‭BBC Urdu‬ – ‮پاکستان‬ – ‮’اہلِ سنت و الجماعت پر پابندی عائد‘‬

Via Scoop.itparachinarvoice

’اہلِ سنت و الجماعت پر پابندی عائد‘ اہل سنت والجماعت مذہبی جماعتوں کے اتحاد پاکستان دفاع کونسل کی اہم رکن ہے
بی بی سی کو حاصل ہونے والی ایک دستاویز کے مطابق پاکستان کی حکومت نے ماضی میں سپاہِ صحابہ کے نام سے سرگرم رہنے والی مذہبی تنظیم اہل سنت و الجماعت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیےگئے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو شبہ ہے کہ اہل سنت والجماعت سابقہ کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے لہٰذا وفاقی حکومت نے اس جماعت کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول ایک میں شامل کر دیا ہے۔
اسی بارے میں
پشاور: دفاع پاکستان کونسل کے خلاف مظاہرہ
کراچی میں دفاعِ پاکستان کانفرنس کا انعقاد
متعلقہ عنوانات
پاکستان
وفاقی حکومت نے یہ نوٹیفیکشن چاروں صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کو بھی بھیج دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے اہل سنت والجماعت پر پابندی کے حوالے سے بات کرنے کے لیے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی کامیابی نہیں ہو سکی۔
اہل سنت والجماعت جہاد پر یقین رکھنے والی مذہبی جماعتوں کے اتحاد پاکستان دفاع کونسل کی اہم جماعت ہے۔ اس اتحاد نے پچھلے دنوں لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں اجتماعات کیے تھے جس پر امریکہ اور انسانی حقوق کمیشن نے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
اہل سنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے پابندی کے فیصلے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔
بی بی سی اردو کے ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ پرامن لوگ ہیں اور اپنے کارکنوں کو کنٹرول کر کے دفاعِ پاکستان میں مصروف ہیں۔
ان کے مطابق ’امریکہ اور امریکہ نواز جو اس ملک میں بیٹھے ہوئے ہیں انہیں یہ ناگوار گزرا ہوگا۔ اس وقت ہم پر جو پابندی عائد کرتا ہے وہ حقیقت میں پاکستان پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کرتا ہے‘۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق جماعت کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول ایک میں شامل کیا گیا ہے
اہل سنت والجماعت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ آئینی راستہ اختیار کیا ہے اور کبھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی بات نہیں کی اور اگر کوئی پابندی آئےگی تو وہ قانون کا سہارا لیں گے۔
یاد رہے کہ تنظیم اہل سنت والجماعت بارہ جنوری دو ہزار دو کو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے دیگر پانچ جماعتوں کے ساتھ سپاہ صحابہ پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی تھی
سپاہِ صحابہ کی بنیاد انیس سو پچاسی میں رکھی گئی تھی اور یہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار سے پہلے عام انتخابات میں حصہ بھی لیتی رہی ہے۔
سپاہ صحابہ کے ہی کچھ کارکنوں نے بعد میں لشکر جھنگوی کے نام سے گروہ تشکیل دیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے اور اس کے طالبان سے بھی تعلقات ہیں۔ اہل سنت والجماعت اس گروہ سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سےاہل سنت والجماعت پر پابندی کے حوالے سے بات کرنے کے لیے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی کامیابی نہیں ہو سکی۔
Via bbc.co.uk

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s