جب چنگیز خان وادئ کرم (کڑمان۔ شلوزان) پہنچے ۔ احمد طوری

چنگیز خان صحرائے گوبھی سے طوفان کی طرح اُٹھے اور دندناتے ہوئے چین، روس، سنٹرل ایشیا، افغانستان، ایران اور ہندوستان تک علاقوں پر لشکرانداز ہوئے، منگولوں نے دریائے آمو عبور کرتے ہی تباہی مچا دی، چنگیز خان سمر قند، بخارا، خیوا اور بلخ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، بلخ (بلخ شہر) نے سر تسلیم خم کیا مگر معاف نہیں ہوئے، شہر جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے، سال 1219 سے 1221 تک ہونے والے خوفناک جنگ میں سلطنت خوارزم کے ساڑھے بارہ لاکھ افراد مارے گئے۔ قتل عام کرکے کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔

علاﺅ الدین خوارزم شاہ تخت و تاج اور عوام کو چھوڑ کر بھاگتے ہوئے کیسپئن سی کے ویران جزیرے پہنچے تھے جہاں بیمار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ اب جلال الدین مینگو باردی بادشاہ (خوارزم ۔ سلطان) بن گئے، اور منگولوں پر حملے شروع کر دیئے۔

تالقان سے چنگیز خان نے ٹیکچوک اور کمانڈروں کے ایک گروپ کو جلال الدین کو ختم کرنے کے لیے روانہ کیا۔ جلال الدین نے افغان, تاجک قبائل اور خوارزمی قبائل پر مشتمل فوج بنائی, سیف الدین احراق اور دوسرے جنگجوؤں کی آمد سے سلطان جلال الدین کو تقویت ملی اور کابل کے شمال میں”پروان“ کے علاقے میں منگولوں سے لڑائی ہوئی اور جلال الدین نے اس چنگیزی فوج کو مکمل طور پر شکست دے دی۔

یہ چنگیزی فوج کی پہلی اور آخری شکست تھی۔

لیکن بد قسمتی سے جلال الدین کے سسر اور تاجک سردار کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگئے اور تاجک فوجی رات کے اندھیرے میں اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ باپ علاؤالدین خوارزم شاہ کو بیوی اور سسرال نے ڈبویا تو بیٹے جلال الدین کو سسر نے مشکلات سے دوچار کرکے غزنی اور وادئ کرم سے ہوتے ہوئے پنجاب ہندوستان بھاگنے پر مجبور کئے۔ 

جلال الدین اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے شہر فتح کرتا رہا، ڈی آئی خان اور بھکر کور روندتے ہوئے دریائے سندھ کے قریب “ہنڈ” پہنچے، جہاں آج کالا باغ کا قصبہ اور اٹک شہر آباد ہیں۔ “ہنڈ” ماضی کا اہم ترین شہر تھا اور بدھ مت دور میں پشاور ویلی کا دارلحکومت تھا۔ یہ سلطنت افغانستان سے لے کر اٹک سوات تک پھیلی تھی۔ جلال الدین یہاں کشتیوں کا پل تیار کرا رہا تھا لیکن پل مکمل ہونے سے قبل ہی چنگیزی لشکر پہنچ گئی‘منگولوں اور جلال الدین کی فوجوں میں لڑائی ہوئی، منگول فوج نے سلطان کو تین اطراف سے گھیر لیا اور پیچھے دریائے سندھ تھی۔ چنگیز خان نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ سلطان کو زندہ پکڑنے کی کوشش کریں۔ ادھر چغتائی اور اوگیتائی بھی خوارزم سے آکر باپ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔ لہاذا سلطان جلال الدین نے پھر بھاگنے کا فیصلہ کیا اور دریائے سندھ میں کود پڑے، جب منگول فوج نے اسے دریا میں تیرتے دیکھا تو وہ اس کے پیچھے کودنے ہی والے تھے۔ لیکن چنگیز خان نے انہیں روک دیا۔ مختصر یہ کہ جلال الدین خود دریائے سندھ عبور کرکے بچ گئے اور باقی فوج تہہ تیغ ہوئی۔ یہ واقعہ رجب 618ھ یعنی اگست یا ستمبر 1221 میں پیش آیا۔

چنگیز خان ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان اور شلوزان  پہنچے

چنگیز خان ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان اورشلوزان (وادئ کرم کے قدیم ترین درہ اور گاؤں)  پہنچے۔

علاء الدین عطا ملک (2)جوینی کے مطابق چنگیز خان نے اُگتائی خان کو غزنہ بھیجا جہاں انہوں نے عوام کو گھروں سے نکال کر کھلے میدان لے گئے اور سوائے کاریگروں کے باقی سب کا قتل عام کیا اور شہر بھی تباہ کردیا اور چنگیز خان خود کرمان (ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان) اور سنقران (شلوزان وادئ کرم کا قدیم ترین درہ اور گاؤں ہے)  پہنچے۔ (3) تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ چنگیز خان اسی راستے جلال الدین کا پیچھا کرتے ہوئے گئے بھی تھے۔ وادئ کرم میں ہی چنگیز خان کو خبر ملی کہ جلال الدین نے واپس آکر اپنے لوگ دفن کئے ہیں۔

کڑمان کو شہاب الدین غوری نے جنگی اور سٹریٹیجک سرگرمیوں کا مرکز بنایا تھا، اور ہندوستان پرحملوں کے لئے شہاب الدین غوری درہ کرم ہی استعمال کرتے تھے،  اور جب شہاب الدین غوری نے ترک نژاد تاج الدین یلدز کو وادئ کرم کا گورنر تعینات کیا تو یلدز کڑمان کو ہی دارالخلافہ بنایا، (4) جس کے اثار آج بھی موجود ہیں جبکہ یلدز دور کے سکے بھی برٹش میوزیم میں پائے گئے ہیں۔ (5)

چغتائی خان کو وادئ کرم میں گورنر تعینات کرکے چنگیز خان وادئ کرم کی سخت ترین سردی کی وجہ سے Ashtaqar  (6 کے علاقے Buya Katur (7) کی طرف چل نکلے، جہاں کے حکمران سالار احمد اور قبیلے منگول لشکر کو مدد فراہم کی اور مہمان نوازی کی۔ چنگیز خان یہاں بڑی تعداد میں فوجی لشکر کے ساتھ ہندوستانی غلام اور جنگی قیدی بھی ساتھ لائے تھے، قیدی ہی منگول لشکر کو کھانا پکار کر فراہم کرتے تھے، حکم دیا گیا کہ ہر گھر میں ہر غلام کو چار سو من چاول چھان مارنا چاہیے۔ قیدیوں نے خوف سے اس کام کو ایک ہفتے کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ پورا کیا۔ مگر چنگیز خان نے پھر کسی کو بخشا نہیں، حکم دیا کہ تمام قیدیوں کو قتل کر دیا جائے۔ اور بدبخت قیدی طلوع صبح تک قتل ہوتے رہے۔

 احمدطوری #شلوزان #کڑمان #کرم#

Link: Ful Articale https://bit.ly/3IGmMbj

References:

1. The History of The World Conqueror Vol I By Ala-ad-Din ‘Ata-Malik JUVAINI Translated from the text of Mirza Muhammad QAZVINI by JOHN ANDREW BOYLE. Page 133 to 137

2: History of Civilizations of Central Asia, Volume IV Part 1& P2 The Age of Achievement A.D. 750 to the End of the Fifteenth Century C. E. Bosworth & M. S. Asimov

3. Journal of the royal asiatic society. Vol 17

4. الکامل فی التاریخ۔ ابن اثیر۔ جلد ۱۰ صفحہ ۳۰۸ سن ۶۰۲۔ مطبوعہ 3روت۔

5. طبقات ناصری -منہاج سراج۔ جلد ۱۔ اردو ترجمہ غلام رسول مہر۔

6. Astaghar کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ اس علاقے کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا مگر جیسے ہم جانتے ہیں کہ شلوزان کو کیسے سنقران کہتے ہیں اور کڑمان کو کرمان لہذا میں نے اشنغر نتیجہ نکالا ہے۔

7. Ashtatr کی طرح Buya Kutar کا بھی نہیں بتایا گیا لہذا وادئ کرم کے حدود اربعہ اور اشنغر کے نزدیکی سمیت سٹریٹیجک حوالے سے باجوڑ کا علاوہ سمجھا جا سکتا ہے۔

جب جلال الدین خوارزمی نے چنگیزخانی لشکر کو شکست دی! احمد طورى

عظیم منگول فاتح تیموجن المعروف چنگیز خان (1162ء) منگولیا میں پیدا ہوئے ۔ جب چنگیز خان نوبرس کا ہوا اس کے باپ کو ایک قبیلہ کے افراد نے قتل کردیا۔

  چنگیز کچھ عرصہ پوشیدہ رہے مگر 1177ء  میں اپنی نوجوانی میں وہ حریف قبیلے کے ایک دھاوے پر گرفتار ہوا۔ اس کی ترقی کا آغاز اس اسیری سے فرار کے بعد ہوا ۔ 1200 کی دہائی کے اوائل میں منگولیا پر کئی قبائل کی حکومت تھی۔ چنگیز خان نے سب سرداروں کو اکٹھا کیا اور مل کر دیگر علاقوں کو فتح کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے بعد متفقہ طور پر دریائے آنان کے قریب ایک مجلس میں اسے چنگیز خان کا خطاب بھی دیا۔ پھر چنگیزخان تاتاری کے لشکر ٹڈی دل کی طرح ہمسایہ ریاستوں پر حملہ آور ہوئی اور 1219 تک  چنگیز خان نے اپنی فتوحات چین اور کوریا سے لے کر فارس میں مسلم دنیا کی سرحدوں تک پھیلا دی تھی۔ یعنی 1200s کے اوائل میں منگولوں کا اچانک پوری دنیا کے لئے خطرہ بن جانا اور اتنی جلدی تمام علاقے فتح کرلینا دنیا کی تاریخ میں فوجی توسیع کی سب سے قابل ذکر مثال ہے۔

انگیریز مؤرخ C.E. Bosworth کے مطابق چنگیز غالباً ترکی زبان سے ماخوذ لفظ ہے جس کی معنی سمندر ہے۔ 1

عرب منگولو کو “مُغل “اور “ مغُول “ کہتے ہیں کیونکہ عربی زبان کے حروف تہجی میں “گ” کی جگہ ”غ ” استعمال ہوتی ہے اور یورپین مورخین اور محقیقین انہیں تاتاری بھی لکھتے اور کہتے ہیں، اور وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ لب و لہجہ کی تبدیلی کی وجہ سے ہندوستان میں مختصر ہوکر مُغل رہ گیا ۔

منگول خانہ بدوش اچھے گھوڑے تھے، انہوں نے زراعت میں بھی مہارت حاصل نہیں کی تھی ، لیکن ایک ایسی عالمی سلطنت تعمیر کی تھی ،جو وسطی یورپ سے لے کر کوریا تک ہندوستان کی حدود تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ خانہ بدوش گھوڑوں کی طرح ہی تیز طرار اور چست تھے لمبے لمبے سفر بنا کسی آرام کے ان کے لئے کوئی رکاوٹ اور مشکل بات نہیں تھی یہی ان کی فطرت تھی جس نے انہیں فتوحات کے قابل بنا دیاتھا۔

چنگیز خان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ جب دشمن کے شہر پہنچتے تو دفاعی افواج کو تین آپشن دیتے تھے۔  پہلا آپشن یہ تھا کہ وہ فوراً تسلیم ہوجائیں اور منگول فوج میں شامل ہوجائیں۔ اگر کوئی منگولوں کے خلاف مزاحمت کرتا تو ان کے لئے دوسرا آپشن یہ تھا کہ پوری فوج کو قتل کردیا جائے گا اور شہر لوٹ لیا جائے گا۔

منگولوں کے خلاف عوامی مزاحمت یعنی شہر کے مسلح دستے اور عام شہری دونوں، اگر مل کر مزاحمت کرتے تو ان کے خلاف تیسرا آپشن یہ تھا کہ چنگیز خانی شہر کے اندر جاکر قتل عام شروع کردیتے اور  پورے شہر کو اُجاڑ کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیتے۔ منگول اس طریقہ واردات کے ذریعے تباہ کن فوج کے طور پر ابھرے، کامیاب ہوئے اور دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تشکیل دے دی

عراق سے چین تک ، منگول توسیع کی راہ میں آنے والوں نے خان کے غضب کا سامنا کرنے کے بجائے عام طور پر منگول کی تابعداری کا انتخاب کیا اور سب سے پہلی مسلم ریاست جس کی سرحدوں تک منگول پہنچ گئے تھے وہ خوارزم شاہی سلطنت تھی۔ خوارزم شاہی سلطنت وسط ایشیا اور ایران کی ایک سنی مسلم بادشاہت تھی جو پہلے سلجوقی سلطنت کے ماتحت تھی اور 11 ویں صدی میں آزاد ہو گئی۔

جب چنگیز خان اور اس کے خوفناک جنگجو 1219 میں محاذ پر پہنچے تو خوارزمی افواج اس کے لئے تیار نہیں تھی۔ تاہم ، خوارزمی افواج نے منگولوں سے لڑائی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ حالانکہ چنگیز خان کو خوارزم شاہ کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کا بہت شوق تھا اور وہ مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعللقات قائم کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی قوم کے کچھ تاجر سلطنت خوارزم کی طرف بھیجے، مگر خوارزم شاہ کے ناعاقبت اندیش گورنر نے ان تاجروں کو قتل کروا دیا۔ 

اس پر چنگیز خان نے اپنے ایک خاص ایلچی کو خوارزم شاہ کے دربار میں بھیجا اور اس سے مطالبہ کیا کہ تاجروں کے قتل کے مرتکب گورنر کو اس کے حوالے کیا جائے، اورا تاوان کا مطالبہ کیا! خوارزم شاہ اور بھی متکبر ہوئے اور چنگیز خان کے ایلچی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اس سلوک پر چنگیز خان چراغ پا ہوگیا اور اس کے انتقام کی آگ بھڑک اٹھی اور اس نے اپنی وحشی فوجوں کا رخ خوازم شاہ کی طرف موڑ دیا۔

چنگیز خان صحرائے گوبھی سے طوفان کی طرح اُٹھے اور دندناتے ہوئے چین، روس، سنٹرل ایشیا، افغانستان، ایران اور ہندوستان تک علاقوں پر لشکرانداز ہوئے‘ چنگیز جب دریائے آمو کے قریب پہنچے تو علاﺅ الدین خوارزمی نے بزدلی کا مظاہرہ کیا اور خوارزم شاہ نے بمع چار لاکھ فوج بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ خوارزم شاہ گھریلو مسائل کے شکار تھے مگر بیٹا جلال الدین انتہائی زیرک اور بہادر انسان تھے‘ جلال الدین کا لقب مینگو باردی یا مینگربتی (ہمیشہ رہنے والا) تھا۔

منگولوں نے دریائے آمو عبور کرتے ہی تباہی مچا دی، چنگیز خان سمر قند، بخارا، خیوا اور بلخ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، بلخ (بلخ شہر) نے سر تسلیم خم کیا مگر معاف نہیں ہوئے، شہر جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے، سال 1219 سے 1221 تک ہونے والے موفناک جنگ میں سلطنت خوارزم کے ساڑھے بارہ لاکھ افراد مارے گئے۔ قتل عام کرکے کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔

علاﺅ الدین خوارزم شاہ عوام کو چھوڑ کر بھاگتے ہوئے کیسپئن سی کے ویران جزیرے پہنچے تھے جہاں بیمار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ اب جلال الدین مینگو باردی بادشاہ (خوارزم ۔ سلطان) بن گئے، اور منگولوں پر حملے شروع کر دیئے۔

تالقان سے چنگیز خان نے ٹیکچوک اور کمانڈروں کے ایک گروپ کو جلال الدین کو ختم کرنے کے لیے روانہ کیا۔ جلال الدین نے افغان, تاجک قبائل اور خوارزمی قبائل پر مشتمل فوج بنائی, سیف الدین احراق اور دوسرے جنگجوؤں کی آمد سے سلطان جلال الدین کو تقویت ملی اور کابل کے شمال میں”پروان“ کے علاقے میں منگولوں سے لڑائی ہوئی اور جلال الدین نے اس چنگیزی فوج کو مکمل طور پر شکست دے دی۔

یہ چنگیزی فوج کی پہلی اور آخری شکست تھی۔

چنگیزی فوج شکست

 لیکن بد قسمتی سے جلال الدین کے سسر اور تاجک سردار کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگئے اور تاجک فوجی رات کے اندھیرے میں اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ باپ علاؤالدین خوارزم شاہ کو بیوی اور سسرال نے ڈبویا تو بیٹے جلال الدین کو سسر نے مشکلات سے دوچار کرکے ہندوستان بھاگنے پر مجبور کیا۔

جب چنگیز خان کو اس شکست کی خبر پہنچی تو نہایت سرعت سے غزنہ پہنچے تو خبر ملی کہ جلال الدین وہاں سے ہندوستان (پنجاب ) کی طرف نکلے ہیں۔ چنگیز نے ماما یالواچ کو غزنہ کا گورنر مقرر کیا، اور خود جلال الدین کے تعاقب میں دوڑ پڑے۔

جلال الدین اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے شہر فتح کرتا رہا، ڈی آئی خان اور بھکر کور روندتے ہوئے دریائے سندھ کے قریب “ہنڈ” پہنچے، جہاں آج کالا باغ کا قصبہ اور اٹک شہر آباد ہیں۔ “ہنڈ” ماضی کا اہم ترین شہر تھا اور بدھ مت دور میں پشاور ویلی کا دارلحکومت تھا۔ یہ سلطنت افغانستان سے لے کر اٹک سوات تک پھیلی تھی۔ جلال الدین یہاں کشتیوں کا پل تیار کرا رہا تھا لیکن پل مکمل ہونے سے قبل ہی چنگیزی لشکر پہنچ گئی‘منگولوں اور جلال الدین کی فوجوں میں لڑائی ہوئی، منگول فوج نے سلطان کو تین اطراف سے گھیر لیا اور پیچھے دریائے سندھ تھی۔ چنگیز خان نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ سلطان کو زندہ پکڑنے کی کوشش کریں۔ ادھر چغتائی اور اوگیتائی بھی خوارزم سے آکر باپ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔ لہاذا سلطان جلال الدین نے پھر بھاگنے کا فیصلہ کیا اور دریائے سندھ میں کود پڑے، جب منگول فوج نے اسے دریا میں تیرتے دیکھا تو وہ اس کے پیچھے کودنے ہی والے تھے۔ لیکن چنگیز خان نے انہیں روک دیا۔ مختصر یہ کہ جلال الدین خود دریائے سندھ عبور کرکے بچ گئے اور باقی فوج تہہ تیغ ہوئی۔ یہ واقعہ رجب 618ھ یعنی اگست یا ستمبر 1221 میں پیش آیا۔

جب چنگیز خان نے وادئ کرم (کڑمان۔ شلوزان) پہنچے

چنگیز خان خود کرمان ( تاریخی گاؤں کڑمان) اور سنقران (شلوزان وادئ کرم کا قدیم ترین درہ اور گاؤں ہے)  پہنچے

علاء الدین عطا ملک (1)جوینی کے مطابق چنگیز خان نے اُگتائی خان کو غزنہ بھیجا جہاں انہوں نے عوام کو گھروں سے نکال کر کھلے میدان لے گئے اور سوائے کاریگروں کے باقی سب کا قتل عام کیا اور شہر بھی تباہ کردیا اور چنگیز خان خود کرمان (ضلع کرم کے تاریخی گاؤں کڑمان) اور سنقران (شلوزان وادئ کرم کا قدیم ترین درہ اور گاؤں ہے)  پہنچے۔ (2) تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ چنگیز خان اسی راستے جلال الدین کا پیچھا کرتے ہوئے گئے بھی تھے۔ کڑمان کو شہاب الدین غوری نے جنگی اور سٹریٹیجک سرگرمیوں کا مرکز بنایا تھا، اور ہندوستان پرحملوں کے لئے شہاب الدین غوری درہ کرم ہی استعمال کرتے تھے،  اور جب شہاب الدین غوری نے ترک نژاد تاج الدین یلدز کو وادئ کرم کا گورنر تعینات کیا تو یلدز کڑمان کو ہی دارالخلافہ بنایا، (3) جس کے اثار آج بھی موجود ہیں جبکہ یلدز دور کے سکے بھی برٹش میوزیم میں پائے گئے ہیں۔

چغتائی خان کو وادئ کرم میں گورنر تعینات کرکے چنگیز خان وادئ کرم کی سخت ترین سردی کی وجہ سے (5 کے علاقے Buya Katur (6) کی طرف چل نکلے، Ashtaqar جہاں کے حکمران سالار احمد اور قبیلے منگول لشکر کو مدد فراہم کی اور مہمان نوازی کی۔ چنگیز خان یہاں بڑی تعداد میں فوجی لشکر کے ساتھ ہندوستانی غلام اور جنگی قیدی بھی ساتھ لائے تھے، قیدی ہی منگول لشکر کو کھانا پکار کر فراہم کرتے تھے، حکم دیا گیا کہ ہر گھر میں ہر غلام کو چار سو من چاول چھان مارنا چاہیے۔ قیدیوں نے خوف سے اس کام کو ایک ہفتے کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ پورا کیا۔ مگر چنگیز خان نے پھر کسی کو بخشا نہیں، حکم دیا کہ تمام قیدیوں کو قتل کر دیا جائے۔ اور بدبخت قیدی طلوع صبح تک قتل ہوتے رہے۔

دریائے سندھ عبور کرنے کے بعد جلال الدین کی جلاوطنی کا طویل دور شروع ہو گیا۔ جلدل الدین نے دہلی پہنچ کر سلطان التمش سے منگولوں کے خلاف  مدد مانگی‘ التمش نے اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا‘ وہ لاہور سے نکلے اوچ شریف میں ناصر الدین قباچہ کو شکست دی اور سندھ کی طرف نکلے،

جلال الدین سندھ سے ایران، آذر بائیجان اور جارجیا تک حملے کرتے رہے، فوج جمع کرتے رہے، تبلیسی شہر کی اینٹ سے اینٹ بجاتے ہوئے‘ ترکی پہنچے اور سلجوقوں کے ساتھ منگولوں کے خلاف اتحاد بنانے کی کوشش کی مگر سلجوقوں ایوبی فوج کے ساتھ جلال الدین کے خلاف اتحاد قائم کرکے جلال الدین پر حملہ آور ہوئے تو جلال الدین دیار بکر کی طرف بھاگتے ہوئے راستے میں دو كرد لیٹروں کے ہاتھوں مارے گئے۔

اسلامی تہذیب تعمیر کرنے میں 600 سال لگے تھے ، خوفناک منگولوں نے مٹانے کا آغاز کیا۔ گو کہ چنگیز خانی لشکر نے حشیشین کے گڑھ نیشپاپور صفہ ہستی سے مٹا دیا مگر مسلم دنیا کے مرکز (بغداد) میں نہ جانے کا انتخاب کیا وہ منگولیا واپس چلا گیا جہاں وہ 1225 میں فوت ہوگیا۔ نئے خان ، چنگیز کے بیٹے اوکتائی خان ، نے یورال پہاڑوں کو عبور کرنے اور یورپ کو فتح کرنے پر توجہ دینے کا انتخاب کیا۔ یوں مسلم سرزمین پر منگول کا حملہ اچانک ختم ہوگیا ، جب 1240 میں اکتائی خان کی موت ہوگئی اس کے بعد تو منگولوں نے یورپ میں بھی اپنی مہم چھوڑ دی۔

مسیحی یورپ منگول حملوں کے تباہی کے باوجود مقدس سرزمین میں صلیبی جنگ اور یروشلم کو دوبارہ فتح کرنے کے خیال کے ساتھ پرجوش تھے اور منگولوں کے ساتھ مل کر تیاری میں تھے۔ آخر کار ہلاکو خان عیسائی اور بدھ مت کے مشیروں کے مشوروں سے متاثر ہوئے ، اور 1255 میں اسلامی سیاسی طاقت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے مقصد کے ساتھ ایک فوج کو متحرک کردیا۔ یہ الگ تاریخ ہے اس پر پھر بار کریں گے، کیونکہ مسلمانوں کے زوال کا سبب فرقہ واریت تھی، اسماعیلی، ایوبی، اہل تشیع، اہل سنت، ترک، ایرانی، عرب، بنی عباس اور بنو معاویہ جیسے تقسیم کی وجہ سے ایک ایک کرکے مسلمان تقسیم ہوتے رہے، ہلاک ہوتے رہےاور بالآخر مسلمان خلیفہ سمیت بغداد بھی گنوا بیٹھے۔

جب منگول فارس میں داخل ہوگئے جہاں انہوں نے حشیشین پر زبردست حملے کیئے، ان کا مضبوط قلعہ الموت فتح کرلیا  تو بغداد میں خلافت عباسیہ یعنی سنی اور شیعه مسلمان اسماعیلی حشیشین کے خاتمے کی خوشی منا رہے تھے ، ، ہلاکو خان نے بغداد پر نگاہ ڈالی ، جو 750 کے بعد سے خلافت کا دارالحکومت تھا۔

اسلامی تاریخ میں خلافت کا خاتمہ کبھی نہیں ہوا تھا، یا دارالحکومت تحویل میں نہیں لیا گیا تھا، یہاں تک کہ صلیبی یلغار کے باوجود ، حالات نے ہمیشہ اس انداز میں کام کیا تھا کہ مسلم دنیا کی خلافت کو بچالیا گیا تھا۔

جب 1257ء میں ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا اور آخری عباسی خلیفہ معتصم کو قتل کر کے مسلمانوں کے اس عروس البلاد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 6 ہفتے تک یہاں کشت و خون اور غارت گری کا بازار گرم رہا۔ لاکھوں انسان منگولوں کی بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ مسلمانوں کی 6 صدی کی جمع شدہ دولت ایک آن میں لٹ گئی اور ان کے تمام علمی ذخیرے آگ کی نذر ہو گئے۔ بیت الحکمت مسلمانوں کے سب سے بڑی یونیورسٹی اور تجر بہ گاہ کو جلا کر خاک کردیا گیا ۔ کئی ماہ کی بربادی کے بعد آخر کار مملکت میں امن قائم کیا گیا اور ہلاکو خان نے اپنے طریقوں کے مطابق حکومت کی بنیاد ڈالی۔

احمدطوری #شلوزان #کڑمان #کرم#

References:

  1. History of Civilizations of Central Asia, Volume IV Part 1& P2 The Age of Achievement A.D. 750 to the End of the Fifteenth Century C. E. Bosworth & M. S. Asimov
  2. The History of The World Conqueror Vol I By Ala-ad-Din ‘Ata-Malik JUVAINI Translated from the text of Mirza Muhammad QAZVINI by JOHN ANDREW BOYLE, Ph.D.
  3. Journal of the royal asiatic society. Vol 17

4. الکامل فی التاریخ۔ ابن اثیر۔ جلد ۱۰ صفحہ ۳۰۸ سن ۶۰۲۔ مطبوعہ بیروت۔

5. طبقات ناصری -منہاج سراج۔ جلد ۱۔ اردو ترجمہ غلام رسول مہر۔

6. Astaghar کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ اس علاقے کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا مگر جیسے ہم جانتے ہیں کہ شلوزان کو کیسے سنقران کہتے ہیں اور کڑمان کو کرمان لہذا میں نے اشنغر نتیجہ نکالا ہے۔

7. Ashtatr کی طرح Buya Kutar کا بھی نہیں بتایا گیا لہذا وادئ کرم کے حدود اربعہ اور اشنغر کے نزدیکی سمیت سٹریٹیجک حوالے سے باجوڑ کا علاوہ سمجھا جا سکتا ہے۔

عمران خان کو مسلح جھتہ (ملیٹنٹ ونگ) بنانے کی تجویز! 

صحافی ڈاکٹر معید پیرزادہ کے مطابق عمران خان نے پشاور میں اپنے پسندیدہ صحافیوں، اینکرز اور یوٹیوبرز سے ملاقات  کی جس میں ایک سے زیادہ “لوگوں” نے عمران خان کو پاکستان تحرک انصاف کے جلسوں کی تحفظ کے لئے ملیٹنٹ ونگ(مسلح جھتہبنانے کی تجویز دی، جو سٹیٹ مشینری (پولیس، ایف سی “وغیرہ”) کا مقابلہ کریں۔

مگر عمران خان صحافیوں کے مشورے  سے اتفاق نہیں کیا۔ عمران خان نے مزید فرمایا کہ اگر ہم ملٹری ونگ کھڑے کرتے ہیں تووہ پارٹی پر قبضہ کریں گے (چھبیس سال سے عمران خان قابض ہیں ویسے)۔ عمران خان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہآپشن کراچی میں پہلے بھی زیر بحث رہی مگر ہم نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔۔

اب دیکھنا یئ ہے کہ عمران خان کو مسلح جھتہ (ملیٹنٹ ونگبنانے کی تجویز کس نے دی؟

عمران خان کے پیروکاروں سے اس قسم کی توقع کی جاسکتی ہے اور ہو سکتا ہے عمران خان بھی مستقبل میں اس پرسوچیں، مگر میرا خیال ہے کہ عمران خان کو مسلح ونگ کی بالکل ضرورت نہیں، طالبان پی ٹی آئی کا بنا بنایا ونگ ہوسکتاہے، ماضی میں طالبان عمران خان کی بھرپور حمایت کرچکے ہیں اور پاکستان سے مذاکرات میں سمیع الحق کے ساتھ اپنانمائیندہ بھی منتخب کرچکے ہیں۔

مگر آج 30 مئی کو پشاور میں وکلاء کنونش سے خطاب میں سارا منظرنامہ بدل گیا ہے۔ صوبہ پختونخواہ کی وزیراعلیمحمود خان نے  وزیراعظم شہباز شریف، رانا ثناءاللہ کے بارے میں گالم گلوچ کے بعد اسلام آباد پر صوبائی فورسز کے ساتھلشکر کشی کی دھمکی دے، جو آئین سے بغاوت ہے۔ لنک 

محمود خان کا عمران خان کی آئندہ کال پر کے پی کی فورس استعمال کرنے کی دھمکی

اور عمران خان نے چھبیس سال سے رٹی رٹائی تقریر کے شریف برادران کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی اور محمود خان کیبات کو آگے بڑھاتے ہوئے “مکمل تیاری” کے ساتھ مارچ کرنے کا اعلان کیا، اور اس مارچ کے لئے خان صاحب سپریم کورٹ بھیجارہے ہیں جہاں پکڑ دھکرڑ اور راستے بند کرنے کے بارے میں گارنٹی چاہتے ہیں۔

لنک 

پرامن احتجاج کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ رولنگ دے، ورنہ ہم تیاری سے جائینگے، عمران خان

آنیوالے وقتوں میں اس خبر کی گونج سنی جائے گی کیونکہ طالبان کو مین سٹریم کی تیاری کے لئے مذاکرات بھی آخریمراحل میں ہیں اور اگلے ہفتے مفتی تقی عثمانی کی قیادت  میں ایک اعلی سطحی وفد پاکستان تحریک طالبان سے مذاکراتکے لئے کابل کا دورہ کررہے ہیں جس میں اہم پیش رفت کی توقع کی جارہی ہے۔

دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو مین سٹریم کیا جا چکا ہے اور کالعدم تنظیموں کے ہزاروں کارکنانپولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ضم کئے جاچکے ہیں جو پاکستان کے کونے کونے میں مخالفین کے اغوا، جبریگمشدگی اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہے ہیں۔

اس موضوع پر اس وقت سے لکھنا بند کیا ہے جب سے ملک کے مقتدر اداروں نے دینی مدارس کے طلباء ملٹری اکیڈمی کاکولبھیجنے کا سلسلہ شروع کیا اور اب پاک فوج میں ایسے “طالبان افسران” سامنے آئیں گے جو ملٹری اکیڈمی کاکول کے تربیتیافتہ ہوں گے۔

یاد رہے!! پرویز مشرف اور جی ایچ کیو سمیت پاکستان پر بڑے حملوں میں پاک فوج کے تربیت طالبان ہی ملوث پائے گئے ہیں،لہذا اب آستین کے سانپوں میں اضافے کیا گیا ہے۔

جن خدشات کا اظہار کیا ہے  یہ مستقبل قریب میں تو مشکل ہیں مگر پچھلے کالعدم تنظیموں کو جس طرح  مین سٹریم کیاگیا اور یکساں نظام تعلیم میں سپاہ صحابہ کے وفود (خاص کر پنجاب  میں معاویہ اعظم طارق اور صوبہ پختونخواہ میںسپاہ صحابہ کے اہلکارمکمل طور پر آن بورڈ تھے۔ 

مسقبل بعید میں پاکستان کو مکمل طور پر دیوبندی اسٹیٹ بنانے کا پلان ہے جس پر کافی عرصہ سے کام جاری ہے۔ 

یاد رہے جامعہ المنتظر کے علماء سمیت کئی اور علماء بھی “پرو دیوبندی” یکساں نصاب تعلیم پر متفق ہوگئے تھے مگر بعدایم ڈبلیو ایم سمیت میں علامہ شہنشاہ نقوی نے احتجاج کیا ہے اور شہباز شریف سرکار نے آتے ہوئے اسے سسپنڈ کیا مگراپنا فیصلہ بعد میں واپس لیا۔

#احمدطوری

ڈاکٹر معید پیرزادہ کا مکمل وی لاگ نیچھے دیئے گئے لنک پر سنیں۔

بلاگر بلال خان قتل کیس: ایجنسیوں سے پی ٹی ایم اور اب سید عابد علی شاہ تک۔ احمدطوری 

بلاگر بلال خان قتل کیس: ایجنسیوں سے پی ٹی ایم اور اب سید عابد علی شاہ تک۔ احمدطوری 

دو سال پہلے اسلام آباد کے نواہ بارہ کہو کے قریب میں نوجوان مذہبی بلاگر بلال خان قتل کردیئے گئے تھے، محمد بلال خان پر وفاقی دارالحکومت کے علاقے جینائن فور میں چاقو یا خنجر سے حملہ کیا گیا تھا جس میں بلاگر جاں بحق جبکہ اس کا دوست احتشام زخمی ہوگیا تھا۔ 

پولیس حکام کے مطابق واقعہ اسلام آباد کے علاقے جی نائن فور میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے بلال خان کو فون کر کے بلایا اور تیز دھار آلے کے کئی وارکر کے قتل کر دیا۔ واقعےمیں ایک شخص زخمی بھی ہوا جسے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

بلال خان قتل کیس میں سب سے پہلے تو پاکستان آرمی اور ایجنسیوں کے نام سامنے آئے جہاں کچھ عرصہ سے بلال خان فوج پر تنقید کُرتے رہے اور عمرانخان حکومت پر بھی کڑی تنقید کرتے رہے، انڈین میڈیا اور پاکستان میں ایک طبقے نے اس خبر کو بہت اچھالا اور فوج کے کھاتے میں ڈال دیا تو ایک ہفتے بعدڈی جی آئی ایس پی آر نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

https://www.ndtv.com › pakista…Pakistani Blogger And Activist, Known For Criticism Of Army, Killed

مقتول بلاگر محمد بلال خان اسلامک یونیورسٹی (آئی آئی یو آئی) میں شریعہ فکیلٹی کا طالبعلم تھا۔ اس وقت معاملہ پی ٹی ایم کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی گئیتھی، روزنامہ اوصاف کے نام سے فیک نیوز چلائی گئی کہ بلال خان کو پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے لڑکی کے بھائی نے قتل کیا ہے۔ متعلقہ قومی اخبار نے خبرکی تردید کرتے ہوئے اسے ادارے کے خلاف پراپیگنڈا قرار دیا ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلال خان کا بی بی شیریں نام کی لڑکیسے معاشقہ تھا لیکن لڑکی والے اپنی بیٹی کا رشتہ مقتول کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ گھر والوں کے منع کرنے کے باوجود بلال خان باز نہ آیا تو لڑکی کے بھائی عثماننے جو کہ پی ٹی ایم کا سرگرم کارکن ہے قتل کی رات بلال خان کو فون کرکے ملنے کیلئے بلایا اور چھریوں کے پے در پے وار کرکے قتل کردیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق بلال خان ایک روز قبل ہی عید کی چھٹیاں گزار کر ایبٹ آباد سے واپس اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو میں اپنے رشتہ داروں کے پاسپہنچے۔

گذشتہ رات مبینہ طور پر عثمان نامی شخص نے انہیں کال کر کے جی نائن فور میں بلایا۔ بلال خان کے زخمی ساتھی احتشام الحق کے ابتدائی بیان کے مطابقجب وہ جی نائن فور میں بتائے گئے مقام کی طرف جا رہے تھے تو گلی کے نکڑ پر جھاڑیوں میں گھات لگائے چار سے پانچ افراد نے ان پر حملہ کر دیا، جس میںبلال وہیں ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق، ان پر 17 بار وار کیے گئے۔ جبکہ بلال خان کے بھائی نے یوٹیوب ویڈیو کے ذریعے بلال خان کی اصل حقیقت بتائیاور  محمد بلال خان شہیدؒ کا قتل کیسے ہوا،  انکشافات کئے۔

بلال خان کو کس نے قتل کیا تھا؟

https://bit.ly/3kotojY

نوجوان بلاگر کا قتل: بلال پر تیز دھار آلے سے 17 بار وار کیا گیا، پولیس 

اسلام آباد میں بلاگر بلال خان کے قتل کا مقدمہ درج 

https://bit.ly/3ks3tI7

ایس ایس پی اسلام آباد ملک نعیم اقبال نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بظاہر یہ ذاتی رنجش کا معاملہ ہے۔ تاہم اس کے محرکات میں بلال خان کی سوشل میڈیا پرسرگرمیوں سمیت مختلف عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ پولیس ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے اور جلد کسی نتیجے پر پہنچنے کا امکان ہے۔‘

حکام کو شک ہے کہ حملہ آور بلال کے جاننے والوں میں سے کوئی تھا کیونکہ وہ رات گئے اس طرح کسی اپنے کے ہی کہنے پر گھر سے نکل سکتا تھا۔ ان کے بچجانے والے ساتھی نے سکیورٹی حکام کو بتایا کہ وہ حملہ آوروں کو نہیں جانتے لیکن ان میں سے ایک کو اگر دوبارہ دیکھیں تو پہچنے کا امکان ہے۔ 

ملک نعیم اقبال نے مزید کہا کہ ’عموماً اس طرح کے معاملات میں ذاتی رنجش کا عمل دخل ہوتا ہے اور اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ چونکہ بلال احمد مذہبیمعاملات پر تبصروں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی سرگرم تھے تو عین ممکن ہے کہ اس کے قتل کی وجہ مذہبی یا مسلکی رنجش ہو۔ تاہم اس مرحلے پر حتمی نتیجہاخذ کرنا قبل از وقت ہو گا۔‘

اب 

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جون 2019 میں قتل ہونے والے بلاگر بلال خان کے کیسمیں پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس نے بلال خان کے قاتل کو گرفتار کرلیا ہے۔ 

شیخ رشید نے بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا کہ بلال خان کے قتل پر بعض طبقوں نے اس واقعے کی ذمہ داری خفیہ ایجنسیوں پر عائد کی تھی لیکن قتل کی اصلوجہ اس کے مذہبی عقائد تھے۔

اصل حقیقت کیا ہے؟؟؟

اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد پولیس اور وزیرِداخلہ شیخ رشید دونوں جھوٹ بول رہے ہیں اور اور یہ جھوٹ عدلات میں ثابت ہوکر رہے گا۔ کیونکہ جسبندے کا نام وہ لے رہے ہیں وہ بندہ تین، چار ماہ پہلے اسلام آباد سے اغوا کرکے لاپتہ کردیئے گئے تھے اور بلال خان کے قتل کیس میں نام ڈال کر ظاہر کردیئےگئے ہیں۔ کراچی پولیس بھی اسی طرح واردات کرتے رہے ہیں اور لاپتہ افراد کو کسی بھی قتل کیس میں ملوث کرکے نام ڈال دیتے ہیں جو بعد میں باعزت بریہوجاتے ہیں۔ 400 ایسے کیس تو صرف نقیب اللہ محسود قتل کیس کے بعد سامنے آئے تھے جو ایک ایس پی قتل کرچکے تھے، اب وقت آگیا ہے کہ پولیس اوروزارت داخلہ اور سب محکموں کے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے روکا جائے۔

ایک اور شیعہ عزادار عابد علی شاہ  لاپتہ … – شیعہ نیوز

سید عابد علی شاہ کو دو تین مال پہلے نامعلوم افراد اسلام آباد سے اغوا کرکے لاپتہ کردیئے گئے تھے، وہ اپنی پانچ سالہ بھتیجی علاج کے لئے اسلام آباد لے گئے تھے،اسپتال پہنچتے  ہی نا معلوم افراد نے اسے آغوا کر کیا۔

مریضہ چھوٹی بچی کا کہنا تھا کہ مسلح افراد میرے انکل کو زبردستی لے کر گئے اور ہسپتال میں مجھے اکیلا چھوڑ دیا، اور پھر پولیس کے ایک انسپکٹر چھوٹے بچی کواپنے ساتھ پولیس سٹیشن لیے کر گئے، جہاں پانچ سالہ چھوٹی بچی بغیر ماں باپ  کے پولیس سٹیشن میں رات بھر روتے رہی اور اس حوف ناک حادثے کی وجہسے اس چھوٹی بچی کی دماغی حالت اب ٹھیک نہیں ہے۔

عابد علی شاہ کے لئے پاراچنار سمیت اسلام آباد اور پشاور میں مظاہرے ہوئے تھے مگر لاپتہ عابد علی شاہ کے متلعق کوئی خبر شئیر نہیں کی گئی تھی۔ اور اسواقعے کی ایف آئی آر بھی درج کی کی گئی تھی۔ 

سید عابد علی شاہ کے چچا نے بتایا کہ ایف ہفتہ پہلے سی ٹی ڈی نے انہیں کال کرکے بتایا کہ سید عابد علی شاہ ہمارے پاس ہے ایک ہفتہ پہلے ضلع کرم سے گرفتارکرکے اسلام آباد لائے ہیں۔ اور اس کا انٹی ٹیرارزم کورٹ میں کیس چل رہا ہے۔ سید عابد چچا نے پولیس کو واضح بتایا کہ سید عابد تو اسلام آباد سے دو تین ماہپہلے لاپتہ ہوئے تھے اور اس کا ایف آئی آر بھی درج ہے؟ تو پولیس کے پاس کوئی مناسب جواب نہیں تھا، اب معاملہ کورٹ میں ہے۔ اور 23 ستمبر کو بھی انٹی ٹرارزم کورٹ اسلام اباد میں پیشی ہے

FIR of Abid Ali Shah registered in Islamabad

https://dailypakistan.com.pk/31-Jul-2021/1322184

…جوائنٹ ایکشن فار شیعہ مسنگ پرسنز کا لاپتہ افراد کی رہائی …

شیخ رشید کو ضلع کرم اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں سے خاص محبت ہے جو راولپنڈی میں تکفری مسجد پر چہلم کے دن حملے میں بھی نام لیتے رہے جبکہ پاکفوج کے سابق ترجمان آصف غفور صاحب کے  مطابق راولپنڈی میں چہلم کے جلوس پر حملے کی سازش میں کالعدم دیوبندی تنظیم ملوث پائی گئی تھی۔  

یجر جنرل آصف غفور نے انکشاف کیا ہے کہ نومبہر 2013 کو راولپنڈی راجہ بازار میں مسجد و مدرسہ تعلیم القرآن پر حملے و آتشزدگی  میں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد ملوث تھے پ

اور کچھ دن پہلے اسلام آباد میں مولانا شہنشاہ نقوی پر پابندی کے خلاف احتجاج میں بھی پارچنار اور گلگت کے نوجوانوں کی طرف اشارہ کررہے تھے۔ جبکہ شیخرشید خود سپاہ صحابہ اور والجماعت جیسے کالعدم اور دہشتگرد تنظیموں کے پاکستان دفاع کونسل کے ممبر رہے ہیں اور اب بھی وہ پلیٹ فارم موجود ہے۔

واضح رہے کہ پورے ملک سے کئی درجن شیعہ افراد لاپتہ ہیں اور انہیں سادہ لباس مسلح افراد ان کے گھروں اور راستوں سے اٹھا کر لاپتہ کردیتے ہیں اور اسکے بعد ان کے اہل خانہ کو ان کی کوئی خبر نہیں ہوتی

کابل پر طالبان کا قبضہ، پاکستان پر اثرات کیا ہونگے۔ احمد طوری

دہشتگرد حملوں 9/11 کے بعد امریکہ اور اتحادیوں نے اُسامہ بن لادن اور دہشتگردوں کے پناہ گاہوں کو ختم کرنے کےلئے  بیس سال پہلے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان سے اقتدار چھینی تھی اور اب واپس طالبان کے حوالے کی ہے،یعنی گیم 2001 سے دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

FILE PHOTO: A Taliban fighter holding an M16 assault rifle stands outside the Interior Ministry in Kabul, Afghanistan, August 16, 2021.REUTERS/Stringer/File Photo

 
امریکہ دورے کے بعد اشرف غنی کو استعفی کے لئے کہا گیا مگر انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ “امریکی سفیر سے کہاکہ””لاس د خلاص وی”” مطلب استعفی نہیں دینا، جائیں، جو کرنا ہے کرلیں”۔
اشرف غنی کی ہٹ دھرمی ایک طرف، ایسے وقت میں جب طالبان ایک دن میں پانچ صوبوں پر قبضہ کررہے تھےحمدواللہ محب اور امراللہ صالح نے پاکستان کے خلاف محاذ کھول دیا۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، مگر افغانستاناور بھارت میں ایک طبقے کو خوش کرنے کے لئے افغانستان سے اس طرح کی آوازیں اُٹھتی رہی ہیں، جس کا نقصانہمیشہ افغانستان کو ہی ہوا ہے۔ اشرف غنی کی حکومت ڈبونے اور افغانستان کو طالبان کے حوالے کرنے کے اسکے علاوہ بھی کئی عوامل ہیں۔
مثلاً طالبان کے لئے فتوحات کی راہ ہموار کرنے میں حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور خلیل زاد قابل ذکر ہیں۔ جو ابراز نہیں رہا۔


افغانستان میں عوام اور اُمراء کے درمیان فرق کافی بڑھ گیا تھا! امریکہ کے ٹریلین ڈالرز زیادہ تر امریکہ واپس ہوئے اورباقی افغان وار لارڈز کے جیبوں میں چلے گئے، کابل اور چند شہروں کے علاوہ امریکی امداد افغانستان کے دور درازعلاقوں میں منتقل نہیں ہوئی، افغانوں میں احساس کمتری بڑھتی چلی گئی۔
اشرف غنی صاحب پر اقرباء پروری کے بھی الزامات لگے ہیں اور وار لارڈز اور جہادی رہنماؤں نے اشرف غنی کویرغمال بنائے رکھا، اور طالبان نے اشرف غنی کے خلاف کامیاب پروپیگنڈا مہم چلائی جیسے غازی امان اللہ خان کےخلاف چلائی گئی تھی، اور نتیجہ بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔

لہذا عوام کے ہاتھ میں موقع آیا کہ طالبان کے ساتھ مل کر سب کچھ لیول کریں، اور لوٹ مار اور اُمراء کے بھاگنےسے جو محل اور دولت طالبان اور عوام کے ہاتھ لگی ہے وہ عوام مال غنیمت سمجھے ہیں! کم از کم فی الوقت! بعد میںآنے والے حالات کس طرف جائیں گے، یہ افغانستان میں کھبی نہیں سوچا گیا! کابل کئی دفعہ اسطرح سقوط کرچکا ہے! شاہ محمود اور شاہ شجاع کے زمانے میں دو دفعہ، امیر دوست محمد خان کے زمانے میں، اور غازی امان اللہ خان کےزمانے میں! اور اب اشرف غنی کے دور میں بھی وہی ہوا! جو افغانستان کا خاصا رہا ہے۔
کھبی پرامن انتقال اقتدار نہیں ہوا، سوائے حامد کرزئی کے، 1801 سے 2021 تک پچیس دفعہ کابل میں تخت دھڑن تختہہوئے ہیں۔

پچھلے بیس سال سے افغانستان میں ایک بھائی طالبان اور دوسرا حکومت میں رہا، ایک قبیلہ حکومت کے ساتھ مل کردوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتا رہا تو دوسرا رقیب قبیلہ اپنی بقاء اور تحفظ کے لئے طالبان کے ہاں پناہ لینے پرمجبور تھا۔  اسی طرح مذہبی و مسلکی اور نسلی بنیادوں پر افغان معاشرہ کافی تقسیم ہے جو کچھ طالبان اور کچھ مرکزیحکومت کا ساتھ دیتے نظر آتے۔

اب اتنا ہوا ہے کہ دونوں بھائی اور قبیلے جنگ سے تھک گئے ہیں اور کچھ وقت کے لئے (خدا کرے ہمیشہ کےلئے) بظاہر بندوق رکھنے پر راضی نظر آتے ہیں، مگر افغانستان کے حالات کے بارے میں پیشین گوئی کرنا ناممکن ہے، کسیبھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

طالبان 2001 میں امریکی حملوں کے بعد دور دراز علاقوں میں چھپے رہے اور کئی علاقوں میں کابل کے متوازی حکومتچلاتے رہے، بیس سال میں وہ ایک نئی نسل تیار کرچکے تھے، جس میں پڑوسی ممالک کے مدارس میں پڑھے ہوئےبچوں کی کثیر تعداد موجود قابل ذکر ہے جو طالبان کی فکری اور جہادی پروجیکٹ کامیاب کرنے میں کافی معاون ثابتہوئے، مگر اصل میں امریکہ اور اشرف غنی کی غلط پلاننگ اور اقرباء پروری اور طالبان ہے ساتھ زیادتیاں بھی قابلذکر ہیں جس کا حامد کرزئی نے کئی مرتبہ امریکہ پر کھول کر تنقید کی۔
مگر امریکی انخلاء کے اعلان نے طالبان کے مردہ گھوڑے میں جاں ڈال دی اور خلائی مخلوق کی طرح افغانستان کے ہرگاؤں، ہر شہر اور ہر گلی و کوچے میں اپنے اہلکار بھیجنا شروع کردیئے جنہوں نے “اغیار” بیس سالہ ناکامیوں سے بھرپورفائدہ اُٹھا کر لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہوئے۔
طالبان کے لئے فتوحات کی راہ ہموار کرنے میں حامدکرزئی، عبداللہ عبداللہ اور خلیل زاد قابل ذکر ہیں، اور اس کا ذکرڈیڑھ ماہ پہلے ایک ارٹیکل میں ذکر کیا جا چکا ہے۔

طالبان کے افغانستان پر قبضہ میں پڑوسی ممالک کے مدد بھی شامل حال رہی اور چین ، روس اور ایران سمیتپاکستان کا نام زبان زد عام ہے۔  پاکستان میں پابندی کے شکار صحافی حامد میر نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے کالم میںاس طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھاکہ “پچھلی دو دہائیوں میں پاکستانی فوج ، حکومت اور معاشرے میں ایسے عناصرموجود ہیں جو افغان طالبان کو لاجسٹک اور مادی مدد فراہم کرتے ہیں۔ گو کہ حامد میر کے کافی پرانے لنکس اور فوج کےخلاف رائے ہے مگر جن کا ذکر کیا ہے ان کے “ترجمان” ٹی وی چینلز پر اور سوشل میڈیا پر طالبان کے افغانستان پرقبضہ کو فتح مکہ سے تعبیر کرتے نظر آتے ہیں۔ 

میرا خیال ہے پاکستان کو اکیلے مورد الزام ٹہرانا درست نہیں، امریکہ و اتحادی  جو اپنی ناکامی کا اقرار کررہے ہیسمیت افغان افواج، افغان عوام اور غنی حکومت سب برابر ذمہ دار ہیں۔

طالبان نے جیسے ہی امریکی فوجی انخلاء اور ٹرمپ کی طرف سے مذاکرات کی خبر سنی تو افغاستان کے حکمران کےطور پر ردعمل شروع کیا اور سیاسی ٹیم نے قطر کے علاوہ روس، چین، پاکستان سمیت علاقائی ملکوں کے دورے کیئےاور اپنے آپ کو مستقبل کے حکمرانوں کے طور پیش کیا جس کے افغانستان میں زمینی حقائق پر اثرات مرتب ہوناشروع ہوئے، طالبان ہاری ہوئی جنگ بیس سال بعد جیتنا شروع ہوئے، اور جہاں سے امریکی اور نیٹو فوج کا انخلاءہوتا وہاں پہنچ کر قبضہ کرتے، اس قبضے میں بھاری اسلحہ اور ٹینکوں سمیت آمد و رفت کے تمام وسائل شامل ہوتے،جس سے طالبان طاقت پکڑ کر اگلے محاذ کی تیاری کرتے۔ 

طالبان نے سیاسی حکمت عملی اختیار کی، حامد کرزئی اور عبداللہ اور ان کے حامیوں نے افغانستان کے طول عرضمیں طالبان کے لئے سیاسی راہ ہموار کرنے میں معاونت کی، مذہبی جذبات کو ابھارا گیااور جہاں جرگہ ناکام ہو توطالبان نے بندوق کے زور پر اپنا فیصلہ منوایا، جس سے انحراف ناممکن تھا، اس طرح علاقے کے لوگ اور وہاںکے مقامی انتظامیہ ساری طالبان کے ہاتھوں میں چلی جاتی اور افرادی قوت میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوجاتا۔
جوبائیڈن نے جیسے ہی فوجی انخلاء کا اعلان کیا طالبان جو پہلے دور دراز علاقوں میں مصروف تھے بڑے شہروں کیطرف رُخ کیا۔ اور بڑے شہروں اور صوبائی دارالحکومت پر اسی طریقہ واردات پر عمل کرتے ہوئے طالبان ایک بعددیگر شہر قبضہ کرتے رہے اور اپنے جنگجو نہایت سرعت کے ساتھ منتقل کرتے رہے، جبکہ مقامی لوگ، انتظامیہ اورافغان فوج کے اہلکار جوق در جوق طالبان کے صفوں میں شامل ہوتے رہے، جس سے طالبان اس قابل ہوئے کہصرف 9 دن میں پنجشیر کے علاوہ پورے افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 

طالبان نے مذہبی۔سیاسی۔ملٹری تینوں آپشن بیک وقت استعمال کئے، کسی کو تبلیغ، سیاسی اُمراء کو حامد کرزئی اورعبداللہ عبداللہ کے مصلحت کے ذریعے اور جو لڑنا چاہتے تھے انکو امریکی اسلحہ کے ذریعے زیر کیا۔

افغان طالبان نے 6 اگست 2021 کو دور دراز ایران بارڈر پر نیمروز صوبے سے فتوحات کاآغاز کیا اور صرف نو دن میںپنجشیر کے علاوہ پورے افغانستان پر قبضہ کرلیا ہے، جس میں ہرات، کندھار، لشکر گاہ اور مزارشریف جیسے بڑے اوراہم شہر شامل تھے یہ معجزہ 14 اگست یعنی یومِ آزادی پاکستان  کے دن ہوا اور پھر کابل پر ہر طرف سے حملہ آورہوئے ہیں۔ اشرف غنی حکومت کے سارے صوبائی گونر اور فوجی دستے کور کمانڈرز سمیت طالبان کے سامنے سرنڈرکرگئے اور ازبکستان اور ایران کی طرف نکل کر جان بچاتے رہے، طالبان بھارت کے یوم آزادی کے دن کابل میںداخل ہوگئے۔


سقوطِ کابل

سقوطِ  افغانستان 


کابل پر طالبان قبضہ سے ایک دن پہلے وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی نےکہا ہےکہ افغان فورسز کابل کے دفاع کےلیے پُرعزم ہیں ، غیر ملکی افواج افغان فوج کی ہر طرح سے مدد کے لیے تیار ہیں ۔ عین اسی وقت افغانستان کےدارالحکومت کابل کے صدراتی محل “ارگ” میں اشرف غنی امریکی نمائیندے زلمئ خلیلزاد سے ایمرجنسی میٹنگ کررہےتھے، تو لگ رہا تھا کہ اشرف غنی کو استعفی پر راضی کیا جارہا ہے، مگر وہ دراصل جان بچانے یا بقول اشرف غنیصاحب خونریزی سے بچنے کے لئے کابل چھوڑنے کی تیار کررہے تھے۔
سابق صدر حامدکرزئی، مصالحتی کمیشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ اور جہادی لیڈر گلبدین حکمتیار پر مشتمل تین رکنی کمیٹیعارضی حکومت اور انتقال اقتدار کی تیار کررہے تھے کہ اشرف غنی کابل سے اپنے قریبی ساتھیوں سمیت نامعلوممقام کی طرف پرواز کرگئے, جس سے طالبان کو کابل پر حملہ کے لئے مناسب جواز فراہم ہوا، حالانکہ طالبان نے کہاتھا کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا! مگر وہ تو ہرات و کندہار پر بھی حملہ نہیں کرنا چاہتے تھے؟ جواز پیدا کرنے کے لئےخلائی مخلوق نے بہترین اور منظم منصوبہ بندی کی تھی، طالبان اور جہادی پروجیکٹ کے ڈائیریکٹرز اب کابل میں اقتدارتبدیل کرنے کے اتنے ماہر ہوچکے ہیں کہ کسی کو ملوث ہونے کا شک و شبہہ بھی نہیں ہوتا! یہ تو ڈائیریکٹرز کو لگتا ہے مگرپتہ سب کو ہوتا ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی وزارت دفاع میں اہم میٹنگ کا کہہ کر ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کے ساتھ ملک چھوڑ کر چلے گئے، جس کے بعد کابل میں خوف و ہراس پھیل گیا اور طالبان قیادت نے اپنےجنگجوؤں کو دارالحکومت کابل میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جبکہ افغان اور غیر ملکی شہری جان بچانے کےواسطے کابل ائیرپورٹ کی طرف بھاگنے لگے۔

Kabul airpor


طالبان ہر طرف سے کابل کی طرف اُمڈ آئے اور یہ سلسلہ ابھی تاک جاری ہے، مگر خدا کا شکر ہے کہ سب معاملات“منصوبے” کے مطابق طے ہوئے اور بغیر خونریزی کے طالبان نے بیس سال بعد کابل پر دوبارہ قبضہ کیا، صدارتی محلجا کر اپنا سفید جھنڈا لہرایا جس پر کلمہ طیبہ اسود نمایاں لکھا ہے۔
کابل کی کشادہ سڑکیں، جدید پارک، بلند و بانگ بلڈنگ اور جیم اکثر طالبان نے پہلی دفعہ دیکھے لہذا وہ چھوٹے بچوں کیطرح پارکوں میں کھیلتے نظر آئے، اور اپنے لڑکپن کے سارے ارمان پورے کیئے۔

افغان طالبان کے سیاسی ونگ کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر اخوند نے کہا ہے طالبان کو جس طرح کامیابی ملی اس کاگمان بھی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے فتح ملی۔ دراصل طالبان نے امریکی انخلاء کے خلاء کو پُر کیا ہے۔ اور اس خلاءکو نہایت سرعت سے پیدا کیاگیا ہے، جس کو اب منصوبہ ساز بھی سمجھ نہیں پارہے۔ اصل میں برطانیہ اور شاہ شجاعکے ساتھ پہلی اینگلو افغان وار 43-1842 میں جو ہوا تھا وہی تاریخ دہرائی گئی ہے، یہ الگ بات ہے کہ امریکیوںفوجیوں کو وہ قیمت نہیں ادا کرنی پڑ رہی جو برطانوی فوج کو ادا کرنی پڑی تھی، اور اشرف غنی نے بھی اپنے آپ کوشاہ شجاع یا ڈاکٹر نجیب بننے سے بچایا! جس کا اظہار انہوں نے ابوظہبی سے اپنے خطاب میں کیا ہے۔ مگر طالبان نےسقاؤسٹ کی طرح کابل پر چھڑھائی کی ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ہمیں افغان آرمی کی اتنی جلدی ہتھیار ڈالنے کی توقع نہیں تھی۔ اورجو لڑائی افغان فوجنہیں لڑنا چاہتی وہ امریکی فوج کیوں لڑے؟

صرف ڈیڑھ مہینہ پہلے افغاستان کے حالات پر لکھا تھا جب افغان صدر اشرف غنی امریکہ کے دورے پر جانے والےتھے! کہ ““اس ساری صورتحال میں اشرف غنی امریکہ کا دورہ کررہے ہیں اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اشرف غنیکو استعفٰی دینے پر راضی کیا جاسکتا ہے تاکہ طالبان کو قومی حکومت میں شامل ہونے پر راضی کیا جاسکے۔
مگر طالبان جاتے ہوئے امریکہ سے مذاکرات اور امریکہ کے کٹھ پتلی اشرف غنی کے ساتھ بیٹھ کر قومی حکومت میں کوئیدلچسپی نہیں رکھتے اور اشرف غنی نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں ڈاکٹر نجیب اللہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹرنجیب نے استعفی دے کر غلطی کی تھی، میں وہ غلطی نہیں دہراؤنگا‘ مگر حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں کہ اگربروقت طالبان کی پیش قدمی نہ روکی گئی اور بین الاقوامی مدد نہ کی گئی تو طالبان سالوں کی بجائے مہینوں میں کابل کامحاصرہ کرسکتے ہیں، اور امریکہ بھی جان چکا ہے اسی لئے کابل ہوائی اڈہ ترکی کے حوالے کرنے کا سوچ رہا ہے تاکہبھاگنے کا ایک راستہ تو کھلا رہے””۔

اور جب اشرف غنی امریکہ سے خالی ہاتھ لوٹے تو پھر ایک ارٹیکل میں تفصیل سے حالات کی منظر کشی کی تھی۔
افغانستان کے ڈھائی سو سالہ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو موجودہ صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ افغان قبائیلیسسٹم، اتھنک سسٹم، افغان عوام میں اغیار کے خلاف نفرت اور محبت دونوں ذہن میں رکھتے ہوئے افغان طالبانکی اسلامی نیچر اور بلوؤں کا طریقہ واردات سب سامنے رکھتے ہوئے کابل پر طالبان کا قبضہ دیوار پر لکھا تھا۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی اچانک ملک سے فرار ہونے پر افغان صدر اشرف غنی پربرس پڑے۔ جنرل بسم اللہ محمدی نے افغان صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس نے ہمارے ہاتھ ہماری پیٹھ کےپیچھے باندھے اور وطن کو بیچ دیا ، غنی اور اس کے گروہ پر لعنت ہو’۔

جبکہ اشرف غنی کی حکومت کی وزیرِ تعلیم رنگینہ حمیدی کا کہنا ہے کہ مجھے صدمہ پہنچا ہے اور یقین نہیں آ رہا۔’ انھیںصدر غنی سے ایسے ملک چھوڑ جانے کی توقع نہیں تھی۔


ماضی کی کچھ یادیں

مگر افغانستان (کابل و کندھار، غزنی و جلال آباد) ماضی میں کئی دفعہ روندا گیا، شاہ محمود، شاہ زمان، شاہ شجاع اوردوست محمد خان کے بھائیو ں نے 1801, 1809 1818، 1837 میں کابل پر حملے کرکے قبضہ کیا مگر طالبان سٹائل قبضہ1929 میں حبیب اللہ خان کلکانی نے (بچہ سقہ) بالکل طالبان سٹائل کابل کا محاصرہ کیا اور غازی امان اللہ خان کوبادشاہت سے فارغ کرکے بیرونی ملک رہنے پر مجبور کیا جو باہر ہی وفات ہوئے، اور جنازہ واپس لاکر جلال آباد میںدفنایا! پھر صرف دس ماہ بعد نادر خان درانی (نادر شاہ) نے بیرون ملک سے اگر حبیب اللہ کلکانی کا قلع کرنے کے لئےکابل پر ہر طرف سے حملہ کیا اور بچہ سقہ کو اقتدار سے باہر کرکے پھانسی دی، خود بادشاہ بن گئے۔ نادر شاہ ظاہر شاہ کےوالد تھے۔

برطانوی فوج کے ساتھ امریکیوں سے زیادہ برا ہوا تھا جب غازی اکبر خان نے کابل سے لے کر تورخم تک 16 ہزارفوج میں سے صرف ایک ڈاکٹر کو شاید یہ میسیج پہنچانے کے لئے چھوڑا تھا کہ جاؤ اور انہیں خبر کردو کہ 16 ہزار برطانویاور لگ بھگ 30 ہزار ہندوستانی فوج تقریباً ساری افغانیوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ یہ 42-1843 کی بات ہے۔مگر نہ افغانوں سے سبق سیکھا نہ مغرب اور روسیوں نے!

امیر دوست محمد خان نے اس وقت برطانوی جنرل سے کہا تھا کہ افغانستان میں صرف پہاڑ و پتھر ہیں اور آدمی ہیں! آپ یہاں کرنے آتے ہیں؟

پھر بھی روس 1979 افغانستان پر حملہ آور ہوا، جہادی قوتوں جس کو امریکی و اتحادی سپورٹ حاصل تھی کے ہاتھوذلیل و رسوا ہوکر 1989 میں واپس ہوا اور اپنی دنیاوی عزت کے ساتھ سوپرُپاؤر بھی گنوا بیٹھے!! اور 90s میں گلبدینحکمتیار کی کابل پر بمباری کھبی نہیں بولنا چاہیے جس نے کابل کو کھنڈرات میں تبدیل کیا تھا۔ اس لئے روس امریکہ کیافغانستان میں شکست پر خوش ہو کر بدلے کی آگ بجھا رہے ہیں اور طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔روس کےافغانستان کے لئے خصوصی نمائیندے ضمیر کابلوف کے بیانات سب کے سامنے ہیں۔

برطانوی اور روسیوں سے کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایک بار پھر 2001 میں امریکہ اور بار نیٹو انہی مجاہدین کےخلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے افغانستان میں کود پڑے جو انہوں روس کے خلاف بنائے تھے، بیس سال بعد 2021 میں امریکہ اور نیٹو نے افغانستان انہی طالبان کے حوالے کرکے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر واپس بھاگ رہے ہیں اورہزاروں افواج کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشل ائیرپورٹ انخلاء کے لئے پریشان ہیں کہ زندہ واپس بھی ہونگے یا پہلیاینگلو۔افغان جنگ میں برطانوی افواج کی طرح صفایا کردیا جائے گا؟
مگر طالبان اب کہہ رہے ہیں کہ بدل گئے ہیں اس لئیے بیرونی افواج (اغیار) کو زندہ واپس جانے کی سہولت دستیابہے۔

افغانستان میں اکیسویں صدی میں کو ہورہا ہے وہ ففتھ جنریشن وار کی بہترین مثال ہے، شاید ففتھ جنریشن وار سےبھی کچھ اگے! کسی کو کوئی پتہ نہیں، کہ افغانستان میں کیا ہورہا ہے؟ کون کررہا ہے؟ کل کیا ہوگا؟ مستقل کیا ہے؟امریکہ کے سارے تھینک ٹینکس اور سی آئی اے و ایف بی آئی ناکام ہوئے، بھارت کو کوئی خبر نہیں کہ ان کے ساتھافغانستان میں کیا ہوا! طالبان نے ایران جا کر آگاہ کیا تھا اور اعتماد بھی حاصل کیا تھا، کہ ایران کے مفادات کاخیال رکھا جائے گا، اور طالبان نے ایران کے مفادات کو ابھی تک ہاتھ نہیں لگایا ہے، ظاہر ہے، انقلاب، انقلاب کودیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔

طالبان نے افغانستان پر قبضہ کے بعد کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہوگیا، عالمی برادری کے ساتھ مل کر چلناچاہتے ہیں، طالبان کسی اور ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور چاہتے ہیں کوئی دوسرا ملک بھیہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میںطالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ گروپ حکومت بنانے کے لیے متحرک ہو کرکام کر رہا ہے اور اس کا اعلان’مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا’۔

افغانستان میں طالبان اقتدار کے پاکستان پر اثرات

جب بھارت یوم آزادی کا جشن منا رہے تھے تو افغانستان میں ان کے اتحادی افغان طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالکر تسلیم ہورہے تھے، بھارت کی چیخیں نکل گئیں، اور پاکستان میں جنرل ر حمید گل کی برسی پر ان کے ہم خیال کابلپر طالبان کے قبضے کا جشن منارہے تھے، تو ظاہر ہے بھارت خلاف اور طالبان کی حامی جذبات پاکستان میں بہ درجہاتمم موجود ہے، لہذا اس حوالے سے پاکستان کے اس طبقے نے طالبان فتح کو خوش آمدید کہا، اور بھارت کو ہر فورمپر آڑے ہاتھوں لیا۔


افغان طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے پاکستان پر مضمر اثرات پڑنے والے ہیں، پاکستان میں شریعت کے نفاذ کامطالبہ تو کافی پرانا ہے مگر اس میں جان پڑ گئی ہے اور جمیعت و جماعت کے ساتھ ساتھ تحریک لبیک و دیگر اسلامیسیاسی پارٹی کی لیڈرشپ اور کارکنوں نے افغان طالبان کی فتح کو فتح مکہ سے تشبیہ دی ہے۔ اور پاکستان کےوزیراعظم نے کہا کہ “افغانستان میں غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں”۔

ایران انقلاب کے پاکستان پر اثرات تو بہت کم پڑ گئے تھے مگر ایران انقلاب کے بعد پاکستان میں ایران مخالفجذبات ابھر کر سامنے آئے تھے جس کے ردعمل میں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسے شدت پسند تنظیمیں معرض وجودمیں لائی گئیں جو آج تک کئی نام بدل کر وہیں موجود ہیں، اور پاکستان آج تک اثرات سے نبرد آزما ہے۔
مگر انقلاب افغانستان کے دور رس نتائج ہونگے۔ پاکستانی طالبان اور افغان طالبان ایک ہی نظریہ کے حامل ہیں اورافغان طالبان کے سپریم لیڈر ہی پاکستانی طالبان کے “سپریم لیڈر” ہیں۔

یہ تو کوئی ڈھکی چھپی بار نہیں رہی کہ امریکہ اور دوست عرب ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں جہادی پروجیکٹمیں پاکستان کا کلیدی کردار تھا، اور پاکستان نے اس کا خمیازہ بھی بھگتا ہے، مگر حالیہ طالبان فتح کے اثرات مختلفہونگے۔ اس جہادی پروجیکٹ سے سارے ممالک نے فائدہ اُٹھایا اور پاکستان نے نقصان ہی نقصان اُٹھایا ہے اورملک میں ایک ایسی فصل تیار ہوئی ہے جس کو روکنا تو مشکل بلکہ ناممکن لہذا انہیں “مین سٹریمنگ” کے نام پر اداروںمیں ضم کیا جارہا ہے، جس سے اداروں ان کی جڑیں راسخ ہوچکی ہیں، جس کا انجام نہایت عبرت ناک ہوسکتا ہے۔دہشتگرد اور کالعدم سپاہ صحابہ کے ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب کے نصاب کمیٹی کے رکن ہیں، اسی طرح خیبر پختونخواہنصاب کمیٹی میں بھی سپاہ صحابہ (جو اب دوسرے کئی ناموں سے آپریٹ کرتے ہیں) کی “مہارت” سے فائدہ اُٹھایا گیاہے لہذا ایک نظام نصاب تیار ہوا ہے جس سے پاکستان بھر کے سرکاری سکول دینی مدارس میں تبدیل ہوتے نظرآئیں گے، اور جو کھیپ تیار ہوگی وہ افغان جہادی پروجیکٹ سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ ایک مثال ہے، باقی پولیساور ہر ادارے میں “مین سٹریمنگ” کے نام پر شدت پسندوں کو “ایڈجسٹ” کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ اور وزیراعظم مان چکے ہیں کہ پاکستان میں افغان طالبان کے گھر اور اہل خانہ موجود ہیں، مگرمعاملات اس سے بڑھ کر ہیں۔ جنرل ر شاہد عزیز اس وقت کہاں ہیں یہ بات چھوڑیں، جنرل ر خالد لودھی، جنرل رشعیب، جنرل ر اعجاز اور بریگیڈئیر فاروق حمید سمیت اس قبیلے کے دفاعی تجزیہ نگار اور اوریا مقبول جان،انصارعباسی، عمران ریاض جیسے سیاسی “داعشور” طالبان کے ترجمان زیادہ نظر آتے ہیں، جس سے پاکستان میں “جہادیمائنڈ سیٹ” کو تقویت مل رہی ہے۔

پاکستان میں افغان طالبان کی فتح پر جشن منانے والوں کے علم میں ہے کہ پاکستانی طالبان کے سارے اڈے افغانطالبان کے زیراثر افغانستان میں موجود تھے اور وہ وہیں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں، جس میںآرمی پبلک سکول کے ڈیڑھ سو معصوم طلباء پر حملہ سمیت ہزاروں دہشتگرد کاروائیاں شامل ہیں، جس میں پاک فوجکے اہلکاروں سمیت ایک لاکھ افراد قتل ہوئے ہیں۔ افغان طالبان نے کھبی پاکستانی طالبان سے لاتعلقی ظاہر نہیں کیہے اور کابل فتح کے بعد محمد مالک کے شو میں ذبیح اللہ مجاہد نے برملا کہا کہ ہم پاکستانی طالبان کو پاکستان کے حوالےنہیں کریں گے، مگر یہ ضرور کہا کہ انہیں افغان سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔


طالبان نے افغانستان فتح کرتے ہوئے سارے جیل توڑ ڈالے ہیں جس سے پاکستان طالبان جو افغان حکومت نےگرفتار کرکے جیلوں میں ڈالے تھے سب رہا کرکے گلوں میں ہار پہنا کر خوش آمدید کہا گیا ہے جس میں مولوی فقیر محمدقابل ذکر ہے جس کے القاعدہ رہنما ایمن الظواہری سے قریبی تعلقات رہے ہیں اور وہ پاکستان کو مطلوب دہشتگردوںمیں سرفہرست ہے۔ اس طرح سینکڑوں پاکستانی طالبان دہشتگرد افغان جیلوں سے رہا ہوچکے ہیں جو پاکستان کےقبائیلی اضلاع کے لئے سنگین خطرہ ہے اور پچھلے دو ہفتوں میں پاکستان میں بلوچستان “داسو” سے لے کر کراچیاورضلع کرم و اورکزئی تک ایک درجن دہشتگرد کاروائیاں ہوئی ہیں، جبکہ گلگت میں طالبان کھلے عام کچہری کرتے نظرآئے ہیں، یہ سب پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔

پاکستان کے اسلامی سیاسی پارٹیوں میں افغان طالبان کے کابل میں اقتدار ملنے سے ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہواہے اور اس سے بڑھ کر پاکستان میں 80s سے مدارس کا ایک جال بچایا گیا ہے جس میں لاکھوں طالبان افغان طالبانکے اس فتح سے حوصلہ پائیں گے کہ “افغان انقلاب” پاکستان میں بھی امپورٹ کریں۔

مستقبل 

افغاستان میں طالبان اقتدار کے خدوخال ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے، مگر امارت اسلامی افغانستان اپنے سفید جھنڈےپر کلمہ اسلام کے ساتھ امیرالمؤمنین اور شوری سیٹ۔اپ کے ساتھ ظہور پزیر ہونے پر اسرار کررہے ہیں جبکہ عوامنے جھنڈا تبدیل کرنے کے خلاف احتجاج کیا ہے جس پر جلال آباد میں طالبان نے فائرنگ کرکے منتشر کردی ہے۔جبکہ احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور امراللہ صالح نے مزاحمت کا اعلان کیا ہے جس سے کچھ قوتیں فائدہ اُٹھا سکتے ہیں، مگرطالبان رہنما عبداللہ عبداللہ سے مل کر پنجشیر کو زیر کرنے میں مصروف ہیں۔


طالبان اسرار کررہے ہیں کہ حکومت بنانا انکا حق ہے کیونکہ انہوں قبضہ کیا ہے اور دیگر اقوام کو مناسب نمائیندگی بھیوہ خود دیں گے، جو قبول نہیں کیا جارہا اور زیادہ تر شمالی اتحاد کے لیڈرشپ پاکستان میں بیٹھی ہے، جس میں احمد شاہمحسود کے دو بھائی، ہزارہ رہنما محقق اور کرم خلیلی اور صلاح الدین ربانی اور یونس قانونی شامل ہیں۔
طالبان پاکستان میں موجود شمالی اتحاد کے رہنماؤں کے بارے میں ابھی تک کھول کر کچھ کہا تو نہیں مگر اس پربداعتمادی بڑھ سکتی ہے۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں بیس سال بعد ٹریلین ڈالر خرچ کرکے امریکہ و اتحادی تباہ کن شکست سےدوچار ہوئے ہیں اور اہداف حاصل کرنے میں ناکام  ہوئے ہیں۔ کیونکہ طالبان 2001 سے زیادہ طاقتور ہیں اور القاعدہ،داعش کی صورت میں اور زیادہ خطرناک ہے، طالبان داعش کے بطور سیاسی قوت خلاف ہیں ورنہ حالیہ افغانستان پرقبضہ میں پاکستانی دہشتگرد گروہ طالبان (خاص کر کنڑ میں) اور داعش طالبان کے شانہ بشانہ لڑے ہیں۔ ان میں نظریاتیکوئی اختلاف نہیں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کا فیصلہ درست تھا اورجو لڑائی افغان فوجنہیں لڑنا چاہتی وہ امریکی فوج کیوں لڑے؟  جبکہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ طالبان کی ساتویں صدی کی حکومت اورتیس سالہ خانہ جنگی سے ایک مستحکم حکومت تک کا سفر مکمل کرنے کے لیے بیس سال کافی نہیں تھے۔ امریکا نے 20 برسوں کے دوران ایک جدید افغان فوج کھڑی کرنے کے لیے 83 ارب ڈالر خرچ کیے جو پاکستانی روپے میں ایکنیل 35 کھرب 95 ارب 83کروڑ اور 16 لاکھ روپے بنتے ہیں۔

Historical artefacts associated with Shia Islam found in the British Museum, London. by @hazthesaz

 Historical artefacts associated with Shia Islam found in the British Museum, London 

Seal from Iran with the inscription of ‘Naad e Aliyyan Mazharul Ajaib’

Shield from India’s Mughal Empire which sends invocations upon Allah, Prophet Muhammad, and Imam Ali

This tile from Safavid Dynasty is decorated with Ayatul Kursi and names of the 12 imams

This bowl was produced in China 300 years ago. Surrounding the centre square it says ‘La Fata Ila Ali La Sayf Ila Zulfiqar’.

This goldsmiths box from late Safavid period has decorations including Imam Hasan and Imam Husain surrounded by angels.

They also had turbahs! These are 200 years old from Najaf and Karbala

In Urdu and Farsi this is called an alam, used in processions commemorating Ashura. This is from the Qajar dynasty.


This cap from Turkey has the message


‘Oh Ali one of the favourites of God, Oh the vanquisher of enemies! Oh Guardian of the friends of God!’

This inscription from a ruler of Fatimid Dynasty praises Allah, the Prophet and Imam Ali

This was incredible! This ‘haft rang’ bowl shows an illustration of mourners doing latom/matam in commemoration of Ashura.

The coinage from the Fatimid Dynasty included names of the Ahlulbayt.

Artefacts from the city of Samarra, a city home to the shrines of two of our Imams.

This massive alam from Awadh, Northern India includes the names of Ahlulbayt, Ayatul Kursi and various surahs of Quran and ziyarats.

This alam, also from Awadh in Northern India, depicts the scene where the arms of Hazrat Abbas were severed when getting water.

• • •

نیشنل ایمچئور شارٹ فلم فیسٹول! قبائلی نوجوان، روحی کاشفی نے میلہ لوٹ لیا۔ احمد طوری

اسلام آباد میں پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کی مشترکہ کاوش سے نیشنل امیچئور شارٹ فلم فیسٹیول کا انعقاد ہوا، تقسیم انعامات کی اختتامی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی شرکت کی اور انعامات تقسیم کیئے۔ نیشنل ایمچئور شارٹ فلم فیسٹول (ناسف) نے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا تصورپیش کیا ہے، جو فلم اور ٹیلی ویژن پروڈكشن کو اپنے تعلیمی / پیشہ ورانہ کیریئر کے طور پر منتخب کرتے ہیں۔ ناسف کا مقصد ایسے قابل اور انتہائی باصلاحیت نوجوانوں کو موقع فراہم کرنا ہے جو پاکستان کی اصل تصوير(ايميج) پیش کرنے والى اعلی معیار کی مختصر فلمیں تیار کریں۔ یہ اپنے نوعیت کا پہلا قومی میلہ ہے، جس میں تخلیقی طلباء پر توجہ دی جائے گی

روحی کاشفی وزيراعظم عمران خان سے ایوارڈ وصول كرر ہے ہیں


اس تھیم بیسڈ فلم فیسٹیول میں  پاکستان کے ثقافتی اورسماجی رنگ شامل تھے‘ جس میں خواتین کا معاشرے میں کردار، وادی سندھ کی تہذیب ، علاقائی ثقافتیں، پاکستانیوں کی انسان دوستی اورجذبہ ایثار، زراعت اور چھوٹے  پیمانے پر صنعتی سرگرمیاں جیسے تھیمز شامل تھے‘۔ فیسٹیول میں 72 یونیورسٹیوں کے 1100سے زائد نوجوان شامل تھے اور 300 سے زائدشارٹ فلمز موصول ہوئیں، ماہرین نے جائزہ لینے کے بعد 122 فلمز شارٹ لسٹ کیں، بعد ازاں جیوری نے 55 فلمز شارٹ لسٹ کیں‘۔ اور ’گرینڈ جیوری جس میں فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کےمعتبر نام شامل ہیں، نے 18 بہترین پراجیکٹس کوانعام کےلیے منتخب کیا، فلم ٹی وی اور میڈیا کے اسٹوڈنٹس نےاپنےتخلیقی جوہر کا شاندار مظاہرہ کیا اور ہونہارآرٹسٹس نےپاکستان کے دلفریب رنگوں کوپراجیکٹس میں بخوبی سمویا ‘۔
اب اس فیسٹیول کے 15 بہترین شرکا کو اسکالر شپ پربیرون ممالک بھیجاجائے گا، جہاں وہ متعلقہ شعبوں میں اعلی تعلیم حاصل کریں گے۔
پاک فوج۔ وزارت اطلاعات و نشریات خاص کر فواد چوہدری اور عمران خان کی خصوصی شرکت نے اس پروگرام کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ کیاہے اور اب ایک اُمید کی شمع بھی دل کے ایک کونے میں روشن ہوئی ہے کہ کچھ ادارے اور لوگ معاشرے کو سدھارنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔۔

نیشنل ایمچئور شارٹ فلم فیسٹول! قبائلی نوجوان، روحی کاشفی نے میلہ لوٹ لیا۔ ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے ابھرتے ہوئے نوجوان فلم میکر روحی کاشفی کی شارٹ ڈاکومنٹری آرٹ فلم “تانہ بانہ” نے قومی فلم میلہ میں دو ایوارڈ جیتے ہیں۔ ایک تو فلم “تانہ بانہ” کو دوسری بہترین شارٹ فلم کا ایوارڈ ملا ہے، جبکہ “جیوری کی پسندیدہ” فلم ایوارڈ بھی روحی کاشفی کو ملا ہے۔

روحی کاشفی کی شارٹ ڈاکومنٹری آرٹ فلم “تانہ بانہ” نے قومی فلم میلہ میں دو ایوارڈ جیتے

یہ دستاویزی فلم بنیادی طور پر عصری فرنیچر ڈیزائن میں روایتی کام پر مبنی ہے ۔ روحی کاشفی کی فلم “تانہ بانہ” ایک آرٹ فلم ہے، یہ انتہائی ستم ظریفی کی بات ہے کہ اس طرح کی حیرت انگیز مہارتیں اور شاندار نسلی فنون کو اگلی نسل میں منتقل نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس مرنے والے آرٹ رجحان کی بہت سی وجوہات ہیں ، جن پر ہمارے سرکاری محکموں کی فوری توجہ کی ضرورت ہے ، جن کو پاکستان کے روایتی فن پاروں کی حفاظت کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اور آرٹ فلم کی اپنی اور بہت کم آڈئنس ہوتی ہے، یہ کمرشل فلم نہیں ہوتی، مگر اس میں آرٹ کے چاہنے والوں کو سکون ملتا ہے، اسی لئے ایسے لوگوں کو کروڑوں کے انعامات بھی ملتے ہیں، بڑے بڑے سکالرشپ اور نوکریاں بھی ملتی ہیں، اور سب سے اہم ایسے لوگوں کی پزیرائی بھی ہوتی ہے۔
ملالہ یوسفزئی نے بھی دنیا کے سب سے بڑی ہائی ٹیک کمپنی ایپل سے معاہدہ کرکے شارٹ فلمز اور ڈاکومنٹری بنانے کا پلان بنایا ہے، فاطمہ بھٹو بھی آرٹ کی دلدادہ ہیں اور پرنس ہیری نے بھی شوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روحی کاشفی نیشنل کالج آف آرٹس، لاہور کے گریجیویٹ ہیں، روحی کاشفی نے نیشنل کالج آف آرٹس کے امتحان میں بھی امتیازی (دوسری) پوزیشن حاصل کی ہے، اور تھیسز فلم “ب فار ناؤ” وادئ کرم میں بچوں کے تعلیم سے متعلق ہے۔ میرا خیال ہے روحی کاشفی اس فلم کے کچھ سین دوبارہ شوٹ کرکے بین الاقومی فورم پر پیش کرنے کے خواہاں ہیں، اور اب موقع بھی، کیونکہ روحی کاشفی کو دنیا کے معتبر ترین تھیٹر، فلمم اور ٹیلی ویژن کے سکول، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس انیجلس میں اعلی تعلیم کے لئے سکالرشپ بھی ملا ہے۔ روحی کاشفی نے وادئ کرم کے حوالے سے سلگتے چنار فلم بھی بنایا ہے، جسے مناسب وقت اور کچھ سین کے دوبارہ شوٹ کے بعد ریلیز کرنے کا پروگرام ہے، اس کے علاوہ روحی کاشفی نے عبداللہ قریشی، حمزہ اور صبا قمر کے ساتھ میوزک کے بہترین ویڈیوز پروڈیوس کیئے ہیں۔

روحی کاشفی کا صبا قمر کے ساتھ میوزک ویڈیو۔


روحی کاشفی کو ایوارڈ ملنے کے بعد مبارکباد کی میسیج کی تو انکا جواب “مثبت” تھا، اس فیسٹیول کی طرح مثبت۔ روحی نے جواب دیا کہ اس فلم کے ڈائریکٹر آپ “احمد طوری” ہیں۔ اس کی وجہ روحی کاشفی کھبی بیان کریں گے۔
روحی کاشفی کو اس میڈیم میں لانے کا مقصد بھی صرف یہی تھا کہ یہ معاشرے کی بہبود و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے، اور وادئ کرم کو ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے پرسکون بنانے کی کوشش کی جائے، تاکہ عوام پرسکون ہو کر زندگی سے لطف اندوز ہوں، علاقے میں امن ہوگا تو ترقی بھی ہوگی، امن ہوگا تو لوگ بھی آئیں گے، سیر وتفریح کے مواقع پیدا ہونگے، تو لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی ملیں گے، اور وادئ کرم کے حسین ترین وادی اور یخ بستہ کوہ سفید کے لطیف احساس سے بھی لطف اندوز ہونگے۔

روحی کاشفی نے اپنے فیس بک پیج سے فلم کا ٹریلر ریلیز کیا ہے۔
https://fb.watch/6q-WDpEC7W/

احمدطوری#

وادئ کرم اور افغان، پشتون قبائلی تاریخ کے کچھ تلخ حقائق۔ احمد طوری

بارہویں صدی عیسوی کے ابتداء میں شہاب الدین غوری کے ترک النسل چہیتے گورنر تاج الدین یلدز وادئ کرم (کڑمان-شلوزان) پربادشاہت قائم اور اپنا سکہ رائج کرچکے تھے جس کے آثار ابھی تک موجود ہیں۔ عظیم فاتح شہاب الدین غوری ہندوستان پر حملوں کے لئےدرہ کرم استعمال کرتے رہے اور جب گھکڑوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تو لاشہ بھی کڑمان سے ہوکر غور پہنچایا گیا۔

طوری قبائل کا ذکر پہلی دفعہ “تاریخ نامہ ہرات“ نامی کتاب میں آیا ہے جب طوری قبیلے کے مشر احمد طوری دیگر ڈیڑھ درجن ملوک عظام کےساتھ غزنی کے شاہی (گورنر)کے دربار میں موجود تھے جو ملکی صورتحال پر غور و حوض کے لئے بادشاہ کے دربار میں بلائے گئے تھے۔ بہرامشاہ غوریوں کے حملے سے کڑمان اور سنقران (شلوزان کا پرانا نام) بھاگے ہوئے تھے۔

طوری بنگش قبائل کا ذکر مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے اپنی سوانح حیات “تزک بابری” یعنی ”بابُرنامہ“ میں کیا ہے جب وہ ہندوستان پر حملہکرتے ہوئے کوہاٹ اور بنوں تک پشتوں قبائل کا قتل عام کر رہے تھے۔ بنگش قبیلے کے بہت سے لوگ قتل کئے تھے جس کا ذکر تفصیلسے کیا گیا ہے۔

طوری بنگش اور جاجی قبائل کا ذکر ابو الفضل کی کتاب اکبر نامہ میں موجود ہے جو مغل شہنشاہ جلال دین اکبر کے زمانے میں لکھا گیا ہے۔ابو الفضل اکبر نامہ میں لکھتے ہیں کہ طوری اور جاجی مشران مغل بادشاہ اکبر کے دربار میں دیگر پشتون قبائلی مشران کیساتھ پیش ہوئے جباکبر بادشاہ 1586ء میں اٹک میں تشریف فرما تھے۔ دیگر قبائل میں خلیل، مہمند، خوگیانی یا گیگیانی، شیرزاد، خضر خیل، عبد رحمانی اور غورغشتاور غوریا خیل قبائل شامل تھے۔ ان سب قبائل نے مل کر اکبر بادشاہ کے ہاں یوسفزئی قبیلے کی شکایت لگائی تھی۔

سترھویں صدی کے ابتداء میں زیرک غلجی افغان تاجر و سیاسی رہنما میر ویس ھوتک (میرویس نیکہ) (1709-1747) حج سے واپس آئے توایک فتوی بھی ساتھ لائے، افغان قوم کو اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوئے تو  ایرانی حمایت یافتہ گورنر گورگین کو ساتھیوں سمیت قتل کرکےکندھار کے بادشاہ بنے، حاجی میرویس (نیکہ) کی ناگہانی موت کے بعد انکے بھائی عبدالعزیز بادشاہ بنے تو ناراض افغانوں نے محل پر حملہ کیا اورمیرویس کے اٹھارہ سالہ نوجوان بیٹے محمود نے اپنے ہاتھوں سے چچا کا سر تن سے جدا کرکے قتل کیا اور بادشاہ بن گئے۔

میر محمود کندھار سے اُٹھے اور تاریخی افغان شہر ہرات جو دورانیوں کا نیا گڑھ تھا سمیت ایران کے بیشتر علاقے فتح کرنے میں کامیاب ہوئےاور افغانستان بادشاہت اصفہان تک پھیلایا۔ شاہ محمود ایران میں قتل ہوئے تو چچا زاد شاہ اشرف نے ایرانی بادشاہت پر قبضہ کیا اور شاہمحمود کے بھائی اور کندھار کے گورنر شاہ حسین نے شاہ اشرف کو قتل ذمہ دار ٹھہرا کر اعلان جنگ کردیا۔

اب درانی اور غلجی قبائل کی پرانی لڑائی پھر شروع ہوئی اور ساتھ میں مغل، ایرانی، روسی اور سلطنت عثمانیہ سب اس جنگ کی آگ کو ہوادے رہے تھے اور اپنے فائدے اُٹھانے کی کوشش کررہے تھے۔

احمد شاہ ابدالی (درانی ) نے ایرانیوں (نادر شاہ) سے مل کر 1738 میں ہوتک بابا کا قلع قمع کیا اور نادرشاہ کی سرکردگی میں قندھار، ہرات سمیت  افغانستان اور ہندوستان کو روندتے ہوئے دہلی پر قبضہ کر گئے۔

ایرانی بادشاہ نادر شاہ ایک بغاوت میں قتل ہوئے تو اس کے جنرل احمد شاہ ابدالی سرعت سے واپس کندھار آئے، خزانہ اور “کوہ نور ہیرا” بھی ساتھ کندھار لائے جو نادر شاہ دہلی حملے میں مغل بادشاہ سے لوٹ کر لائے تھے اور 1747 میں لویہ جرگہ کے ذریعے افغانستان کے بادشاہمنتخب کروانے میں کامیاب ہوئے۔

احمد شاہ ابدالی کندھار سے بہت بڑی لشکر لیکر کابل و غزنی کو تہہ وبالا کرتے ہوئے پنجاب، سندھ اور کشمیر میں مغلوں کو شکست دینے میںبھی کامیاب ہوئے جبکہ 1761 کے مشہور ومعروف پانی پت جھگڑے میں مراٹھا سلطنت کو بھی شکست سے دوچار کیا تو دہلی کے کمزور مغلبادشاہ نے ہتھیار ڈالنے میں دیر نہیں کی۔

دوسری طرف ایران کے صوبہ مشہد جہاں نادرشاہ کے نواسے شاہ رُخ افشار گونر تعینات تھے پر حملہ آور ہوئے۔ جبکہ شمالی افغانستان پرقابض تاجک، اُزبک، ھزارہ اور ترکمن قبائل کو بھی تابع بنایا اور ایک عظیم افغانستان سلطنت کی بنیاد رکھی۔

احمد شاہ ابدالی کے ساتھ سب پشتون (پختون) قبائل اور غیر پشتون جیسے ہزارہ، ترکمن، تاجک اور اُزبک سب نے دل کھول کر مدد کی اورخوشی خوشی لشکروں میں شامل ہوئے اور بہت سے قبائل آج بھی ہندوستان میں آباد ہیں جو  زیادہ تر احمد شاہ بابا یا اس سے پہلے غزنوی،غوری، سوری وغیرہ کے لشکروں میں شامل تھے پھر وہیں “جہاد “ میں مصروف رہے اور وہیں زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے قبائلبھی مختلف علاقوں میں اپنی جگہ مضبوط کرنے میں مصروف ہوئے کیونکہ اس سے پہلے تقریباً تمام پشتون قبائل مال مویشی پالتے تھے اورایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے تھے، اور اس وقت آبادی بھی کم تھی اور کوئی پابندی بھی نہیں تھی لہذا جہاں جاتے مال مویشیبھی لے جاتے اور وہیں ڈھیر ہوجاتے تھے۔

بنگش پشتون قبائل میں سے ایک طاقتور اور بڑا قبیلہ ہے۔ یہ اس دور میں عجیب صورتحال سے دوچار تھے۔ ایک جانب یہ وادئ کرم میںافغان حکمرانوں ( کے زیادہ خراج/ٹیکس) سے تنگ تھے تو دوسری طرف اورکزئی قبائل کے ساتھ جنگ بھی جاری تھی۔ اس کے علاوہ کوہاٹکے محاذ پر خٹک قبائل سے بھی جنگ ہو رہی تھی جس میں خوشحال خان خٹک کود پڑے تھے اور مغل اور افغان حکمران بھی کیونکہ لوئر بنگشبہت زیادہ ٹیکس (خراج) دے رہا تھا جبکہ اپر کرم کے بنگش کم ٹیکس دے رہے تھے۔ اسی دور میں طوری قبائل نے وادئ کرم پر اپنا تسلطمضبوط کرنا شروع کیا اور اگلے ایک سو سول میں مکمل طور پر وادئ کرم کے مالک بن بیٹھے۔ آپ پشتونوں پر جو بھی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں،مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر کے تزک بابری سے لیکر اولف کیراؤ اور عبدالحئی حبیبی، خلاصۃ الانساب۔ حافظ رحمت خان

سید بہادر شاہ ظفر کاکاخیل۔ پشتانہ د تاریخ پہ رنڑا کے

پشتانہ قبیلے ووپیژنی۔ ڈکٹر لطیف یاد؛ حمید اللہ حبیبی ، معصوم ھوتک، روشن خان، خوشحال خان خٹک (بیاض)، احمد کہزاد، زلمی ھیواد مل،حبیب اللہ رفیع، الوف کیراؤ۔ دی پٹھانز اور 

آنریبل انفسٹن سب میں آپ کو یہی تاریخ ملے گی۔

احمد شاہ ابدالی نے خراسان، کشمیر، شمالی ہندوستان، اور آمو دریا سے خلیج فارس و عرب تک عظیم افغان سلطنت کی بنیاد رکھی لیکن انکے بعد درانی خاندان نااہل نکلا۔ طاقت کے حصول کی کوشش آپس کی دشمنی میں تبدیل ہوئی، پورا افغانستان میدان جنگ بن گیا اور یہپچاس سال کے اندر تقریباً سارے مفتوحہ علاقے گنوا بیٹھے۔

درانیوں نے 1747 سے 1823 تک کندھار، ہرات، خراسان، تاجک، ہزارہ، ترکمن، اُزبک، ایران اور ہندوستان سمیت درجنوں سلطنتوں کیاینٹ سے اینٹ بجائی اور احمد شاہ درانی بابا، تیمور شاہ درانی، زمان شاہ درانی، محمد شاہ درانی (اندھا)، شجاع شاہ درانی، علی شاہ درانی اورایوب شاہ درانی سے ہوتی ہوئی افغان بادشاہت پہلی افغان جنگ کے بعد درانی (سدوزئی) قبیلے سے بارکزئی قبیلے میں منتقل ہوئی اور 1823 میںدوست محمد خان افغانستان کے بادشاہ بن گئے۔ دوست محمد خان کے والد سردار پائندہ خان کنگ میکر تھے اور ہر مہینے ایک درانی کو کرسیسے اتار کر دوسرے کو بٹھاتے رہے بالآخر افغان سلطنت کے وارث بن گئے۔

روسی، برطانوی، جرمن، پرتگالی، ولندیزی، ایرانی، مغل اور دیگر طاقتوں کے ہاتھ اپنی جگہ لیکن اوپر بتائے گئے لسٹ میں کون سا افغانبادشاہ ہے جو اپنے بھائی کو یا بھتیجے کو قتل کرکے تخت نشین نہ ہوا ہو؟ یہ ریت کوئی نئی نہیں، مغل، بنی امیہ اور بنی عباس بھی اسی روش پرچل رہے تھے اور نادر شاہ بھی اسی کا شکار بنے۔

شاہ شجاع جو 1804-1809 اور 1839-1842 تک افغان بادشاہ رہے نے زمان شاہ کو زبردستی تخت سے اتارا کہ تم اندھے ہو تو محمود شاہ، شاہشجاع سے تخت چھین کر قابض ہوئے اور شاہ شجاع سکھوں کے پاس پنجاب جا بیٹھے۔

شاہ شجاع درانی (سدوزئی) نے 1834 میں سکھوں سے مل کر کابل پر قبضہ کرنے کوشش کی تو پشاور سکھوں کے حوالہ کر بیٹھے۔ شاہ شجاعنے بس نہیں کیا بلکہ انگریزوں اور سکھوں سے مل کر 1838 میں ایک بار پھر افغانستان پر حملہ آور ہوئے ۔ اس دفعہ دوست محمد خان کوہٹانے میں کامیاب ہوئے اور ایک بار پھر درانی (سدوزئی) سلطنت قائم کرنے کی کوشش کی لیکن افغانوں نے بری طرح مسترد کر دیا۔ شاہشجاع نے وحشیانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اور بیرونی دشمن قوتوں سے مل کر ملک پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور بارکزئی قبیلے کی طاقتپر گرفت بھی مضبوط ہو چکی تھی۔

احمد شاہ ابدالی (درانی) کے دور میں پشتون قبائیل کو خاص اہمیت دی گئی اور مختلف قبائیل کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرکے اپنےلشکروں کا حصہ بنایا گیا تو سترھویں صدی کے آخر میں طوری قبائل وادئ کرم میں زبردست اثر و رسوخ اور طاقت حاصل کرکے دیگر قبائلپر غالب آئے۔ درہ کرم پر قبضہ کرنا شروع کیا تو اپر اور لوئر کرم ٹل، شبک اور زازی میدان تک سارا کا سارا علاقہ ان کے قبضے میں چلاگیا۔

امیر کبیر دوست محمد خان 1863 میں ہرات فتح کرتے ہی وفات پا گئے لیکن ایک نااہل بیٹے کو ولی عہد بنا کر بھاگ ڈور منتقل کرنے کیوصیت کی تھی جس کے لئے سب دوست احباب اور مشران نے منع کیا تھا۔ شیر علی خان یا تو نشہ کرکے دنوں تک مے خانے میں پڑےرہتے پھر نشے سے بیدار ہوکر مسجد میں نمازیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرکے توبہ واستغفار مانگتے پھرتے۔ ڈاکٹر بیلیو نے ‘افغان ریسز؛ میںاس کی تفصیل صفحہ نمبر 45 اور 46 پر لکھی ہے۔

افغان تاریخ دون احمد علی کہزاد کے مطابق امیر شیر علی خا کے پیچھے سید جمال الدین افغانی کابھی ہاتھ تھا جو امیر شیر علی خان کے بھائیوںکے درمیان خونریزی اور ناکامی کے بعد ایران  ترکی، عرب ملکوں اور یورپ کے دورے پر نکلے اور اُمتِ مسلمہ کا ڈنڈورا پیٹنے لگے۔ یکم مئی1896 کو جمال الدین افغانی کے ایک گماشتے (پیروکار) مرزا رضا کرمانی نے ایرانی بادشاہ نصیرالدین شاہ قاجار قتل کردیا۔

غزنی کے گورنر شیر علی خان والد امیر دوست محمد خان کو دفن کرنے کے بعد افغانستان کے نئے بادشاہ بن کر کابل میں داخل ہوئے۔ امیرشیر علی خان بادشاہ بننے کا سالانہ جشن منانے کی تیاری کر رہے تھے کہ ایک بھائی اعظم خان نے (جو وادئ کرم کے گورنر تھے) بغاوتشروع کردی اور دوسرے محمد افضل (جو صوبہ بلخ کے گورنر تھے) نے 1864 بغاوت شروع کر دی۔ ان دونوں بغاوتوں کے پیچھے کوئی سازشتھی اور نہ ہی وادئ کرم یا بلخ کے عوام باغی ہو گئے تھے! بلکہ بادشاہ کے بھائی اپنے ہی (سوتیلے) بھائی کے خلاف کھڑے ہوئے۔

امیر شیر علی خان نے ایک بڑا لشکر اپنے بھائی اعظم خان کی سرکوبی کیلئے وادئ کرم بھیجا تو بادشاہ کے بھائی اعظم خان صاحب راولپنڈیبھاگ کر انگریزوں کے پاس پناہ مانگنے پر مجبور ہوئے۔ اعظم خان کے بھاگنے پر وادئ کرم میں جو گورنر مسلط کر دیئے گئے تھے انہوں نےاعظم خان کی بغاوت کا بدلہ عوام سے لینے کا فیصلہ کیا اور وادئ کرم کے اہل تشیع آبادی پر ظلم کے پہاڑ توڑنا شروع کر دئے۔ وادی کرم کیآبادی پہاڑوں پر جا کر بسنے لگی۔

امیر دوست محمد خان کا دور پرسکون تھا! وادئی کرم پر 1848 سے 1864 تک محمد اعظم خان افغانستان کی طرف سے پہلے گورنر بھیجے گئے، جوافغان بادشاہ دوست محمد خان کے صاحبزادے اور امیر شیر علی خان کے بھائی تھے، اعظم خان کی والدہ اور بیگم کا تعلق بھی وادئ کرم(شلوزان) سے تھا، اس سے اندازہ کریں کہ وادئی کرم کی کتنی اہمیت تھی۔ افغان بادشاہ دوست محمد خان کے انتقال کے بعد بھائیوں میںپھوٹ پڑی اور اقتدار صاصل کرنے کے لئے آپس میں لڑ پڑے تو شیر علی خان لشکر لے کر وادئ کرم کے گورنر اعظم خان پر حملہ آورہوئے جو اپنے بھائی اور افغان بادشاہ شیر علی خان کے خلاف دوسرے بھائی أفضل خان کی حمایت کررہے تھے، اعظم خان جان بچا کرانگریزوں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

وادئ کرم گورنر اعظم خان کے وقت میں کافی خوشحال اور پرامن تھی کیونکہ اعظم خان اور والد امیر دوست محمد خان دونوں کی رشتہداریاں بھی ہو چکی تھیں لیکن وادئ کرم پر امیر شیر علی خان کی لشکر کشی اور اعظم خان کے ہٹائے جانے سے جو حالات افغانستان نےخود پیدا کئے، اس کا ذمہ دار طوری بنگش قبائل یا کسی مسلک کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا!

اس معاملے میں پشتون (پختون) لکھاری تصویر کا صرف ایک رخ دکھاتے ہوئے ادبی اور تاریخی بددیانتی کر جاتے ہیں۔ کیا پشتون قلمکاروں میں سے کسی نے یہ لکھنے کی جرأت کی ہے کہ افغان بادشاہ وادئ کرم کی شیعہ آبادی کو کافر سمجھ کر دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ خراجکا تقاضا کرتے تھے۔

أفضل خان اور اعظم خان کے بعد امیر کے سگے بھائی امین خان قندھار میں باغی ہوئے تو امیر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھائی کے مقابلےمیں میدان جنگ میں اترے۔ اپنے بھائی کو بھتیجے کے ساتھ 1865 مین قتل کر ڈالا اور پھر وہیں تعزیت کے لئے بیٹھ گئے۔ امیر شیر علی خاناب ہفتوں کی بجائے مہینوں اپنے آپ کو کمرے میں بند کرکے نشہ کرتے اور بے حال پڑے رہتے اور اُٹھ کر پھر مہینوں مسجد کے محرابمیں بیٹھ مولویوں کے منتر سنتے۔

امیر شیر علی خان ابھی قندھار میں بھائی اور بھتیجے کو قتل کرکے کابل پہنچے بھی نہیں تھے کہ جیل میں ٹھونسے گئے بھائی أفضل خان کے بیٹےعبد الرحمن نے بغاوت کرکے صوبہ بلخ فتح کر لیا اور کابل کی طرف مارچ شروع کیا۔ وہاں اعظم خان بھی ساتھ ملے تو شیر علی خان جوقندھار سے کابل آ رہے تھے اور عبد الرحمن بلخ سے کابل فتح کرنے۔ لہذا فروری 1866 میں شیخ آباد کے مقام ہر ایک اور جنگ ہوئی جسمیں امیر شیر علی خان کو شکست ہوئی، تو عبد الرحمن نے والد أفضل خان کو رہائی دلوائی اور اعظم خان کے ساتھ مل کر کابل پہنچے۔

اب شیر علی قندھار پہنچے اور اپنے بیٹے یعقوب خان کو ایران سے مدد لینے واسطے مشہد بھیجا! کابل میں امیر أفضل خان کا فقید المثال استقبالہوا اور 1867 میں افغانستان کے نئے امیر بن گئے۔ امیر أفضل خان ایک سال کے اندر فوت ہوئے تو اعظم خان کو بھی امیر بننے کا موقعملا لیکن دونوں بری طرح ناکام ہوئے اور عوام نے مسترد کیا۔

شیر علی خان کے بیٹے یعقوب خان نے اعظم خان کے بیٹے سرور خان کو قندھار میں شکست دی اور کابل کی طرف بڑھے۔ اعظم خان اسبار میدان چھوڑ کر ترکستان کی طرف بھاگ نکلے جہاں انہوں فوج اکٹھا کرنے کی کوشش کی اور پھر سے شکست کھا گئے اور اب فارس(ایران) کی طرف بھاگے جہاں بالآخر وفات پا گئے۔

امیر دوست محمد خان کے وفات کے بعد پانچ سال افغانستان میں شورش اور سول وار رہی لیکن اب شیر علی خان پھر امیر بننے میںکامیاب ہوئے لیکن اس دفعہ امبالہ پہنچے اور انگریز وائسرائے لارڈ میو کے پاؤں پڑ گئے۔ وہاں امیر کو خوش آمدید کہا گیا اور انگریزوں نے دنیاکے سامنے شیر علی خان کو افغان بادشاہ تسلیم کرلیا۔ امیر کافی خوش تھے لیکن ایک بزنس ڈیل کی وجہ سے کچھ ناراض بھی تھے۔

تین سال میں برطانوی افواج کے ساتھ مل کر افغانستان نے ایک بڑی فوج تیار کی اور اپنی رٹ قائم کی تو امیر شیر علی نے دربار میں روسینمائیندے کو خصوصی اہمیت دینی شروع کر دی۔ برطانوی نمائندے کا کابل میں داخلہ منع کیا تو برطانوی وائسرائے آگ بگولہ ہو گئے اورقندھار، پیواڑ اور خیبر کے راستوں افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کرنا شروع کی اور یوں وادئ کرم ایک بار پھر میدان جنگ بن گیا۔

امیر شیر علی خان روس کی طرف بھاگتے ہوئے 1879ء میں مزار شریف میں انتقال کرگئے اور اس کے بیٹے نئے امیر یعقوب خان نے مئی1878 کو گندمک کے مقام پر میجر کیویگنری کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور ایک معاہدے کے تحت جنگ منسوخ کرکے سالانہ 60,000 پاؤنڈسبسڈی کے ذلت آمیز شرائط پر دستخط کیے، اور آدھے ملک کے ساتھ افغانستان کی آزادی، عزت و تکریم بھی انگریزوں کے حوالے کی۔

میر غلام محمد غبار لکھتے ہیں: “نادر شاہ درانی کے پردادا سلطان محمد طلائی سکھوں کے نوکر تھے تو پشاور سکھوں کو فروخت کر دیا جو کہ اسوقت افغانستان کا حصہ تھا جبکہ سلطان محمد طلائی کے بیٹے یحیی طلائی نے امیر یعقوب کو انگریزوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ یحیطلائی امیر یعقوب کے داماد بھی تھے”۔

آپ اندازہ کریں! افغان بادشاہ اور انکے بیٹے اور داماد و رشتہ دار خود انگریزوں کی گود میں بیٹھتے رہے، کبھی پشاور و پنجاب سے سکھ رنجیتسنگھ کے ساتھ مل کر کابل پر حملہ آور ہوتے ہیں اور کھبی ایرانیوں کے ساتھ مل کر ہرات و قندھار تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ کبھی روس کےہمنوا ہوتے ہیں تو کبھی امریکی چھتری تلے بیٹھ جاتے ہیں مگر تاریخ نویس افغان حکمرانوں کے کرتوت قبائل کے کھاتے میں ڈالنے پہ بضد کیوںنظر آتے ہیں۔

گندمک میں ہتھیار ڈالنے کے بعد پ افغانوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو امیر یعقوب خان ہندوستان بھاگ گئے۔

دوسری افغان جنگ 80-1878 ختم ہوئی تو وادئ کرم میں افغانستان کا کوئی گورنر نہیں رہا۔ 26 دسمبر 1878 کو میجر جنرل رابرٹس نے وادئکرم کے تمام قبائل سے خطاب کیا اور چلتے بنے۔ خطاب میں مذہبی معاملات اور سماجی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس کے علاوہ ایک مولوی کو برطانوی راج کے خلاف اکسانے پر علاقہ بدر اور دوسرے کو گرفتار کرنے کی خبر دی۔ انگریز جنرل کے تقریرسے لگتا ہے کہ وادئ کرم کے طوری۔بنگش سمیت منگل، مقبل، زازی پاڑہ چمکنی سارے قبائل موجود تھے، طوری۔بنگش قبائل کا خاصذکر ہے جنہوں احمد زئی میں موجود افغان گورنر کی چھاؤنی جلائی۔ اس تقریر کے بعد جنرل رابرٹس خوست کی طرف گئے اور وادئ میں کوئیمداخلت نہ کرنے کی پالیسی اپناتے ہوئے وادئ کرم کو آزاد چھوڑ دیا۔

گندمک میں سرنڈر کے زخم ابھی تازہ تھے کہ امیر عبدالرحمن نے ڈیورنڈ لائن ایگریمنٹ پر دستخط کردیئے اور انگریزوں کو مکمل اختیار دیا کہ وہجہاں سے گزرے وہاں ہندوستان اور افغانستان کا بارڈر ہو گا۔ امیر عبدالرحمن کی شیعہ دشمنی اتنی شدید تھی کہ ڈیورنڈ لائن پر کرم کو دمخنزیر کہا کرتے تھے اور خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے کہ دم ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔

ڈیورنڈ لائن لکیر نے چمن، پشین، چاغی، وزرستان، کورم (کرم)، خیبر، باجوڑ، سوات، بُنیر، دیر، چلاس اور چترال تک کے علاقے افغانستانسے الگ کرکے ہندوستان کے حوالے کئے۔

اب وادئ کرم مکمل آزاد ریاست بن چکی تھی اور طوری۔بنگش قبائل نے حکومت کرنے کے لئے اپنے دو گورنر منتخب کئے جو ایک سید،جناب سید گل بادشاہ صاحب اور ایک میاں مرید جناب محمد نور خان صاحب تھے۔

وادئ کرم کی حالت ایک جنگل کی طرح تھی، جہاں ہر طرف لاقانونیت تھی۔ طوری قبائل آپس میں بھی لڑ رہے تھے اور ارد گرد بسے سنیقبائل بھی وادئی کرم پر حملہ آور ہوئے۔ طوری قبائل بھی ٹل اور کوہاٹ تک دیگر قبائل پر حملے کرتے رہے۔ لامتناہی جنگوں کا سلسلہ شروعہو چکا تھا اور سرور خان المعروف “چکئی” سنی قبائیل کو اکٹھا کرکے لوئر وادئ پر حملے کرکے طوری بنگش قبائل کے علاقوں پر قبضہ کرکے اپرکرم کی طرف بڑھ رہے تھے۔

چکئی سرور خان نے عیاری سے پہلے چنارک پر قبضہ کیا اور خوست میں گورنر کے بھائی کو ہٹانے کے مشن پر چلے، وہاں کامیاب ہوکر کابلپہنچے تو اپنے آپ کو کنگ میکر سمجھنے لگے۔

پن چکی (ژرندی گڑئ) چلانے والے جو اجرتی قاتل اور پیشہ ور ڈاکو و رہزن بن گئے تھے۔ اہل سنت پشتون قبائل ان ڈاکوؤں کے گرد جمعہوئے اور لوئر کرم سے طوری بنگش قبائل کو بےدخل کر کے وہاں گورنر بن گئے۔ انگریزوں نے مصلحت (ڈیوائڈ اینڈ رول) کے تحتآنکھیں بند کیں جبکہ چکئی سرور خان مشن کے پیچھے افغان حکمران عبدالرحمن خان بھی تھے جو وادئ کرم کو واپس کابل کے زیر تسلط لانےکے خواہشمند ہو چکے تھے۔

سوال اُٹھتا ہے کہ ایسے حالات میں آفریدی قبائل یا وزیر و محسود قبائل اور طوری بنگش قبائل کے پاس کیا آپشن دستیاب تھے؟ وادئ کرمکے افغانستان کے ساتھ حالات گونر اعظم خان سے پہلے بھی ٹھیک نہیں تھے جس کی کئی وجوہات ہیں لیکن یہاں سے وادئ کرم کیافغانستان سے علیحدگی اور ہندوستان میں شامل ہونے کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ اس میں قبائلیوں کو دوش دینا زیادتی ہے بلکہ افغانستانکے جتنے بھی مسائل اور ناکامیاں ہیں ان کے ذمہ دار اس کی نااہل لیڈرشپ اور سیاسی ہٹ دھرمیاں ہیں۔

وادئ کرم 1901 سے 2018 تک کرم ایجنسی تھی۔ 1901 سے پہلے وادی کرم کبھی افغانستان تو کبھی ہندوستان کے زیر تسلط رہا اور کبھیشورش کی وجہ سے آزاد حیثیت میں بھی کام چلتا رہا۔ انگریزوں نے وادئ کرم میں طوری لیوی (طوری ملیشیا) کی بنیاد رکھی تو اس سے پہلےخیبر رائفلز میں آفریدی قبائل، وزیرستان سکاؤٹس میں وزیر اور محسود قبائل، اسی طرح باجوڑ اور مہمند میں ملیشیا کھڑے کر دیئے تھے اور سبقبائل ملیشیا میں بھرتی ہو کر انگریزوں کے ساتھ شانہ بشانہ لڑتے رہے اور آج بھی وہ سب ملیشیا قائم و دائم ہیں اور سب قبائل بھی۔صرف طوری ملیشیا یا کرم ملیشیا کو مورد الزام ٹھہراتے رہنا تاریخی بددیانتی ہے، جس کا ازالہ نہایت ضروری ہے۔ تاریخی حقائق کو مسخکرنے سے تاریخ نہیں بدلتی۔ قلم کار اور لکھاری اگر تاریخ کے دسترخوان پر حرامخوری شروع کریں تو اقوام کی حالت وہی ہوتی ہے، جوپشتون قوم کی ہے۔

جب سے پشتون اس علاقے میں آباد ہیں طوری بنگش قبائل بھی وادئ کرم پر قابض ہیں اور تین سو سال سے مسلکی تعصب کا نشانہ بنتے آرہے ہیں۔ اکثر مؤرخین نے انہیں رافضی جیسے الفاظ کے ساتھ تاریخ میں یاد کیا کرکے تعصب برتا ہے جبکہ اہل سنت قبائل پانچ سو سالسے وادئ کرم کے اہل تشیع آبادی کو کافر سمجھ کر قتل کرکے ثواب دارین حاصل کرنے کے چکر میں ایک دوسرے پہ سبقت لینے کی کوششکرتے رہے ہیں۔

گندمک کے شرمناک سرنڈر سے جھکے ہوئے سر کو غازی امان اللہ خان نے اُٹھانے کی کوشش کی تو حبیب اللہ کلکانی مکار انگریز و عیارمولویوں کے ہاتھوں استعمال ہوئے جبکہ غلجی قبائل، نادرشاہ، سدوزئی اور بارکزئی کی آپس میں رسہ کشی بھی تباہی و بربادی میں حصہ ڈالتیرہی۔

افغانستان ایک ایسا بدنصیب خطہ أرض ہے جہاں محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، میر اویس بابا، احمد شاہ ابدالی اور غازی امان اللہجیسے دنیا کے عظیم رہنما اور فاتح پیدا ہوئے ہیں وہاں نااہل، نیم مولوی، چور، ڈاکو، رہزنوں کے سرغنہ، جاہل، مطلق، نام نہاد خادمین دینرسول اللہ، امیرالمومنین حبیب اللہ خان کلکانی المعروف بچہ سقہ جیسے لوگ بھی ایوان اقتدار تک پہنچے ہیں۔

افغان بادشاہ امان اللہ خان یورپ اور پڑوسی ممالک کے شاندار تاریخی دورے سے واپس آئے تو پورے افغانستان کا بھی دورہ کیا۔ شاہنے اپنے خسر محمود طرزی کے مرتب کردہ اصلاحات کے نفاذ اعلان کیا۔ ساتھ ہی انگریز سفیر کو بلا کر کہا کہ اب افغانستان کی خارجہ اور مالیپالیسی آزاد ہو گی تو انگریزوں نے امان اللہ خان کو ہٹانے کا پورا پلان بنا لیا۔ امان اللہ کی جدیدیت پسند بیگم کی یورپ میں لی گئی کچھ تصاویروسیع بنیادوں پر شئر کرکے پروپیگنڈا کیا گیا کہ امان اللہ خان مرتد و زندیق ہو چکے اور مغربی اصلاحات نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ پروپیگنڈا افغانستان کیا ہندوستان میں بھی پھیل گیا اور جاہل مولویوں نے مسجدوں کا استعمال کرکے امان اللہ خان کے خلاف بھر پورمہم چلائی اور بچہ سقہ نے اس کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔سیدو حسین اور ملا شور بازار سے ملکر غلجی اور شینواری قبیلے کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔مولویوں نے دھوکے سے امان اللہ کو دستبردار کرکے قندھار پہنچا دیا اور اس کے سادہ لوح بھائی عنایت اللہ خان کو دو ہفتوں کیلئے تخت پربٹھایا۔ اب کیا تھا، بچہ سقہ کے ساتھ شینواری، منگل، جاجی اور غلجے سمیت دیگر قبائل مل گئے اور ۱۷ جنوری ۱۹۲۹ کو کابل میں داخل ہوکرپایہ تخت پر قبضہ جما لیا اور خادمِ دینِ رسول اللہ کے لقب سے لٹیروں کے ایک سرغنہ حبیب اللہ خان کلکانی افغانستان کے بادشاہ بنگئے۔

جب نادر شاہ نے سفاک بادشاہ اور جعلی امیرالمؤمنین حبیب اللہ کلکانی کے خلاف لشکر کا فیصلہ کیا تاکہ عظیم افغانستان کا قبضہ واپسچھڑائیں تو سویٹرزلینڈ سے پشاور اور پھر پاراچنار آئے اور طوری قبائیل سمیت جاجی، مقبل، منگل اور خوست کے قبائل کر لشکر لیکر کابلپر حملہ کیا۔

کوئی تاریخ نویس آپ کو طوری قبیلے کے ایسے سینکڑوں مثبت کردار اور پہلوؤں پر قلم اُٹھانے کی زحمت گوارا نظر نہیں آئیں گے۔ غنی خانبابا نے اپنی کتاب دی پٹھان میں غازی امان اللہ خان اور اورکزئی کے شیعہ قبائل کے ساتھ ہونیوالی نہایت درناک داستان لکھی ہے۔اورکزئی کے زیرک شیعہ قبائل نے غازی امان اللہ خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو عیار انگریزوں کے ایماء پر مکار مولویوں نے پروپیگنڈاشروع کر دیا کہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رض کے قتل میں اورکزئی کے اہل تشیع لوگ بھی شامل تھے”۔ سب کو پتہ تھا کہ اس وقتیہاں اسلام آیا بھی نہیں مگر 

پھر کیا تھا آفریدی قبائل نے اورکزئی میں کربلاء برپا کردی۔ مرد خواتین، بچے جو نظر آتے قتل ہوتے رہے، ہزاروں لوگ بےگناہ قتلہوئے۔ جب انسان ختم ہوئے تو باغات کا رُخ کیا اور میوہ جات کے درخت کاٹے گئے اور آخر میں چنار کے درخت کاٹ کر آفریدیقبائل کے کلیجے ٹھنڈے ہوئے۔ غنی خان بابا نے ذکر نہیں کیا لیکن ایسی آگ وادئ کرم میں لگ چکی تھی اور آس پاس کے سارے اہلسنت قبائل اہل تشیع طوری قبائل پر ٹوٹ پڑے تھے۔ یہ سب اس وقت ہو رہا تھا جب اورکزئی اور وادئ کرم ہندوستان کا حصہ تھے۔

پشتون تاریخ نویس وادئ کرم کے طوری بنگش قبائل کو رافضی لکھتے رہے ہیں۔ حیات افغانی کے مصنف محمد حیات خان (ترجمہ فرہاد ظریفیاور عبداللطیف یاد) کے صفحہ 17 پر رافضی کہتے ہیں مگر صفحہ 340 پر شیعہ مذہب اور اہل سنت جماعت کے دشمن کے طور پر لکھتے پائے گئےہیں۔ فقہی لہذ سے شیعہ اہل سنت کے بھائی ہیں دشمن بالکل نہیں بلکہ ذاتی دشمنی اور پہاڑ، زمین اور پانی کے جھگڑے مذہبی شکل اختیارکرجاتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔

تواریخ خورشید جہان کے صفحہ 126 پر مصنف شیر محمد خان صاحب وادئ کرم کے طوری قبائل کو راضی سید کے زیر اثر بتاتے ہیں۔ دپختون قبیلو شجری کتاب کے مؤلف م ج سیال مومند صاحب صفحہ نمبر 275 پر لکھتے ہیں کہ وادئ کرم کے شیعہ اپنے کو سچا جبکہ دوسرےقبائل کو گمراہ سمجھتے ہیں۔ کیا کسی پشتون لکھاری میں یہ لکھنے کی جرأت بھی ہے کہ ضیاالحق پلان کے تحت افغان مہاجرین کے ساتھ مقامیقبائل نے حالیہ تاریخ 1987 میں وادئ کرم سے اہل تشیع آبادی کو ختم کرنے کی کوشش کی؟

کیا پشتون لکھاریوں میں یہ جرأت ہے کہ 2005 سے لے کر 2012 تک وادئ کرم کے محاصرے کا ذکر کریں جب طوری بنگش کے اہل تشیعقبائل پر وزیرستان سے لیکر اورکزئی، خیبر، باجوڑ اور مہمند سے طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کی سربراہی میں لشکر آتے رہے اور انہیں صفحہہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی؟

افغان جہاد کے نام پر فساد کس نے کیا جس نے افغانستان کا بیڑہ غرق کیا؟ سوات اور باجوڑ میں جو مولانا صوفی محمد اور مولوی فضل اللہنے کیا وہ سب کے سامنے ہے، خیبر میں لشکر اسلام اور منگل باغ نے جو نہیں کیا وہ فوجی آپریشن نے کیا۔ اسی طرح شمالی اور جنوبیوزیرستان کس نے کھنڈرات میں تبدیل کئے؟

وادئ کرم کے طوری اور بنگش، جاجی و منگل، جدران و مقبل اور پاڑہ چمکنی سمیت سب قبائل آپس میں زمینی تنازعات، پہاڑوں اور پانیکے جھگڑوں میں عرصہ دراز سے لڑتے آ رہے ہیں۔ پشتونوں کا جینیاتی مسئلہ ہو یا جنگجوانہ روش، یہ مسئلہ سب قبائل میں یکساں موجودہے۔ ایسے میں وادئ کرم کے طوری بنگش قبائل پر کسی مسلک و مذہب کا لیبل لگا کر ٹارگٹ کرنا تاریخی بددیانتی ہی کہلا سکتی ہے۔

وقت آ پہنچا ہے کہ نئی نسل آبا و اجداد کی ان فاش غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھے۔ اگر پشتونوں نے تاریخ میں زندہ رہنا ہے تو جنوجوہات کی وجہ سے تباہی و بربادی سے ہمکنار ہیں ان وجوہات کی بیخ کنی کرنا ضروری ہے۔ سب قبائل کو ایک دوسرے کو برداشت کرناہوگا، ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھنا ہو گا اور ایک متفقہ لائحہ عمل اختبار کرنا ہوگا جہاں سے ترقی کی منازل طے کرنا شروع کریں۔

نئی نسل کو نئے جذبے سے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم و تربیت حاصل کرکے دنیا کے عظیم اقوام کے صف میں کھڑا ہونے کاامتحان درپیش ہے اور اس وقت اس امتحان میں پاس ہوسکتے ہیں جب نسلی، مذہبی اور فقہی افراط و تفریط پس پشت ڈالیں اور تنازعاتپرامن طور پر حل کرکے آگے بڑھیں۔

اس مضمون سے آپ اخذ کرسکتے ہیں کہ

۱-وادئ کرم طوری قبیلے کا سینکڑوں سال سے مسکن ہے۔

۲-درہ کرم بھی درہ خیبر جیسے گزرگاہ رہی ہے جو سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال سے جنگجو حکمرانوں کا راستہ ہے۔

۳- طوری قبائل بھی دیگر پشتون قبائل طرح ہی ہیں، پشتونوالی میں کسی سے پیچھے نہیں اور ننگ و غیرت اور دفاع میں سب سے مضبوطہیں۔

۴- افغانستان چار سو سالوں سے اگر تباہی کا سامنا کررہا ہے تو اس میں قبائیل سے زیادہ افغان حکمرانوں کا ہاتھ ہے جو ایک دوسرے کو قتلکرتے رہے ہیں فتح حاصل کرنے کیلئے کسی بھی بیرونی قوت کے ساتھ مل کر اپنے بھائی کو دھڑن تختہ کرسکتے ہیں، تو ایسے میں گندمک جیسےمعاہدے کا الزام کسی قبیلے کے سر تھوپنا تاریخی بددیانتی ہے۔

۵- افغان حکمران انگریز خود لائے اور آدھا افغانستان انگریزوں کے حوالے کیا اس میں کسی قبیلے کو دوش دینا تاریخی بددیانتی ہے۔

۶- پشتون (پختون) قبائل سب آپس میں دشمن دشمن ہیں، تو صرف طوری قبیلے کو مسلک یا مذہب کے بنیاد پر نشانہ بنانا تاریخی طور پر درستطرز عمل نہیں۔

حوالہ جات:

۱- الکامل فی التاریخ۔ ابن اثیر۔ جلد ۱۰ صفحہ ۳۰۸ سن ۶۰۲۔ مطبوعہ بیروت۔

۲- تاریخ فرشتہ۔

۳- تاریخ نامہ ہرات: سیف بن محمد بن یعقوب ہروی صفحہ 196

۴- تزک بابری (اردو) کے صفحہ نمبر ۳۳ اور ۳۴

۵- تزک بابری انگریزی ترجمے کے صفحہ 220، اور 229 سے لیکر 235 تک

۶- ځاځی د جہاد پہ بھیر کی۔ عوض الدین صدیقی۔ صفحہ ۲،۳

۷- پښتانه د تاریخ په رڼا کی۔ سید بہادر شاہ ظفر کاکاخیل

۸- پختون قبیلو شجری کتاب کے مؤلف م ج سیال مومند صاحب صفحہ نمبر 275

۹- تواریخ خورشید جہان کے صفحہ 126

۱۰- حیات افغانی: مصنف محمد حیات خان (ترجمہ فرہاد ظریفی اور عبداللطیف یاد) صفحہ 17، 340

۱۱- اکبر نامہ ابو الفضل

۱۲: کابل میں چار بادشاہ: سید شاہ بخاری

۱۳- افغانستان د تاریخ پہ تګلوري کې۔ میر غلام محمد غبار

14: Address of Major-General Roberts to the Chiefs of Kurram on the 26th of December 1878. George Edward and William spottiswwode, printer.

15: India’s north-west Frontier by Sir William Barton, page 103 onward.

16: Among the wild tribe of Afghan frontier by T. L Pennel, page 277 onwards

17: the lights and sheds of Hill life, travels in the Hills of Kullu & Kuram in the NWFP region (Circa-1890), chapter and 3 pages 190 onwards.

18: Photo: the lights and sheds of Hill life

19: Notes on Afghanistan & parts of Baluchistan By Maj H.G. Raverty

20: Epoutastuart Elphinstone: An account of the kingdom of Cabul

21: Journal of the royal Asiatic society. Vol 17

22: Ghani khan: The Pathan (Eng page 48, 49)

23: Ghani Khan: The Pathan (Pashto Translation page 82, 83 & 84)

24: The Pathan Sir Olaf Caroe

25: Edward Thomas: the chronicle of the Pathan kings of Delhi

26: The Chronicles of the Pathan kings of Delhi by Edward Thomas, page 25 onwards.

27: Afghanistan in the course of history: Mir Ghulam Muhammad Ghobar (page 28)

سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار! بروس رائیڈل

سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار قسط 1

رچرڈ نکسن صدر بننے سے پہلے ہی جنوبی ایشیا کے معاملات سے کسی بھی امریکی صدر سے زیادہ واقفیت رکھتا تھا۔ وہ اس خطے کا سفر کر چکا تھا اور جنوبی ایشیا کی سیاست کے تمام مہروں سے واقف تھا۔ اسے پچاس کی دہائی میں بننے والے پاکستان امریکہ اتحاد کا بانی سمجھا جا سکتا ہے۔ نکسن نے اپنی صدارت سے بھی پہلے انیس سو تریسٹھ کے جنوبی ایشیا کے دورے پر نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا “وقت آ گیا ہے کہ واشنگٹن نہرو کو برداشت کرنا چھوڑ دے جو کئی مواقع پر امریکہ کے لئے شرمندگی کا باعث بن چکا ہے ” اور اسی انٹرویو میں اس نے پاکستان کی تعریف کی۔ سو جب یہی نکسن انیس سو انہتر میں امریکہ کا صدر منتخب ہوا تو بھارتیوں کو اس کی صدارت کے بارے میں شدید تحفظات تھے اور پاکستانی پر امید تھے کہ اب وائٹ ہاؤس میں ان کا ایک عظیم دوست آ چکا ہے

نکسن دونوں کی توقعات پر پورا اترا۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ ایک دفعہ پھر بڑھایا گیا اور پاکستان اور پاکستان کے چین سے تعلقات جنوبی ایشیا پالیسی کا مرکزی نقطہ بن گئے۔ دوسری طرف اکہتر کی پاک بھارت جنگ امریکہ کو ایک ایسے مقام پر لانے والی تھی جہاں امریکہ اور بھارت ٹکراؤ کے نزدیک پہنچے جس کے نتیجے میں بھارت نے پہلا نیوکلیائی تجربہ کیا۔

ہنری کسنجر نکسن کی خارجہ پالیسی کا اور خاص طور پر جنوبی ایشیا کی پالیسی کا رہبر و رہنما تھا۔ کسنجر اپنے اس دور کے تجربات کی یادداشت بہت تفصیل سے لکھ چکا ہے اور اس تفصیل کی وجہ وہ اختلافات تھے جو اسے وزارت خارجہ اور دوسرے اداروں کی طرف سے برداشت کرنا پڑے۔ انیس سو اکہتر کے بحران کے فوری بعد جیک اینڈرسن نامی صحافی کے ہاتھ وہ تفصیلی نوٹ لگ گئے جو پینٹاگون کی لیڈرشپ بحران کے دوران لکھ رہی تھی۔ ان نوٹس نے ایک ایسا منظر پیش کیا جس میں نکسن وائٹ ہاؤس اپنی ہی بیورو کریسی سے جنگ کرتا اور تمام بیرونی آراء سے خود کو الگ تھلگ رکھتا نظر آتا ہے۔ ان نوٹس کے مطابق نکسن اکہتر کے بحران کو ماسکو کی طرف سے امریکہ کے عزم کا امتحان سمجھ رہا تھا جب کہ باقی سب کے نزدیک یہ مشرقی پاکستان کا مستقبل طے کرنے کے لئے ایک علاقائی مسئلہ تھا۔

مشرقی پاکستان ہمیشہ پاکستانی ریاست کا سوتیلا بچہ رہا تھا۔ اگرچہ پاکستان کی آبادی کی اکثریت مشرقی پاکستان میں مقیم تھی، مغربی پاکستان کی پنجابی اسٹیبلشمنٹ ریاست اور خاص طور پر افواج پر حاوی تھی۔ ترقیاتی اخراجات کا ایک غیر متناسب حصہ مغربی پاکستان پر خرچ ہوتا تھا اور تقریباً تمام فوجی افسروں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا جن میں سے اکثریت پنجابی افسروں کی تھی۔ انیس سو ستر میں کل چھ ہزار فوجی افسروں میں سے صرف تین سو کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ اس کے علاوہ ہر چند کہ پاکستان کی اکثریت بنگالی زبان بولتی تھی لیکن اس زبان کو، محمد علی جناح کے اصرار پر، قومی زبان کا درجہ حاصل نہیں تھا۔ بنگالیوں کے لئے انیس سو سینتالیس میں انگریز سامراج کی جگہ مغربی پاکستان نے سنبھال لی تھی۔

انیس سو انہتر میں ایوب خان کا اقتدار تو ختم ہو چکا تھا لیکن اس کے لئے بنگالیوں کا غصہ نہیں۔ بنگالی سمجھتے تھے کہ انیس سو پینسٹھ میں ایوب خان نے بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑتے وقت بنگال کو نئی دہلی کے سامنے نہتا چھوڑ دیا تھا۔ پاکستان کی تقریباً تمام بری اور فضائی فوج مغربی حصے میں تعینات تھی۔ بھارت، جس نے جغرافیائی طور پر مشرقی پاکستان کو تین اطراف سے گھیرا ہوا تھا، اگر انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں مشرقی پاکستان پر قبضہ کرنا چاہتا تو اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ پاکستانی افواج کا بنگالیوں کے لئے پیغام بہت واضح تھا کہ اگر کشمیر پانے کے لئے انہیں بنگال کھونا پڑے تو انہیں یہ سودا منظور ہو گا۔

ایوب خان کی جگہ ایک پنجابی شیعہ یحییٰ خان نے لی جو برٹش آرمی کی طرف سے لیبیا اور اٹلی میں دوسری جنگ عظیم میں حصہ لے چکا تھا۔ یحییٰ خان کے دو بڑے ذاتی مسائل قوت فیصلہ کی کمی اورپیہم شراب نوشی تھی۔ انیس سو ستر میں اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی عام انتخابات کروا دیے۔ علیحدگی پسند عوامی لیگ نے شیخ مجب الرحمٰن کی قیادت میں مشرقی پاکستان میں تمام ایک سو سڑسٹھ نشستیں جیت کر باقی جماعتوں کا صفایا کردیا جبکہ مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی ایک سو اڑتیس میں سے اکاسی نشستیں جیت کر مغربی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھری۔ پسے ہوئے بنگالی اکثریت میں ہونے اور ایک ہی پارٹی کو ووٹ دینے کی وجوہات سے ریاست کا کنٹرول لینے کی پوزیشن میں آ چکے تھے۔ پنجابی یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

یحییٰ اور بھٹو بنگالیوں سے مذاکرات کرنے ڈھاکہ پہنچے اور مذاکرات کی ناکامی پر مغربی پاکستان واپس آتے اور وہسکی پیتے ہوئے یحییٰ خان نے ڈھاکہ میں پاکستانی کمانڈر لیفٹنٹ جنرل ٹکا خان کو عوامی لیگ اور علیحدگی پسندوں پرایک سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیا۔ کوڈ نیم آپریشن سرچ لائٹ کو کریک ڈاؤن سے قتل عام بنتے دیر نہ لگی۔ امریکی ساخت کی بکتر بند گاڑیاں ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئیں اور ہزاروں طلباء کو ہلاک کر دیا – سیاسی لیڈروں، شاعروں، ناول نگاروں اور بنگال کے کئی بہترین دماغوں کو گرفتار کر کے گولی مار دی گئی۔ شیخ مجیب کو گرفتار کر لیا گیا لیکن وہ اس سے پہلے ہی، چھبیس مارچ انیس سو اکہتر کو، بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کر چکا تھا۔ بعد میں آنے والی بنگلہ دیشی حکومت نے پاکستانی فوج کو نسل کشی میں ملوث ہونے اور تیس لاکھ لوگوں کو ہلاک کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ لاکھوں بنگالی بارڈر کراس کر کے بھارت میں پناہ لے چکے تھے اور اندرا گاندھی حکومت کے لئے اب یہ پناہ گزینی  ایک بحران کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ مئی کے مہینے تک مشرقی پاکستان سے بھاگ کر بھارت میں پناہ لینے والوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی تو عوامی لیگ نے ٹکا خان کی فوج سے گوریلا جنگ کا فیصلہ کیا اور بھارت نے باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا۔

اس بحران کے شروع ہونے سے کچھ ہی پہلے پاکستانی حکومت بھارت کو ٹکراؤ کے لئے اکسا چکی تھی جب تیس جنوری انیس سو اکہتر کو دو کشمیریوں نے سری نگر سے پرواز کرنے والا ایک بھارتی مسافر طیارہ اغوا کرکے اسے لاہور اتارا اور مسافروں کو نکال کر جہاز کو دھماکے سے اڑا دیا۔ بھارت نے اس کاروائی کا الزام پاکستانی انٹیلی جنس کو دیتے ہوئے اپنی فضائی حدود پاکستانی طیاروں کے لئے بند کردی جس کی وجہ سے پاکستان کے ایک حصے سے دوسرے حصے پر جانے والی پروازوں کو اب ایک لمبا چکر کاٹ کر جانا پڑتا۔ پاکستان نے اپنی معصومیت کا دعویٰ کرتے ہوئے دونوں ہائی جیکرز کو بھارتی جاسوس قرار دیا۔ اکہتر کی جنگ کے بعد پاکستان نے دونوں ہائی جیکرز کو رہا کر دیا جنہوں نے پاکستان میں ہی رہائش اختیار کی جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ پاکستانی ایجنٹ ہی تھے۔ اس ہائی جیکنگ ، مشرقی پاکستان میں  ہونے والے قتل عام اور پناہ گزینوں کے بحران کو دیکھتے ہوئے اندرا گاندھی حکومت نے ایکشن لینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس سے بھی پہلے اندرا گاندھی نے یہ فیصلہ کیا کہ کچھ بھی کرنے سے پہلے امریکہ کا ردعمل دیکھا جائے۔

سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار قسط 2

لیکن نکسن اور کسنجر نے مشرقی پاکستان میں قتل عام روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام لینے سے انکار کر دیا۔ کسنجر نے امریکی صدر کی ہدایت پر تمام حکومتی اداروں کو پاکستان اور یحییٰ کیطرف جھکاؤ کا حکم دے دیا لیکن زیادہ تر بیوروکریسی اس پر مزاحم تھی۔ قومی سلامتی کونسل کی ایک میٹنگ میں علاقائی ماہرین کی مزاحمت کی وجہ سے کسنجر نے چلاتے ہوئے کہا “صدر مملکت ہمیشہ پاکستان کی طرف جھکاؤ کی ہدایت کرتے ہیں اور یہاں مجھے ہر تجویز اسے سمت میں دی جاتی ہے۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں کسی پاگل خانے میں ہوں”مشرقی پاکستان میں موجود امریکی سفارتکار اپنے ملک کی پالیسی پر شدید حیرانگی میں مبتلا تھے۔ اپریل انیس سو اکہتر میں ڈھاکہ میں موجود تقریباً ہر امریکی سفارتکار کے دستخطوں کے ساتھ ایک اختلافی نوٹ امریکی وزارت خارجہ کو بھیجا گیا جس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جانا مناسب ہے۔

“ہماری حکومت جمہوریت کے کچلنے جانے کی مذمت کرنے میں ناکام ہو چکی ہے – ہماری حکومت ظلم کے خلاف بولنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ہماری حکومت اپنے شہریوں (دوہری شہریت والے بنگالی امریکی) کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کوئی بھی عملی قدم لینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اور دوسری طرف ہماری حکومت نے اپنا تمام وزن مغربی پاکستان کے پلڑے میں ڈال دیا ہے جس کی وجہ سےعالمی برادری پاکستان کے خلاف کسی بھی فیصلہ کن کاروائی سے گریزاں ہے۔ ہماری حکومت کے پاس  اس فوجی آپریشن کے اخلاقی دیوالیہ پن کے تمام شواہد موجود ہیں  لیکن  ستم ظریفی یہ ہے کہ سوویت یونین نے تو یحییٰ خان کو پیغام بھیج دیا ہے جس میں جمہوریت کا دفاع کیا گیا اور انتخابات جیتنے والی پارٹی کے لیڈروں کی گرفتاریوں کی مذمت کی گئی لی مگر  ہم نے یہ طے کی کہا اخلاقی بنیادوں تک پراس عمل میں مداخلت نہیں کرنی جسے ہر طرح سے نسل کشی کہا جا سکتا ہے  اور اسے انسانی بحران کی بجائے پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دینا ہے ”

امریکی قونصل جنرل آرچر بلڈ نے یہ مراسلہ ، جسے بعد میں بلڈ ٹیلیگرام کا نام دیا گا ، واشنگٹن بھیجا جسے وزارت خارجہ کے کئی افسران نے اپنی حمایتی دستخطوں کے ساتھ وزیر خارجہ ولیم راجرز کو بھیج دیا۔ قونصل جنرل نے اس مراسلے کی کلاسیفکیشن “خفیہ” رکھی تھی لیکن نکسن سے اسے تبدیل کر کے “خفیہ / نو ڈس ” کر دی جو کہ ایسے مراسلے کے لئے سب سے خفیہ کلاسیفکیشن تھی۔

نکسن کے پاکستان کی طرف جھکاؤ کی واحد وجہ اس کی بھارت دشمنی نہیں تھی۔ پس پردہ، صدر نکسن اور قومی سلامتی کے مشیر کسنجر امریکہ کی چین کے بارے دو دہائی پر محیط پالیسی کو الٹانے میں مصروف تھے اور اس کے لئے انہیں پاکستان اور یحییٰ خان کی ضرورت تھی۔ یہ اس قدر خفیہ کاوش تھی کہ وزیر خارجہ راجرز تک کو اس کا علم نہیں تھا۔

اپنی نائب صدارت اور صدارت کے ادوار کے درمیانی عرصہ میں نکسن نے  ایک عام شہری کے طور پر جنوبی ایشیا کے تین دورے کیے اور ہر دفعہ اسے بھارت میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پاکستان میں اس کا شاہانہ استقبال کیا گیا۔ اگست انیس سو انہتر میں نکسن نے بھارت اور پاکستان کا بطور صدر دورہ کیا۔ بھارت میں اس کی اندرا گاندھی سے ملاقات انتہائی تناؤ کے ماحول میں ہوئی۔ ایک سابقہ دورے میں اندرا گاندھی نے نکسن سے ملاقات کے دوران اپنے سیکرٹری سے ہندی میں پوچھا تھا “مجھے اور کتنی دیر اس شخص سے باتیں کرنا ہے ” لیکن اس دفعہ نکسن بطور امریکی صدر دورہ کر رہا تھا سو اب اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا لیکن دونوں کی ایک دوسرے کے لئے ناپسندیدگی بہت واضح تھی۔

اسلام  آباد میں نکسن کا والہانہ اسقبال کرنے والا اس کا قریبی دوست یحییٰ خان تھا جس کے لئے نکسن کے پاس ایک غیر متوقع فرمائش موجود تھی۔ نکسن نے یحییٰ خان سے چین کے چیئرمین ماؤ کو ایک اہم پیغام دینے کو کہا۔ اس پیغام میں نکسن نے چین کی کئی دہائیوں پر محیط تنہائی ختم کرنے کے لئے اعلیٰ ترین سطحی مذاکرات میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ نکسن نے یحییٰ سے درخوست کی اس پیغام کا کسی امریکی سفارتکار کو علم نہیں ہونا چاہیے اور اس معاملے میں امریکہ میں پاکستانی سفیر صرف کسنجر سے رابطے میں رہے۔

بیجنگ نے اس پر کوئی فوری ردعمل نہیں دیا۔ فروری انیس سو ستر میں پاکستانی سفیر نے کسنجر کو اطلاع دی کہ چین مذاکرات کے لئے تیار ہے۔ اکتوبر میں یحییٰ خان نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔ صدر پاکستان کے استقبال میں نکسن نے پاکستان پر انیس سو پینسٹھ سے موجود ہتھیاروں کی رسد پر پابندی ختم کی اور پاکستان کو تین سو بکتر بند گاڑیوں کی فراہمی کا وعدہ کیا۔

پچیس اکتوبر انیس سو ستر کو نکسن نے یحییٰ کو ماؤ کے لئے  ایک اور پیغام دیا کہ نکسن چاہتا ہے کہ کسنجر چین کا خفیہ دورہ کر کے ماؤ اور اس کے ساتھیوں سے ملے۔ آٹھ دسمبر انیس سو ستر، عوامی لیگ کے الیکشن کے جیتنے کے اگلے دن، کو پاکستانی سفیر کو چین کی آمادگی سے آگاہ کیا گیا۔ لیکن بیجنگ کسی جلدی میں نہیں تھا سو دورے کی تاریخ کے بارے میں بیجنگ نے انتظار کرنے کا کہا۔

آپریشن سرچ لائٹ کے آغاز کے بعد نکسن اور کسنجر نے محسوس کیا کہ وہ چین سے رابطہ قائم رکھنے کے لئے یحییٰ خان کی ناراضگی مول نہیں لے سکتے۔ چین سے رابطہ ابھی تک ایک انتہائی خفیہ امر تھا جس کا علم تاحال وزیر خارجہ سمیت پوری وزارت خارجہ کو نہیں تھا اور ان کے لئے یہ ناقابل فہم تھا کہ نکسن پاکستان کی مذمت سے کیوں کترا رہا ہے

سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار قسط 3

ستائیس اپریل انیس سو اکہتر کو جب مشرقی پاکستان ٹکا خان کے بوٹوں تلے مسلا جا رہا تھا، چین نے پاکستان کے ذریعے کسنجر کو خفیہ دورے کی دعوت دی۔ کسنجر نے جون میں چین کو اپنی جلد آمد کی اطلاع دی اور اپنے اسلام آباد کی دورے کی تیاری شروع کر دی۔ پاکستان میں امریکی سفیر اور سی آئی اے کو پہلی دفعہ اعتماد میں لیا گیا اور انہیں ہدایت کی گئی کہ یحییٰ خان کے ساتھ مل کر کسنجر کے چوری چھپے چین جانے میں مدد کریں۔ یحییٰ خان کے ساتھ عشائیے کے بعد کسنجر کے عملے نے صحافیوں کو اطلاع دی کہ کسنجر کی طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ دو دنوں کے لئے مری میں آرام کرنے جا رہا ہے اور وہ اس دوران کسی صحافی سے نہیں ملے گا۔

دس جولائی انیس سو اکہتر کے دن کسنجر پاکستانی طیارے پر بیجنگ پہنچا اور اس نے ماؤ اور چینی قیادت سے ملاقات کی۔ اگلے دن وہ واپس اسلام آباد پہنچا اور اپنے معمول کے دورے کو جاری رکھا۔ ایک بڑا راز اس خفیہ دورے کے بعد بھی  راز ہی رہا۔ چند دنوں کے بعد نکسن نے امریکی عوام کو اس سفارتی کامیابی سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ وہ چین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایک ذاتی خط میں نکسن نے یحییٰ خان کا شکریہ ادا کیا اور لکھا “آنے والی انسانی نسلیں ایک پرامن دنیا کے لئے ہمیشہ  آپ کی مقروض رہیں گی”۔

دوسری جانب اندرا گاندھی کو اپنا بدترین خواب پورا ہوتا نظر آ رہا تھا۔ مشرقی پاکستان کے بحران کی وجہ سے کلکتہ اور آسام عدم استحکام کا شکار تھے، امریکہ پاکستان کی حمایت کر رہا تھا اور ایک نیا بیجنگ، اسلام آباد، واشنگٹن اتحاد تشکیل ہو رہا تھا۔ اندرا نے ایک جوابی اتحاد بنانے کی لئے ماسکو کا دورہ کیا جس کے نتیجے  میں سوویت۔ بھارت دوستی اور تعاون کا معاہدہ ہوا جو دونوں ممالک کو بہت قریب لے آیا۔ اس معاہدے کے مقاصد میں سے ایک  چین کو پاکستان کے ایماء پر فوجی مداخلت سے خبردار کرنا تھا۔ دوسرے الفاظ میں اندرا گاندھی نے چین کو پیغام دے دیا کہ اگر چین نے ممکنہ جنگ میں مداخلت کی کوشش کی تو اسے سائبیریا اور منچوریا میں روسی فوج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جنگ ہوا ہی چاہتی تھی۔ نومبر میں اندرا گاندھی نے بنگالی عوام اور بھارت کے لئے امریکہ  اور اقوام متحدہ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے نیویارک اور واشنگٹن کا دورہ کیا۔ اسے اوول آفس میں نکسن کی شکل میں ایک آہنی دیوار کا سامنا کرنا پڑا۔ نکسن کے نزدیک وہ سوویت یونین کی پارٹنر تھی اور نکسن کے لئے اندرا کے تمام تحفظات کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ یہ ہر لحاظ سے ایک بدنما ملاقات تھی۔ نکسن نے اندرا کی پیٹھ پیچھے اسے کتیا اور اس سے بھی برے القاب سے نوازا۔ اندرا کے نزدیک نکسن ایک سرد جنگ کا جنونی تھا جس کے نزدیک انسانی زندگی کی کوئی وقعت نہ تھی۔ اس ملاقات کے بعد اندرا گاندھی نے فوجی کمانڈر فیلڈ مارشل سام مانیکشا کو مشرقی پاکستان پر حملے کی تیاری کا حکم دے دیا۔

لیکن پہل پاکستان نے کی۔ اسرائیل کے انیس سو سڑسٹھ کے مصر پر حملے کی طرز پرابتدائی  برتری لینے کے لئے پاکستان نے تین دسمبر انیس سو اکہتر کو آپریشن چنگیز خان لانچ کیا جس کا ہدف بھارتی ایئر بیس تھے۔ حملہ ناکام رہا اور بھارت نے جارحیت کا آغاز کردیا۔ مانیکشا جلد ہی بھاگتی ہوئی پاکستانی فوج کے تعاقب میں تھا۔ مشرقی پاکستان میں تعینات نوے ہزار پاکستانی فوجیوں کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا تھا جس میں کسی مثبت امید کی گنجائش نہ تھی۔ وہ تین اطراف سے گھر چکے تھے اور کمک ایک ہزار میل دور تھی۔

امریکہ ہر طورپاکستان کے ساتھ تھا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جارج ایچ ڈبلیو بش (جو بعد میں امریکہ کے اکتالیسویں صدر بنے) نے بھارت کو “عظیم جارح” قرار دیا۔ خلوت میں بش کسنجر کو “مغرور اور خوف زدہ انسان” پکارتا تھا لیکن پبلک میں بش نے وائٹ ہاؤس کی پالیسی کا دفاع کیا۔ کسنجر اور بش نے اقوام متحدہ میں چین کے سفیر سے ملاقات کی اور بین السطور چین کو جنگ میں شمولیت کی دعوت دی۔ کسنجر نے چینیوں کو کہا کہ اگرچہ ان پر ہتھیاروں کی پابندی قائم ہے لیکن وہ ایران اور اردن جیسے امریکی اتحادیوں کے ذریعے امریکی لڑاکا طیارے چین کو فراہم کر سکتا ہے (جو کہ ایک غیر قانونی قدم ہوتا)۔ سی آئی اے نے ایران اور اردن کو سابق امریکی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلام آباد کو ایف – ١٠٤ فراہم کرنے کو کہا۔ اردن نے کئی طیارے فوری طور پر پاکستان منتقل کر دیے۔ لیکن جہاں تک چین کا تعلق ہے، اس نے پاکستان کی  کسی قسم کی مدد نہیں کی۔

عین اس موقع پر سی آئی اے نے نکسن کو ایک انٹیلیجنس رپورٹ پیش کی جس کے مطابق اندرا گاندھی کے عزائم مشرقی پاکستان تک محدود نہیں تھے۔ رپورٹ کے مطابق اندرا گاندھی اس جنگ میں پورے پاکستان کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اگرچہ سی آئی اے کے کچھ ماہرین کے نزدیک یہ رپورٹ کلی طور پر قابل اعتبار نہیں تھی لیکن اس رپورٹ نے واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر رچرڈ ہیلمز نے وائٹ ہاؤس کو کہا “اندرا گاندھی کوشش کرے گی کہ پاکستان کی تمام بری اور فضائی افواج کی مشینری ختم کر دی جائے اور اس کے بعد کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کو بندوق کی نوک پر زیر کرلیا جائے”۔ نکسن نے اس رپورٹ کو ان چند رپورٹس میں سے ایک قرار دیا جو سی آئی اے نے اسے بروقت فراہم کیں۔

اس رپورٹ کے نتیجے میں نکسن نے فوری طور پر امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس اینٹرپرائزکی قیادت میں خلیج بنگال میں اتارنے کا حکم جاری کیا۔ یہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی حمایت  کا بہت  پرزور مظاہرہ تھا۔ شائد نکسن یہ کر کے چین کو ہمت دلانا چاہ رہا تھا کہ وہ بھارت پر حملہ کر دے۔ اندرا گاندھی  آسانی سے ڈرنے والی خاتون نہیں تھی۔ اور ویسے بھی اب دیر ہو چکی تھی۔ پاکستان نے ڈھاکہ میں چودہ دسمبر انیس سو اکہتر کو امریکی قونصیل سے کہا کہ وہ بھارت کو مطلع کردے کہ پاکستانی فوج ہتھیار ڈالنے کو تیار ہے۔

اور پھر پاکستان کی تاریخ کا تاریک ترین دن آن پہنچا

بروس رائیڈل نے اپنی کتاب میں امریکی بحری بیڑے کی خلیج بنگال میں جانے کی تفصیل بیان نہیں کی کیونکہ شائد یہ کتاب کے وسیع تر موضوع کا تقاضا نہیں تھا لیکن میرے خیال میں پاکستان میں موجود ایک غلط فہمی کے ازالے کے لئے یہ تفصیل ضروری ہے۔ نہ صرف یہ کہ امریکی بحری بیڑہ خلیج بنگال کی طرف گامزن تھا بلکہ امریکہ کے کہنے پر ایک برطانوی بحری بیڑہ بھی ایچ ایم ایس ایگل نامی جہاز کی قیادت میں بھارت  کی طرف رواں  تھا۔چند ماہرین کے خیال میں منصوبہ یہ تھا کہ برطانوی بیڑہ بحیرہ عرب کی طرف سے بھارت کے مغربی ساحل سے بھارت پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں پہنچے گا اور امریکی بیڑہ خلیج بنگال سے مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی مدد کرے گا۔ لیکن بھارت کو اس منصوبے کی بھنک پڑ چکی تھی سو بھارت نے اپنے معاہدے کے تحت دسمبر دس کو سوویت یونین سے مدد مانگ لی جس کے جواب میں  سوویت یونین نے ولادی واسٹوک سے دسویں آپریٹو بیٹل گروپ سے وابستہ سوویت آبدوزوں کا ایک دستہ خلیج بنگال روانہ کر دیا۔ ایڈمرل ولادمیر کرگلیوکوو اس دستے کا کمانڈر تھا۔ اس نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک انٹرویو کے بعد بتایا کی جیسے ہی امریکی بیڑے نے خلیج بنگال میں داخل ہونے کی کوشش کی، ایڈمرل نے، ماسکو کے احکام کے مطابق، اپنی آبدوزوں کو سطح آب پر آنے کا حکم دیا تاکہ امریکی بحریہ دیکھ لے کہ سوویت بحری دستوں میں میں نیوکلیئر آبدوزیں شامل تھیں۔ پیغام واضح تھا: امریکہ کی بھارت کے خلاف جارحیت ممکنہ تیسری عالمی جنگ کا آغازہو سکتی تھی سو امریکہ نے یہ انتہائی قدم لینے سے گریز کیا۔


بروس رائیڈل کی کتاب کے ایک باب کے ترجمے کی چند قسط، اختصار کے لئے تمام حوالہ جات نقل نہیں کے جا رہے جو کتاب سے حاصل کیے جا سکتے ہیں Book Name Avoiding Armageddon نوٹ یہ کتاب گوگل پر آن لائن موجود ہے۔

Source سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار! (بروس رائیڈل) – Daily Urdu

Kurram Valley and Turi tribe

Kurram Valley and Turi tribe

The Turi tribe, hold the tract known as Kurram on both sides of the stream of that name , lying north of Khost and south of Koh-i-Sufaid. There is some doubt as to the lineage and race of this tribe and the Jaji .

1- The Turis themselves have two stories as to their origin, one of which is that they were

formerly settled in Persia, but, troubles breaking out, Toghani Turk, the common ancestor of the Turis and Jajis, fled eastward and eventually settled at Nilab ; while the other story states that they came originally from Samarkand to Nilab. Both of these stories, though differing as to the original habitat of the tribe, are agreed that the tribe claims descent from a Turk, named Toghani. The “Badshah-nama” refers to different tribes which joined in the attack on Peshawar and calls the Afghan tribes as ‘Ulus’ but the Jajis and Turis are mentioned as ‘Imak’. Both are Turkish words, but while ‘Ulus’ has been commonly used for the Afghan tribes, ‘Imak’ is never used except for the tribes of Turk descent. The distinction points to their Turkish extraction.

2- At one occasion Khushal Khan Khattak in his diary (Biaz) mentions the Turis as well the Jajis as the Karlanris. Based on this statement, some of the elders of the Turi and Jaji clans have traced their descent to Khughianaey, son of Kodaey, son of Karan. Hayat Khan Kathar gives weigh-age to Khushal Khan Khattak’s Biaz and includes them in the Khugiani tribe. He remarks, “Both in language and character, they are not be distinguished from Afghan, and indeed possess the Afghan haughtiness and martial spirit in an unusually high degree.” [2].Turi is earliest mention of a Pashtun tribal name. In Tarikh-i-nama-i-Herat (written in 1318 AD) “Ahmad Turi” (توری احمد (is mentioned as one of the leading Afghan chieftains of 13th century Afghanistan (1255 AD events). They are styled as “Maluk-i-Azam” (عظام ملوک (i.e Chief Maliks of Afghanistan. [“Tarikh-nama-i-Herat” of Saif bin Muhammad bin Yaqub Harvi, Urdu translation by Prof.Sultan Altaf Ali, p-196]

3- Some give out that Turi and Jaji were two brothers of the Mond stock of the Awan race, settled on the eastern bank of the Indus. For some reason they left their kinsmen and moved to the west bank of the Indus. In the summer they used to migrate to Kurram valley and in winter return to the plains in the Nilab area on the eastern bank of the Indus. Gradually they made inroads in the Kurram valley and later settled down permanently, displacing some of the smaller Bangash clans. Their progeny prospered and ousted the original inhabitants of the area in the Kurram and occupied their lands. Their descendants are known as the Turis and Jajis respectively. The Awans of the Jhelum District, who claim descent from one Qutab Shah, a former ruler of Herat, state that the Jajis and Turis are also descended from him but by a Turki wife. [“Hstory of the Pathans”, By Haroon Rashid, Vol-4, p-500″]

Whatever may be the origin of the tribe, there is little doubt that, at some period or other, they were settled at Nilab, but probably only as nomads, migrating annually from thence to the Kurram valley. During one of their annual migrations, a quarrel broke out between the tribe and the Bangash owners of Kurram. At this time: the Jajis and Turis were united, and the first assault made on the Bangash took place in Hariab valley, which the Jajis seized. From Hariab the tribe descended into the Kurram valley, the Jajis taking Jaji Maidan and the Turis the main Kurram valley below Karlachi. The first place taken by the Turis was Burkhi, then Paiwar , after which Shalozan was besieged, but the Bangash, who withstood all attacks, compromised and became Turi hamsayas. Thus, by degrees, the Turis made themselves masters of the whole valley. The Emperor Babar, writing so far back as 1506 A.D., mentions the Buri (undoubtedly a misprint for Turi) inhabitants of the valley. [7] Turis and Jajis are mentioned by Abu Fazal in “Akbar-nama”, that their tribal chiefs, along with chiefs of Khalil, Mohmand, Gagyani, Sherzad, Khizr-Khel, Abdur-Rehmani and others of Ghurghust and Ghoria Khel septs, represented to Mughal Emperor Akbar in 1586 AD who was staying at Attock, to complain about Yoasufzais. [3]

There are five principal clans of the Turi;

1- Hamza Khel

2- Mastu Khel

3- Dapparzai

4- Alizai

5- Ghundi Khel

Kurram which is wholly irrigated by the stream of the same name that flows through it, was formerly in the occupation of Bangash, from whom the Turi took it by force. Many Bangash are still found living in subjection to the Turi in Kurram, and the Bilyaminof lower Kurram are considered a branch of Bangash. Contrary to the Khyber tribes, the tribes inhabiting the Kurram had traditionally paid revenues to the Saddozai rulers. Already during his first reign, Amir Dost Muhammad Khan Barakzai, began to raise demands for revenue in Kurram and adjacent regions. Kurram was known for its comparative fertility. Apart from wheat, the valley produced high quality rice exported to Bannu and Kabul. The Turis were overwhelmingly Shias. This led to the rise of four dominant families of Sayyids, to one of which each Turi was linked as a disciple. Otherwise, there was no entrenched leadership. The typical Turi was described as an absolute democrat. The historical sources mentions a few prominent families without furnishing great detail on their political activities. In the 1850s, Malik Zarif of Paiwar was an important ally of Sardar Muhammad Azam Khan. The Malik of Shalozan was linked to the court by a marriage alliance with Amir Dost Muhammad Khan. [4] 

Throughout the reign of Dost Muhammad Khan, reports of rebellions in Kurram reached the capital of Kabul. In great part this resistance can be seen as reaction to the revenue collecting ‘raids’ conducted by the Afghan governor at irregular intervals. In 1851, for example, the Turis took possession of the fort at the Paiwar pass for three months. Their rebellion only came to an end when Amir Dost Muhammad Khan dispatched Sardar Muhammad Azam Khan with a strong force to the region. Three years later, 8,000 Turis blockaded the same pass. During the ensuing military confrontation at the Paiwar pass, the Turis suffered a decisive defeat. In March 1856, The Turis were assisted by son of Sardar Muhammad Azam Khan against the insurrections by the neighboring Khostwals and Darwesh Khel wazirs. In April 1857, Ghulam Muhammad Khan reported that an insurrection of the nearby Jajis had been ” suppressed amicably” by the Turi maliks. A year later Sardar Muhammad Azam Khan was assisted by Malik Zarif of Paiwar against the rebellious population of Baliyamin in adjacent Miranzai. [5]

During Amir Sher Ali’s reign, Kurram was governed by Amir’s half brother Wali Muhammad Khan, whose mother was a Turi, from 1869 on. In 1876, Wali Muhammad Khan was dismissedfrom the governorship of Kurram, due to complaints of the maliks of Kurram.

The Kabul government from Kurram was ejected by the British in 1879 during the second AngloAfghan War. The Turis welcomed the British and gave them full support. A year or two later British forces were withdrawn from the valley .The British Government, however, announced to the Amir, that Kurram would be regarded as a British protectorate. The valley was re-occupied by the British the valley in 1892. A strong force of Militia, in which the Turis form the principal element, was raised in 1893. It had throughout been staunch and reliable to British with credit in  1897 , it stood firm in 1919 during the Third Anglo-Afghan War when most of the other irregular corps, the Khyber Rifles, and North and South Wazirstan Militias, mutinied or deserted. [6]

Notes and References:

2- Muhammad Hayat Khan, “Afghanistan and its inhabitants”, p-227

3- Raverty, “Notes on Afghanistan”, p-44

4- “Christine Noelle, “State and Tribe in Nineteenth-Century Afghanistan”, p-174

5- Ibid, p-175

6- “Sir William Barton, “India’s North-West frontier” p-52

7-” Frontier and Overseas expeditions from India, Vol-2, p-305

Original Post Shafique Ahmed “The Parachinar Observer”: Kurram Valley and Turi tribe