جب چنگیز خان وادئ کرم (کڑمان۔ شلوزان) پہنچے ۔ احمد طوری

چنگیز خان صحرائے گوبھی سے طوفان کی طرح اُٹھے اور دندناتے ہوئے چین، روس، سنٹرل ایشیا، افغانستان، ایران اور ہندوستان تک علاقوں پر لشکرانداز ہوئے، منگولوں نے دریائے آمو عبور کرتے ہی تباہی مچا دی، چنگیز خان سمر قند، بخارا، خیوا اور بلخ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، بلخ (بلخ شہر) نے سر تسلیم خم کیا مگر معاف نہیں ہوئے، شہر جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے، سال 1219 سے 1221 تک ہونے والے خوفناک جنگ میں سلطنت خوارزم کے ساڑھے بارہ لاکھ افراد مارے گئے۔ قتل عام کرکے کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔

علاﺅ الدین خوارزم شاہ تخت و تاج اور عوام کو چھوڑ کر بھاگتے ہوئے کیسپئن سی کے ویران جزیرے پہنچے تھے جہاں بیمار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ اب جلال الدین مینگو باردی بادشاہ (خوارزم ۔ سلطان) بن گئے، اور منگولوں پر حملے شروع کر دیئے۔

تالقان سے چنگیز خان نے ٹیکچوک اور کمانڈروں کے ایک گروپ کو جلال الدین کو ختم کرنے کے لیے روانہ کیا۔ جلال الدین نے افغان, تاجک قبائل اور خوارزمی قبائل پر مشتمل فوج بنائی, سیف الدین احراق اور دوسرے جنگجوؤں کی آمد سے سلطان جلال الدین کو تقویت ملی اور کابل کے شمال میں”پروان“ کے علاقے میں منگولوں سے لڑائی ہوئی اور جلال الدین نے اس چنگیزی فوج کو مکمل طور پر شکست دے دی۔

یہ چنگیزی فوج کی پہلی اور آخری شکست تھی۔

لیکن بد قسمتی سے جلال الدین کے سسر اور تاجک سردار کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگئے اور تاجک فوجی رات کے اندھیرے میں اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ باپ علاؤالدین خوارزم شاہ کو بیوی اور سسرال نے ڈبویا تو بیٹے جلال الدین کو سسر نے مشکلات سے دوچار کرکے غزنی اور وادئ کرم سے ہوتے ہوئے پنجاب ہندوستان بھاگنے پر مجبور کئے۔ 

جلال الدین اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے شہر فتح کرتا رہا، ڈی آئی خان اور بھکر کور روندتے ہوئے دریائے سندھ کے قریب “ہنڈ” پہنچے، جہاں آج کالا باغ کا قصبہ اور اٹک شہر آباد ہیں۔ “ہنڈ” ماضی کا اہم ترین شہر تھا اور بدھ مت دور میں پشاور ویلی کا دارلحکومت تھا۔ یہ سلطنت افغانستان سے لے کر اٹک سوات تک پھیلی تھی۔ جلال الدین یہاں کشتیوں کا پل تیار کرا رہا تھا لیکن پل مکمل ہونے سے قبل ہی چنگیزی لشکر پہنچ گئی‘منگولوں اور جلال الدین کی فوجوں میں لڑائی ہوئی، منگول فوج نے سلطان کو تین اطراف سے گھیر لیا اور پیچھے دریائے سندھ تھی۔ چنگیز خان نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ سلطان کو زندہ پکڑنے کی کوشش کریں۔ ادھر چغتائی اور اوگیتائی بھی خوارزم سے آکر باپ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔ لہاذا سلطان جلال الدین نے پھر بھاگنے کا فیصلہ کیا اور دریائے سندھ میں کود پڑے، جب منگول فوج نے اسے دریا میں تیرتے دیکھا تو وہ اس کے پیچھے کودنے ہی والے تھے۔ لیکن چنگیز خان نے انہیں روک دیا۔ مختصر یہ کہ جلال الدین خود دریائے سندھ عبور کرکے بچ گئے اور باقی فوج تہہ تیغ ہوئی۔ یہ واقعہ رجب 618ھ یعنی اگست یا ستمبر 1221 میں پیش آیا۔

چنگیز خان ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان اور شلوزان  پہنچے

چنگیز خان ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان اورشلوزان (وادئ کرم کے قدیم ترین درہ اور گاؤں)  پہنچے۔

علاء الدین عطا ملک (2)جوینی کے مطابق چنگیز خان نے اُگتائی خان کو غزنہ بھیجا جہاں انہوں نے عوام کو گھروں سے نکال کر کھلے میدان لے گئے اور سوائے کاریگروں کے باقی سب کا قتل عام کیا اور شہر بھی تباہ کردیا اور چنگیز خان خود کرمان (ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان) اور سنقران (شلوزان وادئ کرم کا قدیم ترین درہ اور گاؤں ہے)  پہنچے۔ (3) تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ چنگیز خان اسی راستے جلال الدین کا پیچھا کرتے ہوئے گئے بھی تھے۔ وادئ کرم میں ہی چنگیز خان کو خبر ملی کہ جلال الدین نے واپس آکر اپنے لوگ دفن کئے ہیں۔

کڑمان کو شہاب الدین غوری نے جنگی اور سٹریٹیجک سرگرمیوں کا مرکز بنایا تھا، اور ہندوستان پرحملوں کے لئے شہاب الدین غوری درہ کرم ہی استعمال کرتے تھے،  اور جب شہاب الدین غوری نے ترک نژاد تاج الدین یلدز کو وادئ کرم کا گورنر تعینات کیا تو یلدز کڑمان کو ہی دارالخلافہ بنایا، (4) جس کے اثار آج بھی موجود ہیں جبکہ یلدز دور کے سکے بھی برٹش میوزیم میں پائے گئے ہیں۔ (5)

چغتائی خان کو وادئ کرم میں گورنر تعینات کرکے چنگیز خان وادئ کرم کی سخت ترین سردی کی وجہ سے Ashtaqar  (6 کے علاقے Buya Katur (7) کی طرف چل نکلے، جہاں کے حکمران سالار احمد اور قبیلے منگول لشکر کو مدد فراہم کی اور مہمان نوازی کی۔ چنگیز خان یہاں بڑی تعداد میں فوجی لشکر کے ساتھ ہندوستانی غلام اور جنگی قیدی بھی ساتھ لائے تھے، قیدی ہی منگول لشکر کو کھانا پکار کر فراہم کرتے تھے، حکم دیا گیا کہ ہر گھر میں ہر غلام کو چار سو من چاول چھان مارنا چاہیے۔ قیدیوں نے خوف سے اس کام کو ایک ہفتے کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ پورا کیا۔ مگر چنگیز خان نے پھر کسی کو بخشا نہیں، حکم دیا کہ تمام قیدیوں کو قتل کر دیا جائے۔ اور بدبخت قیدی طلوع صبح تک قتل ہوتے رہے۔

 احمدطوری #شلوزان #کڑمان #کرم#

Link: Ful Articale https://bit.ly/3IGmMbj

References:

1. The History of The World Conqueror Vol I By Ala-ad-Din ‘Ata-Malik JUVAINI Translated from the text of Mirza Muhammad QAZVINI by JOHN ANDREW BOYLE. Page 133 to 137

2: History of Civilizations of Central Asia, Volume IV Part 1& P2 The Age of Achievement A.D. 750 to the End of the Fifteenth Century C. E. Bosworth & M. S. Asimov

3. Journal of the royal asiatic society. Vol 17

4. الکامل فی التاریخ۔ ابن اثیر۔ جلد ۱۰ صفحہ ۳۰۸ سن ۶۰۲۔ مطبوعہ 3روت۔

5. طبقات ناصری -منہاج سراج۔ جلد ۱۔ اردو ترجمہ غلام رسول مہر۔

6. Astaghar کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ اس علاقے کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا مگر جیسے ہم جانتے ہیں کہ شلوزان کو کیسے سنقران کہتے ہیں اور کڑمان کو کرمان لہذا میں نے اشنغر نتیجہ نکالا ہے۔

7. Ashtatr کی طرح Buya Kutar کا بھی نہیں بتایا گیا لہذا وادئ کرم کے حدود اربعہ اور اشنغر کے نزدیکی سمیت سٹریٹیجک حوالے سے باجوڑ کا علاوہ سمجھا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s