جب چنگیز خان وادئ کرم (کڑمان۔ شلوزان) پہنچے ۔ احمد طوری

چنگیز خان صحرائے گوبھی سے طوفان کی طرح اُٹھے اور دندناتے ہوئے چین، روس، سنٹرل ایشیا، افغانستان، ایران اور ہندوستان تک علاقوں پر لشکرانداز ہوئے، منگولوں نے دریائے آمو عبور کرتے ہی تباہی مچا دی، چنگیز خان سمر قند، بخارا، خیوا اور بلخ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، بلخ (بلخ شہر) نے سر تسلیم خم کیا مگر معاف نہیں ہوئے، شہر جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے، سال 1219 سے 1221 تک ہونے والے خوفناک جنگ میں سلطنت خوارزم کے ساڑھے بارہ لاکھ افراد مارے گئے۔ قتل عام کرکے کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔

علاﺅ الدین خوارزم شاہ تخت و تاج اور عوام کو چھوڑ کر بھاگتے ہوئے کیسپئن سی کے ویران جزیرے پہنچے تھے جہاں بیمار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ اب جلال الدین مینگو باردی بادشاہ (خوارزم ۔ سلطان) بن گئے، اور منگولوں پر حملے شروع کر دیئے۔

تالقان سے چنگیز خان نے ٹیکچوک اور کمانڈروں کے ایک گروپ کو جلال الدین کو ختم کرنے کے لیے روانہ کیا۔ جلال الدین نے افغان, تاجک قبائل اور خوارزمی قبائل پر مشتمل فوج بنائی, سیف الدین احراق اور دوسرے جنگجوؤں کی آمد سے سلطان جلال الدین کو تقویت ملی اور کابل کے شمال میں”پروان“ کے علاقے میں منگولوں سے لڑائی ہوئی اور جلال الدین نے اس چنگیزی فوج کو مکمل طور پر شکست دے دی۔

یہ چنگیزی فوج کی پہلی اور آخری شکست تھی۔

لیکن بد قسمتی سے جلال الدین کے سسر اور تاجک سردار کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگئے اور تاجک فوجی رات کے اندھیرے میں اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ باپ علاؤالدین خوارزم شاہ کو بیوی اور سسرال نے ڈبویا تو بیٹے جلال الدین کو سسر نے مشکلات سے دوچار کرکے غزنی اور وادئ کرم سے ہوتے ہوئے پنجاب ہندوستان بھاگنے پر مجبور کئے۔ 

جلال الدین اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے شہر فتح کرتا رہا، ڈی آئی خان اور بھکر کور روندتے ہوئے دریائے سندھ کے قریب “ہنڈ” پہنچے، جہاں آج کالا باغ کا قصبہ اور اٹک شہر آباد ہیں۔ “ہنڈ” ماضی کا اہم ترین شہر تھا اور بدھ مت دور میں پشاور ویلی کا دارلحکومت تھا۔ یہ سلطنت افغانستان سے لے کر اٹک سوات تک پھیلی تھی۔ جلال الدین یہاں کشتیوں کا پل تیار کرا رہا تھا لیکن پل مکمل ہونے سے قبل ہی چنگیزی لشکر پہنچ گئی‘منگولوں اور جلال الدین کی فوجوں میں لڑائی ہوئی، منگول فوج نے سلطان کو تین اطراف سے گھیر لیا اور پیچھے دریائے سندھ تھی۔ چنگیز خان نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ سلطان کو زندہ پکڑنے کی کوشش کریں۔ ادھر چغتائی اور اوگیتائی بھی خوارزم سے آکر باپ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔ لہاذا سلطان جلال الدین نے پھر بھاگنے کا فیصلہ کیا اور دریائے سندھ میں کود پڑے، جب منگول فوج نے اسے دریا میں تیرتے دیکھا تو وہ اس کے پیچھے کودنے ہی والے تھے۔ لیکن چنگیز خان نے انہیں روک دیا۔ مختصر یہ کہ جلال الدین خود دریائے سندھ عبور کرکے بچ گئے اور باقی فوج تہہ تیغ ہوئی۔ یہ واقعہ رجب 618ھ یعنی اگست یا ستمبر 1221 میں پیش آیا۔

چنگیز خان ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان اور شلوزان  پہنچے

چنگیز خان ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان اورشلوزان (وادئ کرم کے قدیم ترین درہ اور گاؤں)  پہنچے۔

علاء الدین عطا ملک (2)جوینی کے مطابق چنگیز خان نے اُگتائی خان کو غزنہ بھیجا جہاں انہوں نے عوام کو گھروں سے نکال کر کھلے میدان لے گئے اور سوائے کاریگروں کے باقی سب کا قتل عام کیا اور شہر بھی تباہ کردیا اور چنگیز خان خود کرمان (ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان) اور سنقران (شلوزان وادئ کرم کا قدیم ترین درہ اور گاؤں ہے)  پہنچے۔ (3) تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ چنگیز خان اسی راستے جلال الدین کا پیچھا کرتے ہوئے گئے بھی تھے۔ وادئ کرم میں ہی چنگیز خان کو خبر ملی کہ جلال الدین نے واپس آکر اپنے لوگ دفن کئے ہیں۔

کڑمان کو شہاب الدین غوری نے جنگی اور سٹریٹیجک سرگرمیوں کا مرکز بنایا تھا، اور ہندوستان پرحملوں کے لئے شہاب الدین غوری درہ کرم ہی استعمال کرتے تھے،  اور جب شہاب الدین غوری نے ترک نژاد تاج الدین یلدز کو وادئ کرم کا گورنر تعینات کیا تو یلدز کڑمان کو ہی دارالخلافہ بنایا، (4) جس کے اثار آج بھی موجود ہیں جبکہ یلدز دور کے سکے بھی برٹش میوزیم میں پائے گئے ہیں۔ (5)

چغتائی خان کو وادئ کرم میں گورنر تعینات کرکے چنگیز خان وادئ کرم کی سخت ترین سردی کی وجہ سے Ashtaqar  (6 کے علاقے Buya Katur (7) کی طرف چل نکلے، جہاں کے حکمران سالار احمد اور قبیلے منگول لشکر کو مدد فراہم کی اور مہمان نوازی کی۔ چنگیز خان یہاں بڑی تعداد میں فوجی لشکر کے ساتھ ہندوستانی غلام اور جنگی قیدی بھی ساتھ لائے تھے، قیدی ہی منگول لشکر کو کھانا پکار کر فراہم کرتے تھے، حکم دیا گیا کہ ہر گھر میں ہر غلام کو چار سو من چاول چھان مارنا چاہیے۔ قیدیوں نے خوف سے اس کام کو ایک ہفتے کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ پورا کیا۔ مگر چنگیز خان نے پھر کسی کو بخشا نہیں، حکم دیا کہ تمام قیدیوں کو قتل کر دیا جائے۔ اور بدبخت قیدی طلوع صبح تک قتل ہوتے رہے۔

 احمدطوری #شلوزان #کڑمان #کرم#

Link: Ful Articale https://bit.ly/3IGmMbj

References:

1. The History of The World Conqueror Vol I By Ala-ad-Din ‘Ata-Malik JUVAINI Translated from the text of Mirza Muhammad QAZVINI by JOHN ANDREW BOYLE. Page 133 to 137

2: History of Civilizations of Central Asia, Volume IV Part 1& P2 The Age of Achievement A.D. 750 to the End of the Fifteenth Century C. E. Bosworth & M. S. Asimov

3. Journal of the royal asiatic society. Vol 17

4. الکامل فی التاریخ۔ ابن اثیر۔ جلد ۱۰ صفحہ ۳۰۸ سن ۶۰۲۔ مطبوعہ 3روت۔

5. طبقات ناصری -منہاج سراج۔ جلد ۱۔ اردو ترجمہ غلام رسول مہر۔

6. Astaghar کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ اس علاقے کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا مگر جیسے ہم جانتے ہیں کہ شلوزان کو کیسے سنقران کہتے ہیں اور کڑمان کو کرمان لہذا میں نے اشنغر نتیجہ نکالا ہے۔

7. Ashtatr کی طرح Buya Kutar کا بھی نہیں بتایا گیا لہذا وادئ کرم کے حدود اربعہ اور اشنغر کے نزدیکی سمیت سٹریٹیجک حوالے سے باجوڑ کا علاوہ سمجھا جا سکتا ہے۔

جب جلال الدین خوارزمی نے چنگیزخانی لشکر کو شکست دی! احمد طورى

عظیم منگول فاتح تیموجن المعروف چنگیز خان (1162ء) منگولیا میں پیدا ہوئے ۔ جب چنگیز خان نوبرس کا ہوا اس کے باپ کو ایک قبیلہ کے افراد نے قتل کردیا۔

  چنگیز کچھ عرصہ پوشیدہ رہے مگر 1177ء  میں اپنی نوجوانی میں وہ حریف قبیلے کے ایک دھاوے پر گرفتار ہوا۔ اس کی ترقی کا آغاز اس اسیری سے فرار کے بعد ہوا ۔ 1200 کی دہائی کے اوائل میں منگولیا پر کئی قبائل کی حکومت تھی۔ چنگیز خان نے سب سرداروں کو اکٹھا کیا اور مل کر دیگر علاقوں کو فتح کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے بعد متفقہ طور پر دریائے آنان کے قریب ایک مجلس میں اسے چنگیز خان کا خطاب بھی دیا۔ پھر چنگیزخان تاتاری کے لشکر ٹڈی دل کی طرح ہمسایہ ریاستوں پر حملہ آور ہوئی اور 1219 تک  چنگیز خان نے اپنی فتوحات چین اور کوریا سے لے کر فارس میں مسلم دنیا کی سرحدوں تک پھیلا دی تھی۔ یعنی 1200s کے اوائل میں منگولوں کا اچانک پوری دنیا کے لئے خطرہ بن جانا اور اتنی جلدی تمام علاقے فتح کرلینا دنیا کی تاریخ میں فوجی توسیع کی سب سے قابل ذکر مثال ہے۔

انگیریز مؤرخ C.E. Bosworth کے مطابق چنگیز غالباً ترکی زبان سے ماخوذ لفظ ہے جس کی معنی سمندر ہے۔ 1

عرب منگولو کو “مُغل “اور “ مغُول “ کہتے ہیں کیونکہ عربی زبان کے حروف تہجی میں “گ” کی جگہ ”غ ” استعمال ہوتی ہے اور یورپین مورخین اور محقیقین انہیں تاتاری بھی لکھتے اور کہتے ہیں، اور وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ لب و لہجہ کی تبدیلی کی وجہ سے ہندوستان میں مختصر ہوکر مُغل رہ گیا ۔

منگول خانہ بدوش اچھے گھوڑے تھے، انہوں نے زراعت میں بھی مہارت حاصل نہیں کی تھی ، لیکن ایک ایسی عالمی سلطنت تعمیر کی تھی ،جو وسطی یورپ سے لے کر کوریا تک ہندوستان کی حدود تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ خانہ بدوش گھوڑوں کی طرح ہی تیز طرار اور چست تھے لمبے لمبے سفر بنا کسی آرام کے ان کے لئے کوئی رکاوٹ اور مشکل بات نہیں تھی یہی ان کی فطرت تھی جس نے انہیں فتوحات کے قابل بنا دیاتھا۔

چنگیز خان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ جب دشمن کے شہر پہنچتے تو دفاعی افواج کو تین آپشن دیتے تھے۔  پہلا آپشن یہ تھا کہ وہ فوراً تسلیم ہوجائیں اور منگول فوج میں شامل ہوجائیں۔ اگر کوئی منگولوں کے خلاف مزاحمت کرتا تو ان کے لئے دوسرا آپشن یہ تھا کہ پوری فوج کو قتل کردیا جائے گا اور شہر لوٹ لیا جائے گا۔

منگولوں کے خلاف عوامی مزاحمت یعنی شہر کے مسلح دستے اور عام شہری دونوں، اگر مل کر مزاحمت کرتے تو ان کے خلاف تیسرا آپشن یہ تھا کہ چنگیز خانی شہر کے اندر جاکر قتل عام شروع کردیتے اور  پورے شہر کو اُجاڑ کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیتے۔ منگول اس طریقہ واردات کے ذریعے تباہ کن فوج کے طور پر ابھرے، کامیاب ہوئے اور دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تشکیل دے دی

عراق سے چین تک ، منگول توسیع کی راہ میں آنے والوں نے خان کے غضب کا سامنا کرنے کے بجائے عام طور پر منگول کی تابعداری کا انتخاب کیا اور سب سے پہلی مسلم ریاست جس کی سرحدوں تک منگول پہنچ گئے تھے وہ خوارزم شاہی سلطنت تھی۔ خوارزم شاہی سلطنت وسط ایشیا اور ایران کی ایک سنی مسلم بادشاہت تھی جو پہلے سلجوقی سلطنت کے ماتحت تھی اور 11 ویں صدی میں آزاد ہو گئی۔

جب چنگیز خان اور اس کے خوفناک جنگجو 1219 میں محاذ پر پہنچے تو خوارزمی افواج اس کے لئے تیار نہیں تھی۔ تاہم ، خوارزمی افواج نے منگولوں سے لڑائی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ حالانکہ چنگیز خان کو خوارزم شاہ کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کا بہت شوق تھا اور وہ مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعللقات قائم کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی قوم کے کچھ تاجر سلطنت خوارزم کی طرف بھیجے، مگر خوارزم شاہ کے ناعاقبت اندیش گورنر نے ان تاجروں کو قتل کروا دیا۔ 

اس پر چنگیز خان نے اپنے ایک خاص ایلچی کو خوارزم شاہ کے دربار میں بھیجا اور اس سے مطالبہ کیا کہ تاجروں کے قتل کے مرتکب گورنر کو اس کے حوالے کیا جائے، اورا تاوان کا مطالبہ کیا! خوارزم شاہ اور بھی متکبر ہوئے اور چنگیز خان کے ایلچی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اس سلوک پر چنگیز خان چراغ پا ہوگیا اور اس کے انتقام کی آگ بھڑک اٹھی اور اس نے اپنی وحشی فوجوں کا رخ خوازم شاہ کی طرف موڑ دیا۔

چنگیز خان صحرائے گوبھی سے طوفان کی طرح اُٹھے اور دندناتے ہوئے چین، روس، سنٹرل ایشیا، افغانستان، ایران اور ہندوستان تک علاقوں پر لشکرانداز ہوئے‘ چنگیز جب دریائے آمو کے قریب پہنچے تو علاﺅ الدین خوارزمی نے بزدلی کا مظاہرہ کیا اور خوارزم شاہ نے بمع چار لاکھ فوج بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ خوارزم شاہ گھریلو مسائل کے شکار تھے مگر بیٹا جلال الدین انتہائی زیرک اور بہادر انسان تھے‘ جلال الدین کا لقب مینگو باردی یا مینگربتی (ہمیشہ رہنے والا) تھا۔

منگولوں نے دریائے آمو عبور کرتے ہی تباہی مچا دی، چنگیز خان سمر قند، بخارا، خیوا اور بلخ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، بلخ (بلخ شہر) نے سر تسلیم خم کیا مگر معاف نہیں ہوئے، شہر جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے، سال 1219 سے 1221 تک ہونے والے موفناک جنگ میں سلطنت خوارزم کے ساڑھے بارہ لاکھ افراد مارے گئے۔ قتل عام کرکے کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔

علاﺅ الدین خوارزم شاہ عوام کو چھوڑ کر بھاگتے ہوئے کیسپئن سی کے ویران جزیرے پہنچے تھے جہاں بیمار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ اب جلال الدین مینگو باردی بادشاہ (خوارزم ۔ سلطان) بن گئے، اور منگولوں پر حملے شروع کر دیئے۔

تالقان سے چنگیز خان نے ٹیکچوک اور کمانڈروں کے ایک گروپ کو جلال الدین کو ختم کرنے کے لیے روانہ کیا۔ جلال الدین نے افغان, تاجک قبائل اور خوارزمی قبائل پر مشتمل فوج بنائی, سیف الدین احراق اور دوسرے جنگجوؤں کی آمد سے سلطان جلال الدین کو تقویت ملی اور کابل کے شمال میں”پروان“ کے علاقے میں منگولوں سے لڑائی ہوئی اور جلال الدین نے اس چنگیزی فوج کو مکمل طور پر شکست دے دی۔

یہ چنگیزی فوج کی پہلی اور آخری شکست تھی۔

چنگیزی فوج شکست

 لیکن بد قسمتی سے جلال الدین کے سسر اور تاجک سردار کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگئے اور تاجک فوجی رات کے اندھیرے میں اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ باپ علاؤالدین خوارزم شاہ کو بیوی اور سسرال نے ڈبویا تو بیٹے جلال الدین کو سسر نے مشکلات سے دوچار کرکے ہندوستان بھاگنے پر مجبور کیا۔

جب چنگیز خان کو اس شکست کی خبر پہنچی تو نہایت سرعت سے غزنہ پہنچے تو خبر ملی کہ جلال الدین وہاں سے ہندوستان (پنجاب ) کی طرف نکلے ہیں۔ چنگیز نے ماما یالواچ کو غزنہ کا گورنر مقرر کیا، اور خود جلال الدین کے تعاقب میں دوڑ پڑے۔

جلال الدین اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے شہر فتح کرتا رہا، ڈی آئی خان اور بھکر کور روندتے ہوئے دریائے سندھ کے قریب “ہنڈ” پہنچے، جہاں آج کالا باغ کا قصبہ اور اٹک شہر آباد ہیں۔ “ہنڈ” ماضی کا اہم ترین شہر تھا اور بدھ مت دور میں پشاور ویلی کا دارلحکومت تھا۔ یہ سلطنت افغانستان سے لے کر اٹک سوات تک پھیلی تھی۔ جلال الدین یہاں کشتیوں کا پل تیار کرا رہا تھا لیکن پل مکمل ہونے سے قبل ہی چنگیزی لشکر پہنچ گئی‘منگولوں اور جلال الدین کی فوجوں میں لڑائی ہوئی، منگول فوج نے سلطان کو تین اطراف سے گھیر لیا اور پیچھے دریائے سندھ تھی۔ چنگیز خان نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ سلطان کو زندہ پکڑنے کی کوشش کریں۔ ادھر چغتائی اور اوگیتائی بھی خوارزم سے آکر باپ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔ لہاذا سلطان جلال الدین نے پھر بھاگنے کا فیصلہ کیا اور دریائے سندھ میں کود پڑے، جب منگول فوج نے اسے دریا میں تیرتے دیکھا تو وہ اس کے پیچھے کودنے ہی والے تھے۔ لیکن چنگیز خان نے انہیں روک دیا۔ مختصر یہ کہ جلال الدین خود دریائے سندھ عبور کرکے بچ گئے اور باقی فوج تہہ تیغ ہوئی۔ یہ واقعہ رجب 618ھ یعنی اگست یا ستمبر 1221 میں پیش آیا۔

جب چنگیز خان نے وادئ کرم (کڑمان۔ شلوزان) پہنچے

چنگیز خان خود کرمان ( تاریخی گاؤں کڑمان) اور سنقران (شلوزان وادئ کرم کا قدیم ترین درہ اور گاؤں ہے)  پہنچے

علاء الدین عطا ملک (1)جوینی کے مطابق چنگیز خان نے اُگتائی خان کو غزنہ بھیجا جہاں انہوں نے عوام کو گھروں سے نکال کر کھلے میدان لے گئے اور سوائے کاریگروں کے باقی سب کا قتل عام کیا اور شہر بھی تباہ کردیا اور چنگیز خان خود کرمان (ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان) اور سنقران (شلوزان وادئ کرم کا قدیم ترین درہ اور گاؤں ہے)  پہنچے۔ (2) تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ چنگیز خان اسی راستے جلال الدین کا پیچھا کرتے ہوئے گئے بھی تھے۔ کڑمان کو شہاب الدین غوری نے جنگی اور سٹریٹیجک سرگرمیوں کا مرکز بنایا تھا، اور ہندوستان پرحملوں کے لئے شہاب الدین غوری درہ کرم ہی استعمال کرتے تھے،  اور جب شہاب الدین غوری نے ترک نژاد تاج الدین یلدز کو وادئ کرم کا گورنر تعینات کیا تو یلدز کڑمان کو ہی دارالخلافہ بنایا، (3) جس کے اثار آج بھی موجود ہیں جبکہ یلدز دور کے سکے بھی برٹش میوزیم میں پائے گئے ہیں۔

چغتائی خان کو وادئ کرم میں گورنر تعینات کرکے چنگیز خان وادئ کرم کی سخت ترین سردی کی وجہ سے (5 کے علاقے Buya Katur (6) کی طرف چل نکلے، Ashtaqar جہاں کے حکمران سالار احمد اور قبیلے منگول لشکر کو مدد فراہم کی اور مہمان نوازی کی۔ چنگیز خان یہاں بڑی تعداد میں فوجی لشکر کے ساتھ ہندوستانی غلام اور جنگی قیدی بھی ساتھ لائے تھے، قیدی ہی منگول لشکر کو کھانا پکار کر فراہم کرتے تھے، حکم دیا گیا کہ ہر گھر میں ہر غلام کو چار سو من چاول چھان مارنا چاہیے۔ قیدیوں نے خوف سے اس کام کو ایک ہفتے کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ پورا کیا۔ مگر چنگیز خان نے پھر کسی کو بخشا نہیں، حکم دیا کہ تمام قیدیوں کو قتل کر دیا جائے۔ اور بدبخت قیدی طلوع صبح تک قتل ہوتے رہے۔

دریائے سندھ عبور کرنے کے بعد جلال الدین کی جلاوطنی کا طویل دور شروع ہو گیا۔ جلدل الدین نے دہلی پہنچ کر سلطان التمش سے منگولوں کے خلاف  مدد مانگی‘ التمش نے اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا‘ وہ لاہور سے نکلے اوچ شریف میں ناصر الدین قباچہ کو شکست دی اور سندھ کی طرف نکلے،

جلال الدین سندھ سے ایران، آذر بائیجان اور جارجیا تک حملے کرتے رہے، فوج جمع کرتے رہے، تبلیسی شہر کی اینٹ سے اینٹ بجاتے ہوئے‘ ترکی پہنچے اور سلجوقوں کے ساتھ منگولوں کے خلاف اتحاد بنانے کی کوشش کی مگر سلجوقوں ایوبی فوج کے ساتھ جلال الدین کے خلاف اتحاد قائم کرکے جلال الدین پر حملہ آور ہوئے تو جلال الدین دیار بکر کی طرف بھاگتے ہوئے راستے میں دو كرد لیٹروں کے ہاتھوں مارے گئے۔

اسلامی تہذیب تعمیر کرنے میں 600 سال لگے تھے ، خوفناک منگولوں نے مٹانے کا آغاز کیا۔ گو کہ چنگیز خانی لشکر نے حشیشین کے گڑھ نیشپاپور صفہ ہستی سے مٹا دیا مگر مسلم دنیا کے مرکز (بغداد) میں نہ جانے کا انتخاب کیا وہ منگولیا واپس چلا گیا جہاں وہ 1225 میں فوت ہوگیا۔ نئے خان ، چنگیز کے بیٹے اوکتائی خان ، نے یورال پہاڑوں کو عبور کرنے اور یورپ کو فتح کرنے پر توجہ دینے کا انتخاب کیا۔ یوں مسلم سرزمین پر منگول کا حملہ اچانک ختم ہوگیا ، جب 1240 میں اکتائی خان کی موت ہوگئی اس کے بعد تو منگولوں نے یورپ میں بھی اپنی مہم چھوڑ دی۔

مسیحی یورپ منگول حملوں کے تباہی کے باوجود مقدس سرزمین میں صلیبی جنگ اور یروشلم کو دوبارہ فتح کرنے کے خیال کے ساتھ پرجوش تھے اور منگولوں کے ساتھ مل کر تیاری میں تھے۔ آخر کار ہلاکو خان عیسائی اور بدھ مت کے مشیروں کے مشوروں سے متاثر ہوئے ، اور 1255 میں اسلامی سیاسی طاقت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے مقصد کے ساتھ ایک فوج کو متحرک کردیا۔ یہ الگ تاریخ ہے اس پر پھر بار کریں گے، کیونکہ مسلمانوں کے زوال کا سبب فرقہ واریت تھی، اسماعیلی، ایوبی، اہل تشیع، اہل سنت، ترک، ایرانی، عرب، بنی عباس اور بنو معاویہ جیسے تقسیم کی وجہ سے ایک ایک کرکے مسلمان تقسیم ہوتے رہے، ہلاک ہوتے رہےاور بالآخر مسلمان خلیفہ سمیت بغداد بھی گنوا بیٹھے۔

جب منگول فارس میں داخل ہوگئے جہاں انہوں نے حشیشین پر زبردست حملے کیئے، ان کا مضبوط قلعہ الموت فتح کرلیا  تو بغداد میں خلافت عباسیہ یعنی سنی اور شیعه مسلمان اسماعیلی حشیشین کے خاتمے کی خوشی منا رہے تھے ، ، ہلاکو خان نے بغداد پر نگاہ ڈالی ، جو 750 کے بعد سے خلافت کا دارالحکومت تھا۔

اسلامی تاریخ میں خلافت کا خاتمہ کبھی نہیں ہوا تھا، یا دارالحکومت تحویل میں نہیں لیا گیا تھا، یہاں تک کہ صلیبی یلغار کے باوجود ، حالات نے ہمیشہ اس انداز میں کام کیا تھا کہ مسلم دنیا کی خلافت کو بچالیا گیا تھا۔

جب 1257ء میں ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا اور آخری عباسی خلیفہ معتصم کو قتل کر کے مسلمانوں کے اس عروس البلاد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 6 ہفتے تک یہاں کشت و خون اور غارت گری کا بازار گرم رہا۔ لاکھوں انسان منگولوں کی بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ مسلمانوں کی 6 صدی کی جمع شدہ دولت ایک آن میں لٹ گئی اور ان کے تمام علمی ذخیرے آگ کی نذر ہو گئے۔ بیت الحکمت مسلمانوں کے سب سے بڑی یونیورسٹی اور تجر بہ گاہ کو جلا کر خاک کردیا گیا ۔ کئی ماہ کی بربادی کے بعد آخر کار مملکت میں امن قائم کیا گیا اور ہلاکو خان نے اپنے طریقوں کے مطابق حکومت کی بنیاد ڈالی۔

احمدطوری #شلوزان #کڑمان #کرم#

References:

  1. History of Civilizations of Central Asia, Volume IV Part 1& P2 The Age of Achievement A.D. 750 to the End of the Fifteenth Century C. E. Bosworth & M. S. Asimov
  2. The History of The World Conqueror Vol I By Ala-ad-Din ‘Ata-Malik JUVAINI Translated from the text of Mirza Muhammad QAZVINI by JOHN ANDREW BOYLE, Ph.D.
  3. Journal of the royal asiatic society. Vol 17

4. الکامل فی التاریخ۔ ابن اثیر۔ جلد ۱۰ صفحہ ۳۰۸ سن ۶۰۲۔ مطبوعہ بیروت۔

5. طبقات ناصری -منہاج سراج۔ جلد ۱۔ اردو ترجمہ غلام رسول مہر۔

6. Astaghar کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ اس علاقے کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا مگر جیسے ہم جانتے ہیں کہ شلوزان کو کیسے سنقران کہتے ہیں اور کڑمان کو کرمان لہذا میں نے اشنغر نتیجہ نکالا ہے۔

7. Ashtatr کی طرح Buya Kutar کا بھی نہیں بتایا گیا لہذا وادئ کرم کے حدود اربعہ اور اشنغر کے نزدیکی سمیت سٹریٹیجک حوالے سے باجوڑ کا علاوہ سمجھا جا سکتا ہے۔

ڈھائی ہزار سال قدیم نظریات دفن کرنے کا وقت ہے۔ احمد طوری

یونان کے علاقے آبدرہ میں ڈیموکریٹس نامی ایک فلاسفر نے 2400 سال پہلے مادے کا نظریہ یعنی  پیش کی جو اس وقت تو افلاطون نے بھی مسترد کردیا کیونکہ ہزاروں سال سے یہ نظریہ چلا آرہا تھا، رومیوں کا بھی یہی نظریہ تھا  کہ دنیا کی ہر چیز مٹی، آگ، پانی اور ہوا سے بنی ہے۔ حتی انسان بھی مٹی سے بنا ہے!!!

The-History-of-the-Atom-–-Theories-and-Models

ڈیموکریٹس کا نظریہ 2200 سال تک حاوی رہا حالانکہ عباسی دور میں یونانیوں کے کتابوں میں ڈیموکریٹس کے نظریہ مادہ کا بھی ترجمہ ہوچکا تھا، مگر کسی نے توجہ نہیں دی!! یہی وہ نظریہ ہے جو مولوی صاحبان ایکسیویں صدی میں بھی پرچار کررہے ہیں، آج خطبہ حج میں خانہ کعبہ کے امام نے اسی نظریئے کے متعلق ذکر کیا ہے۔  اور تہران کہ یونیورسٹی کے عظیم الشان نماز جمعہ کے خطبے میں آیت اللہ كاظم صديقى کہتے ہیں کہ زلزلے اس لئے آتے ہیں کہ خواتین چست پتلون پہنتے ہیں۔۔۔ حالانکہ زلزلہ ایک قدرتی عمل ہے جو کے سرکنے کے عمل کے دوران واقع ہوتا ہے، اور جو زلزلے ہماری طرف ہوتے ہیں، اس طرح زلزلے جاپان میں تقریباً روزانہ ہوتے ہیں، اگر تنگ پتلون کی وجہ سے زلزلے ہوتے تو یورپ، امریکہ سمیت دوبئی کو تباہ ہونا چاہئے تھے

Earthquake occurs due to women wearing jeans’, says Iran Cleric

پھر جوہن ڈالٹن John Dolton نے 1800 کے ابتداء میں تجربات کے ذریعے ڈیموکریٹس کے نظریہ مادہ کی توسیع کی، اور قرار دیا کہ کہ مادہ ایٹموں سے بنا ہوتا ہے۔ یعنی اگر کسی مادی چیز کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے جائیں تو آخر کار ایک حد آ جائے گی اور مزید تقسیم ممکن نہیں ہو گی۔، ہوا، پانی، مٹی اور آگ سے نہیں!!!

آج سکول کے بچے بھی جانتے ہیں کہ ایٹم کیا ہے! ایٹم مادے کا چھوٹا ترین ذرہ ہوتا ہے جو اپنے کیمائی خواص برقرار رکھتا ہے۔

آج الیکٹرک مائیکروسکوپ سے یہ حقیقت واضح ثابت ہوجاتی ہے۔ 1905 میں آئن اسٹائن نے بتایا کہ مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ 1942 میں انریکو فرمی Enrico Fermi نے دنیا کا پہلا ایٹمی ری ایکٹر بنایا جسے شکاگو پائیل کا نام دیا گیا۔ جبکہ مین ہیٹن پروجیکٹ کے تحت 1945 میں ہونے والا پہلا ایٹم بم کا تجربہ ہوا جسے ٹرینیٹی ٹیسٹ کا نام دیا گیا۔ اور 1945 میں ہی 6 اور 9 اگست کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے۔۔

بس یہی وہ دور تھا جب سيموميٹر Seismometer کے ذریعے ایٹمی تجربات مانیٹر ہونے لگے اور امریکہ اور روس میں ایٹمی ہتھیار بنانے کی دوڑ شروع ہوئی۔

Seismometer

تو سيموميٹر Seismometer کی ایجاد سے زمین کی ہلنے کا تجربہ ہوا یوں زلزلہ کیسے اور کہاں آتا ہے اس کا بھی یہیں سے پتہ چلا، اور یہ بھی کہ زمین کی تہیں Tectonic Plates (پلیٹس) کسیے ہلتے ہیں، ایسے میں 30 سال پرانے الفریڈ ویگنر کے مشاہدات اور تجربات کی بھی توسیع ہوئی اور Continental Drift نظریہ سچا ثابت ہوا۔

ساڑھے چار ارب سال پہلے سورج کے پھٹنے سے دنیا وجود میں آئی کیا زمین کی ھیئت میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟

Continental Drift Theory

سائنسدان اور جغرافیادان 1912 تک سب یہی سمجھتے تھے کہ دنیا جب سے وجود میں آئی ہے تو ویسی کی ویسی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی رہی!!

جرمن جیو فزسسٹ الفریڈ ویگنر Alfred Wegener نے نقشوں کے مشاہدے کے بعد یہ کانٹیننٹل ڈرفٹ کا نظریہ نظریہ پیش کیا جو اس وقت کچھ خامیوں کے ساتھ درست ثابت ہورہا ہے۔

Continental Drift from Pangea to Today

الفریڈ کا ماننا تھا کہ دنیا کی خشکی پہلے ایک ہی حصہ تھا ایک براعظم تھا۔ الفریڈ نے افریقہ اور امریکہ براعظمو کے نقشوں کا تقابل کیا، آسٹریلیا اور تسمانیہ کا جغرافیہ دیکھا، یورپ اور امریکہ کے پہاڑی رینج دیکھے، سری لنکا دیکھا اور اس جیسے درجن بھر نقشوں کے تقابل کے بعد سمجھ گئے کہ یہ سب علاقے کسی وقت متصل تھے، جسے وہ پنجیا Pangaea کہا کرتے تھے، آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے ایک دوسرے سےدور ہوتے گئے۔ اب یہ ایک انقلابی نظریہ تھا!! جو آج بھی حقیقت ہے، مگر الفریڈ کو یہ سمجھ نہیں تھی کہ ایسا کیوں ہورہا ہے!! ظاہر ہے، اس وقت گوگل آرتھ اور Seismometer ایجاد نہیں ہوا تھا!!!

الفریڈ تو دریاؤں سمندروں، صحراؤں، پہاڑوں اور براعظمو میں ذلیل ہ خوار ہو کر اپنے مشاہدات اور تجربات اکھٹے کررہے تھے مگر آج آپ گوگل آرتھ پر جائیں تو آپ بھی یہ مشاہدہ کر پائیں گے کہ دراصل یہ علاقے کسی وقت آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔۔

کیا آپ کو پتہ ہے کہ ہمالیہ کا عظیم الشان پہاڑی سلسلہ کیسے وجود میں آیا ہے؟ انڈین پلیٹ یوروایشن پلیٹ سے کب ٹکرایا جس سے کوہ ہمالیہ وجود میں آئے؟

Formation of Himalayas

کیا آپ کو پتہ ہے کہ ایک اور ہمالیہ وجود میں آنیوالا ہے؟

افریقہ اور یورپ کے درمیان فاصلہ سمٹ رہا ہے!! بحریہ روم ختم ہونے جارہا ہے، ہر سال ایک انچ کی رفتار سے یورپ اقر افریقہ کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے، دریائے روم ختم ہوتا جارہا ہے اور آج سے کئی کروڑ سال بعد افریقہ اور یورپ ایک براعظم ہونگے، اور وہاں Tectonic Plates کے ٹکراؤ سے کوہ ہمالیہ کی طرح عظیم الشان پہاڑی سلسلہ بن جائے گا۔۔۔

آج جیومیٹکس Geomatics کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں کہ زمین کیسے سرکتی ہے، جیوگرافک انفارمیشن سسٹم GPS یعنی Global Positioning System کے ذریعے بغیر ڈررائیور کے یعنی خودکار گاڑیاں سڑکوں پر گھوم رہی ہیں۔ گوگل میپس لوکیشن کے ذریعے پیزا ڈیلویری گھر گھر پہنچنا ممکن ہوا ہے، اور دنیا جس رفتار سے بڑھ رہی ہے، ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ ہمارا اس میں کیا کنٹری بیوشن ہے؟

How Does GPS Work?

ہمارے یونیورسٹیز میں مولانا طارق جمیل صاحب اور حماد صافی وغیرہ کا تو فقید المثال استقبال ہوتا ہے، کیا ہمارے یونیورسٹیاں ایجادات بھی کررہی ہیں؟ دنیا کے صف اول ایک ہزار یونیورسٹیوں کے ساتھ ہمارا کیا مقابلہ ہے؟؟

Moulana Tariq Jameel in GC University Lahore
Hammad Safi in Garrison Cadet College Kohat

وقت نہیں آیا ہے کہ ہم ڈھائی ہزار سال قدیم نظریات کو ترک کرکے نئے زمانے کے ساتھ شانہ بشانہ چلیں؟

#احمدطوری