہ مجلس شوری ملی۔ ص 19 تا 102
15. نوایِ معارک (فارسی): مرزا محمد عطا ص 40 تا 60
16. Josiah the great: the true story of the man who would be king, by Macintyre.
17. Ibid
18. A memoir of India & Avghanistan: print Philadelphia, J Bobson, page 80
19. The History of Afghanistan: Fayz Muhammad Kateb: Vol 1, page 120-160
20. Rajint Singh: Maharajah of the Panjab, by Khushwant Singh, London, Allen & Anwin Ltd. page 147.

اشرف غنی کا دورہ امریکہ ناکام، بقای افغانستان در خطر است۔ احمد طوری

افغان صدر اشرف غنی امریکہ کے ناکام دورے کے بعد کابل واپس ہوئے تو ’ صدارتی محل میں اعلی افغان قیادت کے اجلاس میں افغانستان میں امن معاہدےکے لیے فیصلہ ساز کونسل کے چیئرمین عبد اللہ عبد اللہ نے کہا ہے کہ ’ بقای افغانستان در خطر است‘ یعنی ’افغانستان کی بقا خطرے میں ہے۔‘

اشرف غنی دورے کو اس لئے ناکام کہا ہے کہ ایک طرف طالبان مذاکرات میں سنجیدگی نہیں دکھا رہے اور میدان جنگ میں مسلسل پیش قدمی کررہے ہیں، تودوسری طرف امریکی صدر جو بائیڈن نے اشرف غنی کو واشنگٹن دورے کے موقع پر صاف صاف کہا ہے کہ ’افغاستان سے فوجی انخلاء جلد مکمل ہوگا اورافغان اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں‘ ۔ تاہم جو بائیڈن اور امریکی انتظامیہ نے افغانستان کی نصف بیلین ڈالر مدد کا اعلان کیا ہے اور سیکیوریٹی فورسز نےطالبان کو کابل پر حملے اور محاصرے کی صورت میں فضائی حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی ضرور دی ہے۔

عبدللہ عبداللہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی افواج کی اکثریت خاموشی سے انخلاء مکمل کرچکے ہیں،  جرمن فوج نے مزار شریف اور اٹلی کی فوج نے ہرات سے اپنے بوریا بستر گول کرکے بیس سال بعد اپنے ممالک واپس ہوئے ہیں، جبکہ سی این این نے امریکی سیکیوریٹی فورسز ذرائع سے خبر دی ہےکہ امریکی فوج 4 جولائی تک واپس ہوجائے گی، صرف بگرام ائیربیس میں 650 تک فوجی امریکی سفارتی مشن کی حفاظت کے لئے باقی بچیں گے۔

عرب میڈیا کے مطابق فارن پالیسی میگزین نے امریکی دستاویزات اور اشرف غنی کے حالیہ دورہ امریکہ پر ایک مضمون شائع کیا ہے، جس سے افغانستان سے متعلق امریکی دوغلی پالیسی کے ساتھ ساتھ اشرف غنی کی نااہلی اور افغان خانہ جنگی سے متعلق خدشات عیاں ہیں۔ افغانستان میں زمینی حقائق اور تیز رفتار بدلتی صورتحال سے صاف ظاہرہے کہ سب کچھ پلان ہے۔ فروری 2020 میں امریکہ (ٹرمپ)نے طالبان کے ساتھ ایک ڈیل کی ہے، جس کو ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا ہے، اور جو بائڈن انتظامیہ نہایت تیزی سے اس منصوبہ پر عملدرآمد کررہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے آدھے اضلاع یعنی ڈیڑھ سو سے زیادہ اضلاع یا تو طالبان کے قبضے میں ہیں یا محاصرے میں ہیں، جو کسی بھی وقت طالبان کے ہاتھوں میں جاسکتے ہیں، اور تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

افغانستان میں تعینات بین الاقومی فورسز کے امریکی جنرل، آسٹن ملر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ “امریکی انخلاء سے افغانستان خانہ جنگی کی نذرہو جائے گا، جس کا تصور کیا جاسکتا ہے، دنیا کو فکرمند ہونا چاہئے‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکا کے ساتھ امن کے شراکت دار تو ہوسکتے ہیں لیکن جنگ میں نہیں، عمران خان نے مزید کہا کہ “افغانستان کے حوالے سے ہمارے لیے اب واقعی  بڑا مشکل وقت آرہا ہے، پاکستان کا مفاد یہ ہے کہ افغانستان میں امن ہو، ہم افغانستان میں کوئی تذویراتی گہرائی نہیں چاہتے، جو افغانستان کے لوگ چاہتے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں‘۔ اس سے پاکستان کی صورتحال واضح ہوجاتی ہے مگرپاکستان کا ایک بڑا طبقہ طالبان کو سپورٹ کرنے کےلئے سامنے آیا ہے جو سمجھتے ہیں کہ طالبان نجات دہندہ ہیں، اور پچھلے پچاس سالوں میں دو سوپر پاؤرز کوشکست سے دوچار کرچکے ہیں۔ مگر اس طبقے کو یہ نظر نہیں آرہا کہ افغاستان پچھلے پچاس سال میں تباہ و برباد بھی ہوا ہے۔

افغان اُمور پر نظر رکھنے والے دوست، سینئیر صحافی جناب حیدر جاوید سید کو لگ رہا ہے کہ  ’پاکستان میں ’’عشقِ طالبانیت‘‘ پھر سے انگڑائیاں لے رہا ہے، دروس ہورہے ہیں، دعوت جہاد اور جہاد کی فضیلتیں بیان ہورہی ہیں، طالبانیت کے عشق میں سرشار یہ بھول گئے کہ ستر ہزار پاکستانی کس جنگ کا رزق ہوئے تھے‘۔ اور ٹھیک فرمایا ہے۔ اگر حق اور سچ بات کریں تو افغانستان کو روس اور امریکہ نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا افغان جہادی لیڈرز آپس میں لڑ کر ایک دوسرے کو قتل کرتے آ رہے ہیں، ہم دیکھ چکے ہیں کہ کیسے طالبان نے افغان صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کو گھسیٹتے ہوئے کابل کے چوک میں لٹکایا۔

اکٹر نجیب اللہ کو گھسیٹتے ہوئے کابل کے چوک میں لٹکایا

افغان امور کے ماہرین گزشتہ چند مہینوں سے اسی صورتحال کی طرف اشارہ کررہے تھے اور میں نے اپنے پچھلے آرٹیکل بہ عنوان ’پاک افغان بارڈر پر طالبان کاقبضہ، اسلام آباد و کابل میں خطرے کی گھنٹی بج گئی‘ میں اس پر گفتگو کی ہے، کہ امریکی تھینکس ٹینکس اور امریکی سیکیوریٹی اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان سے فوجی انخلاء کے بعد، خانہ جنگی کی طرف بڑھنے کے قوی خدشات ظاہر کئے تھے ، مگر حیران کن اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جو کام مہینوں میں ہونا تھا وہ ہفتوں بلکہ دنوں میں ہورہا ہے۔ طالبان جنوب پر نہایت کم توجہ دے رہے ہیں، شمال میں توقع کے برعکس کامیابی سے پیش قدمی کررہے ہیں، اور دوستم کے آبائی ضلع کوبغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کیا ہے، مزار شریف کے دروازے پر دستک دی ہے، ہرات میں آج افغان حکومت اور طالبان کے درمیان فیصلہ کن جنگ لڑی جارہی ہے جبکہ ھلمند میں خونریز جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

افغانستان کو سمجھنے کے لئے آپ کو افغانستان کی اندرونی قبائلی مخاصمت سمجھنا ضروری ہے جو تین سو سال سے ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور افغانستان کا جغرافیہ، علاقائی اور نسلی تقسیم سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ افغانستان کے جنوب میں پشتون آباد ہیں، اور قندھار اور غزنی سے لیکر خوست، پکتیا، پکتیکا، جلال آباد اور طورخم تک پشتون علاقے پہلے ہی طالبان کے زیر اثر تھے، اور اکثر نے طالبان کو خوش آمدید بھی کہا اور کئی جگہ توطالبان پہلے ہی قابض تھے۔

ضلع کرم کے ساتھ پاک افغان بارڈر پر جاجی ھریوب (اریوب) اور ڈنڈہ پٹھان و شھرانو  کے علاقے بغیر مزاحمت کے طالبان کے ہاتھوں میں چلے گئے، مگر بڑے اضلاع جو مرکزی شاہراہ پر واقع ہیں مثلاً سید کرم ضلع وہ افغان فورسز نے واپس لی ہے، مرکزی شاہراہ سے آگے طالبان قابض ہیں۔ جبکہ طالبان کی سیاسی حکمت عملی میں ایسی  تبدیلی آئی ہے کہ بارڈر کے پار پاکستان میں کوئی ہل چل پیدا نہیں ہوئی، اور نہ طالبان نے کوئی بڑی سیکیوریٹی تبدیلیاں کیں، جوحکومت کے سپاہی سرنڈر ہوئے انکو اسی جگہ پر بحال کرکے تبدیلی ظاہر ہی نہیں ہونے دی۔

سابق افغان بادشاہ ظاہر شاہ کے بارکزئی قبیلے کے ایک مستند شخصیت سے افغان صورتحال پر بحث کرتے ہوئے میں نے چند سوال کئے، جو طالبان کو  سپورٹ کررہے تھے! انکا جواب تھا کہ ’طالبان کو اسلئے سپورٹ کررہا ہوں، تاکہ وہ کابل پر قبضہ کرے، اور پھر چونکہ ’افغان‘  طالبان کی حکومت نہیں چاہتے، لہذا ’لویہ جرگہ‘ بلایا جائے گا، جس میں افغانستان کے مستقبل کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا‘۔ انہوں نے 2010 میں نیویارک (امریکہ) سے شائع اپنے تھنک ٹینک کا روڈمیپ (وائٹ پیپر) بھی مجھ سے شئیر کیا ہے جو وہ امریکی (اُبامہ انتظامیہ) کے سامنے رکھ چکے ہیں، اور انکا خیال ہے کہ کابل کے سقوط کے بعد ’لویہ جرگہ‘ کے سامنے بھی وہی وائٹ پیپر رکھا جائے گا۔ موصوف کے مطابق افغانستان نے ظاہر شاہ کے دور میں سب سے زیادہ ترقی کی ہے لہذا وہی بادشاہت واپس لائی جائے۔ یاد رہے سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی ظاہر شاہ کو کابل واپس لاکر سیاسی فائدہ حاصل کرچکے ہیں۔

اس ایک شخص کی  گفتگو سے آپ کو حالات کا اندازہ ہونا چاہئے کہ افغانستان کس طرف جا رہا ہے، امریکہ میں بیٹھا ایک افغان بھی کابل پر طالبان کا قبضہ چاہتاہے تاکہ ان کے لئے راہ ہموار ہوسکے تو زلمے خلیل زاد جو امریکی منصوبہ بندی ’قطر پلان‘ کے خالق تصور کئے جاتے ہیں، اور افغان جہادی رہنماؤں کے بھی قریب سمجھے جاتے ہیں ان کے عزائم کیا ہونگے؟

زلمے خلیل زاد جو امریکی منصوبہ بندی ’قطر پلان‘ کے خالق

افغانستان میں غلجی قبیلہ کا افغان جہاد اور سیاست میں کلیدی کردار ہے، اشرف غنی احمدزئی کا تعلق بھی ڈاکٹر نجیب اللہ کی طرح غلجی قبیلے سے ہے۔ جبکہ حامدکرزئی کا تعلق ابدالی قبیلہ کے پوپلزئی شاخ سے ہے

اشرف غنی اور حامد کرزئی امریکہ اور پاکستان کے خلاف میڈیا میں سخت گیر رویہ اختیار کرتے ہیں، اس کے پیچھے افغان قوم کا تاریخی سبق ہے کہ ’افغان قوم اغیار اور کٹ پتلی‘ کھبی تسلیم نہیں کرتے، پہلی اینگلو۔افغان جنگ کے وقت شاہ شجاع اور انگریز افغان قوم کا غیض و غضب دیکھ چکے ہیں۔

دوسری طرف تاجک، اُزبک، ترکمن اور ہزارہ لیڈرز کابل میں بیٹھے ہیں جبکہ ان کے علاقوں میں طالبان گھوم رہے ہیں، استاد محقق کا آبائی علاقہ شولگر جو بلخ میں واقع ہے اور طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے، جبکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اشرف غنی کا آبائی علاقہ ’لوگر‘ بھی طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔

قطر میں قائم طالبان سیاسی دفتر کے سربراہ بین الاقومی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تربیت یافتہ ہیں، انہوں نے کل ویڈیو پیغام میں افغان مصالحتی کمیشن پرسنگین الزامات لگائے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں اور میدان جنگ میں کود گئے ہیں، جبکہ طالبان اہلکاروں نے صوبہ تخار کے مرکزی مسجد کے ایک بڑے اجتماع میں فتویٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ طالبان لیڈر ملا ہیبت اللہ کا بیعت نہیں کرتے، ان کا افغانستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں،اور وہ کافر کافر ہیں۔ اس کا صاف مطلب ہے، کہ انہیں قتل کیا جائے گا۔ اور صوبہ بدخشاں سے بڑی تعداد میں تاجک خاندانوں کے گھر جلائےجانے کی اطلاعات ہیں اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہے۔ المختصر طالبان شدید جنگ کے موڈمیں ہیں اور اگلے ہفتے، جبکہ امریکی فوجی انخلاء مکمل ہوجائے گا تو درجنوں شہر جو محاصرے میں ہیں پھر دھاوا بولا جائے گا اور بھرپور جنگ چھیڑنے کی اطلاعات ہیں۔

یاد رہے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے جنوری 2012 میں قطر میں طالبان کے دفتر کی حمایت کا اعلان کیا تھا، جو اب افغانستان کا سب سے بڑا جنگی فریق اورسیاسی گروپ کے طور پر سامنے آیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ طالبان کے پیچھے حامد کرزئی کا ہاتھ سمجھتے ہیں۔

پشتون قبائل کے ساتھ ہزارہ کی جنگ چار ماہ پہلے ہی شروع ہوچکی ہے! طالبان نے پشتون قبائل کا ساتھ دیتے ہوئے علیپور ہزارہ کے خلاف ’اعلان جہاد‘ کیا، توافغان صدر اشرف غنی نے بھی قبائلی جنگ میں مداخلت کرتے ہوئے، ہزارہ پر بمباری شروع کی، جس میں ایک ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوا۔ امر اللہ صالح اور اشرف غنی دونوں آگ بگولہ ہوئے اور علی پور ہزارہ کے ملیشیا کے خلاف کارروائی کی گئی، اشرف غنی نے ہزارہ سے کہا کہ “ہتھیار ڈال دیں اور تسلیم ہوجائیں، اگرافغانستان میں ہزارہ کی جان محفوظ نہیں تو کہیں اور چلے جائیں’ جی! ہاں، یہ افغان صدر اشرف غنی کے الفاظ ہیں اور آج وہی اشرف غنی ہر افغان لیڈر خواہ تاجک ہو، یا اُزبک، ترکمن ہو یا ہزارہ کے پاؤں پکڑ رہے ہیں‘

لشکر بنانے کے لئے ہتھیار بھی دے رہے ہیں۔ تاریخ میں جانا نہیں چاہتا مگر امیر دوست محمد خان اور امیر عبدالرحمن خان جیسے زیرک افغان امیروں نے بھی ہزارہ کے خلاف اسی طرح کاروائی کی ہیں، اور طالبان نے بامیان محاصرے میں ہزاروں ہزارہ کاقتل عام کرکے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ افغان ہزارہ لیڈر عبدالعلی مزاری کی طالبان کے ہاتھوں دھوکے سے قتل کھبی نہیں بھولیں گے، اور کوئی اعتباربھی نہیں کریں گے۔ مگر اب طالبان نے حکمت عملی تبدیل کی ہے تو ہزارہ بھی اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں، اور تاجک و ازُبک بھی خانہ جنگی کی صورت میں وہی پرانی مسلح تنظیمیں سامنے لائیں گے۔

پچھلے ایک سال میں ریکارڈ نکالیں، ہزارہ کے خلاف خونریز کاروائیاں ہوئی ہیں، سڑکوں پر بسوں سے اتار کر مارا گیا ہے،ہزارہ بچیوں اور بچوں کے سول، مساجد اور امام بارگاہیں ٹارگٹ ہوئی ہیں۔ پرانے زمانے میں ترکمنستان کے غلام مارکیٹ ہزارہ شیعوں سے بھرے پڑے تھے جو یہاں سے اُٹھا کر وہاں نقد رقم کے عوض بیچ دیئے جاتے تھے، الیگزنڈر برنس نے دو سو سال پہلے ان غلام مارکیٹوں کا ذکر اپنی سفرنامے کی تین کتابوں میں تفصیل سے کیا ہے، اور آخر میں پہلی اینگلو افغان کے پانچ ہزار قیدی بھی انہی غلام مارکیٹوں میں بیچ دیئے گئے تھے۔

 خیر، اب تو حالات اتنے بدل گئے ہیں کہ کتوبر 2020 میں ایرانی وزات خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات پر بات کرتے ہوئے انہیں ‘امریکہ کے لیے تاریخی سکینڈل’ قرار دیا تو طالبان نے صاف کہہ دیا کہ افغان مذاکرات میں ایران دخل نہ دے۔ مگر اس کے بعد طالبان کے سیاسی وفد نے ایران کا دورہ کیا، اوروزیرخارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی۔

یہ ایک بڑی اہم پیش رفت ہے، اور اس کے ثمرت بھی آنا شروع ہوئے ہیں۔ نیم سرکاری ایرانی نیوز ایجنسی “تسنيم” کے ڈائریکٹر جنرل برائے خارجہ امور حسام رضوی نے ایک انٹریو میں افغانستان کی ہزارہ شیعہ برادری کو طالبان کے خلاف ہتھیار نہ اٹھانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہزارہ قبیلہ طالبان کے خلاف لڑائی شروع کرتا ہے، تو افغان جنگ سیاسی کی بجائے مسلکی  رنگ اختیار کرے گی، جو امریکہ عراق اور شام میں بھی چاہتے ہیں اور اب افغانستان میں بھی یہیچانا چاہتے ہیں، کہ طالبان اور ہزارہ آپس میں لڑیں، روزنامہ  ’کیھان‘ میں بھی ’طالبان نے اپنا انداز بدل دیا ہے اور وہ اب قاتل نہیں رہے‘  طالبان تغییر رویه داده و دیگر سر نمی‌برد کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے، جس کا لب لباب وہی ہے جو حسام رضوی نے کہا ہے۔ کہ ’امریکا افغانستان کو مسلکی جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے، مگر حسام رضوی نے تاریخی بددیانتی کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے نہ تو ماضی میں اہل تشیع کا قتل عام کیا اور نہ مستقبل میں ایسا کوئی امکان ہے‘۔

حسام رضوی نے آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ “اگرافغانستان کے ہزارہ شیعہ امریکی اسلحہ لےکرطالبان کے خلاف لڑائی شروع کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی ذمہ داری مقامی شیعہ برادری پرعائد ہوگی۔ یہ نہایت بیہودہ تجزیہ ہے۔حسام رضوی نے اپنے انٹرویو میں افغانستان کی شیعہ برادری پر زور دیا کہ وہ طالبان کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائیں۔ بیہودہ تجزیہ اسلئے میں نے اس لئے کہا کہ افغانستان کی تاریخ شیعہ ہزارہ قتل عام سے بھری پڑی ہے اور طالبان نے 1996 میں بامیان محاصرے اور قبضہ کے وقت  ہزارہ قبیلہ کا جو قتل عام کیا تھا، اسے اقوام متحدہ نے جنگی جرائم کا ارتکاب کہا ہے۔ اور ہزارہ آج بھی طالبان کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔

بحیثیت مجموعی طالبان اور ہزارہ قبیلے کے ٹکراؤ سے متعلق حسام رضوی نے ٹھیک نشاندہی کی ہے، روزنامہ کیھان نے بھی ٹھیک کہا ہے، اگر طالبان ہزارہ شیعہ قبائل سے نہیں لڑتے، تو ہزارہ کو بھی چاہیے کہ طالبان کے خلاف ہتھیار نہ اُٹھائیں۔ ایرانی میڈیا کی افغانستان پر گہری نظر ہے، وہ دیکھ رہے ہیں کہ کیسے شمالی اتحاد طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہیں، طالبان افغانستان کے شمال میں کسی مزاحمت کے بغیر قبضہ کررہے ہیں، رشید دوستم نے ہتھیار اُٹھائے ہیں اورنہ احمد شاہ محسود کی بیٹے نے طالبان کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ جبکہ کندھار میں حامد کرزئی اپنا سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں۔  اگر سب خاموش ہیں تو ہزارہ افغانستان کا جنگ کیوں اپنے سر لیں؟؟ جس میں ان کی نسل کشی کے خطرات نظر آرہے ہیں۔ حسام رضوی کے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر عرب میڈیا اور بی بی سی فارسی اور انڈپنڈنٹ فارسی نے پروپیگنڈا کیا ہے۔

اس سے زیادہ دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ طالبان ذرائع اور پروپیگنڈا اکاؤنٹس ایک تصویر شئیر کررہے ہیں جس میں بتایا جارہا ہے کہ طالبان کے رئیس، شعبہ دعوت و ارشاد، امیر خان متقی  نے ایکندي، کجران کے اہل تشيع ہزارہ قبیلے سے ملاقات کی ہے اور انہیں امارت اسلامیہ کا  پیغام پہنچایا، اور طرز نظام جس میں سب افغانوں کو ساتھ ملا کر آگے چلنے کو کہا گیا اور دیگر معاملات سے آگاہ کیا۔ اس ملاقات کے حوالے سے میری افغان (ہزارہ) ذرائع سے بات ہوئی تو انہوں نے  کہا کہ طالبان کے ساتھ ہزارہ پہلے ہی دست و گریباں ہیں اور طالبان روزانہ ان پر حملے کررہے ہیں، یہ ملاقات بلوچ اہل تشیع قبائل سے ہوئی ہے اور ان کوخبردار کیا گیا ہے کہ طالبان کے خلاف ہتھیار اُٹھانے کی غلطی نہ کریں، ورنہ سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ اس ملاقات کا مقصد دراصل یہ  متنبیہ کرنا تھا۔

مگر بحیثیت مجموعی افغان ہزارہ لیڈرز کے مطابق تو ایران اور طالبان لیڈرز (قطر گروپ) ٹھیک کہہ رہے ہیں، مگر ’ہم طالبان کے ہاتھوں ہزارہ قتل عام نہیں بھول سکتے‘ اور افغان ہزارہ نوجوان بھی ایران اور طالبان کے بدلتے روئے پر ششدر رہ گئے ہیں۔

پشاور سے ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان اور مہاجرین کے بین القوامی ایجنسیز نے اندازہ لگایا ہے کہ سب سے زیادہ افغان مہاجرین چترال کے راستےپاکستان آ سکتے ہیں۔  تین مختلف اندازے لگائے ہیں، کہ پندرہ سے لیکر پینتیس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آ سکتے ہیں۔ انڈیپپڈنٹ نیوز کے مطابق کابل میں افغان وزارت داخلہ روزانہ دس ہزار پاسپورٹ ایشو کررہے ہیں مگر پاسپورٹ دفتر پر رش مزید بڑھ گیا ہے اور افغانستان سے ترکمانستان کا ویزہ جو پہلے صرف 100 ڈالر میں لگتا تھا اب 1500 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

توعبداللہ عبدللہ کے مطابق ’بقای افغانستان در خطر است‘ اور افغانستان میں تعینات بین الاقومی فورسز کے امریکی جنرل، آسٹن ملر کے مطابق ’امریکی انخلاء کے بعد افغانستان خانہ جنگی کی نذر ہو جائے گا، اور دنیا کو فکرمند ہونا چاہئے‘ جبکہ افغانستان میں مختلف فریق میدان جنگ میں کود پڑے ہیں  جس کا فی الحال کوئی راہ حل نظر نہیں آرہا، اور آئندہ چند ہفتے اہمیت کے حامل ہیں جو افغانستان کے مستقبل کا تعین کریں گے کہ افغانستان کس طرف جا رہا ہے۔ اللہ تعالی افغانستان کی صورتحال پر رحم فرمائیں اور جنگ کو امن میں تبدیل فرمائیں، یہی دعا کی جاسکتی ہے۔